Showing posts with label PPC. Show all posts
Showing posts with label PPC. Show all posts

Tuesday, October 26, 2021

Psychological health & journalism

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

صحافت: ذہن کی کیا یہ تباہی کچھ نہیں ؟

پشاور کے ایوان ہائے صحافت (پریس کلب) سے وابستہ صحافیوں کے لئے وقتاً فوقتاً تربیتی نشستوں کے اہتمام میں حالیہ اضافہ اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد و مختلف رہا جس کے شرکا کی پریشانیوں میں شاید یہ جان کر مزید اضافہ ہو گیا ہو گا کہ دہشت گردی کا ایک منفی اثر یہ بھی مرتب ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا (بشمول پشاور) میں صحافی نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہیں لیکن اِس بارے خاطرخواہ خواندگی نہیں پائی جاتی اُور نہ ہی اِن نفسیاتی عارضوں کے معلوم ہونے پر بھی علاج معالجے کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اِس بارے میں صورتحال کا سرسری جائزہ پیش کرتے ہوئے نفسیاتی علوم (سائیکالوجی) سے وابستہ محترمہ گلشن تارہ نے کہا کہ ”خیبرپختونخوا کے 70فیصد سے زائد صحافی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ کونسلنگ (نفسیاتی مشاورت) کی ضرورت ہے اُور ایسا نہ ہونے کے باعث (اندیشہ ہے کہ) نفسیاتی مسائل کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ نفسیاتی مشاورت (psychology counseling) یکساں ضروری ہے بصورت دیگر مریضوں کی اپنی صحت اُور جان کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔“ محترمہ تارہ نے اِس حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ ”معاشرے میں ہر انسان کسی نہ کسی قسم کے ذہنی دباؤ  کا شکار ہوتا ہے اُور یہ ذہنی دباؤبہت ساری معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے لہٰذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ نفسیاتی عارضوں کو معمولی نہ سمجھا جائے اُور جسمانی صحت کی طرح نفسیاتی صحت کا بھی خیال رکھتے ہوئے متعلقہ معالج (نفسیاتی امور کے مستند معالج) سے رجوع کیا جائے۔“ صحافیوں کی استعداد کار اُور معلومات میں اضافے کی جاری کوششوں میں نفسیاتی الجھنوں اُور ذہنی صحت کے حوالے آگاہی کی یہ نشست اپنی جگہ اہم تھی جس کے شرکا کو کم سے کم جس ایک بات کے بارے میں یقینا علم ہو چکا ہے کہ ”ذہنی طور پر پریشان‘ ہر شخص ’پاگل‘ نہیں ہوتا اُور اگر ذہنی پریشانیوں کا بروقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ کسی بھی انسان کو پاگل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔“ اِسی طرح نفسیاتی امراض کیا ہوتے ہیں اُور دیگر امراض کی طرح نفسیاتی عارضوں کی بھی علامات ہوتی ہیں جن میں نیند کے معمولات تبدیل ہونا‘ نیند کی کمی‘ سماجی تعلقات اُور روئیوں میں تبدیلی‘ لڑائی جھگڑے‘ دوسروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا‘ بچوں کو ڈانٹنا‘ دھتکارنا اُور کسی عمومی بات کا پتنگڑ بنانے جیسی تحاریک کسی عارضے کی نشاندہی ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ نفسیاتی عارضے میں مبتلا شخص نہ صرف اپنی ذات میں بے سکون ہوتا ہے بلکہ وہ گردوپیش میں دیگر افراد کے لئے بے سکونی کا باعث بن رہا ہوتا ہے اُور یہی وہ مرحلہء فکر ہے جہاں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ معاشرے کی ہر سطح پر نفسیاتی مریض خود کو مریض نہیں سمجھتے۔ توجہ طلب ہے کہ نفسیاتی الجھنیں معاملات کے بارے میں سوچنے‘ سمجھنے یا روزمرہ کے عمومی فیصلے کرنے یا کسی نتیجے تک پہنچنے اُور برداشت جیسی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہیں اُور اگر کوئی بھی شخص اپنے اندر ایسی تبدیلیاں محسوس کرے کہ اُسے بات بے بات پر غصہ آئے یا طبیعت میں اشتعال کا غلبہ رہے تو تجویز یہی کیا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں نفسیاتی امراض کے مستند معالجین سے رجوع کرنا چاہئے۔ اگرچہ یہ بات صحافیوں کی نشست میں زیرغور نہیں آئی لیکن ’غربت‘ جملہ بیماریوں کی جڑ ہے جبکہ نفسیاتی عارضوں کا ایک سبب ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کا استعمال اُور ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز نہ ہونے کے باوجود ازخود ڈاکٹری یا حکیمی ادویات لینا ہے!

