ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بلدیاتی انتخابات: انصافیات
بلدیاتی انتخابات: انصافیات
تحریک انصاف کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت حزب اختلاف کی جماعتوں کو اپنی
کامیابی سوائے ’بلدیاتی اِنتخابی اتحاد‘ کسی دوسری صورت نظر نہیں آ رہی اور
اگرچہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو ’دیوار سے لگا
دیا گیا‘ لیکن حقیقت یہی ہے کہ پشاور کی بجائے اب کلیدی فیصلے دوسرے اضلاع
منتقل ہونے کی بڑی وجہ اور حکمت یہی ہے کہ حزب اختلاف نے خیبرپختونخوا کے
شہری علاقوں کی بجائے دیہی علاقوں میں کامیابی کے لئے موجود امکانات سے
فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہری علاقوں
کے رہنے والے زیادہ ’باخبر‘ ہوتے ہیں جنہیں کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے نجی
نیوز چینلز‘ اخبارات و رسائل‘ انٹرنیٹ‘ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس اور
دیگر ذرائع سے گردوپیش کی معلومات رہتی ہیں۔ تحریک انصاف اگر خیبرپختونخوا
کے ہر ضلع سے انصاف کرتی تو آج بلدیاتی انتخابات کے موقع پر حزب اختلاف کی
جماعتوں کو شہری علاقوں اور دور افتادہ اضلاع میں کشش محسوس نہ ہو رہی
ہوتی‘ جہاں ترقی کا عمل مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد سے سست
روی کا شکار ہے اور ماضی ہی کی طرح ارباب اختیار کی اپنے اپنے انتخابی
حلقوں پر توجہ سے دیگر اضلاع میں احساس محرومی الگ سے بڑھ رہا ہے!
جمہوریت کی روح اور کسی سیاسی جماعت کی مقبولیت جانچنے کی کسوٹی بلدیاتی انتخابات کے سوا اُور کیا ہوسکتا ہے‘ جن کے ممکنہ انعقاد کی خبروں کے ساتھ ہی تحریک انصاف میں داخلی طورپر کئی ایک تبدیلیاں کی گئیں ہیں لیکن اِس مرتبہ بھی سب کچھ (خلاف توقع) اچانک ہی ہو رہا ہے جو ماضی کی طرح پارٹی کی صفوں میں انتشار و اختلافات کو ہوا دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر چیئرمین عمران خان نے تمام اضلاع کی کابینہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا اور یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جبکہ بلدیاتی انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لینے کے خواہشمند کارکنوں سے درخواستیں وصول کی جا رہی تھیں اور اِس مرحلے کے لئے ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریوں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں تھیں کہ وہ ضلع کے لئے تین ہزار اور تحصیل کے لئے اُمیدواروں سے دو ہزار روپے فیس کے ساتھ درخواستیں وصول کریں لیکن چونکہ اُنہیں یکایک تحلیل کرتے ہوئے اِس بات کی وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھی گئی کہ آخری تاریخ تک درخواستیں وصول کون کرے گا‘ اب تک ہر ضلع میں کتنی درخواستیں وصول ہو چکی ہیں‘ درخواست دینے والوں کی فہرستیں کون مرتب کرے گا اور درخواستوں کے ساتھ وصول کی گئی رقم کس کے پاس رہے گی‘ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے لئے نامزدگیوں (فیصلوں) کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟ کیا ہر ضلع میں وہاں سے کامیاب ہونے والا رکن قومی اسمبلی قائم مقام ضلعی صدر ہوگا جس کے ساتھ اراکین صوبائی اسمبلی میں سے کابینہ کے دیگر اراکین کا انتخاب ہوگا؟ جن اضلاع میں ایک سے زیادہ اراکین قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اُن میں سے کون ضلعی صدر بننے کا حقدار ٹھہرے گا؟ کیا دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد کے تناسب پر ضلعی قائم مقام صدر کا انتخاب ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ تحریک انصاف کے ہاں تنظیم سازی اور نظم و ضبط کے حوالے سے ہمیشہ ہی سوالات کا انبار رہتا ہے۔ جماعتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں اور طریقۂ کار میں موجود خامیوں کا فائدہ اُٹھا کر کئی ایسے عناصر ضلعی عہدوں پر فائز ہوگئے‘ جن کے بارے میں پارٹی کے کارکنوں نے درخواستیں دیں۔ عذرداریاں ہوئیں۔ احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے لیکن فیصلہ کیا بھی گیا تو اس قدر تاخیر کے ساتھ اور ایک ایسے وقت میں جبکہ بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ سر پرآ پہنچا ہے۔
تجویز ہے کہ ہر ضلع میں وہاں کے منتخب رکن قومی اسمبلی یا منتخب رکن صوبائی اسمبلی کو ’قائم مقام ضلعی صدر‘ مقرر کرتے ہوئے‘ اُنہیں بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات اُور مقررہ رقم وصول کرنے کے عمل کا نگران مقرر کیا جائے۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف میں سب سے زیادہ کم اہمیت اراکین قومی اسمبلی کو دی جارہی ہے‘ جو نہ صرف منتخب نمائندوں کی ہتک اور اُن کے لئے ذہنی تناؤ کا باعث اَمر ہے بلکہ اَپنے اَپنے حلقۂ اِنتخاب بالخصوص خیبرپختونخوا کے اراکین قومی اسمبلی کے پاس کارکنوں کو دینے کے لئے دلاسے بھی باقی نہیں رہے!
