ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
روائتی اہداف‘ غیرروائتی حربے
روائتی اہداف‘ غیرروائتی حربے
پشاور پولیس نے عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئے خصوصی حفاظتی دستے ترتیب دینے
کے علاؤہ انفرادی طور پر ملازم رکھے ہوئے محافظوں کو تربیت دینے کا فیصلہ
کیا ہے کیونکہ پولیس کے پاس افرادی وسائل کی کمی ہے اور ہر عبادت گاہ کو
حفاظتی حصار فراہم کرنا ممکن نہیں۔ پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق
پشاور میں اقلیتوں (عیسائی‘ سکھ اور ہندؤں) کی 20 عبادتگاہیں ہیں‘ جنہیں
اِجتماعات کے موقع یا یومیہ مخصوص اُوقات میں حسب ضرورت سیکورٹی فراہم کی
جاتی ہے‘ جو یقینی طور پر کافی نہیں لیکن موجودہ افرادی وسائل کو مدنظر
رکھتے ہوئے ’خصوصی پولیس اہلکار (سپیشل پولیس افسر)‘ مقرر کئے جائیں گے‘ جن
کی تربیت اور فرائض روائتی پولیس اہلکاروں جیسے ہی ہوں گے۔
اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پشاور پولیس کی نئی حکمت عملی اور مخلصانہ کوششیں ہر لحاظ سے قابل تعریف ہیں لیکن یہ حسب ضرورت اور حسب حال نہیں۔ روایت رہی ہے کہ حکمت عملیاں بند کمروں میں جس تحمل و خوشخطی سے کاغذ پر منتقل کی جاتی ہیں‘ اُن کے اطلاق کے وقت یکے بعد دیگرے خرابیاں ابھرنا شروع ہو جاتی ہیں اور انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ ہی ماضی کی حکمت عملیاں لپیٹ دی جاتی ہیں۔ عبادت گاہوں کا تعلق اقلیت سے ہو یا اکثریتی فرقوں سے ان کے تحفظ کی ذمہ داری صرف اور صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے‘ جو اِسے دوسروں کو یوں منتقل نہیں کرسکتے۔ اگر پشاور پولیس کے پاس افرادی وسائل کی کمی ہے تو اسے دور کرنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کیوں نہیں کئے جا رہے؟ پشاور پولیس کی گشتی موبائل گاڑیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ ناکارہ ہو رہی ہوں۔ جہاں پولیس تھانہ جات و چوکیاں پر مشتمل وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کافی ہوں وہاں مسئلہ صرف عبادتگاہوں کی خاطرخواہ حفاظت کا نہیں بلکہ پورا معاشرہ اور بالخصوص کمزور طبقات‘ نہتے لوگ ہمیشہ کی طرح نشانے پر ہیں۔ مشکل کی اِس گھڑی میں روائتی پولیسنگ کی بجائے حفاظت کا غیرروائتی اَنداز اَپنانا ہوگا اُور خفیہ معلومات جمع کرنے پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ وہ لوگ جو معاشرے کے سکون اور دوسروں کی جان و مال کے لئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں‘ اُنہیں کاروائی کا موقع ہی کیوں دیا جائے اور ایسے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے رعائت کیوں برتی جائے‘ جنہیں ’نفرت‘ کے سوا اِظہار کا کوئی دوسرا طریقہ و سلیقہ ہی نہیں۔
پشاور پولیس کے پاس ہر تھانے کی سطح پر ایسے مشتبہ و مشکوک اَفراد اور جرائم پیشہ عناصر کی فہرستیں موجود ہیں‘ جو کسی نہ کسی ’سماج دشمن سرگرمی‘ کا حصہ یا انتہاء پسند فکری وعملی تحریک سے وابستہ ہیں۔ ایسے لوگ بھی معلوم ہیں جو دامے‘ درہمے یا سخنے کالعدم تنظیموں کے ہم خیال یا فعال رکن ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ’طوطے کی طرح آنکھیں سفید کر لیں‘ اور ایسے جملہ معاملات میں کسی بھی صورت‘ کسی بھی درجے کا سیاسی دباؤ قبول نہ کریں‘ جس کا تعلق انتہاء پسندی‘ عسکریت پسندی‘ دہشت گردی اور منظم جرائم سے ہو۔ پشاور پولیس میں پہلی مرتبہ سیاسی عمل دخل تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اور کم و بیش سبھی کلیدی عہدوں پر ایسے پرجوش و ہشاش بشاش افسر تعینات ہیں‘ جن کے قول و فعل سے یقین ہو رہا ہے کہ وہ ہرلحاظ سے امن وامان کی موجودہ حالات میں بہتری چاہتے ہیں۔
