Friday, March 20, 2015

Mar2015: TRANSLATION Money Laundering & Crimes

Laundering of crime proceeds
جرائم کی پشت پناہی
پاکستان نے عالمی سطح پر جرائم اور منشیات کے انسداد کی حکمت عملی پر دستخط کر رکھے ہیں اور اِس سلسلے میں اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی زیرنگرانی مرتب کئے جانے والے لائحہ عمل (The Stolen Asset Recovery Initiative) کی مرتبہ9 دسمبر 2003ء جبکہ دوسری مرتبہ 31 اگست 2007ء کو توثیق کی ہے لیکن اِس سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اُٹھایا۔ اِس قانونی حکمت عملی پر اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ (UNODC) عالمی بینک کے اشتراک سے نگرانی کر رہا ہے جس کی شق نمبر 23کی رو سے ’’ہر رکن ملک اپنی اپنی حدود میں بنیادی اصولوں کے مطابق ایسے قوانین تخلیق کرے گا اور ایسے لازمی اقدامات بھی کرے گا جن کی رو سے وہ سبھی افعال جرم تصور ہوں گے‘ جن کے انسداد کے لئے عالمی سطح پر اتفاق پایا جاتا ہے اور ایسے تمام اقدامات عالمی سطح پر جرم تصور ہوں گے جو (الف) ایسی جائیداد کی خرید و فروخت کہ جس کے لئے آمدنی کے وسائل مشکوک ہوں یا کسی شخص کی مدد کے عوض مالی وسائل یا جائیداد و اجناس وصول کی جائیں جو آمدنی کے غیرقانونی وسائل رکھتا ہو۔‘‘ سٹار (STAR) کہلانے والا یہ لائحہ عمل ترقی پذیر ممالک اور اقتصادی مراکز پر بالخصوص لاگو ہوتا ہے تاکہ سرمائے کی غیرقانونی نقل و حمل‘ لین دین (سودے) روکے جا سکیں جن کا وجود بدعنوانی کو بڑھاتا ہے اور اس کی وجہ منظم بدعنوانی فروغ پاتی ہے۔ ایسے منفی محرکات کو بروقت روکنے کے لئے عالمی سطح پر جو آئینی و قانونی اتفاق پایا جاتا ہے‘ اُن کوششوں کا پاکستان حصہ ہے۔

عالمی سطح پر مرتب کئے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق ’’بدعنوانی کے سبب ترقیاتی پذیر ممالک کی معیشت و اقتصادیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ ترقی پذیرممالک میں سالانہ 20 سے 40 ارب ڈالر کے مساوی سرکاری مالی وسائل لوٹ لئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں تجاویز مرتب کی گئی ہیں جن پر عمل درآمد سے سرکاری وسائل کی لوٹ مار کے عمل کو زیادہ مشکل اور ایسے سرمائے کی نقل و حمل کو دشوار بنانے کے ساتھ لوٹے ہوئے سرمائے کی واپسی بھی ممکن ہوگی۔ اِس نئی حکمت عملی کے تحت اب تک پندرہ مختلف حدود میں 397 مقدمات درج کئے گئے ہیں جنمیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ‘ جرمنی‘ برطانیہ‘ سوئزرلینڈ‘ اٹلی‘ ہالینڈ‘ نائیجیریا‘ ناروے‘ کینیڈا‘ ڈنمارک‘ جاپان‘ لیستھو‘ کوسٹا ریکا‘ یونان اُور قازقستان شامل ہیں۔

سال 2013ء میں لیستھو میں ایک ترقیاتی منصوبہ تعمیر کرنے والوں نے حکومتی اراکین کو بھاری رشوت دی تھی جسے واپس دلایا گیا۔ سال 2010ء میں نائیجریا کے ایک قدرتی گیس کی فراہمی کے منصوبے میں خردبرد کی جانے والی رقم کا 32.5ملین ڈالر حصہ حکومت کو واپس دلایا گیا۔ سال 2010 میں کوسٹا ریکا حوکمت کو ایک کروڑ ڈالر واپس دلائے گئے۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا جس میں ایک غیرملکی ادارے نے کوسٹاریکا حکومت کو بھاری رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اسی معاملے میں تین متعلقہ اداروں نے بھی 9 کروڑ بیس لاکھ ڈالر واپس کرنے کی حامی بھری جن کے خلاف بدعنوانی کی دفعات کے تحت تحقیقات کرائی گئیں تھیں۔ 17مارچ 2015ء کو سوئزرلینڈ حکومت اس بات پر رضامند ہوئی کہ وہ نائجیریا کو کم وبیش 38 کروڑ ڈالر واپس کرے جو اُس کے ایک سابق حکمران ثانی ابوچا نے خردبرد کرکے بیرون ملک بینک اکاونٹ میں جمع کروا رکھے تھے۔ برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سوئزرلینڈ سے نائیجیریا یہ خطیر رقم عالمی بینک کی نگرانی میں منتقل کی جائے گی جس کے بعد ابوچا خاندان کے خلاف وہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا جو سولہ سال سے زیرسماعت ہے۔ سوئزرلینڈ اس سے قبل ستر کروڑ ڈالر پہلے ہی ادا کر چکا ہے جو نائیجیریا کی جانب سے مختلف اپیلیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ابوچا تیل کی دولت سے مالا مال نائیجیریا پر 1993ء سے 1998ء اُس وقت تک حکمراں رہا‘ جب تک اُس کی وفات نہیں ہوئی۔

فرانسیسی شاعر‘ ناول نگار اور صحافی اناتولی فرانس (Anatole France) کا قول ہے کہ ’’کمزوریاں کے ساتھ بُرے حالات میں زندگی بسر کرنے والوں کی ناتوانی کا فائدہ نہیں اُٹھانا چاہئے۔‘‘

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و  ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
Money laundering & corruption is a serious crime but we are not taking in seriously

No comments:

Post a Comment