Showing posts with label Obituary.. Show all posts
Showing posts with label Obituary.. Show all posts

Tuesday, June 23, 2020

Remembering Allama Talib Johari

موت العالم‘ موت العالم
معروف مذہبی شخصیت علامہ طالب جوہری کے انتقال پر صرف مذہبی حلقے اُور اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل علم و ادب بھی اُداس‘ مغموم اُور سوگوار ہیں کیونکہ اُنہوں نے کمال محنت سے علم کے سمندر (قرآن کریم) سے ایسے نایاب موتی تلاش کئے‘ جن کی بدولت علوم قرآن کو سمجھنے کے ساتھ عوام و خواص کو قرآن کریم کی روشنی میں عقائد و دینی اصلاحات بارے رائے قائم میں آسانی رہی اُور یہی وجہ تھی کہ اُنہیں اتحاد بین المسلمین کا داعی قرار دیا جاتا تھا۔ گزشتہ چند برس سے علیل رہنے اُور کمزوری کے باعث اُنہوں نے مجالس اُور اجتماعی عبادات میں شرکت کم کر دی تھی اُور اِس عرصے کے دوران کم سے کم تین مرتبہ اُن کے انتقال کی خبریں زیرگردش رہیں کیونکہ وہ جسمانی طور پر اِس حد تک نحیف ہو چکے تھے کہ زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتے تھے اُور سارا وقت یاد الٰہی میں مشغول رہتے۔ بائیس جون کی شب رات ایک بجکر ایک منٹ پر جب اُن کے انتقال کی خبر موصول ہوئی تو جوہری خانوادہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ نسرین پرویز نے واٹس ایپ پر صوتی پیغام دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موبائل اُور لینڈ لائن فون مصروف ہونے کی وجہ سے اِس ’خبرِ غم‘ کی تصدیق نہیں ہو رہی تاہم چند ہی منٹ بعد انچولی سے مختصر دورانئے کی 2 ویڈیوز موصول ہوئیں جنہیں دیکھ کر تصدیق ہو گئی کہ علامہ طالب جوہری بارگاہ ¿ اہل بیت اطہار میں منتقل ہو چکے ہیں۔ وہ 10 جون سے ایک نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے اُور چھاتی کے امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اُنہیں آخری چند روز مصنوعی آلات (وینٹی لیٹر) کے ذریعے سانس دی جا رہی تاہم اِس مرتبہ وہ جانبر نہ ہو سکے۔ (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

کراچی میں قیام کے دوران تین مرتبہ عشرہ محرم الحرام کے دوران علامہ طالب جوہری اُور آیت اللہ سیّد عقیل الغروی (بھارت) کی مجالس سننے کا اتفاق ہوا‘ جہاں شیعہ سنی کی تمیز نہیں ہوتی۔ ہر مکتبہ ¿ فکر اُور بودوباش سے تعلق رکھنے والے کئی کئی گھنٹے قبل فرش عزا پر جا بیٹھتے تاکہ وہ علامہ کا قریب سے دیدار بھی کر سکیں۔ اہل کراچی (شیعہ و سنی) کی اُن سے محبت اُور عقیدت کے رشتے الگ الگ نہیں بلکہ وہ ایک ہی سکے کے دو رخ تھے اُور یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی بھی متنازعہ نہیں رہے۔ انتہائی نوعیت کے فروعی اُور اختلافی مسائل کے بارے میں بھی اُن کے بیان قرآن کی آیات سے مدلل و مزین ہوتے‘ جو اُن کے قوی حافظے اُور وسیع مطالعے کی دلیل تھی۔ اسلامی موضوعات اُور ادیان کے تقابلی جائزے کے علاو ¿ہ بطور تاریخ داں‘ شاعر اُور فلسفی اُن کی تصانیف تحقیق و بیان کا شاہکار ہیں کہ اُنہیں پڑھتے ہوئے کانوں میں اُن کے مخصوص طرز خطاب کی گونج محسوس ہوتی ہے اُور یہ صرف اُنہی کا خاصہ رہا کہ وہ تحریر (نثر) کو بھی کلام جیسی خوبیاں سے مرصع کر دیا کرتے تھے اُور یوں کتاب پڑھنے والے کو الفاظ کے سننے جیسا گمان ہونے لگتا۔

