Showing posts with label National Assembly. Show all posts
Showing posts with label National Assembly. Show all posts

Monday, August 20, 2018

Aug 2018: FYI: Honorable "Speaker National Assembly!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اسپیکر قومی اسمبلی کے نام!
انتخابات بعدازانتخابات کامیابیوں کے علاؤہ خیبرپختونخوا‘ اسمبلی سے اسپیکر قومی اسمبلی تک کے سفر میں 48 سالہ ’اَسد قیصر (پیدائش: 15نومبر1969ء)‘ نے جس مثالی ’’کردار اور کارکردگی (سمجھ بوجھ)‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے‘ اُسے مدنظر رکھتے ہوئے اُمید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی وہ ’نئی ذمہ داریاں‘ حسب سابق ’’خوش اسلوبی‘‘ کے ساتھ سرانجام دیں گے اُور بطور اسپیکر خیبرپختونخوا‘ اسمبلی بطور خاص جس طرح اُنہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اُن کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سہولیات فراہم کیں اُور جس طرح شفقت کا مظاہرہ کیا‘ اُسے جاری اور رہی سہی کسر نکالتے ہوئے 

1: خیبرپختونخوا و ملک کے دیگر حصوں سے صحافیوں کو مدعو کریں گے تاکہ وہ قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں اجلاسوں میں بطور مبصر شریک ہو سکیں۔ 
2: طلباء و طالبات کے لئے مستقل بنیادوں پر قومی اسمبلی اجلاسوں کے مطالعاتی دورے ترتیب دیئے جائیں گے‘ تاکہ جمہوری پارلیمان کے طریقۂ کار اور قانون سازی کے عمل سے متعلق نئی نسل کے تصورات واضح ہوں اُور 
3: پارلیمینٹ ٹیلی ویژن چینل کا بوساطت ’پی ٹی وی‘ سیٹلائٹ یا انٹرنیٹ پر فوری اجرأ کریں گے۔ اِن تین اصلاحاتی اقدامات سے عوام کے لئے قانون ساز ایوان میں سیاسی جماعتوں کی کارکردگی جاننے کا موقع میسر آئے گا۔ 

ایسا کرنا بالخصوص موجودہ حالات میں اِس لئے بھی ضروری ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے مقابلے میں حزب اختلاف (پیپلزپارٹی اور نواز لیگ) اِرادہ (عزائم) رکھتی ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں ’بھرپور احتجاج‘ کی صورت حکومت کے اصلاحاتی و تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کے کام کاج میں رکاوٹ بنے گی اور اگر اِس موقع پر عام آدمی (ہم عوام) کو ’عینی شاہد‘ بنا لیا جائے تو اِس سے آئندہ عام انتخابات کے موقع پر تحریک انصاف کو اپنی کارکردگی کے دفاع میں زیادہ کچھ کہنا نہیں پڑے گا اور خاطرخواہ آسانیاں پیدا ہوں گی۔

پاکستان کی 15ویں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ’تین بنیادی‘ کام ہوئے۔ نومنتخب اَراکین نے بطور رکن اسمبلی حلف لیا۔ اراکین نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا اور قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آیا۔ اِن تینوں کاموں کے لئے الگ الگ دن مقرر تھے‘ جس کے لئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے مہمانوں کے لئے طے شدہ طریقے کے مطابق کارڈز جاری کئے لیکن چونکہ کارڈز جاری کرنے کا عمل ’اسپیکر آفس‘ کے ماتحت ہوتا ہے اور ’تحریک انصاف‘ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی انتظامی نگرانی (اسپیکر) مقرر ہوئی ہے‘ اِس لئے حسب توقع ’نئے مہمانوں‘ کو اجازت نامے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ 

