Showing posts with label Hayatabad. Show all posts
Showing posts with label Hayatabad. Show all posts

Sunday, August 16, 2015

Aug2015: Crimes scene of Hayatabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
خواب‘ اُمیدیں اور حقائق!
گنجان آباد پشاور شہر کو جس کسی نے بھی چھوڑا‘ اُسے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر پچھتاوا ضرور ہوا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کی جدید بستی ’حیات آباد‘ جاکر آباد ہونے والوں کے ’خواب ریزہ ریزہ‘ اور ’اُمیدیں چکنا چور‘ دکھائی دیتی ہیں کیونکہ سڑکیں چاہے کتنی کی کشادہ‘ خوبصورت اور ہموار بنا دی جائیں لیکن اگر مقامی افراد کو ’تحفظ کا احساس‘ نہیں ہوگا تو یہ سارے انتظامات اپنی جگہ ناکافی ہوں گے۔ یوں تو حیات آباد کے رہنے والوں کے لئے مسائل سے نمٹنا کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ چند ماہ کے دوران جرائم کی شرح میں غیرمعمولی اضافے نے یہاں کے رہنے والوں کی نیندیں اُڑا دی ہیں اور دیواریں بلند کرنے‘ خاردار تاریں‘ نگرانی کے لئے کیمروں کی تنصیب اور نجی سیکورٹی گارڈز کی تعیناتی کے باوجود بھی اُنہیں اطمینان حاصل نہیں ہورہا۔ سرشام حیات آباد میں چہل قدمی (واک) کرنے کی روایت بھی چند ایک گلیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے!

حیات آباد کی رہائشی بستی اور اہم سرکاری و نجی دفاتر کی وجہ سے یہ علاقہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں ایک نہیں بلکہ دو عدد پولیس تھانے قائم کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ صنعتی بستی‘ رہائشی و تجارتی علاقے اور آمدورفت کے اِس راستے کو محفوظ بنایا جائے۔ ماضی میں یہی علاقہ اغوأ کاروں کی جنت بھی رہا ہے جب پشاور یا ملک کے دیگر حصوں سے اغوأ برائے تاوان کرنے والے اپنے اہداف کو یہاں کے ’سیف ہاؤسیز‘ میں کچھ دن کے لئے رکھتے اور بعدازاں انہیں متصل قبائلی علاقے (خیبرایجنسی) کے راستے افغانستان منتقل کردیا جاتا۔ یادش بخیر ستمبراور ماہ نومبر کے دوران اغوأ کی کئی ایک ایسی وارداتیں بھی یہیں رونما ہوئیں جو عالمی سطح پر نشر کی گئیں جیسا کہ افغان اور ایرانی سفارتی عملے کا اغوأ۔ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ اغوأ کی وارداتیں رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ دن دیہاڑے رونما ہوئیں اور ایک واردات تو ایسے مقام پر ہوئی جو پولیس تھانے سے چند گز کے فاصلے پر واقع تھا۔

حیات آباد کی بستی اغوأ کاروں کا مرکز ہوا کرتی تھی لیکن آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پشاور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے ’آپریشن کلین اپ‘ کا آغاز حیات آباد و رنگ روڈ کے ملحقہ علاقوں سے کیا‘ اور یہی سبب ہے کہ آج کا پشاور نسبتاً محفوظ دکھائی دیتا ہے لیکن اگر ’آپریشن کلین اپ‘ کے دوران ’کارخانو مارکیٹ‘ کے اُن سرمایہ داروں کے اڈوں کا بھی صفایا کیا جاتا جو تجارت کی آڑ میں سازوسامان کی غیرقانونی نقل و حمل‘ ہنڈی کا کاروبار اُور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے مراسم رکھتے ہیں تو اس سے صرف حیات آباد ہی نہیں بلکہ باقی ماندہ پشاور کا بھی فائدہ ہوتا۔