علامہ طالب جوہری کا تعلق اُس علمی ادبی گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد گرامی مولانا مصطفیٰ جوہری کا شمار بھی جید علمائے کرام میں ہوتا تھا جن کے ہاں طالب جوہری کی پیدائش (27 اگست 1939ئ) پٹنہ (بھارت) میں ہوئی اُور علوم کی منتقلی کا ابتدائی سلسلہ گھر ہی سے شروع ہوا۔ اِس کے بعد 10 برس تک نجف اشرف (عراق) میں آیت اللہ العظمی سیّد ابو القاسم الخوئی کی زیرنگرانی دینی و دنیاوی علوم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے آیت اللہ العظمی سیّد باقر الصدر سے بھی تحصیل علم کیا جو بعد میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ ایک نجی محفل میں اُن سے بات چیت کا شرف ملا اُور جب نجف اشرف سے متعلق اُن کی یادوں بارے سوال کیا گیا تو قوی ¿ الحافظہ ہونے کے باوجود آپ نے فوری جواب نہیں دیا بلکہ کئی منٹ تک خاموش رہے اُور ایسا بہت کم ہوتا کہ جب اُن سے کسی بھی موضوع پر بات کی جاتی تو وہ قرآن کریم اُور احادیث سے درجنوں حوالہ جات اُس وقت تک بیان کرتے رہتے جب تک کہ سوال پوچھنے والے کی تسکین یا ممکنہ ضمنی سوالات کے تمام جوابات ادا نہ ہو جاتے لیکن نجف اشرف کے تذکرے پر اُنہوں نے کہا کہ ”بیٹا جسم یہاں ہے لیکن روح وہیں رہ گئی ہے!“ 

علامہ طالب جوہری 1965ءمیں نجف اشرف سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی واپس آئے اُور جامعہ امامیہ مدرسے کے نگران (پرنسپل) کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے۔ آپ پانچ برس تک گورنمنٹ کالج ناظم آباد (کراچی) میں علوم اسلام (اسلامک سٹیڈیز) کے معلم بھی رہے۔ واقعات کربلا اُور اسلام کے عصری شعور کو بیان کرنے میں آپ کا ثانی نہیں تھا۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں ”علامات ظہور مہدی“ ایک ایسی جامع کتاب ہے‘ جس میں اِمام زمانہ عجل اللہ و فرج کے ظہور سے متعلق ماضی‘ حال اُور مستقبل کے سبھی متعلقہ عنوانات کا احاطہ پیش کیا گیا ہے۔ اُن کی تفسیر قرآن‘ احسن الاحادیث‘ حدیث کربلائی‘ عقلیات معاصر‘ ذکر معصوم‘ نظام حیات انسان‘ خلفائے اثنائے عشر قابل ذکر ہیں جبکہ شاعری کے 3 مجموعے حرف نمو‘ پس آفاق اُور شاخ صدا لاجواب ادبی فن پارے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ذریعے علامہ طالب جوہری کو نئی پہچان ملی۔ 