لمحۂ فکریہ ہے کہ قومی اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے کے لئے اجازت نامے (Passes) حاصل کرنے والوں کے کوائف (ڈیٹابیس) نہیں کئے جاتے‘ بس وقتی طور پر کام چلایا جا رہا ہے۔ اصولی طور پر یہ عمل ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ سے منسلک ہونا چاہئے جس طرح بینک اکاونٹ کھلوانے کے لئے نجی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو نادرا سے کوائف کی جانچ پڑتال کا اختیار و سہولت دی گئی ہے‘ یہی سہولت قومی اسمبلی کو حاصل ہے لیکن اِس کا استعمال ’وزیٹرز گیلریز‘ کے لئے اجازت ناموں کے لئے نہیں کیا جاتا۔ اِس پورے نظام کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی نشست پر کسی کا حق نہ ہو بلکہ ہر خاص و عام کو آن لائن درخواست دینے کے ترجیحی طریقۂ کار کے مطابق کارڈ جاری ہونے چاہیءں۔ جس طرح چند حکمراں خاندانوں نے پورے ملک کے وسائل اپنے لئے مخصوص کر رکھے ہیں بالکل اُسی طرح ’خودساختہ وی آئی پیز‘ نے قانون ساز ایوانوں کی مہمان گیلریوں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ 

وقت ہے کہ قومی اسمبلی سے تجاوزات کا خاتمہ کرتے ہوئے آن لائن ’ڈیٹابیس‘ کے ذریعے مہمانوں کی گیلریوں کے اجازت نامے جاری کئے جائیں‘ جس کے لئے ’اسمبلی سیکرٹریٹ‘ ذرائع ابلاغ اور اپنی ویب سائٹ (na.gov.pk) پر تاریخوں کا اعلان کر سکتا ہے اور قومی اسمبلی کی اپنی موبائل ایپ (mobile app) لانچ کرنے کا اعزاز بھی ’اسپیکر اسد قیصر‘ ہی کو ملنا چاہئے۔ چونکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ’حاضر سروس ملازمین‘ کی بڑی تعداد گذشتہ 30 سال میں بھرتی ہوئی ہے اور اُن کی سیاسی وابستگی اور ہمدردیاں اِن تین دہائیوں کے حکمراں ’’نواز لیگ و پیپلزپارٹی‘‘ کے ساتھ ہیں‘ اِس لئے نئی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لئے اجازت ناموں میں امتیاز برتا گیا۔ گراؤنڈ فلور کی گیلریاں مختلف عہدیداروں کے نام سے مخصوص ہیں‘ جن کے پاسیز ’وی آئی پی‘ اراکین کی مرضی سے جاری ہوتے ہیں۔ 

اصولی طور پر قومی اسمبلی ایوان کی ہر گیلری اور مہمانوں کی ہر نشست ’بحق عوام‘ محفوظ ہونی چاہیءں‘ جن پر اسپیکر‘ ڈپٹی اسپیکر‘ قائد حزب اختلاف‘ پارلیمانی پارٹیوں کے لیڈروں اور دیگر کا صوابدیدی استحقاق ختم کر دیا جائے۔ موجودہ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں جس طرح اسمبلی عملے نے اپنے ماضی کے آقاؤں کو خوش کیا اُس کی تحقیقات ضروری ہیں۔ کارڈز جاری کرنے والے عملے میں ردوبدل بھی ناگزیر حد تک ضروری ہے۔ قومی اسمبلی ملازمین کی کل تعداد کتنی ہے؟ 

قومی اسمبلی کے اخراجات کا حساب کتاب (آڈٹ) جو گذشتہ کئی سال سے نہیں ہوا‘ لیکن یہ لازماً ہونا چاہئے تاکہ تحریک انصاف کے دور میں اختیار کی گئی سادگی کا موازنہ ماضی سے کیا جا سکے۔ جب ہمیں یہ معلوم ہیں نہیں ہوگا کہ ماضی میں قومی اسمبلی کے اخراجات کیا تھے اور اُن میں ہر سال کس شرح سے اضافہ کیا جاتا رہا‘ تو پھر کس بنیاد پر کہا جائے گا کہ تحریک انصاف نے قومی وسائل کی بچت کی؟ 