حیات آباد میں قتل ہونے والوں کی ایک طویل فہرست میں جن میں ڈاکٹر سیّد عاصم حسین‘ قیصر حسین کے نام شامل ہیں جبکہ رواں برس فروری میں یہاں کی ایک جامع مسجد کو بھی خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ مارچ کے مہینے میں کرنل طاہر خان کو فیز تین میں گھات لگا کر شہید کیا گیا جبکہ اپریل کے مہینے میں باغ ناران کی کیاریوں میں بم نصب کرنے والا ایک شخص اپنے ہی ہتھیار کا نشانہ بن گیا۔ مئی میں ایک گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس سے کئی افراد ہلاک ہوئے۔ جون میں فرنٹیئر ریزرو پولیس کے ڈپٹی کمانڈنٹ ملک طارق کو ایک حملے میں شدید زخمی کیا گیا جبکہ اُن کے محافظ ہلاک ہوئے۔ القصہ مختصر رواں برس حیات آباد میں 5 خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ 14اگست کے روز پولیس کی ایک گشتی گاڑی جو کہ خیبرچوک کے قریب سے گزر رہی تھی اُس پر دو نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں یہ تین افراد بشمول دو پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہوئے۔

پولیس کے انتظامی نگرانوں کا ماننا ہے کہ حیات آباد میں جرائم کے رونما ہونے کا بنیادی سبب اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ ماضی میں چونکہ قبائلی علاقے جرائم پیشہ عناصر کی دسترس میں نہیں تھے اور اِن علاقوں میں زیادہ سے زیادہ منشیات فروشی یا افغانستان سے اسمگل شدہ سازوسامان رکھا جاتا تھا اس وجہ سے حیات آبادکی بستی قبائلی علاقے سے متصل کرکے تعمیر کی گئی‘ جو اُس وقت کے لحاظ سے درست لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں ایک غلط فیصلہ ہے۔ قبائلی علاقوں سے حیات آباد داخلے کے راستوں کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں تعمیر ہونے والی دیوار اور اضافی نگرانی کی چوکیاں بھی کارگر ثابت نہیں ہوئیں اور ہمیں دیواروں میں بڑے بڑے سوراخ دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے کئی مرتبہ اعلیٰ حکام کی توجہ سیکورٹی میں پائے جانے والے نقائص کی جانب مبذول کرائی ہے تاکہ حیات آباد میں داخلے کے راستوں کو کم سے کم رکھا جا سکے اور غیرروائتی راستے پر نگرانی کے لئے کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے نصب کئے جائیں لیکن اس سلسلے میں درکار مالی وسائل فراہم نہیں کئے جا رہے۔ پولیس حکام اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ حیات آباد میں جرائم زیادہ نہیں بلکہ ماضی کی نسبت کم ہوئے ہیں!

لمحۂ فکریہ ہے کہ حیات آباد میں فرنیٹئر کور اور فرنٹیئر کانسٹبلری کے صدر دفاتر قائم ہیں‘ جن پر کئی ایک مرتبہ راکٹوں سے حملہ ہو چکا ہے اور اِن حملوں میں جانی نقصانات کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ حیات آباد کے رہائشیوں کو اپنی جان ومال کے تحفظ کے لئے پولیس کی کارکردگی پر اطمینان نہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر وہ مارکیٹ میں گاڑی کھڑی کرتے ہیں تو اُنہیں یقین نہیں ہوتا کہ انہیں اس میں بخیروعافیت بیٹھنا نصیب ہوگا بھی یا نہیں۔ الغرض حیات آباد میں زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکلات کا شکار ہو رہی ہے اور اگر صوبائی حکومت امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے صرف حیات آباد ہی کو محفوظ نہیں بنا سکتی تو اس سے پورے پشاور اور باقی ماندہ خیبرپختونخوا میں امن و امان بہتر بنانے کے لئے اُمیدیں اور توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیءں۔ ہندکو زبان کا یہ محاورہ کسی دانا کے قول پر مبنی ہے کہ آپ کو اپنے دوست اُور دشمن کی شناخت صرف اُسی وقت ہوتی ہے جبکہ اُس کے ساتھ واسطہ پڑے یا پھر وہ آپ کے ساتھ شریک سفر ہو۔

