Showing posts with label Pakistan Tehreek e Insaf. Show all posts
Showing posts with label Pakistan Tehreek e Insaf. Show all posts

Saturday, June 25, 2022

POLITICAL HAND SHAKE

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیرحسین اِمام

سیاسی اشتراک ِعمل

پاکستان تحریک انصاف اُور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین (عمران خان اُور علامہ راجا ناصر عباس جعفری) کے درمیان سیاسی اشتراک عمل پر اتفاق رائے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تحریری معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اہم پیشرفت ہے۔ بنی گالہ اسلام آباد میں (بیس جون دوہزاربائیس کے روز) دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے علاۂ ہ، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیریں مزاری جبکہ مجلس وحدت مسلمین کی طرف سے چیئرمین علامہ راجا ناصر عباس جعفری کے ساتھ وائس چیئرمین علامہ اقبال رضوی‘ سیکرٹری جنرل ناصر شیرازی اور سیکرٹری سیاسیات اسد نقوی شریک ہوئے۔ مذکورہ سیاسی اشتراک عمل کے 7 نکاتی دستاویز میں جو امور بالترتیب شامل کئے گئے ہیں وہ پاکستان کے اہم ترین داخلہ و خارجہ امور اور مستقبل کی سیاسی حکمت ِعملی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ بظاہر تو یہ چند سطروں پر مشتمل دستاویز ہے لیکن اگر اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کر لیا گیا اُور دیگر سیاسی جماعتیں بھی اِس جانب متوجہ ہوئیں تو یقینا پاکستان عظیم‘ آزاد‘ خود مختار‘ باوقار اُور امن وامان پر مبنی محفوظ اسلامی ریاست کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ درحقیقت سیاسی اشتراک عمل کے لئے مذکورہ اتفاق رائے کئی دہائیوں کی جدوجہد اُور اِس جدوجہد سے اخذ اہداف کو الفاظ کی شکل دیئے جانے کی محنت ہے‘ جو بارآور ثابت ہوئی ہے۔

تحریک انصاف اُور مجلس وحدت مسلمین کے درمیان ’اشتراک عمل‘ کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ”وطن عزیز پاکستان کی داخلی وحدت‘ سلامتی اور استحکام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اسلامی اقدار کا تحفظ‘ تحریک پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی حفاظت اور سیاسی‘ اقتصادی اور دفاعی خود انحصاری کے حصول کے لئے (دونوں جماعتیں) مشترکہ جدوجہد کریں گی۔ اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان قائداعظم رحمة اللہ علیہ کی دی ہوئی گائیڈ لائنز سے کسی قسم کی روگردانی نہیں کی جائے گی اور کشمیر و فلسطین کے موضوعات پر اخلاقی و قانونی نقطہ نظر سے کسی قسم کا انحراف نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے۔ مسلم ممالک کے ساتھ اتحاد و وحدت کو خصوصی حیثیت حاصل ہوگی۔ ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہوگا۔ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات میں مذاکرات کے ذریعے راہ حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی اور ان تنازعات میں فریق نہیں بنا جائے گا۔ دوست پڑوسی ممالک سے تعلقات کو خصوصی حیثیت حاصل ہوگی۔ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنایا جائے گا۔ وطن عزیز پاکستان میں ظلم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ پسماندہ اور استحصال شدہ طبقے کی بحالی اولین ترجیح ہوگی۔ ہمیں غلامی قبول نہیں۔ پاکستانی سرزمین کسی بھی ملک کو فوجی اڈوں کے لئے نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کے قومی فیصلے اسلام آباد ہی میں ہوں گے۔ آزاد خارجہ پالیسی اور داخلی خودمختاری بنیادی اصولوں ہیں اور اس بیانیے سے کسی طرح بھی روگردانی نہیں کی جائے گی۔“

