Showing posts with label Muharram1441H. Show all posts
Showing posts with label Muharram1441H. Show all posts

Tuesday, August 3, 2021

Muharram ul Harram & Security Concerns

محرم الحرام‘ تیاریاں‘ انتظامات اُور خدشات
 اسلامی سال کے پہلے مہینے ’محرم الحرام‘ کا آغاز 9 یا 10 اگست سے ہو رہا ہے جبکہ یوم عاشور (10محرم الحرام) اٹھارہ یا اُنیس اگست اُور چہلم اِمام 27 یا 28 ستمبر روائتی مذہبی جوش و خروش سے منانے کی تیاریاں اُور انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر محرم الحرام کے آغاز سے 8 ربیع الاوّل تک کا عرصہ بطور ’ایام ِعزا (سوگ)‘ منایا جاتا ہے اُور اِن ’ایام ِعزا‘ کے دوران عبادت گاہوں (اِمامیہ مساجد و امام بارگاہوں) کی سیّاہ پوشی کی جاتی ہے۔ کامل ”2 مہینے 8 دن“ پر مشتمل اِن ایام ِعزا کے حوالے سے ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں اُور محکمہ¿ صحت کو شریک کرتے ہوئے ضلعی حفاظتی اقدامات (سیکورٹی پلانز) تشکیل دیئے ہیں‘ جن پر ’عدم اِطمینان‘ کا اظہار کرتے ہوئے امامیہ جرگہ خیبرپختونخوا نے پشاور سمیت حساس علاقوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عزاداریسیّد الشہدا  کے ذریعے تمام مسالک اُور جملہ مسلم و غیر مسلم مکاتب ِفکر کے درمیان جس ہم آہنگی کا قیام اُور فروغ ہونا چاہئے‘ اُس کی اہمیت و ضرورت تو ہر کوئی محسوس کر رہا ہے لیکن اِس سلسلے میں اِنفرادی و اجتماعی حیثیت سے ’ذمہ داری‘ اُور ’احساس ِ ذمہ داری‘ عام نہیں۔

محرم الحرام کی آمد سے قبل اخبارات میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تصاویر شائع کروانے والے مانوس چہرے نمودار ہوتے ہیں۔ امن کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں لیکن پشاور میں بالخصوص اُور خیبرپختونخوا میں بالعموم وہ امن بحال نہیں ہو رہا جو12 جولائی 1992ء(یوم عاشور) کے موقع پر ’سانحہ¿ کوہاٹی گیٹ‘ کے بعد سے متاثر ہے اُور جس کی برسی و غم صرف اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے وہ گھرانے بھی مناتے ہیں‘ جن کے پیارے مذہب کی بنیاد پر پائی جانے والی نفرت کا نشانہ بنے تھے۔ مذکورہ سانحے میں 10 افراد قتل جبکہ درجنوں زخمی ہوئے اُور اِس سانحے کے بعد پیدا ہوئی کشیدگی اپنی جگہ جبکہ املاک پر حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا‘ جو پشاور کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔

محرم الحرام کی مناسبت سے حفاظتی انتظامات پر سرکاری خزانے سے ہر سال کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن مثالی صورت میں امن و امان کو بحال نہیں کیا جاتا جس کے بعد خصوصی حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہی پیش نہ آئے جیسا کہ مقامی اُور غیرمقامی کی تمیز نہ کرتے ہوئے بازاروں اُور راستوں کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کرنا اُور موبائل فونز کی سروسیز معطل رکھنے جیسے انتظامات ناقابل فہم ہیں۔ 1992ءسے قبل میں صرف افغان مہاجرین اُور مقامی و غیرمقامی (دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے) متنازعہ علمائے کرام کے داخلے پر پابندی عائد کی جاتی تھی لیکن سوشل میڈیا اُور انٹرنیٹ کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر پھیل جاتی ہیں اُور یہ پابندی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ کورونا وبا کے ظاہر ہونے کے بعد سے رواں برس دوسری مرتبہ محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات منعقد ہوں گے جن میں مساجد و امام بارگاہوں کی چاردیواریوں کے اندر اُور کھلے مقامات پر ”کربلا شناسی“ عام کرنے کے لئے ذکر و فکر کی محافل منعقد ہوں گی جنہیں اِس سال کورونا قواعد (SOPs) کی روشنی میں منعقد کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے کیونکہ نئی قسم (ڈیلٹا وائرس) کی موجودگی اُور وفاقی و خیبرپختونخوا حکومتوں کی جانب سے نئے حفاظتی انتظامات (2 اگست) جاری کئے گئے ہیں جن میں اگرچہ محرم الحرام کا ذکر نہیں لیکن چونکہ محرم الحرام کی مناسبت سے تقاریب کا آغاز ہفتے دس دن میں ہونے والا ہے‘ اِس لئے کسی الگ ہدایت نامہ کی ضرورت نہیں اُور کسی بھی مسلک کی نمائندگی کرنے والوں کو طلب کر کے اُن سے اِس بات کا تحریری عہدنامہ لینا چاہئے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والے اجتماعات میں ’کورونا ایس اُو پیز‘ کو یقینی بنائیں گے اُور اگر زبانی کلامی یا تحریری یقین دہانی کے باوجود گزشتہ برس کی طرح اِس سال بھی ’کورونا ایس او پیز‘ پر عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آتا تو ایسی صورت میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اَعلیٰ حکام پر اُن کرداروں کی حقیقت عیاں ہو جانی چاہئے جن کے لئے محرم الحرام اُن کی ذاتی تشہیری سرگرمیوں (معمولات) کا نادر موقع ہوتا ہے۔ کسی اُور مرحلہ فکر پر بیان کیا جائے گا کہ اِمام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی (قیام و عمل) کا ذکر کس طرح ہدایت‘ اخلاقیات پر مبنی معاشرت اُور سب سے بڑھ کر اِنسانیت کے فروغ کا ذریعہ ہیں لیکن اِس لمحہ فکریہ پر صرف اِسی جانب توجہ دلانی ہے کہ اگر ’درحسینؓ پہ ملتے ہیں ہر مزاج کے لوگ .... یہ دوستی کا وسیلہ ہے دشمنی کا نہیں“ اُور اگر اِس حقیقت کو بھی سمجھ لیا گیا ہے کہ ”اِنسان کو بیدار تو ہو لینے دو .... ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ“ تو پھر اختلاف کی گنجائش کہاں اُور کیوں رہ جاتی ہے!؟

علامہ ڈاکٹر سیّد کلب حسین صادق نقوی (وفات نومبر دوہزاربیس) نے ایک خاص نکتے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا تھا کہ ”اگر منبر سدھر جائے تو معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔“ مگر مشکل تو یہی ہے کہ منبر و محراب کی ذمہ داریوں کا خاطرخواہ احساس نہیں کیا جا رہا اُور ”تو برائے وصل کردن آمدی .... نے برائے فصل کردن آمدی (ترجمہ) تو جوڑ (پیار) پیدا کرنے کے لئے (دنیا) میں آیا ہے ناکہ توڑ (اختلافات) پیدا کرنے کے لئے۔“ جیسی صورتحال درپیش ہے۔ اس لئے محرم الحرام کے دوران حالات و تعلقات معمول پر لانے اُور فاصلے و اختلافات ختم کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ اسلامی جمہوریہ میں امن دوست معاشرے کا چہرہ اُبھرے۔ اِس موقع پر تمام تر ذمہ داری علمائے کرام ہی نہیں بنتی بلکہ ہر کس و ناکس کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تقاریر کے ایسے ٹکڑے (clips) کا  تبادلہ (share)  نہ کرے‘ جن میں فروعی باتوں کو علمی بحث کی بجائے شدت و یک طرفہ زوایئے سے بیان (پیش) کیا جاتا ہے اُور اِس سے مذہبی منافرت پھیلتی ہے۔ مذہبی تعلیمات پر عمل سے لیکر مذہبی عقائد اُور مراسم کی ادائیگی تک ہر لفظ اُور ہر اقدام احتیاط پر مبنی ہونا چاہئے جس سے دوریاں ایجاد نہ ہوں اور فاصلے قربت سے بدل جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
....

