Showing posts with label Muharram 2021. Show all posts
Showing posts with label Muharram 2021. Show all posts

Thursday, August 12, 2021

Muharram Security: All we need is love!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : پیار کی سوغات چاہئے!

محرم الحرام کے لئے تشکیل دیئے گئے خصوصی حفاظتی انتظامات (سیکورٹی پلان) کے تحت پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے یکم محرم الحرام (10 اگست) سے ’دفعہ 144‘ نافذ کر رکھی ہے جو سوئم امام اُور ممکنہ طور پر اِس کے بعد بیس صفرالمظفر (چہلم ِامام) تک جاری رہے گی۔ مذکورہ خصوصی قانون کے اطلاق کے پہلے ہی روز خلاف ورزی کرنے والے 609 افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی ہے‘ جس سے اندازہ    لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور کی اکثریت اِن خصوصی اقدامات و انتظامات سے ناواقف ہے بصورت دیگر کوئی منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ اِس قدر بڑی تعداد میں کوئی قانون کی خلاف ورزی کیوں کرے گا۔ پشاور کی تاریخ میں شاید اِس سے قبل کبھی بھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا ہوگا کہ ایک دن میں 600 سے زائد افراد کے خلاف ’دفعہ 144‘ کے تحت کاروائیاں کی گئی ہوں۔ سب سے زیادہ جرمانے گاڑیوں کے سیاہ شیشوں کی وجہ سے کئے گئے ہیں لیکن پشاور میں گاڑیوں کے شیشے سیاہ کرنے والے مراکز پر پابندی نہیں! اِسی طرح وال چاکنگ پر پابندی ہے لیکن وال چاکنگ کرنے والوں کی خدمات کسی بھی وقت حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے مختلف نوعیت کی کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری‘ گاڑیوں کے سیاہ شیشے اُور اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کی ہے جبکہ اصولاً اگر یہ جرائم ہیں تو اِن پر صرف محرم الحرام کے دوران ہی نہیں بلکہ سال کے دیگر ایام میں بھی پابندی کیوں عائد ہونی چاہئے؟

پشاور کو اسلحے سے پاک کرنے کی مہم کب چلائی جائے گی جبکہ یہاں ہوائی فائرنگ کی خلاف ورزی کرنے کے واقعات تواتر سے رونما ہوتے ہیں!؟

محرم الحرام اُور دیگر گیارہ مہینوں کے حفاظتی انتظامات یکساں سخت ہونے چاہیئں اُور خیبرپختونخوا کے سبھی اضلاع میں پولیس اہلکاروں بالخصوص داخلی و خارجی راستوں کے ناکوں پر کھڑے جوانوں کو ’بلٹ پروف جیکٹس اُور ہیلمٹ‘ لازم بطور یونیفارم پہننا چاہئے‘ صرف محرم کی خصوصیت اُور مخصوصیت ہی کافی نہیں کیونکہ افغانستان کی صورتحال غیریقینی ہونے کی وجہ سے پشاور میں سیکورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں اُور مہینوں کے دوران پولیس کے گشتی اہلکاروں اُور ناکوں پر حملوں کے واقعات سے عیاں ہے کہ رواں برس (1443ہجری) محرم الحرام آسان نہیں جس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنگین سیکورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔

پشاور کا محرم اُور عزاداری خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں سے مختلف‘ قدیمی اُور روائتی ہے۔ یہاں وقت کی رفتار رکی ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ سینکڑوں برس سے جاری یہ ’اظہار ِعقیدت و پرسہ داری‘ ایک ہی ڈگر اُور ایک ہی معمول پر چل رہے ہیں‘ جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خانوادہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت رکھنے والے اپنی اپنی دنیاؤں میں رہتے ہیں اُور ایک دوسرے کے عقائد کو واجب الاحترام سمجھتے ہوئے حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ یہی پشاور کا مزاج رہا ہے اُور یہی پشاور کا خاصہ بھی ہے‘ جسے نظر لگ چکی ہے اُور اِس نظر کو توڑنے (نظر ماتے) کی ضرورت ہے۔

