Showing posts with label Shia. Show all posts
Showing posts with label Shia. Show all posts

Tuesday, June 23, 2020

Remembering Allama Talib Johari

موت العالم‘ موت العالم
معروف مذہبی شخصیت علامہ طالب جوہری کے انتقال پر صرف مذہبی حلقے اُور اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل علم و ادب بھی اُداس‘ مغموم اُور سوگوار ہیں کیونکہ اُنہوں نے کمال محنت سے علم کے سمندر (قرآن کریم) سے ایسے نایاب موتی تلاش کئے‘ جن کی بدولت علوم قرآن کو سمجھنے کے ساتھ عوام و خواص کو قرآن کریم کی روشنی میں عقائد و دینی اصلاحات بارے رائے قائم میں آسانی رہی اُور یہی وجہ تھی کہ اُنہیں اتحاد بین المسلمین کا داعی قرار دیا جاتا تھا۔ گزشتہ چند برس سے علیل رہنے اُور کمزوری کے باعث اُنہوں نے مجالس اُور اجتماعی عبادات میں شرکت کم کر دی تھی اُور اِس عرصے کے دوران کم سے کم تین مرتبہ اُن کے انتقال کی خبریں زیرگردش رہیں کیونکہ وہ جسمانی طور پر اِس حد تک نحیف ہو چکے تھے کہ زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتے تھے اُور سارا وقت یاد الٰہی میں مشغول رہتے۔ بائیس جون کی شب رات ایک بجکر ایک منٹ پر جب اُن کے انتقال کی خبر موصول ہوئی تو جوہری خانوادہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ نسرین پرویز نے واٹس ایپ پر صوتی پیغام دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موبائل اُور لینڈ لائن فون مصروف ہونے کی وجہ سے اِس ’خبرِ غم‘ کی تصدیق نہیں ہو رہی تاہم چند ہی منٹ بعد انچولی سے مختصر دورانئے کی 2 ویڈیوز موصول ہوئیں جنہیں دیکھ کر تصدیق ہو گئی کہ علامہ طالب جوہری بارگاہ ¿ اہل بیت اطہار میں منتقل ہو چکے ہیں۔ وہ 10 جون سے ایک نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے اُور چھاتی کے امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اُنہیں آخری چند روز مصنوعی آلات (وینٹی لیٹر) کے ذریعے سانس دی جا رہی تاہم اِس مرتبہ وہ جانبر نہ ہو سکے۔ (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

کراچی میں قیام کے دوران تین مرتبہ عشرہ محرم الحرام کے دوران علامہ طالب جوہری اُور آیت اللہ سیّد عقیل الغروی (بھارت) کی مجالس سننے کا اتفاق ہوا‘ جہاں شیعہ سنی کی تمیز نہیں ہوتی۔ ہر مکتبہ ¿ فکر اُور بودوباش سے تعلق رکھنے والے کئی کئی گھنٹے قبل فرش عزا پر جا بیٹھتے تاکہ وہ علامہ کا قریب سے دیدار بھی کر سکیں۔ اہل کراچی (شیعہ و سنی) کی اُن سے محبت اُور عقیدت کے رشتے الگ الگ نہیں بلکہ وہ ایک ہی سکے کے دو رخ تھے اُور یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی بھی متنازعہ نہیں رہے۔ انتہائی نوعیت کے فروعی اُور اختلافی مسائل کے بارے میں بھی اُن کے بیان قرآن کی آیات سے مدلل و مزین ہوتے‘ جو اُن کے قوی حافظے اُور وسیع مطالعے کی دلیل تھی۔ اسلامی موضوعات اُور ادیان کے تقابلی جائزے کے علاو ¿ہ بطور تاریخ داں‘ شاعر اُور فلسفی اُن کی تصانیف تحقیق و بیان کا شاہکار ہیں کہ اُنہیں پڑھتے ہوئے کانوں میں اُن کے مخصوص طرز خطاب کی گونج محسوس ہوتی ہے اُور یہ صرف اُنہی کا خاصہ رہا کہ وہ تحریر (نثر) کو بھی کلام جیسی خوبیاں سے مرصع کر دیا کرتے تھے اُور یوں کتاب پڑھنے والے کو الفاظ کے سننے جیسا گمان ہونے لگتا۔

علامہ طالب جوہری کا تعلق اُس علمی ادبی گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد گرامی مولانا مصطفیٰ جوہری کا شمار بھی جید علمائے کرام میں ہوتا تھا جن کے ہاں طالب جوہری کی پیدائش (27 اگست 1939ئ) پٹنہ (بھارت) میں ہوئی اُور علوم کی منتقلی کا ابتدائی سلسلہ گھر ہی سے شروع ہوا۔ اِس کے بعد 10 برس تک نجف اشرف (عراق) میں آیت اللہ العظمی سیّد ابو القاسم الخوئی کی زیرنگرانی دینی و دنیاوی علوم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے آیت اللہ العظمی سیّد باقر الصدر سے بھی تحصیل علم کیا جو بعد میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ ایک نجی محفل میں اُن سے بات چیت کا شرف ملا اُور جب نجف اشرف سے متعلق اُن کی یادوں بارے سوال کیا گیا تو قوی ¿ الحافظہ ہونے کے باوجود آپ نے فوری جواب نہیں دیا بلکہ کئی منٹ تک خاموش رہے اُور ایسا بہت کم ہوتا کہ جب اُن سے کسی بھی موضوع پر بات کی جاتی تو وہ قرآن کریم اُور احادیث سے درجنوں حوالہ جات اُس وقت تک بیان کرتے رہتے جب تک کہ سوال پوچھنے والے کی تسکین یا ممکنہ ضمنی سوالات کے تمام جوابات ادا نہ ہو جاتے لیکن نجف اشرف کے تذکرے پر اُنہوں نے کہا کہ ”بیٹا جسم یہاں ہے لیکن روح وہیں رہ گئی ہے!“ 