 ذہن نشین رہے کہ حجة الاسلام شہید علامہ عارف حسین الحسینیؒ (تاریخ شہادت 5 اگست 1988ئ) نے پاکستان میں اِسلامی ریاست کے منشور سے متعلق تصور بصورت دستاویز پیش کیا تھا جس کا عنوان ”سبیلنا (ہمارا راستہ)“ میں ”خارجہ پالیسی“ کے خدوخال بیان کئے گئے کہ ”کسی بھی طاقت کی اقتصادی‘ ثقافتی‘ فوجی اور سیاسی بالادستی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ استعماری اور سامراجی عزائم کی مزاحمت کی جائے گی۔ تمام ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک سے دو طرفہ بنیادوں پر قریبی خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم کئے جائیں گے ماسوائے ان ممالک کے جو نسل پرستانہ‘ صہیونی‘ سامراجی اور توسیع پسندانہ عزائم کے حامل ہوں یا اسلام دشمن اور مسلم کش پالیسی اپنائے ہوں۔ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا اور نہ رو بہ عمل لایا جائے گا‘ جس کے تحت کوئی غیر ملکی طاقت ملک کے قدرتی وسائل پر تسلط یا تصرف حاصل کرسکے۔ کسی سامراجی طاقت کو فوجی مقاصد کے لئے پاکستان کی زمین‘ فضا اور پانی استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ دنیا بھر میں محروموں اور مظلوموں کی آزادی کی تحریکوں بالخصوص اسلامی تحریکوں کی حمایت کی جائے گی اور ان سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ مسلم اکثریت کے وہ علاقے جو اغیار کے زیر تسلط ہیں‘ ان کی آزادی کے لئے تعاون کیا جائے گا۔ القدس اور دیگر مقامات مقدسہ کی حرمت و آزادی کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔ کشمیر کی آزادی اور اس کے پاکستان سے الحاق کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔“

 یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مجلس وحدت مسلمین اُور تحریک انصاف کے درمیان جن نکات پر اتفاق رائے ہوا وہ قیام پاکستان کے بنیادی مقصد و نظریئے اُور پاکستان میں اسلامی اقدار کے کے تحفظ کے لئے تحریر کردہ ”سبیلنا“ نامی دستاویز ہی کی شرح ہے‘ جسے تسلیم کرنے میں تحریک انصاف نے جس وسعت نظری‘ وسعت قلبی اُور وسعت فکری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف (فقیدالمثال) ہے۔

مجلس وحدت المسلمین اقدار کی امین ہے جس نے ”سبیلنا“ سے سیاسی اشتراک عمل اخذ کیا اُور تحریک انصاف کے ساتھ اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ اتفاق رائے (لائحہ عمل) درحقیقت عقیدہۂتوحید اور انبیائے کرام کی بعثت و مقصد کا مجموعہ (نچوڑ) ہے۔ کسی بھی اقدام کی اصل حقیقت زمینی حقائق سے صرف ِنظر کرکے نہیں سمجھی جا سکتی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہوتا ہے تو اِس سے ہمیشہ خیر کے پہلو نکلتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی فہم و ادراک کی سطح اگر اِس حد تک بلند ہو چکی ہے اُور یہ مشترکات پر احسن انداز سے اکٹھا ہو رہے ہیں تو یہی سیاست کا ”حقیقی حسن“ ہے کہ اِس سے اختلافات کی بجائے اتفاق رائے پیدا ہو۔ سیاسی جماعتیں جب اپنی ترجیحات کا تعین کرتی ہیں تو یہ عمل دراصل اُن کے ہوش و خرد کا امتحان ہوتا ہے اُور یہی ’ہوش و خرد‘ تحریک و مجلس کے درمیان ہوئے اتفاق رائے کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ اُمید ہے ایفائے عہد ہوگا۔ اُمید ہے اتفاق رائے نہ صرف قائم و دائم رہے گا بلکہ اِس میں وقت کے ساتھ تقویت بھی آئے گی۔

....

Clipping from Editorial Page of  Daily Aaj Peshawar - June 25, 2022 Saturday



Tuesday, May 10, 2022

CENSORED: Silence Revolution in Pakistan

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

(دس مئی دوہزاربائیس کے لئے لکھا گیا یہ ادارتی مضمون "ناقابل اشاعت" قرار دیا گیا)

خاموش انقلاب (ناقابل اشاعت)

تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان نے ایبٹ آباد میں جلسہ عام (آٹھ مئی دوہزاربائیس) سے 35 منٹ (سہ پہر چار بجکر چونتیس منٹ سے پانچ بجکر نو منٹ تک) خطاب کے دوران ایک نہایت ہی بنیادی سوال اُٹھایا اُور اگر اِس ایک سوال کے تناظر میں صورتحال کو دیکھا‘ سوچا اُور سمجھا جائے تو اِس میں ’تحریک انصاف‘ کا عروج و زوال سمٹا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ کامیابی کی سیڑھی تھی جسے اختیار کر کے تحریک انصاف اقتدار میں آئی اُور اِسی ہتھیار سے ہنستی بستی تحریک ِانصاف حکومت کو شکار بھی کیا گیا۔

