Zardari having difficulty reading new GHQ
سیاست ‘جرائم ‘کاروبار اُور فوج حکمت عملی
سیاست ‘جرائم ‘کاروبار اُور فوج حکمت عملی
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف دیگر فوجی جرنیلوں جیسے نہیں کہ
جنہیں سیاست سے لگاؤ ہو۔ اُن کے بارے میں فوج کے سابق جرنیلوں کا خیال ہے
کہ وہ بناء کسی دباؤ یا سیاسی وابستگی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ جس
خاندان میں دو عدد ’نشان امتیاز‘ جیسے اعزازات ہوں وہ کسی بھی صورت عمومی
سوچ رکھنے والا روایت پسند نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں جنرل راحیل
شریف کی ذات میں بردباری‘ سنجیدگی‘ خاموشی‘ خوداعتمادی‘ مستقل مزاجی اور
بیرونی دباؤ قبول نہ کرنے کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری دکھائی دیتی ہے۔
پاک فوج میں کئی ایسے سابق جرنیل ہیں جو روایت پسندی (اسٹیٹس کو) کے دلدادہ ہیں لیکن جنرل راحیل شریف مشکل فیصلے کرنے والے ایک آسان شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کر کے نہ صرف پاکستان میں امن و امان کی داخلی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر باہمی تعلقات اور خطے کی عمومی و خصوصی صورتحال میں بہتری لائی ہے۔ پاکستان اور افغانستان اُور پاکستان و امریکہ کے درمیان تعلقات جس روائتی ڈگر پر چل رہے ہیں‘ اُن میں نمایاں تبدیلی کا سہرا بھی جنرل راحیل شریف ہی کے سر جاتا ہے۔ گیارہ مارچ کے روز ملک کی سیاسی روایت پسندی اور مصلحتوں کا خاتمہ کرنا بھی جنرل راحیل شریف ہی کا کارنامہ ہے۔ کیا کراچی میں ہوئی ایک سیاسی جماعت کے خلاف کاروائی کا اِس سے قبل تصور ممکن تھا؟
کراچی کے حالات (اسٹیس کو) کا تعلق سیاست اور جرائم کے درمیان ملی بھگت اور تعاون سے ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف کراچی میں اُس روائتی طریق کا خاتمہ کیا ہے بلکہ وہ ملک گیر سطح پر سیاست و جرائم کے درمیان تعلق و تعاون ختم کرنے کی حکمت عملی بھی وضع کر لی ہے۔ کراچی کے برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ ریاست کا عمل دخل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے تمام تروسائل کے باوجود مفلوج ہوچکے تھے۔ کراچی کی تینوں بڑی سیاسی قوتوں پاکستان پیپلزپارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا اِس ایک نکتے پر اتفاق ہے کہ حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے پاس نہ تو خاطرخواہ صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی وہ حملہ آوروں کے عزائم خاک میں ملاسکتی ہے۔ حکومت کی اِس غیرفعالیت کی وجہ سے مختلف سیاسی گروہوں نے اپنے آپ کو دوسروں سے محفوظ کرنے کے لئے مسلح کرنا شروع کیا اور پھر یہ مسلح گروہ سیاسی جماعتوں کا ایسا جز بن گئے جن کی طاقت کے بل بوتے پر کراچی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی میں فعال مسلح گروہوں کے ہاتھ کھلونا بن گیا۔ سیاست اور جرائم کے درمیان تمیز باقی نہیں رہی۔
اِس صورتحال میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے بناء دباؤ و مصلحت فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا یہ قطعی مقصد یا مطلب نہیں کہ یہ اِدارہ جمہوریت یا سیاسی وابستگیوں یا سرگرمیوں کے خلاف ہیں اور انہیں پسند نہیں کرتا لیکن سیاست کا جرائم کے ساتھ تعلق کسی بھی صورت مزید برداشت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ موجودہ حالات کی اشد ضرورت تھی‘ جس سے بہتری کے آثار و نتائج برآمد ہونایقینی دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت ہے جس نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 69 لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا کثیر ووٹ بینک رکھتا ہے جس نے دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 24 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ افراد کی اکثریت یہی چاہتی ہے کہ سیاست اور جرائم کے درمیان تعلق ختم ہونا چاہئے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن (صدر) آصف علی زرداری کو اِس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت سیاست و جرائم کے درمیان تعلق سے بیزار ہے اور چاہتی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں اور اگر سیاسی جماعتیں اِس عمل کی حمایت نہیں کریں گے تو اِس سے خاطرخواہ و پائیدار نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کے ساتھ پاک فوج سیاست و کاروبار کے درمیان تفریق کرنے کے لئے بھی کاروائی کا آغاز کرے کیونکہ سیاستدانوں کو ملنے والے اختیارات سے ناجائز استفادہ کرنے کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو اُسے اپنے ذاتی و کاروباری مفادات کو الگ کرنا ہوگا اُور منتخب نمائندے کی حیثیت سے ملنے والے اختیارات اجتماعی مفادات کے لئے مختص رکھنا ہوں گے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’جرائم اور سیاست میں قدر مشترک اُور حاصل یہ ہے کہ اِن سے (کل وقتی یا جز وقتی‘ عملی یا فکری طور پر) وابستہ ہونے والے کرداروں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔‘‘