پی آئی اے کی طرح اِسمبلی ملازمین بھی ادارے پر بوجھ ہیں‘ ہر کونے اور ہر سیڑھی پر رہنمائی کرنے کے لئے ملازمین تعینات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ جا بجا بورڈز لگے ہوئے ہیں۔ مہمانوں کو جاری کئے جانے والے کارڈز کے رنگ اور اُن رنگوں کی زمین پر پٹیاں لگا کر باآسانی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ قومی اسمبلی ایوان کے ملازمین کی تعداد فی رکن کی تعداد سے زیادہ نہ ہو لیکن اگر ایسا ممکن نہیں تو فی رکن 2 ملازمین سے زیادہ کسی بھی صورت نہیں ہونے چاہیئں۔ چائے پانی تقسیم کرنے والے ملازمین کی تو قطعی گنجائش موجود نہیں اور 
قومی اسمبلی ایوان میں نجی بینک کی بجائے قومی ’نیشنل بینک‘ کی شاخ قائم ہونی چاہئے۔ اراکین اسمبلی کے بینک اکاونٹس اُوراُنہیں دی جانے والی جملہ ادائیگیاں بذریعہ ’نیشنل بینک‘ ہونی چاہیئں۔ اسپیکر ’اسد قیصر‘ اگر کام کرنا چاہیں تو وہ ’قومی اسمبلی‘ کی تاریخ میں ’’ایک ہیرو‘‘ کا مقام حاصل کر لیں گے اور عمران خان کو ایسے ’ستاروں‘ کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے محاذ پر اُن کی تبدیلی اور اصلاح کے پروگرام کو عملاً لاگو کریں۔
۔
https://epaper.dailyaaj.com.pk/epaper/pages/1534694162_201808192814.gif 
https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-08-20



Sunday, January 14, 2018

Jan 2018: Injustice continue with FATA

مہمان کالم
نااِنصافیاں
زندہ قوموں کی نشانی اُن کے ’زندہ عزم‘ اور اجتماعی قومی بہبود سے متعلق فیصلوں پر ڈٹ کر ’عمل درآمد‘ ہوتا ہے‘ جس سے عوام الناس کو درپیش مسائل حل ہوتے چلے جاتے ہیں اور سیاسی حکمران کوئی بھی ہو‘ ریاستی نظام اور اداروں کا ارتقائی عمل اور مسلسل سوچ کا سفر جاری رہتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے سیاسی و غیرسیاسی حکمرانوں اور فیصلہ سازوں (افسرشاہی) کا طرزِ ’فکروعمل‘ ذاتی یا پھر اِنتخابی (سیاسی) مفادات کا اسیر رہا ہے‘ جس کی وجہ سے مسائل کی معلوم اور بڑھتی ہوئی شدت کے باوجود ’سیاسی مصلحتوں‘ آڑے آ رہی ہیں۔ اِس سلسلے میں ’قبائلی علاقوں‘ کی مثال موجود ہے‘ جنہیں ملک کے دیگر حصوں کی طرح مساوی حیثیت دینے کے لئے ’قومی سطح پر پایا جانے والا اتفاق رائے‘ بھی کسی کام نہیں نہیں آ رہا اور ایسے نمائشی اور واجبی اقدامات کئے جا رہے ہیں‘ جن کا مقصد عوام اور تاریخ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ بارہ جنوری کے روز وفاقی حکومت نے عدالتی دائرہ کار کو قبائلی علاقوں تک وسعت دی جہاں نہ تو تفتیشی ادارے موجود ہیں اور نہ ہی پولیس کا تہہ دار نظام‘ جس کا بغیر عدالت کی موجودگی کس طرح اپنی افادیت ثابت کر پائے گا؟

قومی اسمبلی میں سپرئم کورٹ (عدالت عظمیٰ) اور پشاور ہائی کورٹ (عدالت عالیہ) کا دائرہ کار وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) تک بڑھانے کا قانون ’’کثرت رائے‘‘ سے منظور کیا تو قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ’’شاہ جی گل آفریدی‘‘ نے جوشیلے انداز میں کہا کہ ’’ہم حکومت اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے مشکور ہیں کہ انہوں نے مذکورہ قانون (بل) کی منظوری دی ہے‘ (جو درحقیقت) پاکستان کے مقصد کی تکمیل ہے اور آج (بارہ جنوری دوہزارسترہ) حقیقی معنوں میں قیام پاکستان یعنی ’’چودہ اگست‘‘ جیسا اہم دن ہے۔‘‘ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’عدالت عظمی اور عدالت عالیہ کی ’فاٹا‘ کے علاقوں تک توسیع عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلہ ہے اور اب ’فاٹا‘ تیزی سے ترقی کرے گا۔‘‘ جو بات قانون ساز قومی اسمبلی ایوان کے اسپیکر ایاز صادق اور وفاقی وزیر قانون انصاف محمود بشیر ورک نے بھی محسوس کی اُس کا لب لباب یہ تھا کہ ’’فاٹا میں عدل و انصاف کی فراہمی اصل ضرورت ہے‘ ترقی کے نام پر دیگر ضروریات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی مرحلہ وار بہتر بنائی جا سکتی ہے اور اِس میں تاخیر کا زیادہ نقصان بھی نہیں ہوگا لیکن اگر انصاف کی فراہمی اور عدل کا قیام ممکن نہیں بنایا جاتا تو اِس کے بغیر باقی سب کچھ بے معنی ہے۔ خوشگوار حیرت کا باعث نظارہ تھا جب فاٹا تک عدالتوں کا دائرہ کار بڑھانے کا بل منظور ہونے پر فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کھل اُٹھے اور انہوں نے ایک دوسرے کو گلے مل مل کر مبارکبادوں کا تبادلہ کیا‘ یقیناًآنکھوں میں آنسو بھی ہوں گے کہ اب کم سے کم فاٹا کے رہنے والوں کو دیگر پاکستانیوں کی طرح عدل و انصاف کا مستحق سمجھا جائے گا! 