Monday, September 2, 2019

Muharram Security Plan for Peshawar 2019

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
!تدبر بمقابلہ تدبیر
اقوام عالم کے عروج و زوال کے اسباب و اسباق غور طلب ہیں۔ گیارہ مارچ دوہزار گیارہ کے روز جاپان کے شہر ’فوکوشیما (Fukushima)‘ میں زلزلے سے جوہری بجلی گھر سے تابکاری کا اخراج شروع ہوا‘ جس سے بچانے کے لئے پورے شہر کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے حکومتی مشینری حرکت میں آئی۔ جاپان کی تاریخ میں چرنوبل (ستمبر 1982ئ) کے بعد یہ دوسرا بڑا حادثہ تھا‘ جس کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں لیکن سب سے خاص بات یہ ہے کہ تین لاکھ آبادی کے ’فوکوشیما‘ شہر سے تعلق رکھنے والے کسی ایک بھی بچے کو‘ کسی ایک بھی دن سکول سے رخصت نہیں دی گئی بلکہ قریبی (محفوظ) شہروں میں کھیلوں کے میدانوں کو سکولوں میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ تعلیم کا حرج نہ ہو۔

تعلیم کو ترجیح دینے کے ثمرات یہ ہیں کہ جاپان کا شمار دنیا کے سرفہرست تین امیرترین ممالک میں ہوتا ہے‘ جہاں فی کس اوسط آمدنی سالانہ 50 ہزار جبکہ پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی قریب 6 ہزار ڈالر ہے! زلزلے جیسے قدرتی آفت سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے والے جاپان میں اِس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہاں تعلیمی اداروں کو کسی بھی وجہ سے ایک دو نہیں بلکہ کئی کئی روز تک بند کیا جا سکتا ہے لیکن کیا پاکستان کے فیصلہ سازوں میں اِس قدر حساسیت پائی جاتی ہے کہ وہ تعلیم کو خاطرخواہ اہمیت کا احساس کریں؟
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ ”ماہ محرم الحرام (چودہ سو اکتالیس ہجری) کے ’پہلے 10روز‘ پشاور میں 15 تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔“ ظاہر ہے کہ ایسا کرنے کی سفارش محکمہ ¿ پولیس کی جانب سے کی گئی ہو گی جس کی محرم الحرام سے متعلق ’خصوصی حفاظتی تدابیر (سیکورٹی پلان)‘ میں تدبیر تو ملتی ہے البتہ تدبر کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے
محرم الحرام کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دنوں کو) ’مثالی (نمائشی) پرامن‘ بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے مختلف ادارے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں لیکن اگر اِسی ’اشتراک عمل‘ کا سال کے باقی مہینوں (پیشگی مظاہرہ) جاری رہتا تو محرم الحرام کے موقع پر ایسی ہنگامہ خیزی کی قطعی ضرورت ہی نہ پڑتی‘ کہ جس سے اہل پشاور کے معمولات (ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر) بُری طرح متاثر ہوں گے۔ مثال کے طور پر رواں برس پہلی مرتبہ 10روز کے لئے ’15 سرکاری و نجی تعلیمی اداروں‘ کو بند رکھنے کا فیصلہ غیرمنطقی ہے۔ فیصلہ سازوں کی ذہانت کو داد دینی پڑتی ہے‘ جو عشرہ محرم کی ابتداءاور اختتام پر اندرون شہر کے تعلیمی اداروں کی تالہ بندی کر دیتے ہیں۔ سلامتی کے مراکز مساجد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا جاتا ہے جبکہ آمدورفت کے لئے عمومی استعمال ہونے والے راستوں پر خاردار رکاوٹیں کھڑی کر کے داخلی شہر کے اندر ہی مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا جاتا ہے!