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
پاک فوج میں کئی ایسے سابق جرنیل ہیں جو روایت پسندی (اسٹیٹس کو) کے دلدادہ ہیں لیکن جنرل راحیل شریف مشکل فیصلے کرنے والے ایک آسان شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کر کے نہ صرف پاکستان میں امن و امان کی داخلی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر باہمی تعلقات اور خطے کی عمومی و خصوصی صورتحال میں بہتری لائی ہے۔ پاکستان اور افغانستان اُور پاکستان و امریکہ کے درمیان تعلقات جس روائتی ڈگر پر چل رہے ہیں‘ اُن میں نمایاں تبدیلی کا سہرا بھی جنرل راحیل شریف ہی کے سر جاتا ہے۔ گیارہ مارچ کے روز ملک کی سیاسی روایت پسندی اور مصلحتوں کا خاتمہ کرنا بھی جنرل راحیل شریف ہی کا کارنامہ ہے۔ کیا کراچی میں ہوئی ایک سیاسی جماعت کے خلاف کاروائی کا اِس سے قبل تصور ممکن تھا؟
کراچی کے حالات (اسٹیس کو) کا تعلق سیاست اور جرائم کے درمیان ملی بھگت اور تعاون سے ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف کراچی میں اُس روائتی طریق کا خاتمہ کیا ہے بلکہ وہ ملک گیر سطح پر سیاست و جرائم کے درمیان تعلق و تعاون ختم کرنے کی حکمت عملی بھی وضع کر لی ہے۔ کراچی کے برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ ریاست کا عمل دخل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے تمام تروسائل کے باوجود مفلوج ہوچکے تھے۔ کراچی کی تینوں بڑی سیاسی قوتوں پاکستان پیپلزپارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا اِس ایک نکتے پر اتفاق ہے کہ حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے پاس نہ تو خاطرخواہ صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی وہ حملہ آوروں کے عزائم خاک میں ملاسکتی ہے۔ حکومت کی اِس غیرفعالیت کی وجہ سے مختلف سیاسی گروہوں نے اپنے آپ کو دوسروں سے محفوظ کرنے کے لئے مسلح کرنا شروع کیا اور پھر یہ مسلح گروہ سیاسی جماعتوں کا ایسا جز بن گئے جن کی طاقت کے بل بوتے پر کراچی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی میں فعال مسلح گروہوں کے ہاتھ کھلونا بن گیا۔ سیاست اور جرائم کے درمیان تمیز باقی نہیں رہی۔
اِس صورتحال میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے بناء دباؤ و مصلحت فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا یہ قطعی مقصد یا مطلب نہیں کہ یہ اِدارہ جمہوریت یا سیاسی وابستگیوں یا سرگرمیوں کے خلاف ہیں اور انہیں پسند نہیں کرتا لیکن سیاست کا جرائم کے ساتھ تعلق کسی بھی صورت مزید برداشت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ موجودہ حالات کی اشد ضرورت تھی‘ جس سے بہتری کے آثار و نتائج برآمد ہونایقینی دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت ہے جس نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 69 لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا کثیر ووٹ بینک رکھتا ہے جس نے دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں 24 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ افراد کی اکثریت یہی چاہتی ہے کہ سیاست اور جرائم کے درمیان تعلق ختم ہونا چاہئے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن (صدر) آصف علی زرداری کو اِس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت سیاست و جرائم کے درمیان تعلق سے بیزار ہے اور چاہتی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں اور اگر سیاسی جماعتیں اِس عمل کی حمایت نہیں کریں گے تو اِس سے خاطرخواہ و پائیدار نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کے ساتھ پاک فوج سیاست و کاروبار کے درمیان تفریق کرنے کے لئے بھی کاروائی کا آغاز کرے کیونکہ سیاستدانوں کو ملنے والے اختیارات سے ناجائز استفادہ کرنے کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو اُسے اپنے ذاتی و کاروباری مفادات کو الگ کرنا ہوگا اُور منتخب نمائندے کی حیثیت سے ملنے والے اختیارات اجتماعی مفادات کے لئے مختص رکھنا ہوں گے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’جرائم اور سیاست میں قدر مشترک اُور حاصل یہ ہے کہ اِن سے (کل وقتی یا جز وقتی‘ عملی یا فکری طور پر) وابستہ ہونے والے کرداروں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔‘‘
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
![]() |
| Article by Dr Farrukh Saleem regarding Karachi |

No comments:
Post a Comment