تاریخی طور پر پشاور میں 10محرم الحرام کی مناسبت سے ذوالجناح کا پہلا جلوس 1890ءمیں نکالا گیا جو برطانوی حکومت سے حاصل کردہ خصوصی اجازت کے تحت تھا۔ یوں پشاور میں عزاداری بصورت جلوس برآمدگی کا آغاز قیام پاکستان سے قبل ہوا۔ 1890ءمیں ایک ایرانی سفارتکار نے یہاں فارسی زبان کی مجالس متعارف کروائی تھیں اُور ابتدا سے آج تک فارسی مجالس نہ صرف عشرے بلکہ اِس کے بعد چہلم امام تک خمسہ اُور ہفتہ وار شب بیداریوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ پشاور کا محرم کثیرالسانی ہے۔ یہاں فارسی کے علاؤہ‘ اُردو‘ ہندکو‘ سرائیکی‘ پنجابی‘ کشمیری اُور پشتو زبانوں میں مجالس کا انعقاد ہوتا ہے اُور اِن کے لئے الگ الگ امام بارگاہیں (مقامات) مخصوص ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور سے ذوالجناح کا پہلا جلوس ’امام بارگاہ سیّد عالم شاہ‘ سے برآمد ہوا تھا جو آج تک باقاعدگی سے جاری ہے اُور یوم عاشور (10محرم الحرام) صبح 9 بجے سے بوقت مغرب (دن ڈھلے) تک پشاور میں14 جلوس مختلف امام بارگاہوں سے نکالے جاتے ہیں جو اپنے روائتی راستوں سے گزرتے ہوئے جن مقامات پر اختتام پذیر ہوتے ہیں وہاں شام غریباں کی محافل برپا ہوتی ہیں جو دیر رات تک جاری رہتی ہیں۔ علا ؤہ ازیں شام غریباں کے جلوس بھی برآمد ہوتے ہیں‘ جن کے اپنے روائتی لیکن مختصر راستے ہیں۔ یوم عاشور سے قبل 9ویں محرم کی شب نکالے جانے والے جلوس تمام رات سفر کرتے ہوئے آذان فجر پر اختتام پذیر ہوتے ہیں اُور مذکورہ جلوسوں کی راہداریاں چونکہ مختلف ہوتی ہیں اِس لئے ہر جلوس کے آگے پیچھے اُور دائیں بائیں راستوں پر پولیس اہلکار نظر رکھتے ہیں۔ پشاور میں محرم الحرام کے پہلے عشرے کی خصوصیت یہ ہے کہ اِس میں ہونے والی جملہ عزاداری رات گئے شروع اُور تمام رات جاری رہنے کے بعد دن کے آغاز پر ختم ہوتی ہے‘ جن کے شرکا کی آمدورفت کے باعث اندرون شہر کی گلی کوچوں میں بھی سیکورٹی اہلکار تعینات کرنا پڑتے ہیں اُور حفاظتی انتظامات کا سب سے مشکل ترین اُور مہنگا ترین حصہ ہے‘ جسے محفوظ و آسان بنانے کے لئے ضلعی اِنتظامیہ ’دفعہ 144‘ کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی اختیارات دیتی ہے لیکن اگر دفعہ 144 نافذ نہ بھی ہو‘ تب بھی نقص امن کے جملہ محرکات جیسا کہ نفرت انگیز و آمیز تحاریر و تقاریر‘ مسالک کی دل آزاری‘ وال چاکنگ‘ اسلحے کی نمائش‘ ہوائی فائرنگ اُور گاڑیوں کے کالے شیشوں پر پابندی ہونی چاہئے۔

محرم الحرام کے آغاز پر ’دفعہ 144‘ نافذ ہونے کا علم ہر خاص و عام کو نہیں ہوتا اُور یہی وجہ ہے کہ غیردانستہ خلاف ورزی ہو جاتی ہے جسے درگزر کرنا چاہئے کیونکہ موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی غیرمتعلقہ علاقوں میں بھی نافذ کر دی جاتی ہے کہ جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے کوئی تقریب یا جلوس نہیں ہوتا۔ ضلعی انتظامیہ اُور ٹریفک پولیس اہلکاروں کو کاہلی اُور سستی پر مبنی اِس لائحہ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی‘ جس میں پورے پشاور کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے۔ صوبائی و ضلعی اُور بلدیاتی فیصلہ سازوں کو حفاظتی اقدامات و انتظامات کے نتائج سے بھی سبق سیکھنا چاہئے کہ جس کی وجہ سے نفرت ختم ہونے کی بجائے یہ بذریعہ ’دفعہ 144‘ نفرت بڑھ رہی ہے۔ پشاور میں مختلف مسالک کے درمیان معاشرت و تعلقات کی تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے تاراج سکون کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ بھائی چارے اُور مذہبی رواداری پھر سے عام کرنے کی ضرورت ہے‘ جسے سخت گیر حفاظتی انتظامات نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تجویز ہے کہ عام آدمی کے نکتہ¿ نظر سے بھی دیکھا اُور سوچا جائے کہ اسلامی سال کے پہلے مہینے (محرم الحرام) کا آغاز خوف و ہراس اُور دہشت سے نہیں بلکہ یگانگت و محبت اُور عقیدت کے اظہار سے کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ”امن و امان پیار کی سوغات چاہئے .... خوابوں کو نیند‘ نیند کو بھی رات چاہئے (سبین یونس)۔“