یاد رہے کہ چودہ اگست دوہزار تیرہ سے ایک سو چھبیس دن احتجاج کرتے ہوئے تحریک انصاف نے سولہ دسمبر کے سانحۂ پشاور کے بعد اسلام آباد میں اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور بعدازاں پانچ مارچ دو ہزار پندرہ کو پارٹی نے سینیٹ انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن عجیب منطق رہی کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے قومی اسمبلی سے ’کنارہ کشی‘ اختیار کرلی! عجیب صورتحال ہے کہ ایک ہی جماعت کے نمائندے صوبائی اسمبلی‘ صوبائی حکومت اور ایوان بالا (سینیٹ) کا حصہ ہیں لیکن سوئی صرف اور صرف قومی اسمبلی پر جا کر اٹکی ہوئی ہے‘ جن کے منتخب نمائندوں کا پورا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور مرکزی قیادت کو اِس حساس معاملے کا اِحساس تک نہیں!
گذشتہ مالی سال کے دوران صوبائی خزانے سے خیبرپختونخوا کے سترہ اراکین قومی اسمبلی کو ’دو کروڑ روپے‘ کے حساب سے مجموعی طورپر ’چونتیس کروڑ روپے‘ دیئے گئے‘ جو اونٹ کے منہ میں زیرے جیسا عمل تھا اور ترقیاتی منصوبوں کی یہ رقم بھی دانشمندی سے خرچ ہونے کی بجائے بیشتر اضلاع میں ’گلو بٹ‘ جیسے کرداروں کی وضع کردہ ترجیحات کی نذر ہوگئی! ’کم خرچ بالا نشین‘ ترقی کا عمل حسب حال اور حسب ضرورت مکمل کرنے کے لئے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں‘ جس کے بعد اراکین قومی اسمبلی کی اہمیت مزید کم ہو جائے گی‘ اور اگر انہوں نے خود کو نفسیاتی و فکری یرغمالی سے آزاد نہ کیا‘ تو چڑیا کھیت چگنے کے بعد اُڑ بھی جائیں گی!
پاکستان تحریک انصاف سے حقیقی تبدیلی اور اصلاحات کی اُمیدیں وابستہ ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات کے لئے کارکنوں سے درخواستیں وصول کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے اور نہ ہی نامزدگیاں جاری کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ کیا جائے بلکہ ناراض کارکنوں کو منانے اور ازسرنو بلدیاتی انتخابات کے لئے درخواستیں وصول کرنے سے قبل اضلاع کی سطح پر ’ورکرز کنونشن‘ بلائے جائیں‘ اگر حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے نظریاتی اختلافات اور شدید نوعیت کی تلخیں بھلا کر ’یک جان‘ ہو سکتی ہیں تو اسی قسم کی مشاورت کا اہتمام تحریک انصاف داخلی سطح پر گلے شکوے دور کرنے کے لئے کیوں نہیں کر سکتی؟ ’’میں مقابلے میں شریک تھا فقط اِس لئے ۔۔۔ کوئی آ کے مجھ سے یہ پوچھتا‘ ترا کیا بنا؟‘‘
جمہوریت کی روح اور کسی سیاسی جماعت کی مقبولیت جانچنے کی کسوٹی بلدیاتی انتخابات کے سوا اُور کیا ہوسکتا ہے‘ جن کے ممکنہ انعقاد کی خبروں کے ساتھ ہی تحریک انصاف میں داخلی طورپر کئی ایک تبدیلیاں کی گئیں ہیں لیکن اِس مرتبہ بھی سب کچھ (خلاف توقع) اچانک ہی ہو رہا ہے جو ماضی کی طرح پارٹی کی صفوں میں انتشار و اختلافات کو ہوا دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر چیئرمین عمران خان نے تمام اضلاع کی کابینہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا اور یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جبکہ بلدیاتی انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لینے کے خواہشمند کارکنوں سے درخواستیں وصول کی جا رہی تھیں اور اِس مرحلے کے لئے ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریوں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں تھیں کہ وہ ضلع کے لئے تین ہزار اور تحصیل کے لئے اُمیدواروں سے دو ہزار روپے فیس کے ساتھ درخواستیں وصول کریں لیکن چونکہ اُنہیں یکایک تحلیل کرتے ہوئے اِس بات کی وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھی گئی کہ آخری تاریخ تک درخواستیں وصول کون کرے گا‘ اب تک ہر ضلع میں کتنی درخواستیں وصول ہو چکی ہیں‘ درخواست دینے والوں کی فہرستیں کون مرتب کرے گا اور درخواستوں کے ساتھ وصول کی گئی رقم کس کے پاس رہے گی‘ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے لئے نامزدگیوں (فیصلوں) کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟ کیا ہر ضلع میں وہاں سے کامیاب ہونے والا رکن قومی اسمبلی قائم مقام ضلعی صدر ہوگا جس کے ساتھ اراکین صوبائی اسمبلی میں سے کابینہ کے دیگر اراکین کا انتخاب ہوگا؟ جن اضلاع میں ایک سے زیادہ اراکین قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اُن میں سے کون ضلعی صدر بننے کا حقدار ٹھہرے گا؟ کیا دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد کے تناسب پر ضلعی قائم مقام صدر کا انتخاب ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ تحریک انصاف کے ہاں تنظیم سازی اور نظم و ضبط کے حوالے سے ہمیشہ ہی سوالات کا انبار رہتا ہے۔ جماعتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں اور طریقۂ کار میں موجود خامیوں کا فائدہ اُٹھا کر کئی ایسے عناصر ضلعی عہدوں پر فائز ہوگئے‘ جن کے بارے میں پارٹی کے کارکنوں نے درخواستیں دیں۔ عذرداریاں ہوئیں۔ احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے لیکن فیصلہ کیا بھی گیا تو اس قدر تاخیر کے ساتھ اور ایک ایسے وقت میں جبکہ بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ سر پرآ پہنچا ہے۔
تجویز ہے کہ ہر ضلع میں وہاں کے منتخب رکن قومی اسمبلی یا منتخب رکن صوبائی اسمبلی کو ’قائم مقام ضلعی صدر‘ مقرر کرتے ہوئے‘ اُنہیں بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات اُور مقررہ رقم وصول کرنے کے عمل کا نگران مقرر کیا جائے۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف میں سب سے زیادہ کم اہمیت اراکین قومی اسمبلی کو دی جارہی ہے‘ جو نہ صرف منتخب نمائندوں کی ہتک اور اُن کے لئے ذہنی تناؤ کا باعث اَمر ہے بلکہ اَپنے اَپنے حلقۂ اِنتخاب بالخصوص خیبرپختونخوا کے اراکین قومی اسمبلی کے پاس کارکنوں کو دینے کے لئے دلاسے بھی باقی نہیں رہے!
یاد رہے کہ چودہ اگست دوہزار تیرہ سے ایک سو چھبیس دن احتجاج کرتے ہوئے تحریک انصاف نے سولہ دسمبر کے سانحۂ پشاور کے بعد اسلام آباد میں اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور بعدازاں پانچ مارچ دو ہزار پندرہ کو پارٹی نے سینیٹ انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن عجیب منطق رہی کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے قومی اسمبلی سے ’کنارہ کشی‘ اختیار کرلی! عجیب صورتحال ہے کہ ایک ہی جماعت کے نمائندے صوبائی اسمبلی‘ صوبائی حکومت اور ایوان بالا (سینیٹ) کا حصہ ہیں لیکن سوئی صرف اور صرف قومی اسمبلی پر جا کر اٹکی ہوئی ہے‘ جن کے منتخب نمائندوں کا پورا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور مرکزی قیادت کو اِس حساس معاملے کا اِحساس تک نہیں!
گذشتہ مالی سال کے دوران صوبائی خزانے سے خیبرپختونخوا کے سترہ اراکین قومی اسمبلی کو ’دو کروڑ روپے‘ کے حساب سے مجموعی طورپر ’چونتیس کروڑ روپے‘ دیئے گئے‘ جو اونٹ کے منہ میں زیرے جیسا عمل تھا اور ترقیاتی منصوبوں کی یہ رقم بھی دانشمندی سے خرچ ہونے کی بجائے بیشتر اضلاع میں ’گلو بٹ‘ جیسے کرداروں کی وضع کردہ ترجیحات کی نذر ہوگئی! ’کم خرچ بالا نشین‘ ترقی کا عمل حسب حال اور حسب ضرورت مکمل کرنے کے لئے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں‘ جس کے بعد اراکین قومی اسمبلی کی اہمیت مزید کم ہو جائے گی‘ اور اگر انہوں نے خود کو نفسیاتی و فکری یرغمالی سے آزاد نہ کیا‘ تو چڑیا کھیت چگنے کے بعد اُڑ بھی جائیں گی!
پاکستان تحریک انصاف سے حقیقی تبدیلی اور اصلاحات کی اُمیدیں وابستہ ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات کے لئے کارکنوں سے درخواستیں وصول کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے اور نہ ہی نامزدگیاں جاری کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ کیا جائے بلکہ ناراض کارکنوں کو منانے اور ازسرنو بلدیاتی انتخابات کے لئے درخواستیں وصول کرنے سے قبل اضلاع کی سطح پر ’ورکرز کنونشن‘ بلائے جائیں‘ اگر حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے نظریاتی اختلافات اور شدید نوعیت کی تلخیں بھلا کر ’یک جان‘ ہو سکتی ہیں تو اسی قسم کی مشاورت کا اہتمام تحریک انصاف داخلی سطح پر گلے شکوے دور کرنے کے لئے کیوں نہیں کر سکتی؟ ’’میں مقابلے میں شریک تھا فقط اِس لئے ۔۔۔ کوئی آ کے مجھ سے یہ پوچھتا‘ ترا کیا بنا؟‘‘
No comments:
Post a Comment