علامہ طالب جوہری 1965ءمیں نجف اشرف سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی واپس آئے اُور جامعہ امامیہ مدرسے کے نگران (پرنسپل) کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے۔ آپ پانچ برس تک گورنمنٹ کالج ناظم آباد (کراچی) میں علوم اسلام (اسلامک سٹیڈیز) کے معلم بھی رہے۔ واقعات کربلا اُور اسلام کے عصری شعور کو بیان کرنے میں آپ کا ثانی نہیں تھا۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں ”علامات ظہور مہدی“ ایک ایسی جامع کتاب ہے‘ جس میں اِمام زمانہ عجل اللہ و فرج کے ظہور سے متعلق ماضی‘ حال اُور مستقبل کے سبھی متعلقہ عنوانات کا احاطہ پیش کیا گیا ہے۔ اُن کی تفسیر قرآن‘ احسن الاحادیث‘ حدیث کربلائی‘ عقلیات معاصر‘ ذکر معصوم‘ نظام حیات انسان‘ خلفائے اثنائے عشر قابل ذکر ہیں جبکہ شاعری کے 3 مجموعے حرف نمو‘ پس آفاق اُور شاخ صدا لاجواب ادبی فن پارے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ذریعے علامہ طالب جوہری کو نئی پہچان ملی۔ 

پاکستان اُور اُردو سمجھنے والی دنیا میں اُن کا تعارف 1980ءاُور 1990ءکی دہائیوں میں ہوا۔ ابتدا میں قرآنی موضوعات کے حوالے سے ”تفہیم دین“ اُور ”فہم القرآن“ کے نام سے مختصر دورانئے کی درسی نشست سے خطاب کرتے رہے‘ جس میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہوتا۔ تاہم اُن کا راج کئی دہائیوں تک دس محرم الحرام کی شب مجلس شام غریباں سے خطاب کی صورت رہا‘ جو عوام و خواص کی پسندیدگی کے باعث یوم عاشور کی مناسبت سے لازم و ملزوم جز رہا اُور اُنہوں نے علامہ نصیرالدین اجتہادی کی کمی محسوس نہیں ہونے دی‘ جو اُن سے قبل شام غریباں کے مقرر تھے اُور علامہ اجتہادی نے علامہ نصیر ترابی کے معیار خطابت و تحقیق کو ایک نئی بلندی سے روشناس کیا تھا۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ کراچی کے ایرانیان کھارادر (قدیمی امام بارگاہ) میں جب علامہ طالب جوہری عشرہ محرم کی مجالس سے خطاب کرتے تو اُنہیں سننے والوں میں بوہری اُور اسماعیلی شیعہ مسالک کے علاو ¿ہ بڑی تعداد میں اہلسنت و الجماعت کے علما بھی موجود ہوتے۔ یہ اعزاز اپنی جگہ ہے کہ آیت الہ ابوالفضل بہاو ¿الدینی‘ ولایت فقیہہ آیت اللہ العظمیٰ سیّد علی خامنہ ائی کے نمائندہ اُن کی مجالس میں تشریف فرما ہوتے۔ یقینا علامہ طالب جوہری کے اِس جہانِ فانی سے کوچ کر جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا اُور ایک عالم کی موت (موت العالم) تو درحقیقت ایک عالم کی موت (موت العالم) ہوتی ہے!
....
Editorial Page - Daily Aaj - June 23, 2020 Tuesday

Sunday, October 1, 2017

Oct 2017: Karbala - forever!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کربلا: تااَبد قائم رہے گی!
اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضور اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی۔ 

اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی‘ حریت فکر‘ انسان دوستی‘ مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کو اسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لئے حضرت امام حسین علیہ السلام محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقاء و بحالی کے لئے میدانِ عمل میں اترے‘ راہِ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدانِ کربلا میں گزری وہ جور و جفا‘ بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔ یہ تصور کہ اسلام کے نام لیواؤں پر یہ ظلم خود اُن لوگوں نے کیا جو خود کو مسلمان کہتے تھے بڑا روح فرسا ہے۔ مزید براں‘ حضرت امام حسینؓ کا جو تعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھا اسے بھی ظالموں نے نگاہ میں نہ رکھا۔ نواسہ رسول کو میدانِ کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اور سر کی بے حرمتی کی گئی۔ یہ اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت امام حسینؓ نے آخری لمحات میں جو انتہائی معقول تجاویز پیش کیں‘ انہیں سرے سے درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا گیا۔ اس سے یزید کی آمرانہ ذہنیت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ نقطہ قابلِ غور ہے کہ جب شخصی اور ذاتی مصالح‘ ملی‘ اخلاقی اور مذہبی مصلحتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں تو انسان درندگی کی بدترین مثالیں بھی پیش کرنے پرقادر ہے اور ایسی مثالوں سے تو یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے لٰہذا اِن حقائق کی روشنی میں سانحہ کربلا کا جائزہ لیا جائے تو یہ واقعہ اسلام کے نام پر سیاہ دھبہ ہے کیونکہ اس سے اسلامی نظامِ حکومت میں ایسی خرابی کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں لیکن اگر ہم اس سانحہ کو اسلام کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بھی قرار دیں تو یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہوگا کیونکہ جہاں تک حق و انصاف‘ حریت و آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لئے جدوجہد کا تعلق ہے یہ کہنا درست ہوگا کہ: سانحۂ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں شخصی حکومتوں یا بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یزید کی نامزدگی اسلام کے نظامِ شورائیت کی نفی تھی ۔ 

