ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سچ کی حقیقت و تقاضے
سچ کی حقیقت و تقاضے
آج کی صحافت (جرنلزم) ذرائع ابلاغ کے تبدیل ہوتے ہوئے منظرنامے میں کیا
مقام رکھتی ہے جبکہ سماجی رابطہ کاری کے تیز رفتار وسائل ایک سے بڑھ کر ایک
سہولت متعارف کرا رہے ہیں۔ اِشاعتی اِداروں کی مجبوریاں‘ اِشتہارات سے
مشروط مالی وسائل‘ جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے مرتب ہونے والی اِدارتی پالیسیاں
اُور احتسابی حکومتی دباؤ یا وسیع البنیاد قومی مفاد جیسی اِصطلاحات کے
زیراثر مرتب ہونے والے تبصرے‘ جائزے اور تجزئیات زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوں
کیونکہ بلاگز (blogs)‘ ٹوئٹر (twitter)‘ فیس بک (facebook) پوسٹنگز‘ ویڈیو
بلاگنگ (video blogging) یا اربوں کی تعداد میں ویب سائٹس کی تعداد‘ اہمیت
اُور مانگ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے! کیا ہمارے اشاعتی ونشریاتی
ادارے پاکستان میں اُبھرتے ہوئے غیرروائتی صحافت (civic journalism) اُور
تحریر کے منفرد اسلوب پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہی تقاضوں کے مطابق خود
کو ڈھال رہے ہیں؟ تحریر و اظہار کے بدلتے ہوئے تیکنیکی وسائل سے ہمارے ہاں
ذرائع ابلاغ کس قدر‘ کتنا اور کس حد تک استفادہ کر رہے ہیں جبکہ ’شراکتی
صحافت (participatory journalism)‘ متعارف ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں اور
جدید صحافت میں قارئین کی رائے ہی کے زیراثر ادارتی فیصلہ ساز حکمت عملیاں
مرتب کرتے ہیں۔ صحافت کے بدلتے اسلوب‘ تقاضوں اور ذمہ داریوں کے حوالے سے
کیا ہمارے ہاں بحث و مباحثے‘ غوروخوض یا تحریر و تحقیق ہو رہی ہے؟ کیا ہم
اپنے گردوپیش کو سمجھ کر اُس انقلاب کے شریک سفر ہے‘ جو دستک دیئے بغیر
چھوٹے بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہا ہے؟
’’ڈرتا ہوں میرے سر پہ ستارے نہ آ گریں۔۔۔چلتا ہوں آسماں کی طرف دیکھتا
ہوا۔‘‘
پاکستان کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ پر بڑے شہروں کی سوچ کا راج لائق توجہ ہے‘ جہاں پڑھنے لکھنے کا رواج بطور نصابی تعلیم نہیں بلکہ طرز زندگی رائج ہے۔ علمی ادبی گھرانوں میں سوچ کی پرورش اور تہذیب و تمدن سے تربیت پانے والے مفکر‘ دانشور ذرائع ابلاغ کی سمت متعین کرنے والے سرمایہ کاروں کے دست راست بن کر صحافت کو بطور جنس اُس دائرے تک محدود رکھنے میں اب تک کامیاب رہے ہیں‘ جس میں ہر خبر اور ہر تحریر ایک خاص بلکہ بہت ہی خاص مقصد کے لئے تحریر کی جاتی ہے۔ بعدازاں ملک کے دیگر حصوں میں بھی صحافیوں نے اپنی اپنی حیثیت میں اُس ’مہارت‘ کا فائدہ اُٹھانا شروع کر دیا جس سے لفظ‘ قلم اور سوچ کی انفرادی و اجتماعی حیثیتوں میں ایک قیمت (پرائس ٹیگ) لگا کر شناخت کی جاسکتی ہے‘ گویا ہر خوبی کی ایک قیمت اور ہر قیمت کے ساتھ ایک ایسی کارکردگی پیوست ہوتی چلی گئی‘ جس کی تان صرف اور صرف ’مالی فائدے‘ پر جا کر ٹوٹنے لگی لیکن حالات کار اُور اوقات کار بہتر سے بہتر ہونے کے باوجود اگر اشاعتی و نشریاتی (پرنٹ و الیکٹرانک) صحافت کا معیار برقرار نہیں رکھا تو اِس کی ایک اُور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ صحافت کے فیصلہ سازوں نے روایت اور عصری تقاضوں کو زیادہ اہمیت یا خاطرخواہ توجہ نہیں دی اور ایک ایسی اصلاحاتی ضرورت کو درخوراعتناء نہیں سمجھا‘ جو رواں صدی میں صحافت کے اسلوب و بیان کو اِس تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ تحقیق و تبدیلی کا خیرمقدم تحمل اور سوچ سے کرنے والوں کو احساس (پیشمانی) بھی نہیں کہ کس طرح پاکستان کے افق پر ایک ایسے ارتقائی ’نئے میڈیا‘ کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے‘ جس نے علاقائی ابلاغ کے ذرائع کا مستقبل سب سے زیادہ داؤ پر لگا دیا ہے اور اِسے مثبت پیشرفت قرار نہیں دیا جاسکتا کہ ’کارپوریٹ جرنلزم‘ اپنی سوچ اور فکر اِس انتہاء پر لیجا کر مسلط کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے‘ جس سے علاقائی صحافت کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔ اگر صحافت معاشرے کو یکجا رکھنے اور فیصلہ سازوں کی رہنمائی کا ایک ذریعہ ہے تو ایسے جملہ خطرات سے نمٹنے کے لئے ادارتی سطح پر اُس ’غیرروائتی اسلوب‘ کو (لامحالہ) اِختیار کرنا ہوگا‘ جو تیزی سے سرایت کر رہا ہے جبکہ فیصلہ سازی کے منصب پر اُس رائے کو یکساں اہمیت دینا ہوگی‘ جو اُٹھتے‘ بیٹھتے‘ چلتے پھرتے‘ ایک نئے ادب‘ ایک نئے فن‘ ایک نئے اسلوب اور اظہار کے ایک نئے پیرائے کی صورت واضح ہو رہی ہے۔
ہمیں کنویں سے باہر کی دنیا کو دیکھنا ہوگا بالخصوص مغربی ممالک کہ جہاں ذرائع ابلاغ اپنی اشاعتوں یا نشریات کے روائتی اسلوب تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ وہ انٹرنیٹ کے لئے لمحہ بہ لمحہ خبریں‘ تبصرے‘ جائزے حتیٰ کہ کسی خبر اُور سے متعلقہ دیگر تمام معلومات کو یکجا کر کے ’آن لائن‘ پیش کر رہے ہیں۔ یہ صحافت کا وہ بدلتا ہوا چہرہ (طرزعمل) ہے‘ جس نے خبروں میں کسی بھی وجہ سے دلچسپی رکھنے یہ نہ رکھنے والے قارئین و ناظرین کی ایک بڑی تعداد کی ضروریات سمجھ لیا ہے۔ مغرب میں کسی اِشاعتی یا نشریاتی ادارے کے لئے اب یہ بات ممکن ہی نہیں رہی کہ وہ اپنی ’من مانی‘ کرے بلکہ اُسے عمومی رجحانات کے مطابق اپنی ادارتی پالیسی اور مندرجات کو پیش کرنا ہوتا ہے‘ جو صحافتی دنیا میں در آئے انقلاب سے کم نہیں۔ یہاں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ ہمارے ہاں اخبارات اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کی سب سے بڑی (ہیڈلائن) خبر ہمیشہ سیاست یا کسی غیرمعمولی قدرتی آفت یا حادثے کے بارے میں ہوتی ہے جبکہ ’آن لائن‘ خبروں کا مطالعہ یا اِن سے استفادہ کرنے والوں کی ترجیحات و رجحان اِس سے مختلف پایا گیا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کھیل‘ جرائم‘ تفریح (شوبز) اُور موسم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے متمنی رہتے ہیں اور یہی وہ ’فاصلہ (Gap)‘ یا ضرورت ہے‘ جس کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کے ذرائع ابلاغ بالخصوص نئے آنے والے اداروں کو اپنی ترجیحات متعین کرنا ہوں گی۔