پاکستان اُور اُردو سمجھنے والی دنیا میں اُن کا تعارف 1980ءاُور 1990ءکی دہائیوں میں ہوا۔ ابتدا میں قرآنی موضوعات کے حوالے سے ”تفہیم دین“ اُور ”فہم القرآن“ کے نام سے مختصر دورانئے کی درسی نشست سے خطاب کرتے رہے‘ جس میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہوتا۔ تاہم اُن کا راج کئی دہائیوں تک دس محرم الحرام کی شب مجلس شام غریباں سے خطاب کی صورت رہا‘ جو عوام و خواص کی پسندیدگی کے باعث یوم عاشور کی مناسبت سے لازم و ملزوم جز رہا اُور اُنہوں نے علامہ نصیرالدین اجتہادی کی کمی محسوس نہیں ہونے دی‘ جو اُن سے قبل شام غریباں کے مقرر تھے اُور علامہ اجتہادی نے علامہ نصیر ترابی کے معیار خطابت و تحقیق کو ایک نئی بلندی سے روشناس کیا تھا۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ کراچی کے ایرانیان کھارادر (قدیمی امام بارگاہ) میں جب علامہ طالب جوہری عشرہ محرم کی مجالس سے خطاب کرتے تو اُنہیں سننے والوں میں بوہری اُور اسماعیلی شیعہ مسالک کے علاو ¿ہ بڑی تعداد میں اہلسنت و الجماعت کے علما بھی موجود ہوتے۔ یہ اعزاز اپنی جگہ ہے کہ آیت الہ ابوالفضل بہاو ¿الدینی‘ ولایت فقیہہ آیت اللہ العظمیٰ سیّد علی خامنہ ائی کے نمائندہ اُن کی مجالس میں تشریف فرما ہوتے۔ یقینا علامہ طالب جوہری کے اِس جہانِ فانی سے کوچ کر جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا اُور ایک عالم کی موت (موت العالم) تو درحقیقت ایک عالم کی موت (موت العالم) ہوتی ہے!
....
Editorial Page - Daily Aaj - June 23, 2020 Tuesday

Wednesday, November 15, 2017

Nov 2017: Remembering Habib ur Rehman (1940-2107)

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
نایاب ہستیاں: حبیب الرحمان!
صدمے کا بیان ممکن نہیں۔ خیبرپختونخوا میں ذمہ دار‘ باکردار اور صحافتی اقدار کو اک نئی شناخت (عروج) سے روشناس کرنے والے (حافظ) حبیب الرحمن ’تیرہ نومبر‘ کے روز خالق حقیقی سے جا ملے جنہیں ’چودہ نومبر‘ کی سہ پہر روالپنڈی میں اپنے والد بزرگوار کے پہلو میں ’سپردخاک‘ کر دیا گیا۔ (اناللہ و انا علیہ راجعون)۔

حبیب الرحمان اپنی ذات میں درسگاہ تھے۔ اُنہوں نے ’پشاور‘ سے محبت کی اور اپنا سب لٹا کر کچھ اِس طرح چلتے بنے کہ جس طرح اُن کی آمد غیرمحسوس رہی لیکن وہ پشاور کی ناگزیر ضرورت بن گئے بالکل اُسی طرح نہایت ہی خاموشی (عجز و انکساری) سے رخصت ہوئے جبکہ پشاور کا ہر صحافی اُن کی خدمات کا معترف اور گواہ ہے کہ وہ کامیاب و کامران رہے۔ 

تصور کیجئے ایک ایسے شہر کا‘ جہاں کے ’جامعہ پشاور‘میں شعبۂ صحافت (جرنلزم ڈیپارٹمنٹ) کا آغاز 1985ء میں ہوتا ہے لیکن اُس سے ٹھیک بیس برس قبل ایک شخص نہ صرف صحافت کی آبیاری کرتا ہے بلکہ صحافیوں کی بے لوث‘ عملی تربیت کا اپنے علم (نالج) اور کردار (کریکٹر) جیسی صلاحیتوں سے کرتا ہے۔ حبیب صاحب کی خواہش رہی کہ پشاور سے انگریزی زبان کا ایک معیاری روزنامہ شائع ہو سکے۔ ان کی عملاً زیرادارت پشاور کو ایک خصوصی روزنامہ بھی ملا‘ جس کی اہمیت و ضرورت آج بھی محسوس ہو رہی ہے۔