امام حسینؓ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت‘ جرأت اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی‘ حریت فکر اور خدا کی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔ امام حسینؓ کا ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ 

سانحۂ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لئے تاریخِ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔ 

’’جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیں: 
تا ابد روشن رہیں گی: 
خدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس ’انفس و آفاق‘ ہے: 
اور خیر کی تاریخ کا وہ باب اوّل ہے: 
ابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گا: 
یقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیں: 
تا ابد آتے رہیں گے: ابوطالب کے بیٹے حفظ ناموس رسالت کی روایت کے امیں تھے: 
جان دینا جانتے تھے: 
وہ مسلمؓ ہوں کہ وہ عباسؓ ہوں‘ عونؓ و محمدؓ ہوں‘ علی اکبرؓ ہوں‘ قاسمؓ ہوں‘ علی اصغرؓ ہوں: 
حق پہچانتے تھے: 
لشکر باطل کو کب گردانتے تھے: 
ابوطالب کے بیٹے سر بُریدہ ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
اَبوطالب کے بیٹے‘ پا بجولاں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
ابوطالب کے بیٹے‘ صرف زنداں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
مدینہ ہو نجف ہو کربلا ہو کاظمین و سامرہ ہو مشہد و بغداد ہو: 
آل ابوطالب کے قدموں کے نشاں ‘اِنسانیت کو اُس کی منزل کا پتہ دیتے رہے ہیں تا ابد دیتے رہیں گے: 
ابوطالب کے بیٹوں اور غلامان علی ابن ابی طالب میں اِک نسبت رہی ہے: 
محبت کی یہ نسبت عمر بھر قائم رہے گی: تا اَبد قائم رہے گی۔ (اِفتخار عارف)‘‘
۔۔

Friday, February 13, 2015

Feb2015: Blood Bath in Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
لہو لہو پشاور!
سولہ دسمبر دوہزار چودہ کے روز تعلیمی اِدارے پر حملہ کرکے معصوم بچوں کو قتل کرنے کے واقعات‘ دکھ اور صدمے سے ابھی پشاور سنبھلنے بھی نہیں پایا تھا کہ 59دن (ایک ماہ اٹھائیس دن بعد) تیرہ فروری کے روز‘ حیات آباد میں نماز جمعہ کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا‘ جس میں ہلاک وزخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد ’نمازی نوجوانوں اور بچوں‘ کی ہے! کیا ہم یونہی ’وار پر وار‘ سہتے جائیں گے؟ کیا پشاور کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ اِس کے زخم ہمیشہ تازہ رہیں؟

سب سے پہلی بات تو پشاور کی جدید رہائشی بستی حیات آباد کا محل وقوع ہے جو خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سے متصل ہے بالخصوص یہاں کا ’فیز فائیو‘ درجنوں اہم سرکاری دفاتر کا مرکز ہے‘ جو زمینی آمدورفت کے لحاظ سے دیگر حصوں کی طرح قبائلی علاقے سے نزدیک ترین ہے۔ اِس غیرمحفوظ علاقے میں اہم سرکاری دفاتر (پاسپورٹ آفس و بینک) اُور تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت کیوں دی گئی‘ جبکہ اِن کی حفاظت کے خاطرخواہ انتظامات پولیس کی محدود افرادی قوت و وسائل کی وجہ سے ممکن نہیں۔ ایسے علاقے میں مسجد کی تعمیر کی اجازت بھی تعجب خیز ہے‘ بالخصوص ایک ایسی مسجد جس سے وابستہ لوگ اپنے مسلک کی وجہ سے مستقل نشانے پر ہوں۔ ’’اب یہی آخری حل ہے کہ مجھے ڈھال بنا۔۔۔ تیرے پاس اُور کوئی تیر نہیں ہے‘ میں ہوں!‘‘ ایک جامع مسجد میں اگر آٹھ سے نو سو افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اُور وہاں ہر نماز جمعہ کے موقع پر پانچ سے چھ سو افراد نماز کی ادائیگی کے لئے جمع ہونے کے علاؤہ دیگر مذہبی اجتماعات بھی تواتر سے منعقد ہوتے رہے ہیں تو پھر ایک پولیس اہلکار سے پورے احاطۂ مسجد کی حفاظت کرنا کونسی منطق ہے؟ حیات آباد مسجد پر حملہ نے اُن تمام سوالات کو ایک مرتبہ پھر اُٹھایا ہے جو سولہ دسمبر کے سانحۂ پشاور کے موقع پر بھی اُٹھائے گئے لیکن صوبائی حکومت اور پشاور شہر کی پولیس فورس کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ’آرمی پبلک سکول‘ تو چھاؤنی کی حدود میں واقع تھا اور اُس تمام علاقے کی سیکورٹی فوج (ملٹری پولیس) کے پاس تھی۔ کیا حیات آباد کا شمار بھی چھاؤنی میں کیا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر مسجد پر حملے کے بعد متعلقہ پولیس تھانے اور سرکل کے انتظامی نگرانوں کو نہ صرف معطل بلکہ اُن کے خلاف مجرمانہ غفلت کے مقدمات درج ہونے چاہئے۔ جب تک سرکاری اہلکاروں بشمول و بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انتظامی نگرانوں کی ’سزا و جزا‘ کا تصور سامنے نہیں آئے گا‘ جب تک اُن کے اثاثہ جات پر نظررکھتے ہوئے احتساب کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی‘ ایسے واقعات کا تسلسل ہوتا رہے گا کیونکہ ہمیں اپنے دشمن کا تو علم ہے لیکن اُس کی سرکوبی کرنے کی تنخواہ و مراعات حاصل کرنے والے (یوں لگتا ہے کہ ۔۔۔) دانستہ طور پر غفلت کا مرتکب ہو رہے ہیں!