جسم کے دیگر اعضا کی نسبت انسان سب سے زیادہ دماغ اُور نفسیات کے بارے میں جاننے کا دعویٰ کرتا ہے اُور یہی پہلی و بنیادی غلطی ہے۔ نفسیاتی الجھنیں سمجھ آ جائیں گی لیکن اگر اِن کے پیدا ہونے کے عمل کو جان لیا جائے۔ اِس مرحلہ فکر پر ٹھہر کر ایک مثال جان لیں کہ شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا شخص ہو جو غصے کے مضر اثرات کے بارے میں نہ جانتا ہو لیکن اِس خواندگی کے باوجود اُسے غصہ آتا ہے اُور جب غصہ اُس کی برداشت سے اکثر زیادہ (بے قابو) ہو جائے تو ایسی صورت کو طب کی اصطلاح میں نفسیاتی عارضہ کہا جاتا ہے۔ اِسی طرح علوم نفسیات میں عبادت کو بھی نفسیاتی بیماری ہی کی ایک قسم بتائی جاتی ہے جبکہ عبادات اُور عقائد نفسیاتی عارضوں کو کم کرتے ہیں کیونکہ اِن میں دعا کے ذریعے یقین اُور اُمید پیدا ہوتی ہے اُور دنیا کا کوئی ایک بھی ایسا ڈاکٹر نہیں جو مریض کو دوا کے علاؤہ اُس میں یقین اُور اُمید جیسے جذبات پیدا کر سکے جو لاعلاج امراض میں جادوئی اثرات رکھتی ہیں۔ بہرکیف جس ایک بات کو ہمارے ماہرین نفسیات کی اکثریت فراموش کر جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کرہ ارض پر موجود تمام جانداروں (مخلوقات) میں صرف انسان ہی ایک ایسا جاندار ہے جس کا نفسیاتی نظام انتہائی پیچیدہ (دوسروں سے) و مختلف ہے اُور جب ہم انسان کا دیگر جانداروں (ہم زمین مخلوقات) سے موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ ایک نفسیاتی عمل بھی جڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اندر خیالات اُور جذبات پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانی ذہن کی اِس پیداوار (خیالات اُور جذبات) کے لئے اُسے معلومات درکار ہوتی ہیں یا وہ ازخود معلومات اخذ کر کے کسی نتیجے پر پہنچنے کی اپنی صلاحیت استعمال کرتا ہے اُور یوں کسی شخصیت یا واقعات کے بارے خیالات کے تانے بانے بننا شروع کر دیتا ہے چونکہ یہ انتہائی تیزرفتار عمل ہوتا ہے کہ اِسے روکا یا اِس کے تلاطم کا زور توڑا نہیں جا سکتا اِس لئے یہی غالب و کامیاب رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کسی شخص کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ اچھا ہے یا وہ بُرا ہے تو درحقیقت یہ ہمارا دماغ کی اختراع ہوتی ہے کہ جو مختلف قسم کی معلومات کو اکٹھا کر کے ہمیں کسی نتیجہ ءخیال تک پہنچا رہا ہوتا ہے اُور اِنہی خیالات کے تحریک میں کسی انسان کی شخصیت بنتی ہے۔ اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں شخص منفی ذہنیت کا حامل ہے‘ وہ ہر چیز میں کیڑے نکالتا ہے وغیرہ۔ 

اگر ہم انسان اپنے دماغ اُور اِس کے نفسیاتی عمل کو سمجھ لیں تو عیاں ہو جائے گا کہ انسانی دماغ جس طرح قدم قدم پر رہنمائی کر رہا ہوتا ہے تو درحقیقت وہ معلومات کو تصورات اُور تصورات کو خیالات میں ڈھال کر فیصلہ سازی یا رائے زنی کرواتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ جو کچھ ہمارے دماغ میں چل رہا ہوتا ہے وہ کائنات (ہمارے گردوپیش) کی حقیقت کا بیان نہیں ہوتا بلکہ تطہیر شدہ اندازہ (حاصل) ہوتا ہے۔ اِنسان اپنی اُور کائنات کی حقیقت تک اُسی وقت پہنچ سکتا ہے جب وہ خالی الذہن رہ سکے اُور طبیعت کے اُس آسان پن سے نجات حاصل کرے جو اِسے ہر مسئلے کے فوری حل (نتیجے) تک پہنچا دیتی ہے۔ اِس مرحلہء فکر پر انسانوں (یقینا بشمول صحافیوں) کو اِس بات پر بھی سوچنا چاہئے کہ آخر وہ ذہن کے بے لاگ سوچنے اُُور اِس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے دوچار کیوں ہیں اُور دیگر اعضائے جسمانی کے مقابلے آخر اِنہیں صرف ذہن و نفسیات ہی سے کیوں مسائل (الجھنیں) درپیش ہیں؟ 

”سوچ اپنی ذات تک محدود ہے .... ذہن کی کیا یہ تباہی کچھ نہیں (طاہر عظیم)۔“

....



https://epaper.dailyaaj.com.pk/epaper/pages/75cccd7df1db34d4eaac7f269f885ae2.jpg


Wednesday, November 15, 2017

Nov 2017: Remembering Habib ur Rehman (1940-2107)

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
نایاب ہستیاں: حبیب الرحمان!
صدمے کا بیان ممکن نہیں۔ خیبرپختونخوا میں ذمہ دار‘ باکردار اور صحافتی اقدار کو اک نئی شناخت (عروج) سے روشناس کرنے والے (حافظ) حبیب الرحمن ’تیرہ نومبر‘ کے روز خالق حقیقی سے جا ملے جنہیں ’چودہ نومبر‘ کی سہ پہر روالپنڈی میں اپنے والد بزرگوار کے پہلو میں ’سپردخاک‘ کر دیا گیا۔ (اناللہ و انا علیہ راجعون)۔