حبیب صاحب غیرمنقسم ہندوستان کے شہر ’انبالا‘ کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے‘ جس کا عکس اُن کی شخصیت سے تمام زندگی چھلکتا رہا۔ اُنہیں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے دوران ہی ادبی سرگرمیوں سے لگاؤ پیدا ہوا ‘ جس میں بالخصوص خطے کی سیاسی صورتحال اور احوال جاننے کے لئے اخبار بینی شامل تھی۔ آپ سات برس کی عمر میں (’تقسیم ہند‘ کے بعد) اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت اختیار کرنے کے بعد روال پنڈی پہنچے۔ وہیں میٹرک سے ایم اے (اردو) تک تدریسی درجات طے کرنے کے بعد عملی زندگی کے لئے صحافت کا انتخاب کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اُنہیں اگر زندگی بھر کسی ایک بات کا افسوس رہا تو وہ نجی زندگی کا ایک ایسا تلخ تجربہ تھا‘ جو اگر حسب توقع کامیاب ہو جاتا تو پاکستان بالخصوص پشاور میں اُردو صحافت کا معیار زیادہ بہتر ہوتا۔ حبیب صاحب نے روالپنڈی سے عملی صحافت کا آغاز کیا‘ اور اگست اُنیس سو پینسٹھ میں ’’روزنامہ انجام پشاور‘‘ سے وابستہ ہوئے۔ یکم اگست 1967ء کو روزنامہ انجام تحلیل ہونے کے بعد آپ ’روزنامہ مشرق‘ کا حصہ بن گئے‘ جہاں 1971ء میں نیوز ایڈیٹر بعدازاں 1989ء میں چیف نیوزایڈیٹر بنے۔ جو ’نیشنل پریس ٹرسٹ‘ کا اخبار تھا تاہم ہر دور کی طرح اُس وقت بھی منافع بخش قومی اداروں اور قومی وسائل پر سیاسی فیصلہ سازوں کی نظریں رہتی تھیں۔ حبیب صاحب نے اخبار بدلا لیکن مقصد و جدوجہد نہیں۔ 1998ء سے 2001ء تک آپ نے روزنامہ میدان کے چیف نیوز ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ سال 2002ء میں ’روزنامہ آج پشاور‘ سے وابستہ ہوئے اور یہ تعلق تادم آخر سترہ برس تک رہا۔ ایک ’گمنام سپاہی‘ کی طرح آپ اُس ہراول دستے کے قائد رہے جس نے صوبائی اور قومی سطح معاشرے کے ہر محروم طبقے کے لئے آواز اٹھائی۔ آپ پشاور پریس کلب اور خیبریونین آف جرنلسٹس کا حصہ رہے اور اپنی تمام صلاحیتیں ’ذمہ دار اور باوقارصحافت‘ کی ترویج و اشاعت کے لئے بروئے کار لانے میں کبھی بھی مصلحتوں کا شکار (غافل) نہیں پائے گئے۔ آپ نے ہمیشہ اعلیٰ صحافتی اقدار کی نہ صرف تلقین (تعلیم) دی بلکہ عمل سے ثابت بھی کیا کہ ’حق کو کبھی زوال نہیں ہوتا۔‘ 

دنیا معترف ہے کہ حبیب صاحب نے ذاتی مفادات کو صحافت اور صحافت کو ذاتی مفادات کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیا۔آپ نے ہمیشہ غریبوں‘ مظلوموں‘ کسانوں‘ کاشتکاروں اور پاکستان میں جمہوریت کی بقاء اور ترقی کے لئے جدوجہد کرنے والی تحریکوں کے شانہ بشانہ اپنے قلم اور صحافتی علوم کے بہترین استعمال سے جہاد (جدوجہد) کی۔