حیات آباد کی مسجد پر حملہ نہ تو پہلا تھا اور نہ ہی اِس قدر معمولی کہ اِسے نظرانداز کر دیا جائے۔ افسوس کہ حیات آباد کی بستی میں ’اغوأ برائے تاوان‘ اور ’بھتہ خوری‘ جیسے جرائم اِس قدر تواتر سے ہوتے ہیں کہ اب اِس بات پر زیادہ تشویش کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا۔ رواں برس دس جنوری کے روز فیز ون میں ایک ڈاکٹر (محمد سعید) کو کلینک کے اندر گھس کر قتل کیا گیا۔ سولہ اگست دو ہزار آٹھ ایک معروف شخصیت سردار ممتاز قزلباش کو اُن کے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیا‘ جن کی لاش اُٹھانے سب سے پہلے اُن کا بیٹا پہنچا۔ اِکیس مئی دوہزار چودہ مسلح افراد نے بینک منیجر محمد اَنور کو حیات آباد سے اَغوأ کیا اور چلتے بنے! ایسے بہت سے چھوٹے بڑے منظم جرائم کے واقعات کی تفصیلات بیان کی جاسکتی ہیں‘ جن سے اِس بات کا اَندازہ لگانا مشکل نہیں کہ‘ حیات آباد میں زندگی بسر کرنے والوں کو ’یومیہ بنیادوں پر‘ کن تشویش بھرے حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تمہیداً عرض ہے کہ ۔۔۔ پشاور کی حفاظتی حکمت عملی چاہے کتنی ہی جامع کیوں نہ ہو‘ کارگر ثابت نہیں ہوگی‘ جب تک قبائلی علاقوں کی غیرمنطقی آزادانہ و خودمختاری آئینی حیثیت تبدیل نہیں کی جاتی۔ تین اطراف میں قبائلی علاقوں کے درمیان پھنسے ہوئے پشاور کو ایک ایسے گرداب اور سراب سے نکالنے کی ضرورت ہے‘ جس کا حل تو معلوم ہے لیکن وفاق اور صوبے کے درمیان اِس بارے میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ یہ مشکل‘ نازک اور حساس لمحے ہیں‘ جو اپنے پیاروں کو مٹی کے سپرد کرتے ہیں‘ اُن نہ تو آنکھیں خشک ہوتی ہیں اور نہ ہی سینے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف منظم سازش کا ایک باب ’خانہ جنگی‘ ہے‘ جس کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے اور یہ صورتحال دہشت گردی کے عذاب سے زیادہ گھمبیر و پیچیدہ ثابت ہوگی‘ جس میں ہمارے دوست ممالک بھی ساتھ نہیں دے سکیں گے! حالات کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ ۔۔۔ سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر پشاور کو ’لاحق خطرات‘ کے بارے میں لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ پانچ مارچ کے سینیٹ اِنتخابات کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف سیاسی جماعتوں سے التجا ہے کہ‘ وہ اپنی توجہات ’سیکورٹی خدشات‘ کی جانب مرکوز کریں۔ منظورنظر افراد کو من پسند عہدوں پر تعینات کرنے کے نتائج و کارکردگی سب کے سامنے ہیں۔ اِیک سے بڑھ کر اِیک سانحہ اور اِیک سے بڑھ کر ایک ظلم پورے ملک کے لئے دُکھ اُور بدنامی کا باعث بن رہا تو اِس سلسلے کو مزید بڑھنے سے روکنے اور اِسی مقام پر روکنے کے لئے اقدامات ناگزیر حد تک ضروری ہیں۔