حبیب الرحمان اپنی ذات میں درسگاہ تھے۔ اُنہوں نے ’پشاور‘ سے محبت کی اور اپنا سب لٹا کر کچھ اِس طرح چلتے بنے کہ جس طرح اُن کی آمد غیرمحسوس رہی لیکن وہ پشاور کی ناگزیر ضرورت بن گئے بالکل اُسی طرح نہایت ہی خاموشی (عجز و انکساری) سے رخصت ہوئے جبکہ پشاور کا ہر صحافی اُن کی خدمات کا معترف اور گواہ ہے کہ وہ کامیاب و کامران رہے۔ 

تصور کیجئے ایک ایسے شہر کا‘ جہاں کے ’جامعہ پشاور‘میں شعبۂ صحافت (جرنلزم ڈیپارٹمنٹ) کا آغاز 1985ء میں ہوتا ہے لیکن اُس سے ٹھیک بیس برس قبل ایک شخص نہ صرف صحافت کی آبیاری کرتا ہے بلکہ صحافیوں کی بے لوث‘ عملی تربیت کا اپنے علم (نالج) اور کردار (کریکٹر) جیسی صلاحیتوں سے کرتا ہے۔ حبیب صاحب کی خواہش رہی کہ پشاور سے انگریزی زبان کا ایک معیاری روزنامہ شائع ہو سکے۔ ان کی عملاً زیرادارت پشاور کو ایک خصوصی روزنامہ بھی ملا‘ جس کی اہمیت و ضرورت آج بھی محسوس ہو رہی ہے۔

حبیب صاحب غیرمنقسم ہندوستان کے شہر ’انبالا‘ کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے‘ جس کا عکس اُن کی شخصیت سے تمام زندگی چھلکتا رہا۔ اُنہیں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے دوران ہی ادبی سرگرمیوں سے لگاؤ پیدا ہوا ‘ جس میں بالخصوص خطے کی سیاسی صورتحال اور احوال جاننے کے لئے اخبار بینی شامل تھی۔ آپ سات برس کی عمر میں (’تقسیم ہند‘ کے بعد) اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت اختیار کرنے کے بعد روال پنڈی پہنچے۔ وہیں میٹرک سے ایم اے (اردو) تک تدریسی درجات طے کرنے کے بعد عملی زندگی کے لئے صحافت کا انتخاب کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اُنہیں اگر زندگی بھر کسی ایک بات کا افسوس رہا تو وہ نجی زندگی کا ایک ایسا تلخ تجربہ تھا‘ جو اگر حسب توقع کامیاب ہو جاتا تو پاکستان بالخصوص پشاور میں اُردو صحافت کا معیار زیادہ بہتر ہوتا۔ حبیب صاحب نے روالپنڈی سے عملی صحافت کا آغاز کیا‘ اور اگست اُنیس سو پینسٹھ میں ’’روزنامہ انجام پشاور‘‘ سے وابستہ ہوئے۔ یکم اگست 1967ء کو روزنامہ انجام تحلیل ہونے کے بعد آپ ’روزنامہ مشرق‘ کا حصہ بن گئے‘ جہاں 1971ء میں نیوز ایڈیٹر بعدازاں 1989ء میں چیف نیوزایڈیٹر بنے۔ جو ’نیشنل پریس ٹرسٹ‘ کا اخبار تھا تاہم ہر دور کی طرح اُس وقت بھی منافع بخش قومی اداروں اور قومی وسائل پر سیاسی فیصلہ سازوں کی نظریں رہتی تھیں۔ حبیب صاحب نے اخبار بدلا لیکن مقصد و جدوجہد نہیں۔ 1998ء سے 2001ء تک آپ نے روزنامہ میدان کے چیف نیوز ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ سال 2002ء میں ’روزنامہ آج پشاور‘ سے وابستہ ہوئے اور یہ تعلق تادم آخر سترہ برس تک رہا۔ ایک ’گمنام سپاہی‘ کی طرح آپ اُس ہراول دستے کے قائد رہے جس نے صوبائی اور قومی سطح معاشرے کے ہر محروم طبقے کے لئے آواز اٹھائی۔ آپ پشاور پریس کلب اور خیبریونین آف جرنلسٹس کا حصہ رہے اور اپنی تمام صلاحیتیں ’ذمہ دار اور باوقارصحافت‘ کی ترویج و اشاعت کے لئے بروئے کار لانے میں کبھی بھی مصلحتوں کا شکار (غافل) نہیں پائے گئے۔ آپ نے ہمیشہ اعلیٰ صحافتی اقدار کی نہ صرف تلقین (تعلیم) دی بلکہ عمل سے ثابت بھی کیا کہ ’حق کو کبھی زوال نہیں ہوتا۔‘ 