Friday, February 13, 2015

Feb2015: Blood Bath in Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
لہو لہو پشاور!
سولہ دسمبر دوہزار چودہ کے روز تعلیمی اِدارے پر حملہ کرکے معصوم بچوں کو قتل کرنے کے واقعات‘ دکھ اور صدمے سے ابھی پشاور سنبھلنے بھی نہیں پایا تھا کہ 59دن (ایک ماہ اٹھائیس دن بعد) تیرہ فروری کے روز‘ حیات آباد میں نماز جمعہ کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا‘ جس میں ہلاک وزخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد ’نمازی نوجوانوں اور بچوں‘ کی ہے! کیا ہم یونہی ’وار پر وار‘ سہتے جائیں گے؟ کیا پشاور کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ اِس کے زخم ہمیشہ تازہ رہیں؟

سب سے پہلی بات تو پشاور کی جدید رہائشی بستی حیات آباد کا محل وقوع ہے جو خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سے متصل ہے بالخصوص یہاں کا ’فیز فائیو‘ درجنوں اہم سرکاری دفاتر کا مرکز ہے‘ جو زمینی آمدورفت کے لحاظ سے دیگر حصوں کی طرح قبائلی علاقے سے نزدیک ترین ہے۔ اِس غیرمحفوظ علاقے میں اہم سرکاری دفاتر (پاسپورٹ آفس و بینک) اُور تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت کیوں دی گئی‘ جبکہ اِن کی حفاظت کے خاطرخواہ انتظامات پولیس کی محدود افرادی قوت و وسائل کی وجہ سے ممکن نہیں۔ ایسے علاقے میں مسجد کی تعمیر کی اجازت بھی تعجب خیز ہے‘ بالخصوص ایک ایسی مسجد جس سے وابستہ لوگ اپنے مسلک کی وجہ سے مستقل نشانے پر ہوں۔ ’’اب یہی آخری حل ہے کہ مجھے ڈھال بنا۔۔۔ تیرے پاس اُور کوئی تیر نہیں ہے‘ میں ہوں!‘‘ ایک جامع مسجد میں اگر آٹھ سے نو سو افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اُور وہاں ہر نماز جمعہ کے موقع پر پانچ سے چھ سو افراد نماز کی ادائیگی کے لئے جمع ہونے کے علاؤہ دیگر مذہبی اجتماعات بھی تواتر سے منعقد ہوتے رہے ہیں تو پھر ایک پولیس اہلکار سے پورے احاطۂ مسجد کی حفاظت کرنا کونسی منطق ہے؟ حیات آباد مسجد پر حملہ نے اُن تمام سوالات کو ایک مرتبہ پھر اُٹھایا ہے جو سولہ دسمبر کے سانحۂ پشاور کے موقع پر بھی اُٹھائے گئے لیکن صوبائی حکومت اور پشاور شہر کی پولیس فورس کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ’آرمی پبلک سکول‘ تو چھاؤنی کی حدود میں واقع تھا اور اُس تمام علاقے کی سیکورٹی فوج (ملٹری پولیس) کے پاس تھی۔ کیا حیات آباد کا شمار بھی چھاؤنی میں کیا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر مسجد پر حملے کے بعد متعلقہ پولیس تھانے اور سرکل کے انتظامی نگرانوں کو نہ صرف معطل بلکہ اُن کے خلاف مجرمانہ غفلت کے مقدمات درج ہونے چاہئے۔ جب تک سرکاری اہلکاروں بشمول و بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انتظامی نگرانوں کی ’سزا و جزا‘ کا تصور سامنے نہیں آئے گا‘ جب تک اُن کے اثاثہ جات پر نظررکھتے ہوئے احتساب کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی‘ ایسے واقعات کا تسلسل ہوتا رہے گا کیونکہ ہمیں اپنے دشمن کا تو علم ہے لیکن اُس کی سرکوبی کرنے کی تنخواہ و مراعات حاصل کرنے والے (یوں لگتا ہے کہ ۔۔۔) دانستہ طور پر غفلت کا مرتکب ہو رہے ہیں!