دنیا سوشل میڈیا اُور مین سٹریم میڈیا (جملہ ذرائع ابلاغ) کے حصار میں ہے اُور آج کی حقیقت یہ ہے کہ ’میڈیا مینجمنٹ‘ کے ذریعے کسی بھی سیاسی و غیرسیاسی شخصیت اُور جماعت کی کارکردگی کو اُجاگر یا اُس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ تحریک ِانصاف کے خلاف ذرائع ابلاغ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ”مہنگائی کو اُچھالا گیا“ اُور اِس مہنگائی کے لئے تحریک انصاف کو کچھ اِس منظم انداز سے ”تن تنہا ذمہ دار“ ٹھہرایا گیا کہ جیسے 1: مہنگائی عالمی نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے اُور اِس کا ماسوائے تحریک انصاف کوئی دوسرا محرک نہیں اُور 2: پہلی مرتبہ وفاقی حکومت میں آنے اُور انتظامی امور کی ناتجربہ کاری کے باعث ’تحریک انصاف‘ مہنگائی کے لئے تن تنہا ذمہ دار ہے اُور اِس بیانیئے نے اِس قدر مقبولیت حاصل کی کہ خود ’تحریک انصاف‘ کے کارکن بھی یقین کرنے لگے کہ اگر ’مہنگائی‘ بے قابو نہ ہونے دی جاتی تو تحریک سے زیادہ حکمرانی کا حقدار اُور متبادل کوئی دوسری سیاسی جماعت نہیں۔ یہی وہ مغالطہ (غلط فہمی) ہے جس میں مہنگائی کو پاکستان کے اندر اُٹھتے اُور پاکستان کے عوام کو اِس سے متاثر ہوتے دیکھا اُور دکھایا گیا جبکہ کورونا وبا سے معاشی‘ کاروباری و تجارتی سرگرمیوں میں کمی‘ تجارتی خسارہ‘ حکومت کی آمدنی کم اُور زیادہ اخراجات کے باعث (بجٹ خسارہ) جبکہ روس یوکرائن جنگ کی وجہ سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے اُور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا اُور قابل ذکر تھا کہ تحریک انصاف اُن سماجی رفاہی اقدامات کا ذکر کرتی‘ جس کی وجہ سے کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی کئی صورتوں سے مدد کی گئی اُور اِس میں نہ صرف علاج معالجے کی مفت سہولیات شامل تھیں بلکہ رعایتی نرخوں پر خوردنی اشیا کی فراہمی اُور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لئے غریب طبقات کو دی جانے والی نقد امداد بھی شامل تھی اُور یہ سارا کام تین سال جیسے مختصر عرصے میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن ہوا جو ’کورونا وبا‘ سے نمٹنے کی ”قابل ذکر“ قومی حکمت ِعملی کے علاؤہ ہے جس میں گھر گھر جا کر مفت ویکسینشن تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عمومی وسائل سے خصوصی استفادہ کرتے ہوئے ’کوووڈ ویکسی نیشن‘ کے لئے ’آن لائن ممکنات‘ کا بھرپور اِستعمال کیا گیا‘ جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ تحریک ِانصاف سے قبل حکومت کی جانب سے مستحق طبقات کے لئے ہر سال اربوں روپے غیرمستحق افراد میں تقسیم کئے جا رہے تھے کیونکہ کسی پاکستانی کی مالی حیثیت سے متعلق کوائف (ڈیٹا) کا خاطرخواہ استعمال نہیں کیا جا رہا تھا بالخصوص نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اُور پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے پاس الگ الگ صورتوں میں محفوظ تھا۔