دنیا معترف ہے کہ حبیب صاحب نے ذاتی مفادات کو صحافت اور صحافت کو ذاتی مفادات کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیا۔آپ نے ہمیشہ غریبوں‘ مظلوموں‘ کسانوں‘ کاشتکاروں اور پاکستان میں جمہوریت کی بقاء اور ترقی کے لئے جدوجہد کرنے والی تحریکوں کے شانہ بشانہ اپنے قلم اور صحافتی علوم کے بہترین استعمال سے جہاد (جدوجہد) کی۔

خیبرپختونخوا‘ اور بالخصوص پشاور کی صحافتی برادری مرحوم و مغفور جناب حبیب الرحمن صاحب کے انتقال پر سوگوار‘ مغموم اور اگر صدمے کی کیفیت سے گزر رہی ہے تو یہ اُن کی شخصیت کے لئے خراج عقیدت بھی ہے جس کے سامنے حکومتی اعزازات کی کوئی وقعت نہیں۔ حبیب صاحب نے صحافت کو نہ صرف اپنے بچوں کی طرح پورے خلوص سے پروان چڑھایا بلکہ اُنہوں نے تمام زندگی اِس کی تعلیم و تربیت کا بھی بطورخاص اہتمام رکھا اُور یہی وجہ ہے کہ آج اُن کے شاگردوں کی ایک تعداد عملی صحافت (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) سے وابستہ ہونے کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے میں بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہ موقع پرست (حادثاتی) صحافی نہیں بلکہ ’فطری اور فکری تحریک‘ کے تحت اُس پیغمبرانہ پیشے (امربالمعروف و نہی عن المنکر) سے وابستہ ہوئے جس کی اصطلاح آسمانی صحفیوں سے ماخوذ ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ خطۂ پشاور میں اُردو صحافت میں زبان اور اِس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز حبیب صاحب سے ہوا‘ تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کبھی بھی صحافتی اصولوں پر ’سودے بازی‘ نہیں کی اور کامیاب رہے۔ یہی اُن کا طرۂ امتیاز رہا اُور اُن کی تربیت سے فیض یاب بطور طالب علم گواہی دیتا ہوں کہ وہ انتہاء درجے کے نفیس‘ بااخلاق اور صوم و صلوۃ کے پابند رہے۔ اُنہوں نے نماز قائم کی اور صحافت کو ملازمت کا ذریعہ نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔ اے کاش پشاور نے حبیب صاحب کی قدردانی کی ہوتی تو جس لمحے اَبرآلود آسمان تلے ’جامعہ پشاور‘ کے ہاکی گراؤنڈ سے اُن کا جسد خاکی اُٹھایا جا رہا تھا تو کندھا دینے والوں میں اکثریت صحافیوں کی ہوتی لیکن جن ’پتھروں کو تراشنے اور دھڑکنیں دینے‘ میں اُنہوں نے اپنی پوری زندگی بسر کر دی‘ اُنہیں کی بڑی تعداد کو اتنی فرصت بھی ملی کہ حبیب صاحب کو پشاور سے الوداع کرنے کی زحمت کرتے! 

حبیب صاحب کی خاطرخواہ قدردانی کی گئی ہوتی تو پشاور کے صحافی اصرار کر کے اُنہیں ’پشاور پریس کلب‘ ہی میں سپردخاک کرتے کہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے آنے والے نے اگر شعوری طور پر ’’پشاور کا انتخاب‘‘ کیا تھااور اپنی زندگی کے پچاس برس (اگست 1965ء سے نومبر 2017ء) بطور معلم پشاور کو دیئے تھے تو کم سے کم اتنا حق تو بنتا تھا کہ انہیں چندگز زمین ہی نذر کی جاتی۔حسب حال قدردانی ہوتی‘ تو حبیب صاحب کی ’نماز جنازہ‘ پشاور پریس کلب میں ادا کی جاتی‘ جس کے لئے اُن کی خدمات کا شمار ممکن نہیں۔ 

حبیب صاحب کی کم سے کم قدردانی یہ بھی ہو سکتی تھیکہ اُنہیں پشاور میں سپردخاک کرکے روک لیا جاتا اور وہ پشاور سے یوں رخصت نہ ہوتے کہ اب پھر کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے۔ 
’’تالمحۂ گزشتہ یہ جسم اُور سائے
زندہ تھے رائیگاں میں‘ جو کچھ تھا رائیگاں تھا(کیا؟)۔۔۔(جان ایلیا)۔‘‘




Monday, September 25, 2017

Sept 2017: The trust deficit between neighbors and the foreign policy of Pakistan