خیبرپختونخوا‘ اور بالخصوص پشاور کی صحافتی برادری مرحوم و مغفور جناب حبیب الرحمن صاحب کے انتقال پر سوگوار‘ مغموم اور اگر صدمے کی کیفیت سے گزر رہی ہے تو یہ اُن کی شخصیت کے لئے خراج عقیدت بھی ہے جس کے سامنے حکومتی اعزازات کی کوئی وقعت نہیں۔ حبیب صاحب نے صحافت کو نہ صرف اپنے بچوں کی طرح پورے خلوص سے پروان چڑھایا بلکہ اُنہوں نے تمام زندگی اِس کی تعلیم و تربیت کا بھی بطورخاص اہتمام رکھا اُور یہی وجہ ہے کہ آج اُن کے شاگردوں کی ایک تعداد عملی صحافت (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) سے وابستہ ہونے کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے میں بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہ موقع پرست (حادثاتی) صحافی نہیں بلکہ ’فطری اور فکری تحریک‘ کے تحت اُس پیغمبرانہ پیشے (امربالمعروف و نہی عن المنکر) سے وابستہ ہوئے جس کی اصطلاح آسمانی صحفیوں سے ماخوذ ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ خطۂ پشاور میں اُردو صحافت میں زبان اور اِس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز حبیب صاحب سے ہوا‘ تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کبھی بھی صحافتی اصولوں پر ’سودے بازی‘ نہیں کی اور کامیاب رہے۔ یہی اُن کا طرۂ امتیاز رہا اُور اُن کی تربیت سے فیض یاب بطور طالب علم گواہی دیتا ہوں کہ وہ انتہاء درجے کے نفیس‘ بااخلاق اور صوم و صلوۃ کے پابند رہے۔ اُنہوں نے نماز قائم کی اور صحافت کو ملازمت کا ذریعہ نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔ اے کاش پشاور نے حبیب صاحب کی قدردانی کی ہوتی تو جس لمحے اَبرآلود آسمان تلے ’جامعہ پشاور‘ کے ہاکی گراؤنڈ سے اُن کا جسد خاکی اُٹھایا جا رہا تھا تو کندھا دینے والوں میں اکثریت صحافیوں کی ہوتی لیکن جن ’پتھروں کو تراشنے اور دھڑکنیں دینے‘ میں اُنہوں نے اپنی پوری زندگی بسر کر دی‘ اُنہیں کی بڑی تعداد کو اتنی فرصت بھی ملی کہ حبیب صاحب کو پشاور سے الوداع کرنے کی زحمت کرتے! 

حبیب صاحب کی خاطرخواہ قدردانی کی گئی ہوتی تو پشاور کے صحافی اصرار کر کے اُنہیں ’پشاور پریس کلب‘ ہی میں سپردخاک کرتے کہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے آنے والے نے اگر شعوری طور پر ’’پشاور کا انتخاب‘‘ کیا تھااور اپنی زندگی کے پچاس برس (اگست 1965ء سے نومبر 2017ء) بطور معلم پشاور کو دیئے تھے تو کم سے کم اتنا حق تو بنتا تھا کہ انہیں چندگز زمین ہی نذر کی جاتی۔حسب حال قدردانی ہوتی‘ تو حبیب صاحب کی ’نماز جنازہ‘ پشاور پریس کلب میں ادا کی جاتی‘ جس کے لئے اُن کی خدمات کا شمار ممکن نہیں۔ 

حبیب صاحب کی کم سے کم قدردانی یہ بھی ہو سکتی تھیکہ اُنہیں پشاور میں سپردخاک کرکے روک لیا جاتا اور وہ پشاور سے یوں رخصت نہ ہوتے کہ اب پھر کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے۔ 
’’تالمحۂ گزشتہ یہ جسم اُور سائے
زندہ تھے رائیگاں میں‘ جو کچھ تھا رائیگاں تھا(کیا؟)۔۔۔(جان ایلیا)۔‘‘