 تحریک انصاف نے نہ صرف ہر پاکستانی کے بارے میں اِن کوائف کو ایک جگہ جمع (مربوط) کیا بلکہ ’گھر گھر سروے‘ کے ذریعے مستحق طبقات کی درست نشاندہی کرتے ہوئے اُن کی درجہ بندی اُور اِس درجہ بندی کو مستقل (حتمی) نہیں رکھا بلکہ وقتاً فوقتاً تبدیلیوں پر خودکار ٹیکنالوجی (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے مستقل نظر رکھی گئی اُور یوں نہ صرف حکومت کو اربوں روپے کی بچت ہوئی بلکہ مستحق افراد کی درست نشاندہی بھی ممکن ہوئی اُور بالخصوص وہ افراد و طبقات بھی گنتی میں شمار ہوئے جن کا سیاسی اثرورسوخ نہیں تھا اُور جو کسی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی اُور سینیٹر کے حلقہ انتخاب و تعلق سے جڑے ہوئے نہیں تھے لیکن صحت بیمہ سے اُن خاندانوں کو بھی مفت طبی سہولیات فراہم کی گئیں‘ جو اِس کے مستحق نہیں تھے اُور یوں ایک طرف جو سینکڑوں ارب روپے غیرمستحق افراد بشمول سرکاری ملازمین کے کھاتوں میں منتقل ہونے سے بچائے گئے تو دوسری طرف ’صحت بیمہ‘ کی صورت آمدنی کے لحاظ سے مستحکم مالی حیثیت رکھنے والے خاندانوں میں تقسیم کر دیئے گئے جن کی نشاندہی ذرائع ابلاغ کرتے کرتے تھک گئے لیکن تحریک انصاف کے مرکزی اُور صوبائی فیصلہ سازوں نے سُنی اَن سُنی کر دی۔ مجموعی طور پر تحریک انصاف کی کوشش تھی کہ ہر کس و ناکس (مستحق اُور غیرمستحق) فرد کو ’مہنگائی کی تپش‘ سے بچائے رکھا جائے لیکن اِس نیک نیتی پر مبنی کوشش کا آج بھی دور دور تک تذکرہ اُور حوالہ نہیں اُور کہا جا رہا ہے کہ عمران خان ’پے در پے‘ جلسوں میں حکومت پر تنقید تو کر رہے ہیں لیکن اپنی حکومتی کارکردگی کا ذکر نہیں کر رہے!

تحریک انصاف کی کارکردگی کا ایک رخ کثیرالمعیادی حکمت عملیوں پر مبنی ہے اُور اِن میں صرف ایک پہلو کا ذکر کیا جا رہا ہے‘ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے کس طرح ایک ایسے نئے پاکستان کی تشکیل کے لئے بنیاد رکھی گئی جو ’خودکفالت اُور خودانحصاری‘ کی جانب پیشقدمی ہے۔

سال 2013ء کے عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع ملا اُور سال 2014ء میں ”10 ارب درخت (ٹین بلین ٹری سونامی)“ نامی شجرکاری مہم (حکمت عملی) کا اعلان کیا جو پاکستان میں ”خاموش انقلاب“ قرار دیا جا سکتا ہے اُور اِس سے سینکڑوں ہزاروں ایکڑ پر زیتون کی کاشت عمل میں آئی جو پہلے تجرباتی بنیادوں پر چاردیواریوں کے اندر ہوتی تھی اُور ایک موقع پر جب خیبرپختونخوا ’زیتون کی کاشتکاری‘ کے ثمرات سے مستفید ہونے ہی والا تھا کہ 8 اپریل 2010ء کے روز اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کی گئی جس سے زرعی شعبہ مرکز سے صوبوں کو منتقل کر دیا گیا اُور زیتون کی کاشت کے تجربات جہاں تھے وہیں رک گئے۔ حکومت کو دی گئی اراضی اُور حکومتی اراضی بمعہ زیتون کے درخت بااثر افراد نے لوٹ لی اُور زیتون کی کاشت و تیل کشید کرنے والے سبھی تجربہ کار سرکاری ملازمین کو غیرمتعلقہ محکموں میں کھپا کر ضائع کر دیا گیا۔

تحریک انصاف نے زیتون کی کاشت کاری پر توجہ دی اُور دنیا میں زیتون کی پیداوار کرنیو الے ممالک کی تنظیم (انٹرنیشنل اولیو کونسل) کا 19واں رکن بن چکا ہے اُور پاکستان زیتون تیل کی سالانہ 1500 ٹن (ڈیڑھ لاکھ کلوگرام) پیداوار کر رہا ہے علاؤہ ازیں تحریک انصاف کی شجرکاری پر توجہ سے کاشتکار موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنے۔ زمین کی زرخیزی اُور زمین کا کٹاؤ روکا گیا۔ کیا یہ کارکردگی نہیں کہ پاکستان سالانہ 2.1 ارب ڈالر مالیت کا ’خوردنی تیل (کوکنگ آئل)‘ درآمد کرتا ہے اُور یہ کوکنگ آئل درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے پاکستان سے زیادہ بھارت (5.1 ارب ڈالر) اُور چین (4.1 ارب ڈالر) مالیت کا تیل درآمد کرتا ہے اور جب پاکستان میں تیلدار اجناس کی پیداوار بڑھے گی تو اِس سے خوردنی تیل کی درآمد میں ہر سال کمی آتی رہے اُور زیتون کا تیل جو نسبتاً مہنگا اُور اِس کا استعمال صحت کے لئے مفید ہوتا ہے اگر مقامی پیداوار کے طور پر سستے داموں پاکستان کو میسر آئے گا تو اِس سے قومی صحت کا معیار بھی بلند ہوگا۔ کیا مستقبل کی فکرمندی اُور زرعی خودکفالت و غذائی خودانحصاری سے زیادہ بہتر کوئی دوسری کارکردگی ہو سکتی ہے؟