روزنامہ آج پشاور ۔۔۔25 ستمبر 2017ء
شکوہ‘ جواب شکوہ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی وزیرخارجہ سشماسوراج نے ’’پاکستان کو دہشت گرد برآمد کرنے والی فیکٹری‘‘ قرار دیا تو پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ’’بھارت کو جنوب ایشیاء میں دہشت گردی کی ماں اور سرپرست اعلیٰ سے تعبیر کیا۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بات بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہا دیا کہ ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت درحقیقت سب سے بڑی منافقت ہے۔‘‘ کیا واقعی اِس خرابی کا امکان موجود ہے کہ ’جمہوریت منافقت بھی ہو سکتی ہے؟‘ امر واقعہ یہ ہے کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے دو ہمسایہ ممالک (پاکستان اور بھارت) کے درمیان سرحدی کشیدگی اُس وقت تک ختم نہیں ہو سکے گی جب تک ’الفاظ کی جاری جنگ‘ ختم نہیں ہو جاتی۔ امن‘ دوستی اور بقائے باہمی کے اِمکانات لامحدود ہیں۔ ہر سطح پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعاون کے فروغ بالخصوص تجارت کے ذریعے دونوں ممالک کے لئے عملاً ممکن ہوگا کہ وہ انسانی ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں اور دفاع کی بجائے غربت میں کمی اور صحت و تعلیم کے شعبوں کی بہتری پر مالی وسائل کا بڑا حصہ کریں لیکن کہیں ایسا تو نہیں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا ’روائتی اور دیرینہ دشمن‘ بنائے رکھنا کسی ایسی عالمی سازش کا حصہ ہو‘ جس کی اسلحہ ساز صنعتوں کے کاروباری (صنعتی) مفادات اِسی میں ہوں کہ پاکستان‘ بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکیں!؟
پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کو فعال کرنے کی حالیہ دنوں میں کوششوں کا مرکزی نکتہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی طرف سے آنے والے تنقید کے ہر نشتر کا فوری جواب دیا جائے۔ ’شکوہ جواب شکوہ‘ کے اِس نئے دور (مرحلے) میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ صرف بھارت کے بیانات کا جواب دینا ہی کافی نہیں بلکہ پاکستان کی داخلی و خارجہ پالیسیوں سے وہ ماحول بھی بنانا بھی ہوگا جس سے دنیا ہمارے مؤقف کو تسلیم کرے اور یقین بھی کرے کہ پاکستان دراصل خود دہشت گردی کا شکار ہے تو وہ کس طرح غیرریاستی کرداروں کی پشت پناہی کے ذریعے دہشت گردی کی پشت پناہی کرسکتا ہے! دنیا کی آنکھوں سے اُس وقت تک پاکستان کے لئے ہمدردی اور یک جہتی میں ایک آنسو بھی نہیں ٹپکے گا جب تک پاکستان انتہاء پسندوں اور نفرت انگیز جذبات رکھنے والوں سے سخت گیر عملی معاملہ نہیں کرتا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صف اوّل کا کردار ادا کیا اُور جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جو کہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے لیکن محض اِس حقیقت کی بنیاد پر پاکستان کو ’اجازت نامہ (لائسینس)‘ نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی قومی پالیسیوں میں سرحدپار مفادات کو شامل کرتے ہوئے کہیں اخلاقی تو کہیں بہ امر مجبوری حمایت کو ’اصولی مؤقف‘ قرار دے۔ اصل ضرورت پاکستان کے بارے میں ’عالمی رائے عامہ‘ تبدیل (ہموار) کرنے کی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کو ایک ایسا ملک تصور کیا جاتا جہاں ریاست کے اندر ریاستیں قائم ہیں اور اِس حقیقت کا ذکر خود پاک فوج کے سربراہ کی متعدد تقاریر میں کیا گیا ہے کہ ’’پاکستان کو داخلی محاذ پر زیادہ بڑے اور سنگین خطرات کا سامنا ہے۔‘‘ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کاروائیوں بشمول جاری ’آپریشن ردالفساد‘ میں کامیابی اگر ’بلندبانگ دعوؤں‘ سے مطابقت رکھتی تو ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی محرم الحرام کے موقع پر پہلے سے زیادہ حفاظتی (سیکورٹی) انتظامات‘ کی ضرورت نہ پڑتی۔ چار سال تک برسرزمین حقائق کا انکار کرنے کے بعد اچانک (اکیس جولائی سے) ’نواز لیگ‘ حکومت جس اَنداز میں ٹھوس بنیادوں پر خارجہ امور اور پرعزم سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر ’پاکستان کا دفاع‘ کر رہی ہے‘ اگر یہی کارکردگی اُور ضرورت کا اِحساس ’قبل ازیں‘ کر لیا جاتا تو آج حالات قطعی مختلف ہوتے اور عالمی طاقتوں کا پاکستان کے بارے میں یہ (ملتا جلتا) نکتۂ نظر سامنے نہ آتا کہ ۔۔۔’’آگ سے کھیلنے والے بسا اوقات اپنا ہی نقصان کر بیٹھتے ہیں!‘‘

فاصلوں میں قربتیں اور قربتوں میں فاصلے تلاش کرنے کے مفید نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ پاکستان‘ بھارت اُور افغانستان ایک دوسرے کے بارے میں اپنے مؤقف دنیا کے سامنے رکھنے سے پہلے اگر مل بیٹھ کر بھی ایک دوسرے کی بات سننے کے روادار نہیں تو اِس انتہاء پر مبنی ’ردعمل‘ کی تصحیح (اِصلاح) ہونی چاہئے۔

ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے نمائندوں اور عوامی سطح پر بات چیت کے ذریعے بھی پاکستان‘ افغانستان اور بھارت ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں اور ضرورت ہے کہ ’پبلک ڈپلومیسی‘ کو بھی ایک موقع دیا جائے۔ تیئس ستمبر کے روز ’پشاور پریس کلب‘ میں ’افغانستان کے عالمی دن‘ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا زور اِسی بات پر تھا کہ ’’پاک افغان اختلافات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا فائدہ اُٹھانے والے (درپردہ عزائم) کسی سے پوشیدہ نہیں تو آخر دو ہمسایہ اور مسلمان ممالک کیوں خودکشی (حرام فعل) پر تلے ایسے مواقع پیدا کر رہے ہیں جس کا فائدہ اٹھا کر اُن کے مفادات پر وار کئے جا رہے ہیں؟‘‘ پشاور میں تعینات اَفغان قونصلر جنرل ڈاکٹر عبدالوحید پویان نے عمدہ الفاظ سکے چناؤ سے خطاب میں اِس تاثر کو گمراہ کن اور من گھڑت قرار دیا کہ ’’افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک بالخصوص پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور بالخصوص بھارت افغانستان کے راستے پاکستان کے داخلی امن کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے۔‘‘ افغان قونصل جنرل کی یہ رائے اُس افغان پالیسی کا جز ہے جس میں برسرزمین حقائق کا مسلسل انکار کیا جاتا رہا ہے لیکن خوش آئند ہے کہ اگر افغانستان پاکستان کے داخلی امن کے بارے میں فکرمند اور تشویش کا اظہار کررہا ہے تو اِس سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاک افغان بات چیت (نیشنل ڈائیلاگ) کا عمل شروع کرنے کا اِس سے زیادہ موزوں وقت کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ اگر نجی کوششوں سے ’پشاور پریس کلب‘ کی سطح ’پاک افغان تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق امور‘ زیرغور (زیربحث) آسکتے ہیں تو سرحدی تنازعات سے لیکر سیاسی‘ تجارتی اور دفاعی امور کے حوالے سے متعلقہ شعبوں کے ماہرین (سرکاری سطح پر) مل بیٹھ کر بات کیوں نہیں کرسکتے؟ دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ سیاسی و سماجی کارکنوں‘ وکلاء‘ صحافیوں‘ طالب علموں اور دیگر مختلف مکاتب فکر کی ترجمانی کرنے والے نمائندہ افراد کا ’پشاور پریس کلب‘ میں تبادلۂ خیال غنیمت سے کم اہم نہیں تھا اور اِس کا سلسلہ جاری و ساری اور وسیع کرنے کے لئے حکومتی سرپرستی کے ذریعے ’’ترغیبی کوششوں‘‘ سے اُن ’’تخریبی عزائم (عناصر)‘‘ کو شکست دی جا سکتی ہے‘ جن کی بقاء اِسی میں ہے کہ پاکستان‘ افغانستان اور بھارت ہمیشہ ایک دوسرے سے ’الجھے‘ ناراض‘ گلہ مند‘ اُور ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہیں!
۔۔۔

Monday, April 3, 2017

Apr2017: Lala Amir Siddiqi Award on Photo Videography!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تصویری مقابلہ: اَصول‘ قواعد اُور نتائج!
صحافت کی حد یہ ہے کہ اِس کی کوئی حد نہیں۔ یہ بہت سے علوم کا مجموعہ ہے اور اپنی ذات میں ایک ایسا منفرد علم بھی ہے‘ جس کے اَصولوں کی روشنی (رہنمائی) میں تحریر و تحقیق اور بیانات کی عملی اشکال اور اثرات کا بیان جبکہ اِسی کے ذریعے نہ صرف گردوپیش کے حالات و واقعات سمجھنے اُور سمجھانے کے علاؤہ انسانی معاشروں میں پائے جانے والے امتیازات ختم کرنے کی جانب فیصلہ سازوں کا دھیان مرکوز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو زیادہ سنجیدہ فرائض منصبی (ذمہ داری) ہے۔ دنیا کا کوئی بھی دوسرا علم اپنی ذات میں اِس قدر معنویت (وسعت) نہیں رکھتا کہ اِس کے ذریعیاَقوام عالم سے لیکر مقامی سطح پر گروہی اختلافات‘ امتیازات یا حقوق کے تحفظ جیسے آئینی و سماجی مسائل زیربحث لائیں جائیں لیکن صحافت کی معنویت اُس وقت حاصل ہوگی جبکہ ’آزادی اظہار‘ کے ساتھ جڑے ’فرائض‘ کی باریکیوں کو سمجھا جائے‘ اُن کی قدر کی جائے اور اِس کے مروجہ عالمی اَصولوں کی ’بہرصورت پاسداری‘ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