Saturday, December 13, 2014

Dec2014: Chelum e Imam Remembering Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مستقبل نہیں ماضی چاہئے!
نواسہ رسول‘ سیدالشہدأ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا چہلم عالم اسلام کی طرح پشاور میں بھی پوری عقیدت و احترام‘ روائتی مذہبی جوش و خروش اُور اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ سترہ صفر سے اٹھائیس سفر (شہادت حضرت اِمام حسن رضی اللہ عنہ) تک مختلف پشاور شہر‘ صدر اور مضافاتی علاقوں کی مساجد و اِمام بارگاہوں میں اجتماعات کا انعقاد اُس معمول کا حصہ ہے‘ جو ایام عزاداری (یکم محرم سے آٹھ ربیع الاوّل) کے لئے مخصوص ہیں۔ ہر سال سن اکسٹھ ہجری کی دس محرم (یوم عاشور) پیش آئے واقعات کربلا کی یاد میں کامل 2 مہینے 8 دن گھر گھر دعائیہ مجالس اور پرسہ داری کے ماتمی جلوسوں کے ذریعے تازہ کی جاتی ہے‘ تاہم 1992ء کے یوم عاشور سے پشاور میں ’امن و امان‘ کی خراب صورتحال تاحال معمول پر نہیں آ سکی جس کی وجہ سے بالخصوص محرم کے پہلے دس دن میں نکلنے والے 63 چھوٹے بڑے جلوسوں‘ اور مجالس کے ساتھ ’چہلم اِمام‘ کی مناسبت سے اجتماعات کی حفاظت کے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں پشاور پولیس ’آٹھ ربیع الاوّل تک محرم سیکورٹی پلان‘ جبکہ اس کے بعد ’ربیع الاوّل سیکورٹی پلان‘ کے تحت شہر و چھاؤنی اور مضافاتی دیہی علاقوں سمیت متعلقہ مقامات کے داخلی و خارجی راستوں پر گاڑیوں کی آمدورفت اور معمول کی ٹریفک بند کر دی جاتی ہے‘ جس سے مقامی لوگوں کے علاؤہ کاروباری و یومیہ مزدوری کرنے والے طبقات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ پشاور شہر کی حدود میں ’تھوک‘ کا کاروبار کرنے والی منڈیاں اور اجناس کے گودام قائم ہیں‘ جن سے پورے صوبے کو مال کی ترسیل ہوتی ہے‘ اِس لئے غیراعلانیہ طور پر کسی بھی ’سیکورٹی پلان (حفاظتی حکمت عملی)‘ کا اطلاق مقامی و غیرمقامی افراد کے لئے یکساں پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ کسی بازار کو بند کرنے سے پہلے ہمیں اُن یومیہ مزدوری کرنے والوں کا احساس ہونا چاہئے‘ جو اگر ایک دن نہ کمائیں تو اُن کے کنبے کو شاید فاقے کرنے پڑتے ہوں گے! اِس سلسلے میں تجویز ہے کہ محرم الحرام کے پہلے دس ایام‘ چہلم اور ربیع الاوّل سمیت جملہ مذہبی ایام سے قبل ذرائع ابلاغ (ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ اخبارات‘ موبائل فون ایس ایم ایس اور جابجا اشتہارات آویزاں کرنے) کے ذریعے عوام الناس کو مطلع کیاجائے کہ آنے والے دنوں میں کون کون سے راستے کن کن اُوقات میں بند رکھے جائیں گے۔

ہنگامی حالات کی صورت کن راستوں کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ قومی شناختی کارڈ کے ذریعے مقامی افراد کو آمدورفت کی اجازت الگ سے ہونی چاہئے۔ اِس سلسلے میں تاجربرادری کے نمائندوں سے اِنتظامیہ کی ملاقاتیں اور اَخبارات میں معمول کی تصاویر شائع کردینا کافی نہیں‘کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر تاجر اور دکاندار کسی نہ کسی تنظیم کا حصہ ہو اور وہ سبھی خریدار (صارفین) جو کہ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے پشاور آنے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ تاجر رہنما اُنہیں پیشگی مطلع بھی کرتے ہوں یا کر سکیں۔ ’سیکورٹی پلان‘ کے حوالے سے تعلیمی اِداروں کی اِنتظامیہ اُور والدین کو بھی اِعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ جب کہیں کوئی ایک سڑک بھی بند کی جاتی ہے اور غیراعلانیہ طور پر ٹریفک کے لئے کسی متبادل سڑک کا استعمال شروع کیا جاتاہے تو معمول سے ہٹ کر ہونے کی وجہ سے افراتفری کا ماحول عام ہو جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کم تعداد میں ہونے کی وجہ سے بے ہنگم رش کی وجہ سے دفاتر یا تعلیمی اداروں کو جانے اور واپس آنے والوں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے بالخصوص جن راستوں پر سکول کی بسوں کو چلنے کی اجازت ہو‘ اُسے دیگر ٹریفک کے بوجھ سے الگ رکھنے کی تدبیر و انتظام ہونا چاہئے۔ نجی تعلیمی ادارے اگرچہ ہر بچے سے ’ٹرانسپورٹیشن(آمدورفت)‘ کی مد میں ٹھیک ٹھاک وصولی کرتے ہیں اور گنجائش سے زیادہ بچے بھی گاڑیوں میں سوار کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں‘ جن میں آگ بجھانے کے آلات کی تنصیب‘ ایمرجنسی کشادگی کے راستے (ایمرجنسی گیٹ) اور ’سیٹ بیلٹ‘ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ ایسی تمام سکول بسوں‘ سوزوکی وین‘ ویگنوں اور دیگر گاڑیوں میں ’ٹریفک قواعد‘ کے مطابق بنیادی ضروریات کی تنصیب‘ بچوں کو سیٹ بیلٹ کے استعمال کا شعور دلانے‘ سکول بسوں میں موسیقی بجانے پر پابندی عائد کرنے اور چھوٹے سائز کی‘ ماحول دوست (سوزوکی) وینز‘ (گرین) منی بسوں کے استعمال کی حوصلہ اَفزائی اور تلقین ہونی چاہئے جس میں زیادہ سے زیادہ دس سے بارہ یا بیس سے پچیس بچوں کے بیک وقت بیٹھنے کی گنجائش ہو۔ بچوں کو مرغیوں کی طرح بسوں میں ٹھونسنے اور دھواں اگلتی (طبعی عمر پوری کرنے والی) دیوقامت بسوں سے پشاور کو کم از کم اُس وقت تو نجات دلائی جا سکتی ہے جب تک اندرون شہر کی سڑکیں ’موٹروے جتنی کشادہ‘ نہیں کردی جاتیں۔ جب تک بازاروں سے تجاوزات ختم نہیں ہوتیں۔ دکاندار رضاکارانہ طور پر اپنی اپنی حدود تک واپس نہیں ہوجاتے۔ تہہ بازاری اور ہتھ ریڑھیوں کے لئے مقامات مقرر نہیں ہوتے یا جب تک پارکنگ کے لئے جگہیں مخصوص نہیں ہوتیں۔ یہ ٹریفک کا مسئلہ اُس وقت تک نہیں سلجھے گا‘ جب تک ’ون وے ٹریفک‘ کے لئے اَندرون شہر کی سڑکیں الگ الگ زونز میں تقسیم نہیں کر دی جاتیں۔