……

Saturday, December 25, 2021

The Damage by Damage Control Measures

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے!

اُنیس دسمبر دوہزار اکیس: خیبرپختونخوا کے 17اضلاع کی 63 تحصیلوں میں مقامی حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں انتخابات کے پہلے مرحلے میں 47 تحصیلوں کے سرکاری نتائج کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) نے سترہ جبکہ تحریک انصاف نے بارہ تحصیلوں میں ’چیئرمین شپ‘ کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک کے لئے شکست کا صدمہ ’تحصیل پشاور‘ میں ناکامی کی وجہ سے زیادہ محسوس ہو رہا ہے جہاں حاجی زبیر علی (جے یو آئی ف) کو باسٹھ ہزار تین سو اٹھاسی جبکہ رضوان بنگش (تحریک انصاف) کو پچاس ہزار چھ سو اُنسٹھ ووٹ ملے اگرچہ 6 پولنگ مراکز پر تشدد کاروائیوں (نقص امن) کے باعث الیکشن کمیشن نے انتخابی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن گیارہ ہزار سے زائد ووٹوں کی فیصلہ برتری سے جمعیت کی انتخابی کامیابی شک و شبے سے بالاتر یقینی ہے۔ پشاور کی باقی ماندہ چھ تحصیل چیئرمین کی نشستوں میں سے جے یو آئی (ف) نے چار نشستیں جبکہ پی ٹی آئی اور اے این پی نے ایک‘ ایک نشست جیتیں جبکہ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والوں نے سات تحصیلوں کی چیئرمین شپ حاصل کی۔ مجموعی طور پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے تحصیل کونسل چیئرمین کی چھ‘ مسلم لیگ (ن) نے تین‘ جماعت اسلامی‘ پیپلز پارٹی اور تحریک اصلاحات پاکستان نے ایک‘ ایک نشست جیتی۔

بیس دسمبر دوہزاراکیس: وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں امیدواروں کے غلط انتخاب کو تحریک انصاف کی خراب کارکردگی کی ”بنیادی وجہ“ قرار دیا اُور کہا کہ پہلے مرحلے میں غلطیاں کیں اور اس کی قیمت ادا کی۔ دوسرے مرحلے اور ملک بھر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے حکمت عملی کی نگرانی خود کروں گا۔ 

چوبیس دسمبر دوہزار اکیس: وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں اہلیت کے برعکس خاندانوں میں ٹکٹ دیئے جانے کی شکایات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کی ملک بھر میں تنظیموں تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات کے بقول ”اگر تحریک انصاف کی سیاست متاثر ہوتی ہے تو دراصل یہ پاکستان کی سیاست متاثر ہونے کے مترادف ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اُور کہا کہ پی ٹی آئی خاندانی سیاست والی جماعت نہیں۔