Monday, November 16, 2015

Translation: Death of a maulana

Death of a maulana
ایک عالم دین کی رحلت!
کبھی کبھار ہمارے اردگرد کچھ ایسا بھی رونما ہوتا ہے جس پر ہمارا اختیار تو نہیں ہوتا کہ اُس کو روک یا تبدیل کر سکیں لیکن اُس کے بارے میں بس سوچتے ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک موقع خیبرپختونخوا کے معروف عالم دین کی رحلت تھی‘ جن کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور اُن کا جنازہ اِس قدر بڑا تھا کہ جس کا بیان کرنا محال ہے! وہ کوئی حکمران‘ بادشاہ یا سرمایہ دار شخص نہیں تھے لیکن اُن کے جنازے نے ایسے تمام طبقات کو پیچھے چھوڑ دیا اور ماضی میں ہوئے بڑے جنازوں سے زیادہ بڑے اِس الوداعی اجتماع نے حاضرین کا نیا ریکارڈ بھی قائم کرڈالا۔ سوال یہ ہے کہ نوشہرہ کے قریب اکوڑہ خٹک میں مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ کی تدفین میں اس قدر بڑی تعداد میں سوگوار کیوں شریک ہوئے؟ اُن 86 سالہ بزرگ نے کس طرح لوگوں کے دل میں جگہ بنائی جبکہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ضعیفی کے باعث اپنے طور چل بھی نہیں پاتے تھے اور انہیں ویل چیئر کی ضرورت ہوتی تھی؟ اُن کی نماز جنازہ جی ٹی روڈ کے کنارے‘ اکوڑہ خٹک کی معروف دینی درسگاہ کے بالمقابل قبرستان میں ادا کی گئی جہاں کے وسیع وعریض میدان میں جس قدر گنجائش تھی‘ اُس سے کئی گنا زیادہ افراد نماز جنازہ میں شرکت کے لئے جمع ہوئے جن میں بوڑھے‘ جوان اور ہرعمر کے افراد شامل تھے اور جوق در جوق شرکت کے لئے آ رہے تھے۔ کوئی پوچھ سکتا تھا کہ آخر اُنہوں نے اپنی دیگر تمام مصروفیات ترک کرکے مولانا کے جنازے میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ جنازے میں شریک ایک افغان مہاجر محبوب فرط جذبات میں کہہ رہے تھے کہ ’’میں مولانا شیر علی شاہ کا نہ تو شاگرد تھا اور نہ ہی زندگی میں کبھی اُن سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکا لیکن میں اُن کے جنازے میں شرکت کرنے کے لئے اس لئے حاضر ہوا کیونکہ وہ ایک ولی اللہ (اللہ کے دوست) تھے اور اُن کے جنازے میں شرکت کرنا اپنی عاقبت کے لئے باعث و اجر و ثواب ہے۔‘‘ ایسے کسی شخص سے بحث نہیں کی جاسکتی جبکہ وہ کسی اپنے جیسے انسان کے لئے اِس قدر مضبوط اعتقاد رکھتا ہو۔ الغرض اُن کے جنازے میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز یا اجروثواب کا باعث سمجھنے والوں کی تعداد غیرمعمولی تھی اور وہ سبھی اسی قسم کا عقیدہ رکھتے تھے کہ مولانا شیر علی شاہ نے خلوص نیت اور بناء کسی دنیاوی لالچ اپنی تمام زندگی دین کے بتائے ہوئے خالص اصولوں کے مطابق بسر کی گویا اس قدر لوگوں کا اعتراف حقیقت اُن کے لئے ایک سند تھا کہ وہ کامیاب و کامران زندگی بسر کرکے دارفانی سے رخصت ہو رہے تھے۔

یہ حقیقت شک وشبے سے بالاتر ہے کہ شیخ الحدیث مولانا شیر علی شاہ نہایت ہی معزز انسان تھے۔ وہ غیرمعمولی حافظہ اور علوم اسلامیہ سے بہرہ مند تھے۔ انہوں نے جامعۃ المدینہ (مدینہ منورہ یونیورسٹی‘ سعودی عرب) سے پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی سند حاصل کی اور اُن کا شمار پاکستان کے اُن چند عالم دین افراد میں ہوتا تھا جنہوں نے دینی علوم کے ساتھ منطق (فلاسفی کے مضمون) میں بھی سند حاصل کررکھی تھی۔ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں رہنے والا ہر شخص اُن سے واقف نہیں تھا لیکن جس کسی کو بھی اُن سے ملاقات کا شرف ملا اور اُن کے خیالات اور شریں بیان سننے کا کبھی اتفاق ہوا تو وہ اُن کا گرویدا ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور پھر یہ تعلق ہمیشہ کے لئے قائم رہا۔ اُن کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے والوں کی بڑی تعداد پاکستانی و افغانی طالبعلموں کی ہے جن کی بڑی تعداد اُن کے جنازے میں شرکت اور اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