پشاور میں ٹریفک پولیس کا محکمہ تو ’ماشاء اللہ‘ موجود ہے‘ لیکن ’ٹریفک انجنیئرنگ‘ کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔ کئی ایک ایسے یورپی ممالک ہیں جن کے شہر پشاور سے زیادہ گنجان آباد اور جن کی سڑکیں پشاور سے کم کشادہ ہیں لیکن وہاں ٹریفک کا بہاؤ یوں متاثر یا مفلوج نہیں ہوتا اور اس کی بنیادی وجوہات میں ایک تو عمومی شعور‘ احساس ذمہ داری اور ٹریفک قواعد و جملہ قوانین پر ہر کس و ناکس کا مکمل عمل درآمد ہے۔ ہمارے ہاں ڈرائیونگ لائسینس سے لیکر انڈیکیٹرز تک کا استعمال حسب سہولت و منشاء تو کیا جاتا ہے لیکن لازمی طور پر ایسا کرنے کو شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے! بات بن سکتی ہے اگر ہم میں سے ہر ایک کے لئے ’ٹریفک قواعد و جملہ قوانین‘ ایک جیسے ہوں‘ کسی سیاست دان یا حکمران کے لئے ٹریفک بند نہ ہو اور نہ ہی احتجاجی مظاہرے یا جلسے جلوسوں سے شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے!

پشاور میں ٹریفک سگنلز فعال کرنے‘ سٹی سرکلر روڈ سے تجاوزات کا خاتمہ اور مختلف دروازوں سے سرکلر روڈ پر آنے والی ٹریفک کے لئے اُوور ہیڈ یا انڈر پاسیز کی تعمیر کے ساتھ نکاسی آب کے ایک جامع منصوبے کی کوہاٹ روڈ سے نشتر آباد تک ضرورت ہے۔
پشاور کے روحانی خدوخال‘ روایات‘ اقدار‘ خوبیاں‘ امتیاز اپنی جگہ اہم لیکن کسی ایک گروہ کی مذہبی عقیدت دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث نہیں ہونی چاہئے۔ ماضی میں (اُنیس سو بانوے سے قبل) محرم الحرام یا چہلم کے مواقعوں پر نہ تو راستے بند کئے جاتے تھے اور نہ ہی ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں پر بازار اور معمولات زندگی متاثر ہوتے تھے۔ المیہ ہے کہ دنیا بہتر مستقبل جبکہ اہل پشاور اپنے شاندار‘ محبت و اخلاص اور مذہبی رواداری سے بھرپور ماضی کے پھر سے لوٹ آنے کا تقاضا‘ التجائیں‘ مناجات اور دعائیں کر رہے ہیں۔

Monday, November 3, 2014

Nov2014: Ashura The day of victory

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عاشور: حسینؓ فاتح مرگ و حیات کہلائے!
قرآن کریم کی سورہ آل عمران‘ اُنیسویں آیت مبارکہ کا پہلا حصہ ’’اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّہِ الاِسلاَمْ‘‘ کے تحت جس موضوع کو ’’رب جلیل کے پسندیدہ دین‘‘ سے مخاطب کیا‘ اُس عظیم فلسفے (بنی نوع انسان کی خوشحالی و سربلندی) کی تشریح و وضاحت ’واقعۂ کربلا‘ سے ملتی ہے۔

کربلا کے میدان میں نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ (ولادت: 8 جنوری 626عیسوی: شہادت: 10 اکتوبر 680 عیسوی) نے جس اِستقامت کا مظاہرہ کیا اور راہِ حق میں جو عظیم و لاثانی قربانیاں پیش کیں اُنہیں کی بدولت ’دین اسلام کی سربلندی‘ ممکن ہوئی اور اِس دین خالص‘ پسندیدہ دین کو تاقیامت ’جاودانی حیثیت‘ حاصل ہوئی۔

سن اکسٹھ ہجری‘ دس محرم (عاشور) کا دن ’سفینۂ اِسلام‘ جو خشک وگرم ریگزار میں باطل پرست طاغوتی طاقت کے ہاتھوں غرق ہونے کو تھا۔ پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے اور شیر خدا جناب امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بیٹے جناب اِمام حسین رضی اللہ عنہ کا احسان بھلا کون فراموش کر سکتا ہے جنہوں نے اپنی اور اپنے عزیزواقارب سمیت وفادار ساتھیوں کی قربانیاں پیش کر کے اِس ڈوبتے سفینے کو شہدأ کے خون کی لہروں پر ساحلِ مراد سے ہمکنار کیا اور دین اسلام کو ’اَبدی قیام‘ بخشا۔’’حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین‘‘