....





Tuesday, August 3, 2021

Muharram ul Harram & Security Concerns

محرم الحرام‘ تیاریاں‘ انتظامات اُور خدشات
 اسلامی سال کے پہلے مہینے ’محرم الحرام‘ کا آغاز 9 یا 10 اگست سے ہو رہا ہے جبکہ یوم عاشور (10محرم الحرام) اٹھارہ یا اُنیس اگست اُور چہلم اِمام 27 یا 28 ستمبر روائتی مذہبی جوش و خروش سے منانے کی تیاریاں اُور انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر محرم الحرام کے آغاز سے 8 ربیع الاوّل تک کا عرصہ بطور ’ایام ِعزا (سوگ)‘ منایا جاتا ہے اُور اِن ’ایام ِعزا‘ کے دوران عبادت گاہوں (اِمامیہ مساجد و امام بارگاہوں) کی سیّاہ پوشی کی جاتی ہے۔ کامل ”2 مہینے 8 دن“ پر مشتمل اِن ایام ِعزا کے حوالے سے ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں اُور محکمہ¿ صحت کو شریک کرتے ہوئے ضلعی حفاظتی اقدامات (سیکورٹی پلانز) تشکیل دیئے ہیں‘ جن پر ’عدم اِطمینان‘ کا اظہار کرتے ہوئے امامیہ جرگہ خیبرپختونخوا نے پشاور سمیت حساس علاقوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عزاداریسیّد الشہدا  کے ذریعے تمام مسالک اُور جملہ مسلم و غیر مسلم مکاتب ِفکر کے درمیان جس ہم آہنگی کا قیام اُور فروغ ہونا چاہئے‘ اُس کی اہمیت و ضرورت تو ہر کوئی محسوس کر رہا ہے لیکن اِس سلسلے میں اِنفرادی و اجتماعی حیثیت سے ’ذمہ داری‘ اُور ’احساس ِ ذمہ داری‘ عام نہیں۔

محرم الحرام کی آمد سے قبل اخبارات میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تصاویر شائع کروانے والے مانوس چہرے نمودار ہوتے ہیں۔ امن کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں لیکن پشاور میں بالخصوص اُور خیبرپختونخوا میں بالعموم وہ امن بحال نہیں ہو رہا جو12 جولائی 1992ء(یوم عاشور) کے موقع پر ’سانحہ¿ کوہاٹی گیٹ‘ کے بعد سے متاثر ہے اُور جس کی برسی و غم صرف اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے وہ گھرانے بھی مناتے ہیں‘ جن کے پیارے مذہب کی بنیاد پر پائی جانے والی نفرت کا نشانہ بنے تھے۔ مذکورہ سانحے میں 10 افراد قتل جبکہ درجنوں زخمی ہوئے اُور اِس سانحے کے بعد پیدا ہوئی کشیدگی اپنی جگہ جبکہ املاک پر حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا‘ جو پشاور کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔

محرم الحرام کی مناسبت سے حفاظتی انتظامات پر سرکاری خزانے سے ہر سال کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن مثالی صورت میں امن و امان کو بحال نہیں کیا جاتا جس کے بعد خصوصی حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہی پیش نہ آئے جیسا کہ مقامی اُور غیرمقامی کی تمیز نہ کرتے ہوئے بازاروں اُور راستوں کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کرنا اُور موبائل فونز کی سروسیز معطل رکھنے جیسے انتظامات ناقابل فہم ہیں۔ 1992ءسے قبل میں صرف افغان مہاجرین اُور مقامی و غیرمقامی (دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے) متنازعہ علمائے کرام کے داخلے پر پابندی عائد کی جاتی تھی لیکن سوشل میڈیا اُور انٹرنیٹ کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر پھیل جاتی ہیں اُور یہ پابندی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ کورونا وبا کے ظاہر ہونے کے بعد سے رواں برس دوسری مرتبہ محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات منعقد ہوں گے جن میں مساجد و امام بارگاہوں کی چاردیواریوں کے اندر اُور کھلے مقامات پر ”کربلا شناسی“ عام کرنے کے لئے ذکر و فکر کی محافل منعقد ہوں گی جنہیں اِس سال کورونا قواعد (SOPs) کی روشنی میں منعقد کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے کیونکہ نئی قسم (ڈیلٹا وائرس) کی موجودگی اُور وفاقی و خیبرپختونخوا حکومتوں کی جانب سے نئے حفاظتی انتظامات (2 اگست) جاری کئے گئے ہیں جن میں اگرچہ محرم الحرام کا ذکر نہیں لیکن چونکہ محرم الحرام کی مناسبت سے تقاریب کا آغاز ہفتے دس دن میں ہونے والا ہے‘ اِس لئے کسی الگ ہدایت نامہ کی ضرورت نہیں اُور کسی بھی مسلک کی نمائندگی کرنے والوں کو طلب کر کے اُن سے اِس بات کا تحریری عہدنامہ لینا چاہئے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والے اجتماعات میں ’کورونا ایس اُو پیز‘ کو یقینی بنائیں گے اُور اگر زبانی کلامی یا تحریری یقین دہانی کے باوجود گزشتہ برس کی طرح اِس سال بھی ’کورونا ایس او پیز‘ پر عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آتا تو ایسی صورت میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اَعلیٰ حکام پر اُن کرداروں کی حقیقت عیاں ہو جانی چاہئے جن کے لئے محرم الحرام اُن کی ذاتی تشہیری سرگرمیوں (معمولات) کا نادر موقع ہوتا ہے۔ کسی اُور مرحلہ فکر پر بیان کیا جائے گا کہ اِمام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی (قیام و عمل) کا ذکر کس طرح ہدایت‘ اخلاقیات پر مبنی معاشرت اُور سب سے بڑھ کر اِنسانیت کے فروغ کا ذریعہ ہیں لیکن اِس لمحہ فکریہ پر صرف اِسی جانب توجہ دلانی ہے کہ اگر ’درحسینؓ پہ ملتے ہیں ہر مزاج کے لوگ .... یہ دوستی کا وسیلہ ہے دشمنی کا نہیں“ اُور اگر اِس حقیقت کو بھی سمجھ لیا گیا ہے کہ ”اِنسان کو بیدار تو ہو لینے دو .... ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ“ تو پھر اختلاف کی گنجائش کہاں اُور کیوں رہ جاتی ہے!؟

علامہ ڈاکٹر سیّد کلب حسین صادق نقوی (وفات نومبر دوہزاربیس) نے ایک خاص نکتے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا تھا کہ ”اگر منبر سدھر جائے تو معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔“ مگر مشکل تو یہی ہے کہ منبر و محراب کی ذمہ داریوں کا خاطرخواہ احساس نہیں کیا جا رہا اُور ”تو برائے وصل کردن آمدی .... نے برائے فصل کردن آمدی (ترجمہ) تو جوڑ (پیار) پیدا کرنے کے لئے (دنیا) میں آیا ہے ناکہ توڑ (اختلافات) پیدا کرنے کے لئے۔“ جیسی صورتحال درپیش ہے۔ اس لئے محرم الحرام کے دوران حالات و تعلقات معمول پر لانے اُور فاصلے و اختلافات ختم کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ اسلامی جمہوریہ میں امن دوست معاشرے کا چہرہ اُبھرے۔ اِس موقع پر تمام تر ذمہ داری علمائے کرام ہی نہیں بنتی بلکہ ہر کس و ناکس کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تقاریر کے ایسے ٹکڑے (clips) کا  تبادلہ (share)  نہ کرے‘ جن میں فروعی باتوں کو علمی بحث کی بجائے شدت و یک طرفہ زوایئے سے بیان (پیش) کیا جاتا ہے اُور اِس سے مذہبی منافرت پھیلتی ہے۔ مذہبی تعلیمات پر عمل سے لیکر مذہبی عقائد اُور مراسم کی ادائیگی تک ہر لفظ اُور ہر اقدام احتیاط پر مبنی ہونا چاہئے جس سے دوریاں ایجاد نہ ہوں اور فاصلے قربت سے بدل جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
....