اُمید یہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی بھٹی سے گزرنے کے بعد ’تحریک انصاف‘ زیادہ چمک دمک اُور کارکنوں کے حمایت کے سبب زیادہ پروقار و پراعتماد انداز سے دوسرے انتخابی مرحلے میں اُن سیاسی مخالفین کا سامنا کرے گی جن میں بہت کم نظریاتی ہیں اُور یہی بات تحریک انصاف کو عصری جماعتوں سے ممتاز بناتی ہے کہ شروع دن سے کا نعرہ ’موروثیت اُور مفادات‘ سے پاک سیاست کا رہا ہے تاہم اِس خواب کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ جماعت کی قیادت سے بار بار ’عالمانہ غلطیاں‘ سرزد ہو رہی ہیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تحریک اپنی غلطیوں کو تسلیم کر رہی ہے اُور مرکزی قیادت کا کھلے دل سے حقیقت و شکست کو تسلیم کرنا بھی اِس اَمر کی عکاسی کرتا ہے کہ تحریک واحد ایسی جماعت ہے جس میں 1: ’خوداحتسابی‘ عملاً زندہ ہے اُور 2: تحریک خاندانی (موروثی) سیاست کو اپنے نظریئے کی موت سمجھتی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے نتائج کی تہہ میں دیکھا جائے تو بال کی کھال اُتارنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1: تنظیمیں تحلیل کرنا مرض کا علاج نہیں ہے کیونکہ پارٹی ٹکٹ تنظیموں کی سفارشات پر نہیں دیئے گئے تھے۔ 2: تنظیمیں تحلیل کرنے کا یہ وقت انتہائی نامناسب ہے کیونکہ تحریک انصاف کی تاریخ رہی ہے کہ جب کبھی بھی اِس کے جماعتی انتخابات ہوئے اُس سے کئی دھڑوں نے جنم لیا اُور وہ سبھی کردار جو پہلے ہی پارٹی کی فیصلہ سازی کو ہائی جیک کر چکے ہیں اگر دوبارہ تنظیم سازی بھی کی گئی تو اُنہی کے ہم خیال منتخب ہو جائیں گے۔ 3: توانائی‘ وقت اُور دیگر وسائل تنظیم سازی کی نذر کرنے کی بجائے اگر تحریک ِانصاف ”آن لائن رکن سازی مہم“ کا آغاز کرے تو اِس کے زیادہ مفید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ 4: وزیراعظم سٹیزن پورٹل کی طرز پر ’کارکن پورٹل‘ کا آغاز کیا جائے جس کے ذریعے پارٹی کے کارکن کسی انتخابی حلقے یا اپنے حلقوں سے منتخب ہوئے یا متعلقہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اُور سینیٹرز کی کارکردگی کے بارے خیالات و شکایات کا اندراج کر سکیں۔ شاید بنی گالہ کے سامنے منتخب اراکین اسمبلی کی کارکردگی کا یہ پہلو پیش نہیں کیا گیا کہ تحریک کی نامزدگی حاصل کر کے اُور غیرمقامی ہونے کے باوجود جو اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹ تک پہنچے ہیں‘ وہ اپنے متعلقہ حلقوں کو خاطرخواہ اہمیت اُور توجہ نہیں دے رہے۔ اِس سلسلے میں پشاور شہر کے چودہ صوبائی اُور پانچ قومی اسمبلی کے حلقوں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جس میں تحریک انصاف کو بالترتیب گیارہ اُور پانچ کا بلند ترین تناسب حاصل ہے لیکن اِس کے باوجود بھی اراکین اسمبلی بالخصوص وفاقی و صوبائی کابینہ کے اراکین اُور کارکنوں کے درمیان روابط مستحکم و مربوط نہیں ہیں۔ خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ میں تحریک ِانصاف کا جواب تلاش کرنے والوں کو اگر کوئی جواب مل سکتا ہے تو وہ بھی تحریک ِانصاف ہی ہوگا لیکن اِس سیاسی متبادل کو نظریاتی متبادل بنانے کے لئے اُن سبھی کمزور پہلوو¿ں پر غور کرنا ہوگا جو حالیہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں شکست کا باعث بنے۔

جمہوریت کی بنیاد انتخابات اُور انتخابات کا مقصد حزب اختلاف اُور حزب اقتدار کی صورت ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا نظام قائم کرنا ہوتا ہے۔ اگر تحصیل پشاور سمیت خیبرپختونخوا کی اکثر تحصیلوں پر ’حزب اختلاف‘ کی جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں تو یہ نتیجہ اِس لحاظ سے باعث ِخیروبرکت ہے کہ مقامی حکومتوں کو مالی وسائل کی فراہمی اُور اِن کی کارکردگی پر صوبائی حکومت کڑی نظر رکھے گی اُور کسی بے قاعدگی کو جماعتی مصلحت کی وجہ سے درگزر نہیں کیا جائے گا۔ اِسی طرح حزب اختلاف پر مبنی مقامی حکومت (بلدیاتی نظام) بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دانستہ غلطیوں (تجاہل عارفانہ) سے ہر ممکنہ حد تک گریز کرے گی تاکہ حزب اقتدار کے ہاتھ اُس کی کوئی کمزوری نہ لگے۔ جمہوریت کا دوسرا نام ایک ایسا نظام ہے جس میں عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں اُور اگر آسانیاں ہی مطلوب و مقصود ہیں تو پھر اِس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کون جیتا اُور کون ہارا البتہ انتخابی کارکردگی کو متاثر کرنے والے صرف عوامل ہی نہیں بلکہ اُن عناصر (نادان و مفادپرست ساتھیوں) کی نشاندہی اُور احتساب بھی ضروری ہے‘ جنہوں نے تحریک پر پشت سے وار کیا ہے۔ ”نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے .... میں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوں (اِحسان دانش)۔“

....