شمالی و جنوبی امریکہ اور یورپ کے ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس پر نشر ہونے والی پچاس ہزار خبروں کا مطالعہ کرنے والے دو تحقیق کاروں بیچکوسکی (Boczkowski) اور میچلسٹائن (Mitchelstein) نے یہ نتیجہ دیا تھا کہ ’’نظریاتی رجحانات اور کسی خطے کی قومی ترجیحات اپنی جگہ لیکن ذرائع ابلاغ کے اِداروں کی سوچ اور قارئین کے مطالعے کے ذوق‘ شوق اُور پسند کے درمیان واضح فرق (Gap) پایا جاتا ہے‘ جسے کم کرنے کے لئے چونکہ ذرائع ابلاغ کو زیادہ محنت درکار ہوگی‘ اِس لئے اِس بظاہر مشکل ذمہ داری کا بیڑا اُٹھانے کے لئے وہ تیار نہیں لیکن صحافت کے شعبے میں نئے آنے والے اِدارے یہ کلیدی و ضروری کام کرتے ہوئے اُس کمی کو پورا کرسکتے ہیں‘ جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ اپنا اثرورسوخ کم کرتا جا رہا ہے۔ جدید دور کے تقاضے علوم و فنون کے وہ پہلو ہیں‘ جن کا تعلق ٹیکنالوجی سے بنتا ہے۔ مواصلاتی رابطے‘ سیاست‘ اقتصادیات‘ سماج‘ معاشرت‘ اقدار‘ ثقافت اور ٹیکنالوجی کیا ہم اِنہیں ایک دوسرے سے الگ کرکے سمجھ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو انہیں اُسی تناظر میں پیش کرنا ہوگا‘ جس میں یہ تبدیل ہو رہے ہیں‘ اِن کے اسلوب بدل رہے ہیں اور اِن سے متعلق مزید جاننے کی لگن زیرتعلیم نوجوان سے لیکر ارباب اختیار تک پائی جاتی ہے۔
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان گرے ایکرمین (Gary Ackerman) کے بقول ’’ذرائع ابلاغ تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب ہم افراد نہیں بلکہ ایسے اداروں کو اشاعت و نشریات کی اجازت دیتے ہیں‘ جو دانشورانہ خیالات رکھتے ہیں۔ دوسری طرف عام لوگ ہیں جنہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ خبر اور تفریح میں کیا فرق رہ گیا ہے اور وہ اِس میں امتیاز کیسے کریں۔ ٹیلی ویژن پر آ کر خود کو صحافی کے طور پر متعارف کرانے والوں کو صحافت سے جڑے تقاضوں کا علم نہیں۔ وہ کسی کھیل تماشے کی طرح بظاہر نظر آنے والے واقعات کا ایک رخ زور دے دے کر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے سارا سچ بس یہی ہو!‘‘
پاکستان کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ پر بڑے شہروں کی سوچ کا راج لائق توجہ ہے‘ جہاں پڑھنے لکھنے کا رواج بطور نصابی تعلیم نہیں بلکہ طرز زندگی رائج ہے۔ علمی ادبی گھرانوں میں سوچ کی پرورش اور تہذیب و تمدن سے تربیت پانے والے مفکر‘ دانشور ذرائع ابلاغ کی سمت متعین کرنے والے سرمایہ کاروں کے دست راست بن کر صحافت کو بطور جنس اُس دائرے تک محدود رکھنے میں اب تک کامیاب رہے ہیں‘ جس میں ہر خبر اور ہر تحریر ایک خاص بلکہ بہت ہی خاص مقصد کے لئے تحریر کی جاتی ہے۔ بعدازاں ملک کے دیگر حصوں میں بھی صحافیوں نے اپنی اپنی حیثیت میں اُس ’مہارت‘ کا فائدہ اُٹھانا شروع کر دیا جس سے لفظ‘ قلم اور سوچ کی انفرادی و اجتماعی حیثیتوں میں ایک قیمت (پرائس ٹیگ) لگا کر شناخت کی جاسکتی ہے‘ گویا ہر خوبی کی ایک قیمت اور ہر قیمت کے ساتھ ایک ایسی کارکردگی پیوست ہوتی چلی گئی‘ جس کی تان صرف اور صرف ’مالی فائدے‘ پر جا کر ٹوٹنے لگی لیکن حالات کار اُور اوقات کار بہتر سے بہتر ہونے کے باوجود اگر اشاعتی و نشریاتی (پرنٹ و الیکٹرانک) صحافت کا معیار برقرار نہیں رکھا تو اِس کی ایک اُور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ صحافت کے فیصلہ سازوں نے روایت اور عصری تقاضوں کو زیادہ اہمیت یا خاطرخواہ توجہ نہیں دی اور ایک ایسی اصلاحاتی ضرورت کو درخوراعتناء نہیں سمجھا‘ جو رواں صدی میں صحافت کے اسلوب و بیان کو اِس تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ تحقیق و تبدیلی کا خیرمقدم تحمل اور سوچ سے کرنے والوں کو احساس (پیشمانی) بھی نہیں کہ کس طرح پاکستان کے افق پر ایک ایسے ارتقائی ’نئے میڈیا‘ کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے‘ جس نے علاقائی ابلاغ کے ذرائع کا مستقبل سب سے زیادہ داؤ پر لگا دیا ہے اور اِسے مثبت پیشرفت قرار نہیں دیا جاسکتا کہ ’کارپوریٹ جرنلزم‘ اپنی سوچ اور فکر اِس انتہاء پر لیجا کر مسلط کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے‘ جس سے علاقائی صحافت کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔ اگر صحافت معاشرے کو یکجا رکھنے اور فیصلہ سازوں کی رہنمائی کا ایک ذریعہ ہے تو ایسے جملہ خطرات سے نمٹنے کے لئے ادارتی سطح پر اُس ’غیرروائتی اسلوب‘ کو (لامحالہ) اِختیار کرنا ہوگا‘ جو تیزی سے سرایت کر رہا ہے جبکہ فیصلہ سازی کے منصب پر اُس رائے کو یکساں اہمیت دینا ہوگی‘ جو اُٹھتے‘ بیٹھتے‘ چلتے پھرتے‘ ایک نئے ادب‘ ایک نئے فن‘ ایک نئے اسلوب اور اظہار کے ایک نئے پیرائے کی صورت واضح ہو رہی ہے۔
ہمیں کنویں سے باہر کی دنیا کو دیکھنا ہوگا بالخصوص مغربی ممالک کہ جہاں ذرائع ابلاغ اپنی اشاعتوں یا نشریات کے روائتی اسلوب تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ وہ انٹرنیٹ کے لئے لمحہ بہ لمحہ خبریں‘ تبصرے‘ جائزے حتیٰ کہ کسی خبر اُور سے متعلقہ دیگر تمام معلومات کو یکجا کر کے ’آن لائن‘ پیش کر رہے ہیں۔ یہ صحافت کا وہ بدلتا ہوا چہرہ (طرزعمل) ہے‘ جس نے خبروں میں کسی بھی وجہ سے دلچسپی رکھنے یہ نہ رکھنے والے قارئین و ناظرین کی ایک بڑی تعداد کی ضروریات سمجھ لیا ہے۔ مغرب میں کسی اِشاعتی یا نشریاتی ادارے کے لئے اب یہ بات ممکن ہی نہیں رہی کہ وہ اپنی ’من مانی‘ کرے بلکہ اُسے عمومی رجحانات کے مطابق اپنی ادارتی پالیسی اور مندرجات کو پیش کرنا ہوتا ہے‘ جو صحافتی دنیا میں در آئے انقلاب سے کم نہیں۔ یہاں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ ہمارے ہاں اخبارات اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کی سب سے بڑی (ہیڈلائن) خبر ہمیشہ سیاست یا کسی غیرمعمولی قدرتی آفت یا حادثے کے بارے میں ہوتی ہے جبکہ ’آن لائن‘ خبروں کا مطالعہ یا اِن سے استفادہ کرنے والوں کی ترجیحات و رجحان اِس سے مختلف پایا گیا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کھیل‘ جرائم‘ تفریح (شوبز) اُور موسم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے متمنی رہتے ہیں اور یہی وہ ’فاصلہ (Gap)‘ یا ضرورت ہے‘ جس کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کے ذرائع ابلاغ بالخصوص نئے آنے والے اداروں کو اپنی ترجیحات متعین کرنا ہوں گی۔
شمالی و جنوبی امریکہ اور یورپ کے ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس پر نشر ہونے والی پچاس ہزار خبروں کا مطالعہ کرنے والے دو تحقیق کاروں بیچکوسکی (Boczkowski) اور میچلسٹائن (Mitchelstein) نے یہ نتیجہ دیا تھا کہ ’’نظریاتی رجحانات اور کسی خطے کی قومی ترجیحات اپنی جگہ لیکن ذرائع ابلاغ کے اِداروں کی سوچ اور قارئین کے مطالعے کے ذوق‘ شوق اُور پسند کے درمیان واضح فرق (Gap) پایا جاتا ہے‘ جسے کم کرنے کے لئے چونکہ ذرائع ابلاغ کو زیادہ محنت درکار ہوگی‘ اِس لئے اِس بظاہر مشکل ذمہ داری کا بیڑا اُٹھانے کے لئے وہ تیار نہیں لیکن صحافت کے شعبے میں نئے آنے والے اِدارے یہ کلیدی و ضروری کام کرتے ہوئے اُس کمی کو پورا کرسکتے ہیں‘ جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ اپنا اثرورسوخ کم کرتا جا رہا ہے۔ جدید دور کے تقاضے علوم و فنون کے وہ پہلو ہیں‘ جن کا تعلق ٹیکنالوجی سے بنتا ہے۔ مواصلاتی رابطے‘ سیاست‘ اقتصادیات‘ سماج‘ معاشرت‘ اقدار‘ ثقافت اور ٹیکنالوجی کیا ہم اِنہیں ایک دوسرے سے الگ کرکے سمجھ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو انہیں اُسی تناظر میں پیش کرنا ہوگا‘ جس میں یہ تبدیل ہو رہے ہیں‘ اِن کے اسلوب بدل رہے ہیں اور اِن سے متعلق مزید جاننے کی لگن زیرتعلیم نوجوان سے لیکر ارباب اختیار تک پائی جاتی ہے۔
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان گرے ایکرمین (Gary Ackerman) کے بقول ’’ذرائع ابلاغ تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب ہم افراد نہیں بلکہ ایسے اداروں کو اشاعت و نشریات کی اجازت دیتے ہیں‘ جو دانشورانہ خیالات رکھتے ہیں۔ دوسری طرف عام لوگ ہیں جنہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ خبر اور تفریح میں کیا فرق رہ گیا ہے اور وہ اِس میں امتیاز کیسے کریں۔ ٹیلی ویژن پر آ کر خود کو صحافی کے طور پر متعارف کرانے والوں کو صحافت سے جڑے تقاضوں کا علم نہیں۔ وہ کسی کھیل تماشے کی طرح بظاہر نظر آنے والے واقعات کا ایک رخ زور دے دے کر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے سارا سچ بس یہی ہو!‘‘
No comments:
Post a Comment