لمحہ فکریہ ہے کہ یہ سب دوڑ دھوپ ’امن‘ اُور ایک ایسے ’محترم و مکرم مہینے کے نام پر ہوتا ہے‘ جس کی حرمت مسلمہ و معلوم ہے۔ حیران کن امر یہ بھی ہے کہ دس روز کے لئے بند کئے جانے والے تعلیمی اداروں میں خصوصی بچوں کا ایک تعلیمی و تربیتی مرکز بھی شامل ہے۔ جن تعلیمی اِداروں کی اِس سال تالہ بندی کر دی گئی ہے اُن میں گورنمنٹ ہائی سکول (گونگے بہرے) محلہ جٹاں‘ گورنمنٹ پرائمری سکول مچھی کھٹہ‘ سنٹرل سٹی پبلک سکول محلہ دفتر بنداں‘ بلاول ملک سکول محلہ جٹاں‘ السید پبلک سکول محلہ قاضی خیلاں‘ تصور پبلک سکول محلہ جٹان‘ رمشا پبلک سکول کوچہ سید ولی‘ پشاور کمپیوٹر پبلک سکول محلہ فرشی گلی‘ یونیک پبلک سکول منڈا بیری‘ ٹیلنٹ پبلک سکول منڈا بیری‘ سیڈز پبلک سکول منڈا بیری‘ تاج پبلک سکول میر پور فرشی گلی اُور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول منڈا بیری شامل ہیں۔ تصور کیجئے کہ ہمارے ہاں ہر غیرقانونی کام کے پیچھے بھی ایک قانون چھپا ملتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے بقول ”سکولوں کی بندش کا فیصلہ ’ضلعی حکومت کے قانون (لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013) کی شق 71
(a)
 کے تحت اِس اقدام کا اطلاق صرف اُنہی علاقوں پر کیا گیا ہے‘ جہاں محرم الحرام کے حوالے سے اجتماعات کا انعقاد یا ماتمی جلوس برآمد ہوتے ہیں اُور یکم سے تیرہ محرم الحرام کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔“ لیکن بناء رجسٹریشن‘ بناءنمبرپلیٹ اُور جعلی نمبرپلیٹوں والے موٹرسائیکلوں کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی! کوئی بھی شخص پشاور کی درودیوار پر سارا سال لکھائی کرتا رہے لیکن ایسا کرنا محرم الحرام کے دوران ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پر اختلافات بھڑکانے والی تقاریر‘ نفرت انگیز مواد کی اشاعت و تشہیر بھی محرم الحرام کے دوران کرنے کی اجازت نہیں ہو گی لیکن اگر کوئی سال کے باقی مہینے اور محرم الحرام کے دوران بھی سوشل میڈیا کے ذریعے تعفن پھیلاتا رہے تو اُس کے خلاف کاروائی کی صورت کیا ہوگی؟

افغان مہاجرین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے کیمپوں کی حد تک سرگرمیوں کو محدود رکھیں لیکن شہروں کے اندر بسنے والے مہاجرین کے لئے حکم کیا ہے‘ تاحال یہ واضح نہیں

ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی وقتی طور پر ’تین سطحی سیکورٹی پلان‘ کے تحت پشاور میں 10 ہزار پولیس
 اہلکار تعینات ہوں گے‘ جبکہ موبائل فونز کی بندش بھی کی جائے گی اُور اِس پوری تدبیر کو ’فول پروف (fool-proof)‘ سیکورٹی کا نام دیا گیا ہے! ماہ محرم الحرام کے حوالے سے پشاور کے ماضی و حال میں زمین آسمان کا فرق کیوں ہے؟

فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر اہل پشاور باہم شیروشکر ہوا کرتے تھے تو بھائی چارے اور برداشت کا وہ ماحول پھر سے بحال کیوں نہیں ہو سکتا‘ جو پشاور کا خاصہ تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ سوال اہم ہے کہ آخر امن کے لئے ’دائمی خطرہ‘ بننے والوں سے کیوں نہیں نمٹا جاتا‘ جبکہ اُن کرداروں کے نام و کام ڈھکے چھپے نہیں! دیر اب بھی نہیں ہوئی‘ موثر پولیسنگ کے ذریعے وہ سب کچھ ممکن ہے‘ جو فی الوقت ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ امن و امان کی عمومی صورتحال معمول پر آنے کے باوجود اگر محرم الحرام کے موقع پر ماضی کے مقابلے زیادہ سخت حفاظتی انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں‘ تو اِس کا سیدھا سادا مطلب تو یہ ہے کہ دہشت کا سبب بننے والا تخریب و خطرہ اُور انتہاءپسندی اپنی جگہ موجود ہے‘ جس سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی عاجلانہ حکمت عملی (تدبیر) پر غور (تدبر) کرنا چاہئے۔
............