پشاورمیں ٹریفک کی اَبتر روانی بھی سیاسی عمل دخل ہی کا کرشمہ ہے۔ ترقیاتی حکمت عملیوں میں پشاور کی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے کاروباری مفادات اُور اُس سوچ کا غلبہ رہا‘ جس سے چند خاندان ارب پتی لیکن پشاور غریب کا غریب اور مسائل میں اُلجھتا چلا گیا ہے۔ اگر کراچی میں جرائم کو سیاست سے الگ کرنے کے لئے کاروائی ہو سکتی ہے تو خیبرپختونخوا کے صدر مقام پشاور اور دیگر اضلاع میں سیاست و کاروبار کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش ضرور ہونی چاہئے۔
سیاست خدمت سے عبارت ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کا آغاز عام انتخابات کے موقع پر روائتی احتساب سے نہیں بلکہ فیصلہ سازی میں زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال روکنے سے ممکن ہے۔ تجاوزات کے خاتمے سے ٹریفک نظام میں بتدریج بہتری آ رہی ہے لیکن جب تک شہر میں ’ای ٹیگنگ(E-Tagging)‘ کا نظام متعارف کرکے گاڑیوں کی آمدورفت پر نظر خودکار طریقے سے نہیں کی جاتی‘ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی ممکن نہیں ہوگی۔ دہشت گرد نہ تو آسمان سے گرتے ہیں اور نہ ہی انہیں زمین اگلتی ہے بلکہ وہ معروف و معلوم راستوں سے آتے جاتے ہیں اور کسی واردات کے بعد صرف چوری شدہ گاڑی ہی سے اُن کی مواصلاتی وسائل کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ پشاور چھاؤنی کی حدود میں بناء اسٹکر (اجازت نامہ) داخلہ ممنوع قرار دیئے جانے کا تجربہ مفید ثابت ہوا ہے‘ لیکن اگر وہاں بھی ’الیکٹرانک ای ٹیگنگ‘ کا نظام متعارف کرایا جاتا تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور چند ایک ہوئی وارداتوں کا امکان بھی باقی نہ رہتا۔ اقلیتی عبادتگاہوں کے مرکزی حصوں تک رسائی کو بائیومیٹرک اور اُن کی حدود میں داخلے کو ’اِی ٹیگنگ‘ کے ذریعے زیادہ محفوظ بنایا جاسکتا ہے‘ جو مسلح نگرانی سے زیادہ کارآمد ثابت ہوگی کیونکہ اب تک ہوئی دہشت گرد وارداتوں میں مسلح نگرانی کا حصار پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے بعد داخلی سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے پوری عمارت اور اس میں موجود ہر فرد دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
فیصلہ سازوں کا تجاہل عارفانہ مٹھی بھر عناصر کو خوف و دہشت کی علامت اور پورے معاشرے پر حاوی بنائے ہوئے ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے گریز اُور اپنی ضروریات کے حقیقی اِدراک سے مزید پہلوتہی ممکن تو ہے لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اِس کے سوأ مسئلے کا کوئی بھی دوسرا حل پائیدار و معاون ثابت نہیں ہوگا۔
اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پشاور پولیس کی نئی حکمت عملی اور مخلصانہ کوششیں ہر لحاظ سے قابل تعریف ہیں لیکن یہ حسب ضرورت اور حسب حال نہیں۔ روایت رہی ہے کہ حکمت عملیاں بند کمروں میں جس تحمل و خوشخطی سے کاغذ پر منتقل کی جاتی ہیں‘ اُن کے اطلاق کے وقت یکے بعد دیگرے خرابیاں ابھرنا شروع ہو جاتی ہیں اور انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ ہی ماضی کی حکمت عملیاں لپیٹ دی جاتی ہیں۔ عبادت گاہوں کا تعلق اقلیت سے ہو یا اکثریتی فرقوں سے ان کے تحفظ کی ذمہ داری صرف اور صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے‘ جو اِسے دوسروں کو یوں منتقل نہیں کرسکتے۔ اگر پشاور پولیس کے پاس افرادی وسائل کی کمی ہے تو اسے دور کرنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کیوں نہیں کئے جا رہے؟ پشاور پولیس کی گشتی موبائل گاڑیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ ناکارہ ہو رہی ہوں۔ جہاں پولیس تھانہ جات و چوکیاں پر مشتمل وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کافی ہوں وہاں مسئلہ صرف عبادتگاہوں کی خاطرخواہ حفاظت کا نہیں بلکہ پورا معاشرہ اور بالخصوص کمزور طبقات‘ نہتے لوگ ہمیشہ کی طرح نشانے پر ہیں۔ مشکل کی اِس گھڑی میں روائتی پولیسنگ کی بجائے حفاظت کا غیرروائتی اَنداز اَپنانا ہوگا اُور خفیہ معلومات جمع کرنے پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ وہ لوگ جو معاشرے کے سکون اور دوسروں کی جان و مال کے لئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں‘ اُنہیں کاروائی کا موقع ہی کیوں دیا جائے اور ایسے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے رعائت کیوں برتی جائے‘ جنہیں ’نفرت‘ کے سوا اِظہار کا کوئی دوسرا طریقہ و سلیقہ ہی نہیں۔