مؤرخین کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ ’کربلا‘ نے اِسلام کو نئی زندگی بخشی‘گویا ’شہادت عظمیٰ‘ نے دین کی اَساس کو نابودی سے بچالیا۔ ماننا پڑے گاکہ ’کربلا‘ تاریخ عالم کے دیگر تمام واقعات سے زیادہ فکر انگیز اور ایک فکری (حئی علی الفلاح) و عملی جدوجہد (حئی علی خیرالعمل) کی ترغیب دینے والی تحریک کا نام ہے کیونکہ اسی معرکہ میں باطل پرستوں کی طرف سے ظلم وجبرکے تمام حربے بروئے کار لاکر حق وصداقت کی آواز پوری شدت کے ساتھ دبانے کی کوشش کی گئی۔ امن پسند‘ حق پرست‘ انسانیت دوست صاحبان تفکر و حکمت جب تاریخ اسلام کے اِس خونین معرکے کو پرکھتے ہوئے بے اختیار خون کے آنسو رونے لگتے ہیں۔ ’کربلا‘ محسوس کرکے اُن پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تاریخ اسلام کے سب سے بڑے جابر وظالم حکمران کے مقابل حق وصداقت کا عَلم بلند رکھنے والے قائد نے ہرمرحلے پر صبر وشکر کی راہ اپنائی اور یہی انعام تھا کہ بے مثال قربانیاں پیش کرکے ’سیّدالشہدأ‘ کا لقب منورہ پایا۔ تاقیامت یہ بات حقیقت بن چکی ہے کہ کربلا والے دنیا کے تمام مظلوموں اور راہِ حق میں شہید ہونے والوں کے لئے ایک ’زندہ علامت‘ ہیں‘ جہد حق کا استعارہ ہیں۔ ’’کر دیا ثابت یہ تو نے‘ اَے دلاور آدمی: زندگی کیا موت سے لیتا ہے ٹکر آدمی: کاٹ سکتا ہے رگ گردن سے خنجر آدمی: لشکروں کو روند سکتے ہیں 72آدمی: ضعف ڈھا سکتا ہے قصرِِ افسر و اورنگ کو:آبگینے توڑ سکتے ہیں حصارِ سنگ کو!‘‘

اِمام حسین رضی اللہ عنہ قیامت تک دنیائے انسانیت کے لئے عدل وانصاف کے روشن مینار ہیں‘ جن کی پیروی بلاشک و شبہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ اِس محسن کی قدرومنزلت سمجھنے کے لئے نگاہ ودل کی پاکیزگی کے ساتھ حق شناس‘ فہم ورسا اور عدل پسند ضمیر کی ضرورت ہے چونکہ ’حسین کے سورج کو زوال نہیں‘ اِس لئے وقت گزرنے کے ساتھ ’عظمت حسین رضی اللہ عنہ‘ شعورکی بیداری کے ساتھ ہرقلب اِنسانی کے لئے کشش کا باعث بنتی چلی جائے گی۔ ’’اِنسان کو بیدار تو ہولینے دو۔۔۔ہرقوم پکارنے گی ہماے ہیں حسینؓ!‘‘

شہادت عظمیٰ کی مقصدیت ومعنویت کو نظر میں رکھتے ہوئے ’یوم عاشور‘ عہد کرنے کی گھڑی ہے۔ ظلم سے بیزاری کا اعلان‘ ظالم کو کیفرکردار تک پہنچانے کے ساتھ اُس کا مکروہ چہرہ‘ سازشیں‘ درپردہ مذموم عزائمکا پردہ چاک کرنے اور حق کی سربلندی کے لئے ہرقسم کی جانی و مالی قربانی دینے پر آمادگی کے ساتھ خود سے سوال پوچھنے کی گھڑی ہے کہ کیا ہم اِمام مظلومؓ کا اسم مبارک لینے یا اُن سے نسبت رکھنے کا حق بھی رکھتے ہیں؟ فلسفۂ کربلا مظلومین کی حمایت‘ دفاع اور اعانت کے لئے ’’جہاد ‘‘ کا پیام ہے۔ حق پر مرمٹنے کا گر جذبہ نہیں۔۔۔رسم دنیا ہے فقط ذکرِ حسینؓ۔

 اگر آج ہم حوصلہ‘ استقامت‘ صبر‘ جرأت اور ثابت قدمی جیسے الفاظ کے معانی سے آشنا ہیں تو یہ سب کربلا میں ’توحیدی لغت‘ اپنے پاکیزہ خون سے تحریر کرنے والوں کی عنایات ہیں‘ جنہوں نے پہلے ہی صفحے پر ’’لا الہ الا اللہ (نہیں کوئی معبود‘ مگر اللہ)‘‘ تحریر کیا ہے۔ اِس کلمۂ ’لا الہ‘ کو قول و فعل سے ہم وزن اور سربلندی عطا کرنے والوں کا تاقیامت ذکر ہوتا رہے گا۔ جب کبھی بھی حقیقی فتح وشکست کی بات ہوگی یا پھر ’جاندار زندگی‘ اُور ’بامقصد موت‘کا فیصلہ کرنا ہوگا‘ تب کسوٹی اور رہنمائی کا معیار صرف کربلا ہی ہوگا۔ ’’شکست موت کو اور موت ظلم کو دے کر۔۔۔حسینؓ فاتح مرگ وحیات کہلائے!‘‘

Sunday, November 2, 2014

Nov2014: Baz o Maidan Persian Noha Tradition.