Wednesday, September 15, 2021

CEO for WSSCA - Abbottabad

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

روزنامہ آج پشاور / ایبٹ آباد

ایبٹ آباد: مسائل سے مسائل تک

خیبرپختونخوا کے صوبائی فیصلہ سازوں پر مشتمل کابینہ اجلاس (تیرہ ستمبر دوہزاراکیس) میں دیگر امور کے علاؤہ ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز ایبٹ آباد (WSSCA)“ کے لئے نئے سربراہ (چیف ایگزیکٹو) کی منظوری دی گئی ہے‘ جس کا ایبٹ آباد کے رہائشی ایک عرصے سے منتظر (چشم براہ) تھے اُور اُنہیں توقع تھی کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب اُور کوڑا کرکٹ اکٹھا اُور اِسے تلف کرنے (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) جیسے 3 بنیادی کاموں کے لئے قائم ہونے والے اِس ادارے کے اخراجات اُور کارکردگی کا ”سخت گیر احتساب“ کرتے ہوئے ایک ایسا سربراہ مقرر کیا جائے گا‘ جسے ایبٹ آباد کے جغرافیئے اُور یہاں کے مسائل و پھیلتی ہوئی آبادی سے متعلق کتابی نہیں بلکہ زمینی حقائق سے متعلق علم ہوگا۔ جس کے علم و دانش کی بنیاد اُس کی اپنی ذات پر ہونے والی واردات کا نتیجہ ہوگی اُور جس کے لئے ’ایبٹ آباد‘ پُرکشش و مراعات یافتہ ملازمت کا ذریعہ نہیں بلکہ اُس کے ذات کا حصہ ہوگا۔ ذہن نشین رہے کہ کسی بھی مرحلے مقامی فیصلہ کا حتمی اختیار جب مقامی افراد کو سونپا جاتا ہے تو اِس سے ’سنی سنائی باتوں‘ کی بنیاد پر ترقیاتی ترجیحات کا تعین نہیں ہوتا بلکہ شہری مسائل (عارضوں) کا حل (علاج) بنیاد سے ہوتا ہے اُور یوں اخذ ہونے والی ترقیاتی سوچ اُور عمل پائیدار نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز ایبٹ آباد کے لئے نومنتخب انتظامی سربراہ (چیف ایگزیکٹو آفیسر) کا تعلق آبائی طور پر ملتان (صوبہ پنجاب) سے ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ایبٹ آباد (سطح سمندر سے بلندی 1256 میٹر) اُور ملتان (سطح سمندر سے بلندی 122 میٹر) کی آب و ہوا میں زمین آسمان جیسا فرق ہے اُور اِن دونوں شہروں کا تعلق صرف 2 الگ الگ صوبوں (مخالف سمت شہروں) ہی سے نہیں کہ ملتان پنجاب کے انتہائی جنوب جبکہ ایبٹ آباد خیبرپختونخوا کے مشرق میں واقع ہے بلکہ اِن کا زمینی فاصلہ بھی ساڑھے چھ سو کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ غیرمقامی افراد کو اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز کرنے کا ایک بہت بڑا تجربہ اُور اُس کا بہت ہی بُرا نتیجہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں کی رونقیں دفاتر کی تعطیلات کی صورت معدوم ہو جاتی ہیں کیونکہ سبھی غیرمقامی افراد سرکاری تعطیلات سے ایک دو دن پہلے ہی اپنے اپنے آبائی علاقوں کو چلے جاتے ہیں اُور یوں شہری سہولیات اُور خدمات کی فراہمی کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لئے صوبائی سطح پر قاعدہ موجود ہے کہ کسی ضلع میں اُس کے مقامی افراد ہی کو بھرتی کیا جائے لیکن اِس پر بہت کم عمل درآمد دیکھنے میں آتا ہے اُور طرزحکمرانی کی اِس بہت بڑی خامی کو دور کرنے کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔ 