پشاور پولیس کے پاس ہر تھانے کی سطح پر ایسے مشتبہ و مشکوک اَفراد اور جرائم پیشہ عناصر کی فہرستیں موجود ہیں‘ جو کسی نہ کسی ’سماج دشمن سرگرمی‘ کا حصہ یا انتہاء پسند فکری وعملی تحریک سے وابستہ ہیں۔ ایسے لوگ بھی معلوم ہیں جو دامے‘ درہمے یا سخنے کالعدم تنظیموں کے ہم خیال یا فعال رکن ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ’طوطے کی طرح آنکھیں سفید کر لیں‘ اور ایسے جملہ معاملات میں کسی بھی صورت‘ کسی بھی درجے کا سیاسی دباؤ قبول نہ کریں‘ جس کا تعلق انتہاء پسندی‘ عسکریت پسندی‘ دہشت گردی اور منظم جرائم سے ہو۔ پشاور پولیس میں پہلی مرتبہ سیاسی عمل دخل تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اور کم و بیش سبھی کلیدی عہدوں پر ایسے پرجوش و ہشاش بشاش افسر تعینات ہیں‘ جن کے قول و فعل سے یقین ہو رہا ہے کہ وہ ہرلحاظ سے امن وامان کی موجودہ حالات میں بہتری چاہتے ہیں۔
پشاورمیں ٹریفک کی اَبتر روانی بھی سیاسی عمل دخل ہی کا کرشمہ ہے۔ ترقیاتی حکمت عملیوں میں پشاور کی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے کاروباری مفادات اُور اُس سوچ کا غلبہ رہا‘ جس سے چند خاندان ارب پتی لیکن پشاور غریب کا غریب اور مسائل میں اُلجھتا چلا گیا ہے۔ اگر کراچی میں جرائم کو سیاست سے الگ کرنے کے لئے کاروائی ہو سکتی ہے تو خیبرپختونخوا کے صدر مقام پشاور اور دیگر اضلاع میں سیاست و کاروبار کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش ضرور ہونی چاہئے۔
سیاست خدمت سے عبارت ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کا آغاز عام انتخابات کے موقع پر روائتی احتساب سے نہیں بلکہ فیصلہ سازی میں زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال روکنے سے ممکن ہے۔ تجاوزات کے خاتمے سے ٹریفک نظام میں بتدریج بہتری آ رہی ہے لیکن جب تک شہر میں ’ای ٹیگنگ(E-Tagging)‘ کا نظام متعارف کرکے گاڑیوں کی آمدورفت پر نظر خودکار طریقے سے نہیں کی جاتی‘ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی ممکن نہیں ہوگی۔ دہشت گرد نہ تو آسمان سے گرتے ہیں اور نہ ہی انہیں زمین اگلتی ہے بلکہ وہ معروف و معلوم راستوں سے آتے جاتے ہیں اور کسی واردات کے بعد صرف چوری شدہ گاڑی ہی سے اُن کی مواصلاتی وسائل کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ پشاور چھاؤنی کی حدود میں بناء اسٹکر (اجازت نامہ) داخلہ ممنوع قرار دیئے جانے کا تجربہ مفید ثابت ہوا ہے‘ لیکن اگر وہاں بھی ’الیکٹرانک ای ٹیگنگ‘ کا نظام متعارف کرایا جاتا تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور چند ایک ہوئی وارداتوں کا امکان بھی باقی نہ رہتا۔ اقلیتی عبادتگاہوں کے مرکزی حصوں تک رسائی کو بائیومیٹرک اور اُن کی حدود میں داخلے کو ’اِی ٹیگنگ‘ کے ذریعے زیادہ محفوظ بنایا جاسکتا ہے‘ جو مسلح نگرانی سے زیادہ کارآمد ثابت ہوگی کیونکہ اب تک ہوئی دہشت گرد وارداتوں میں مسلح نگرانی کا حصار پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے بعد داخلی سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے پوری عمارت اور اس میں موجود ہر فرد دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
فیصلہ سازوں کا تجاہل عارفانہ مٹھی بھر عناصر کو خوف و دہشت کی علامت اور پورے معاشرے پر حاوی بنائے ہوئے ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے گریز اُور اپنی ضروریات کے حقیقی اِدراک سے مزید پہلوتہی ممکن تو ہے لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اِس کے سوأ مسئلے کا کوئی بھی دوسرا حل پائیدار و معاون ثابت نہیں ہوگا۔

No comments:
Post a Comment