قیام پاکستان کے وقت سے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبرپختونخوا) میں صحافت سے جڑے چند معتبر ناموں میں ’لالہ امیر صدیقی (مرحوم)‘ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ آپ پشاور پریس کلب کے بانی رُکن اور اپنی ذات میں رہنما انسان تھے۔ آپ کی شخصیت کے ایک رخ یعنی صحافتی خدمات کو خراج تحسین اور ’یادگار‘ رکھنے کے لئے ’لالہ امیر صدیقی (مرحوم) سے منسوب اعزازات‘ کا آغاز سال 2016ء میں کیا گیا‘ جن کا ایک مقصد خیبرپختونخوا اُور قبائلی علاقہ جات میں ’ذمہ دار اُور معیاری صحافت‘ کا فروغ بھی ہے۔ اِس سلسلے میں ’’سالانہ میڈیا ایوارڈز‘‘ کے سلسلے میں تقریب رواں برس بھی 30مارچ ہی کے روز منعقد ہوئی۔ اعزازات ’مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر دیئے گئے جن میں تحقیقی رپورٹ‘ انگریزی میں بہترین فیچر کالم‘ اُردو میں فیچر رپورٹ‘ فوٹوجرنلزم‘ ریڈیو رپورٹ‘ صحافتی ٹیلی ویژن کے لئے کیمرہ مین اُور ٹیلی ویژن پیکج کا ’انتخاب‘ کرکے صحافیوں کو ایک پروقار تقریب میں اعزازات سے نوازہ گیا۔ حسن اتفاق ہے کہ زیادہ تر اعزازات اُنہی اِداروں کے حصے میں آئے جن سے مقابلے کے منصفین کا تعلق تھا لیکن اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کم سے کم کسی کو تو خیال آیا کہ ’ذمہ دار صحافت‘ کرنے والوں کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ یہ اقدام تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کے لئے بھی دعوت فکر ہے کہ وہ ’انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (محکمۂ اطلاعات)‘ کو ’’ایوان اطلاعات‘‘ میں ڈھال کر ایک ایسے شعبے کی سرپرستی کرے‘ جس سے وابستہ افراد‘ بناء عہدوں اُور مراعات کی لالچ نہ صرف اپنی زندگیاں وقف کئے ہوئے ہیں بلکہ وہ غیرمعمولی حالات میں خطرات بھی مول لیتے ہیں اور یہ حقیقت اپنی جگہ اعتراف حقیقت چاہتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں صحافت کا علم حاصل کرنا تو آسان ہے لیکن یہاں کبھی بھی صحافت کرنا آسان نہیں رہا۔

’لالہ اَمیر صدیقی (مرحوم) میڈیا ایوارڈز‘ کسی نعمت سے کم نہیں‘ جن میں فوٹوجرنلزم (صحافتی مقاصد کے لئے کی جانے والی عکاسی) کو بھی شامل کیا گیا ہے تو یہ محض رسمی درجہ بندی نہیں ہونی چاہئے۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ برس منصفین میں فوٹوگرافی کے شعبے کے کسی ایسے ماہر کو شامل کیا جائے گا جو ضروری نہیں کہ مقامی ہی ہو اور وہ کسی فوٹوگرافر کی ایک تصاویر یا ایک ویڈیو رپورٹ ہی کو نہیں بلکہ اُس کے ہاں تکنیکی مہارت کی مفصل جانچ کرنے کے بعد فیصلہ صادر کرے۔ رواں برس جن قابل احترام جج صاحبان بشمول سینئر صحافیوں نے ’تصاویر‘ اور ’ویڈیو رپورٹس‘ کی درجہ بندی کی یقیناًاُنہوں نے پوری دیانتداری کا مظاہرہ کیا ہوگا جو ہر قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہے لیکن کسی ’تکنیکی مہارت‘ کے معیار کی جانچ کے لئے محض ’نیک نیتی‘ ہی کافی نہیں ہوتی۔ آدھا علم تو یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی لاعلمی کا اعتراف کرے لیکن ابھی اتنا علم ہمارے ہاں نہیں آیا اور علم سے زیادہ تجربہ شخصیات کا تعارف بن چکا ہے۔ بہرکیف فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی پر مشتمل تخلیقات کا فیصلہ اُن سے کرایا گیا‘ جو اِن علوم کے بارے اپنے اپنے جمالیاتی ذوق کے مطابق ’ایک رائے‘ رکھتے ہیں (جبکہ رائے علم نہیں ہوتی) اور ہمارے ہاں چونکہ المیہ یہ ہے کہ چیزیں اپنے مقام پر پڑی پڑی ہی ’سینئر‘ بھی ہو جاتی ہیں اور اُنہیں کچھ نہ کرنے جیسی ’قومی خدمت‘ کی ’پاداش‘ میں ’’حسن کارکردگی‘‘ جیسے ’اِعزازات‘ بھی مل جاتے ہیں‘ تو اِسی کو کارکردگی کا معیار سمجھنے والوں کو دیکھنا ہوگا کہ ’قومی اعزازات‘ کی عام آدمی (ہم عوام) کی نظر میں وقعت اُور اہمیت نہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی یہی سالانہ ’دل پشاوری‘ کرنے کی ترکیب ہے۔

صحافتی مقصد کے لئے بنائی جانے والی کسی بھی تصویر کا ’پیغام‘ اُس کی قدروقیمت کے تعین کا پہلا معیار ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ جو تصویر کسی خاص موقع پر اخبارات یا دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر ہوئی وہ چند دنوں‘ ہفتوں یا مہینوں بعد بھی انسانی ذہن پر اُتنا ہی یا ویسا ہی اثر کرے‘ جیسا کہ کسی خاص وقت اُور خاص حالات میں اُسے دیکھنے والوں کے جذبات پر ہوا تھا۔ اِس سلسلے میں ایک تجویز فوٹوجرنلسٹس کے لئے بھی ہے کہ جب وہ کسی بھی مقامی یا عالمی مقابلے کے لئے اپنی بنائی ہوئی کسی تصویر کا انتخاب کریں تو خود کو منصف کی جگہ رکھ کر سوچیں اور اپنی تخلیقات کا بذات خود تنقیدی جائزہ لیں۔ 