ایبٹ آباد کے باسیوں کے لئے نوید ہے کہ واٹراینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز کی سربراہی کے لئے موزوں شخص کا انتخاب کر لیا گیا ہے جو اِس سے قبل بطور ’چیف فنانشیل آفیسر‘ 3 سال 7 ماہ ادارے کی آمدن و اخراجات (اکا ؤنٹس) کا حساب کتاب رکھتے تھے اُور اِس سے قبل سعودی عرب میں پانچ سال سے زیادہ جبکہ مقامی صنعت میں 9 سال سے زائد عرصہ اکاؤنٹس (فنانس) ہی کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں یعنی اُن کا تمام تر تعلیمی عرصہ‘ مہارت اُور تجربہ مالیاتی امور سے رہا ہے۔ سال 2000ءمیں بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے ’بی کام (کامرس)‘ مکمل کرنے کے بعد اُنہوں نے 2011ءمیں ’چارٹرڈ فنانشیل اینالسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ سے اُور قبل ازیں انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹس آف پاکستان سے ’اے سی ایم اے‘ کی اسناد حاصل کر رکھی ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ایبٹ آباد کا نام ”واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز“ نامی ادارے کا حصہ ہے لیکن یہ صرف گنتی کی چند یونین کونسلوں میں خدمات سرانجام دیتی ہے۔ اصولاً تو اُنہی چار ساڑھے چار یونین کونسلوں کے نام سے اِس کا تعارف ہونا چاہئے جیسا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر چار یونین کونسلوں (ملک پورہ‘ کہیال‘ اربن سٹی اُور نواں شہر) میں چالیس مقامات پر ’ڈبلیو ایس ایس سی اے‘ نے مقامات مقرر کئے تھے اُور وہیں جمع ہونے والی قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اُور گندگی اُٹھائی گئیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ایبٹ آباد کی آبادی اُور اِس آبادی کی ضروریات سے متعلق موجود ’اعدادوشمار‘ درست نہیں اُور ظاہر ہے کہ جہاں بنیادی پیمانہ ہی درست نہیں وہاں ناپ تول کیسے ممکن ہوگی۔ سال 2017ءمیں (پندرہ مارچ سے پچیس مئی) ہوئی ملک کی چھٹی مردم و خانہ شماری اُنیس سال کے وقفے سے ہوئی جسے 22 دسمبر 2020ءکے روز وفاقی حکومت نے منظور کر لیا تاہم اِس کے نتائج متنازعہ رہے اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ عام انتخابات سے قبل مردم شماری کروانے اُور اِس مردم شماری کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کی ازسرنو تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ مردم شماری اُور خانہ شماری کے نتائج ممکنہ حد تک درست ہونے کی ضرورت بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اِنتہائی اَہم ہوتی ہے اُور جس کی عدم موجودگی میں سماعتوں کو خوشگوار لگنے والی حکمت ِعملی کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔

پشاور میں بیٹھے (170کلومیٹردور) فیصلہ سازوں (صوبائی کابینہ) نے ایبٹ آباد میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ صفائی اُور کوڑا کرکٹ تلف کرنے کے لئے جس ادارے کے لئے نئے سربراہ کی منظوری دی ہے سب سے پہلی ضرورت تو اُس ادارے کو کم سے کم ایبٹ آباد کے شہری علاقوں کی ہی یونین کونسلوں تک پھیلایا جائے۔ ایبٹ آباد کی کل 51 یونین کونسلوں تین تحصیلوں میں تقسیم ہیں اُور اُن میں شہری علاقے کی صرف چار یونین کونسلوں میں رہنے والوں کو کسی نہ کسی صورت (ناکافی مقدار و بنیادی معیار کے مطابق) شہری سہولیات میسر ہیں تو یہ ایک ایسے شہر سے قطعاً انصاف نہیں جو نہ صرف ’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا گیٹ وے ہے بلکہ اِسے تعلیمی اداروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے اُور ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام ہونے کے ساتھ یہی بالائی علاقوں بشمول شمالی علاقہ جات اُور چین تک جانے والے سیاحوں کا پہلا پڑاؤ بھی ہے۔ ایبٹ آباد کو انصاف چاہئے اُور ایبٹ آباد سے انصاف کی توقع ہے۔ ”کرم کی توقع تو کیا تم سے ہوگی .... ستم بھی کرو گے تو احسان ہوگا۔(نامعلوم)“

....

Clipping

Editorial Page of Daily Aaj dated 15 Sep 2021

Published version from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 15 Sep 2021 Wed