باز میدان پر خطر مینماید۔۔۔۔۔آہ نینوا‘ نوع دیگر مینماید
پشاور: فارسی نوحہ خوانی کی خاص روایت
شبیر حسین اِمام
جنوب مشرق ایشیاء کے سب سے قدیم زندہ تاریخ شہر پشاور میں شہدائے کربلا کی یاد میں مجالس عزأ کا انعقاد ایک ایسی روایت سے کیا جاتا ہے جو خطے کے دیگر سبھی ممالک میں ہونے والی عزاداری سے منفرد ہے۔ مجالس عزأ بالخصوص نو اور دس محرم کے روز خنجرزنی کے ماتمی جلوسوں میں جب علم و شبیہہ ذوالجناح امام بارگاہوں سے برآمد ہوتی ہیں تو اُس وقت فارسی کا ایک خاص مرثیہ اجتماعی طور پر پڑھا جاتا ہے‘ جو مشہور شاعر حضرت سیاح اعلی اللہ مقامہ کا تحریر کردہ ہے۔ یہ فارسی نوحہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی بے مثال ہے اور اِس میں جس انداز سے یوم عاشور (دس محرم کے روز) کربلا کے میدان میں پیش آنے والے واقعات بالخصوص شہادت اِمام حسین کی منظرکشی اختصار سے کی گئی ہے‘ وہ دیگر مرثیوں میں بہت کم ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ پشاورکی سبھی امامبارگاہوں سے ذوالجناح کے ماتمی جلوس برآمد ہونے سے قبل اس مرثیے کو بطور خاص پڑھا جاتا ہے۔ پشاور میں عزأداری امام حسین و مظلومین کربلا کی خوبصورت و دلنشین اِس روایت کی پوری دنیا میں دھوم ہے اور اِس مرثیے کو بطور خاص سن کر شہدائے کربلا کے حضور تعزیت اور آنسوؤں کے نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔

’باز اُو میدان‘ کی زندہ روایت کا خاصہ یہ بھی ہے کہ پشاور میں رہنے والا ہر عزأدار اس فارسی مرثیے کو زبانی ازبر رکھتا ہے‘ اور نو و دس محرم کی مجالس کے اختتام پر اجتماعی طور پر اِسے پڑھ کر عزأداری کرنے والوں کے جذبات تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔ باز اُو میدان کی تاثیر اور اِس کے جملوں میں پائی جانے والی حرارت‘ حسن بیان و تکلم شہادت حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کے زخموں کو پھر سے تازہ کردیتا ہے اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عزأدار اِسے دل کے نہایت ہی قریب محسوس کرتے ہیں۔

درحقیقت ’بازاُو میدان‘ نامی یہ مرثیہ حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بی بی سکینہؓ کی زبانی میدان کربلا کا منظرنامہ ہے۔ روایات کے مطابق جب دس محرم بوقت عصر حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کو میدان کربلا کے ایک نشیبی حصے میں شہید کیا گیا جبکہ آپؓ کے ہمراہ خواتین کو در خیمہ سے وہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ جس پر حضرت اِمام حسین کی بہن بی بی زینبؓ نے سکینہ بی بیؓ کو کندھوں پر اُٹھا کر پوچھا کہ بی بی آپ میدان کربلا میں کیا منظر دیکھ رہی ہیں؟ کم سن بی بی سکینہ نے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو کچھ بیان کیا‘ اُسے شاعر نے کمال مہارت‘ ترتیب اور تفصیلات کے ساتھ رقم کیا ہے۔

باز میدان پر خطر مینماید
آہ نینوا‘ نوع دیگر مینماید
ترجمہ:
میدان پھر خطرات سے بھرا دکھائی دے رہا ہے
آہ‘ نینوا میں نئی آفت دکھائی دے رہی ہے

گشتہ طوفان کشتی ’بابم حسین‘ (علیہ السلام)
آہ موج دریا بیشتر مینماید
ترجمہ:
میرے باپ کی زندگی کی کشتی طوفان میں گھری ہوئی ہے
اَفسوس میدان میں ہرطرف خون کا دریا رواں دکھائی دے رہا ہے

طبل شادی مینوا زند کوفیاں
آہ بابم از دنیا سفر مینماید
ترجمہ:
(کوفیوں کے لشکر میں فتح کی منظر کشی)
کوئی خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے
آہ‘ میرا باپ اِس دنیا سے کوچ کرتا دکھائی دے رہا ہے

میشویم امروز در غربت اسیر
آہ اے خدا بر من اثر مینماید
ترجمہ:
آج ہم عالم غربت کی حالت میں اسیر ہو رہے ہیں
آہ‘ مجھ پر غم و اندوہ کا اثر دکھائی دے رہا ہے

قرص خورشید است و مثل طشت زر
آہ روز ما تاریک و تر مینماید
ترجمہ:
سورج اپنی پوری تمازت کے ساتھ سونے کے تشت کی طرح دکھائی دے رہا ہے
لیکن ہم پر تاریکی کے بادل سیاہ سایہ کئے ہوں ہیں۔

عمحہ جان این سر کہ کاکل برسراست
آہ اکبر والا گوہر مینماید
ترجمہ:
پھوپھی جان یہ نوک نیزہ پر جو نیزے کی زینت بنا ہوا ہے
یہ واللہ‘ مجھے شہزادہ اکبر کا سر دکھائی دے رہا ہے

برسر نیزہ عدواں عمحہ جان
آہ ’بنگر‘راس پدر مینماید
ترجمہ:
پھوپھی جان یہ جو نوک نیزہ پر میں سر دیکھ رہی ہوں
اْف دیکھیں تو یہ میرے بابا (حضرت امام حسین علیہ السلام) کا سر (مبارک) دکھائی دے رہا ہے

ذوالجناح غرقہ در خون آمدہ
آہ از پدر مارا خبر مینماید
ترجمہ:
(حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذوالجناح کی واپسی)
ذوالجناح خون میں آلودہ حالت ہماری (یعنی خیموں) کی طرف آرہا ہے
یہ یقینامیرے باپ کے مرنے (شہادت) کی خبر لاتا دکھائی دے رہا ہے

ذاکری سیاح ؔ محزون پیشہ کن
آہ خدمتش آخر ثمر مینماید
ترجمہ:
سیاح محزون تو ذاکری (ذکر اہلبیت) کو پیشہ بنا
جو آخرت کے لئے ثمر آور دکھائی دے رہا ہے