مولانا شیر علی شاہ کا مذہبی حلقوں کے ساتھ سیاسی حلقوں پر بھی کافی اثرورسوخ تھا۔ ایسے علماء کی تعداد بہت کم ہے جنہیں افغان طالبان اور کچھ حد تک پاکستانی طالبان عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے رہے اور اِس فہرست میں وہ علماء تو بالکل بھی شامل نہیں جو سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ مولانا شیر علی شاہ کا نام سرفہرست رہا جس میں کراچی کے مرحوم مفتی رشید احمد اور مفتی نظام الدین شموزئی اور چمن (بلوچستان) سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالغنی شامل تھے جو اب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ مولانا شیر علی شاہ نے 38 برس تک دارالعلوم حقانیہ کے مدرسے میں علوم اسلامیہ کی تعلیم دی۔ اُن کے شاگرد آج اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُنہیں مولانا شیر علی شاہ جیسے معلم نصیب ہوئے۔ اُن کے شاگردوں کا شمار ہزاروں میں ہے اور یہی وجہ تھی کہ اُن کے جنازے میں شریک افراد اُن کے ساتھ کسی نہ کسی دور میں اپنے قریبی تعلق کا بیان کرکے غمزدہ پائے گئے۔

مولانا شیر علی شاہ کے بہت سے مشہور شاگرد تھے۔ جن میں ایک مولانا فضل الرحمن (جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن کے سربراہ) اور مولانا جلال الدین حقانی (افغان مجاہدین کے رہنما جنہوں نے ’حقانی نیٹ ورک‘ کے نام سے روس اور امریکی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت کی قیادت کی) شامل ہیں۔ مولانا شیر علی شاہ نے روس اور بعدازاں امریکہ کی افغانستان پر فوج کشی کی نہ صرف مذمت کی تھی بلکہ اُنہوں نے اِس کے خلاف مزاحمت (جہاد) کرنے کو اسلامی نکتۂ نظر سے جائز بھی قراردیا تھا۔

پاکستانی حکام اکثر مولانا شیر علی شاہ کے طالبان پر اثرورسوخ ہونے کی وجہ سے اُن سے مشاورت کیا کرتے تھے اور اُن کی مدد ایسے مواقعوں پر بالخصوص لی جاتی تھی جبکہ کہیں مغویوں کو بازیاب کرانا ہوتا یا جب کبھی عسکریت پسندوں کے ساتھ جنگ بندی پر عمل درآمد ممکن بنانے میں رکاوٹیں حائل ہوا کرتیں تھیں۔ وہ ہمیشہ کامیاب بھی نہیں رہے کیونکہ عسکریت پسند اکثر کسی کی بھی سننے سے انکار کر دیتے لیکن اس کے باوجود وہ امن دوست تھے اور ہمیشہ ہی سے قیام امن کے لئے کوششوں کا حصہ رہتے۔

مولانا شیر علی شاہ کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا۔ اُن کی دینی تعلیمات اور عمل ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے۔ مذہبی رہنما ہونے کی حیثیت سے انہوں نے پیسہ کمانے کو متمع نظر نہیں رکھا اور یہی وجہ تھی کہ حق شناس شخص حق کے بیان میں کبھی مصلحتوں کا شکار نہیں رہا۔ انہوں نے 1990ء کے عام انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا لیکن ناکامی کے بعد انتخابی سیاست سے ہمیشہ کے لئے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی تمام زندگی مذہبی تعلیمات کے وقف کر دی جس کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بلند درجے کی عزت و تکریم حاصل ہوئی‘ جس کی ایک جھلک اُن کے جنازے کے موقع پر دیکھی گئی جبکہ جنازے کے شرکاء کی غیرمعمولی تعداد کی وجہ سے گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) اکوڑہ خٹک کے مقام پر کئی گھنٹوں تک بند رہا۔ اُن کا آخری دیدار کرنے کے لئے ہر سمت سے اُمنڈ آنے والے ایک ایسے شخص کی رحلت پر غمگین تھے جس نے پوری زندگی بناء کسی لالچ و طمع اُن کی رہنمائی کی تاکہ وہ عملی و شعوری زندگی میں زیادہ بہتر (محتاط) انسان اور (متقی) مسلمان کے منصب جلیلہ پر فائز ہوسکیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)