قریبی دوستوں کی پسند و ناپسند پر انحصار اُورجلدبازی نہ کریں۔کسی منصف کو بہت سی تصاویر کا جائزہ لینا ہوتا ہو‘ اُسے صرف ایک تصویر نہیں دیکھنا ہوتی‘ اِس لئے فوٹوگرافر کے لئے ضروری ہے کہ چاہے وہ کسی مقابلے میں حصہ لے یا نہ لے لیکن وہ اپنی تخلیقات کا موازنہ دوسرے ہم عصروں کے کام سے مسلسل کرتا رہے۔ فوٹوگرافر کو چاہئے کہ سب سے پہلے خود سے سوال کرے کہ کیا واقعی اُس کی بنائی ہوئی کوئی بھی تصویر کسی مقابلے کے قابل بھی ہے اُور اگر ہے تو پھر کیوں؟ 

آخر تصویر میں ایسا کیا مختلف دکھایا گیا ہے جو اُس کی تخلیق کو دیگر سے الگ و نمایاں (ممتاز) کرے گا؟ کسی جج کی نظر میں تصویر کے چار معیار ہو سکتے ہیں۔ اُس کااثر (impact) کیا ہے۔ اُس میں ’تکنیکی باریکیوں(technical excellence) کا کتنا خیال رکھا گیا ہے اُور اِسے بناتے ہوئے ’تخلیقی مہارت (creativity)‘ سے کتنا کام لیا گیا ہے۔ تصویر بناتے ہوئے قواعد (rules) کو کتنا مدنظر رکھا گیا ہے اُور اگر اِس سلسلے میں صرف ایک ہی قاعدے یعنی ’کمپوزیشن (compositio)‘ کو معیار مان لیا جائیکہ ’رول آف تھرڈز (rule of thirds)‘ مرکز نگاہ رہا ہے یا نہیں تو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ اِس سلسلے میں ایک ضمنی ہدایت فوٹوگرافرز کے لئے یہ بھی ہے کہ جو کسی مقابلے میں حصہ لینے کے خواہشمند ہوں تو اُنہیں چاہئے کہ اپنی تخلیقات ارسال کرنے سے قبل مقابلے کے قواعدوضوابط (اگر ہوں تو اُنہیں) اچھی طرح سمجھ لیں اور اگر کوئی ایک نکتہ بھی سمجھ میں نہ آئے تو اُس کے بارے اپنی تسلی تک تک بار بار منتظمین سے پوچھتے رہیں۔

کسی تصویر کا کم سے کم ’معیار‘ اُور اُس کی ’جزئیات‘ کی جانچ عالمی (مروجہ)اصولوں کے مطابق ہونی چاہئیتاکہ تصویر اُور آڈیو ویڈیو تخلیقات مقابلے کے لئے پیش کرنے والوں کے تجربے‘ مہارت‘ تخلیقی قوت‘ جمالیاتی ذوق‘ اُور اپنے پیشے سے لگن و محنت کا نہ صرف ’درست اندازہ‘ لگایا جا سکے بلکہ اِسی کی بنیاد پر ڈیجیٹل (digital) آلات کی مدد سے حاصل ہونے والی تخلیقات (محنت) کی درجہ بندی بھی ممکن ہو۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے کے مقابلے خیبرپختونخوا اُور قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں فوٹوگرافی کرنا بذات خود ایک مشکل کام ہے جس کے لئے تکنیکی مہارت کے ساتھ اضافی نمبر مقرر ہونے چاہیئں! 

لب لباب یہ ہے کہ فوٹوگرافی ہو یا ویڈیوگرافی‘ دونوں کا ایک تعلق ’جمالیاتی ذوق‘ سے بھی ہے اور اِس نعمت کا ’عکس درعکس‘ جہاں رہن سہن‘ بول چال اور زندگی بسر کرنے کے سلیقے سے بھی عیاں ہوتا ہے‘ وہیں یہ ہنر اپنی جگہ روحانی تسکین کا باعث بھی ہے اور نشہ آور بھی کہ فوٹو یا ویڈیوگرافی اعزازات کی محتاج نہیں ہوتی لیکن صداقت کا اعتراف اپنی جگہ ’سزا و جزا‘ کی طرح اہم ہے۔ بالآخر طے ہے کہ کسی تصویر کے ذریعے اگر ہزاروں الفاظ پر مبنی پیغام منتقل کیا جا سکتا ہے تو تصویر کی یہ طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئیاُس کے معیار کا تعین کرنا اتنا سادہ و آسان نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی ’سینئر‘ کہلانے والا یہ کام کرسکے؟
 Founding member of Peshawar Press Club Late (Lala) Amir Ahmad Siddiqi Awards distributed 2nd time on 30th March 2017 but the pictorial judgement was not technically done. Here are few suggestions for such and other awards judging the pictorial contents