حیات آباد کی مسجد پر حملہ نہ تو پہلا تھا اور نہ ہی اِس قدر معمولی کہ اِسے نظرانداز کر دیا جائے۔ افسوس کہ حیات آباد کی بستی میں ’اغوأ برائے تاوان‘ اور ’بھتہ خوری‘ جیسے جرائم اِس قدر تواتر سے ہوتے ہیں کہ اب اِس بات پر زیادہ تشویش کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا۔ رواں برس دس جنوری کے روز فیز ون میں ایک ڈاکٹر (محمد سعید) کو کلینک کے اندر گھس کر قتل کیا گیا۔ سولہ اگست دو ہزار آٹھ ایک معروف شخصیت سردار ممتاز قزلباش کو اُن کے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیا‘ جن کی لاش اُٹھانے سب سے پہلے اُن کا بیٹا پہنچا۔ اِکیس مئی دوہزار چودہ مسلح افراد نے بینک منیجر محمد اَنور کو حیات آباد سے اَغوأ کیا اور چلتے بنے! ایسے بہت سے چھوٹے بڑے منظم جرائم کے واقعات کی تفصیلات بیان کی جاسکتی ہیں‘ جن سے اِس بات کا اَندازہ لگانا مشکل نہیں کہ‘ حیات آباد میں زندگی بسر کرنے والوں کو ’یومیہ بنیادوں پر‘ کن تشویش بھرے حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تمہیداً عرض ہے کہ ۔۔۔ پشاور کی حفاظتی حکمت عملی چاہے کتنی ہی جامع کیوں نہ ہو‘ کارگر ثابت نہیں ہوگی‘ جب تک قبائلی علاقوں کی غیرمنطقی آزادانہ و خودمختاری آئینی حیثیت تبدیل نہیں کی جاتی۔ تین اطراف میں قبائلی علاقوں کے درمیان پھنسے ہوئے پشاور کو ایک ایسے گرداب اور سراب سے نکالنے کی ضرورت ہے‘ جس کا حل تو معلوم ہے لیکن وفاق اور صوبے کے درمیان اِس بارے میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ یہ مشکل‘ نازک اور حساس لمحے ہیں‘ جو اپنے پیاروں کو مٹی کے سپرد کرتے ہیں‘ اُن نہ تو آنکھیں خشک ہوتی ہیں اور نہ ہی سینے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف منظم سازش کا ایک باب ’خانہ جنگی‘ ہے‘ جس کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے اور یہ صورتحال دہشت گردی کے عذاب سے زیادہ گھمبیر و پیچیدہ ثابت ہوگی‘ جس میں ہمارے دوست ممالک بھی ساتھ نہیں دے سکیں گے! حالات کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ ۔۔۔ سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر پشاور کو ’لاحق خطرات‘ کے بارے میں لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ پانچ مارچ کے سینیٹ اِنتخابات کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف سیاسی جماعتوں سے التجا ہے کہ‘ وہ اپنی توجہات ’سیکورٹی خدشات‘ کی جانب مرکوز کریں۔ منظورنظر افراد کو من پسند عہدوں پر تعینات کرنے کے نتائج و کارکردگی سب کے سامنے ہیں۔ اِیک سے بڑھ کر اِیک سانحہ اور اِیک سے بڑھ کر ایک ظلم پورے ملک کے لئے دُکھ اُور بدنامی کا باعث بن رہا تو اِس سلسلے کو مزید بڑھنے سے روکنے اور اِسی مقام پر روکنے کے لئے اقدامات ناگزیر حد تک ضروری ہیں۔