اُمید ہے کہ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس (سیشن) میں ’’فاٹا انضمام بل‘‘ بھی ایوان میں پیش کر دیا جائے گا جو حقیقی ضرورت اور جامع اقدام ہوگا۔

فاٹا کی امتیازی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق قانون سازوں کی کوششیں ناکافی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ پولیس کی عدم موجودگی کی صورت صرف عدالتوں کا دائرہ کار قبائلی علاقوں تک پھیلانے سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے اور اِس سے قبائلی علاقوں کا انضمام (اصل معاملہ) سرد خانے کی نذر ہو جائے گا‘ جو سیاسی مفادات رکھنے والوں کی خواہش اور سرتوڑ کوشش ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نوازشریف کے ہاتھ ایک نادر (سنہرا) موقع آیا جس کے ذریعے وہ قبائلی علاقوں کی امتیازی حیثیت تبدیل کرکے تاریخ میں اُسی طرح اپنا نام درج کروا سکتے تھے جیسا کہ ’شمال مغربی سرحدی صوبے (این ڈبلیو ایف پی)‘ کا نام ’خیبرپختونخوا‘ سے تبدیل کرنا پیپلزپارٹی سے منسوب ہے۔ 

نواز لیگ کی خوش قسمتی تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دیگر امور پر اُن سے اپنے شدید سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قبائلی علاقوں کے انضمام کی غیرمشروط حمایت کی لیکن تحریک انصاف سے قربت کا یہ نادر موقع ضائع کر دیا گیا جو دونوں سیاسی جماعتوں کوایک دوسرے کے قریب لا سکتا تھا۔ بہرحال نواز لیگ نے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی جیسی دو مختلف النظریات سیاسی شخصیات کے مؤقف کو اکثریتی رائے پر ترجیح دے رکھی ہے اُور ایک ایسے معاملے کو اُلجھا دیا جو سیدھا سادا تھا۔ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں بلاتاخیر انضمام ہونا چاہئے اور ایسا اب بھی ممکن ہے اگر نواز شریف اجازت (حکم بہ معنی گرین سگنل) دیں تو یہ کارہائے نمایاں اُن کے نام ہوسکتا ہے۔ شاید وہ سمجھ نہیں پا رہے کہ اگر تاریخ شخصیات کو زندہ رکھتی ہے تو یہی تاریخ ایسے کرداروں کو کبھی معاف بھی نہیں کرتی جو قومی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔ ’کون نہیں جانتا‘ اُور ’کون نہیں چاہتا‘ کہ ۔۔۔ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں اِنضمام (اَزحد) ضروری (واحد حل) ہے اور اِس میں جس قدر بھی تاخیر کی جائے گی‘ اُس سے بہتری پیدا نہیں ہوگی۔ اگر نواز شریف خود اپنی ہی جماعت کے اراکین ہی کی رائے معلوم کریں تو اکثریت قبائلی علاقوں کے بارے میں اُس تذبذب کا شکار نہیں ہوگی جس سے وہ خود گزر رہے ہیں!

Thursday, August 3, 2017

Aug 2017: PM Election - a view from the Gallery!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قومی اسمبلی: نعرے اُور نظارے!
آئین پاکستان میں ’عبوری وزیراعظم‘ کے نام سے کسی ’عہدے‘ کا ذکر نہیں ملتا۔ قومی اسمبلی کے ایوان سے کثرت رائے کی بنیاد پر منتخب ہونے کی شرط کے ساتھ کوئی بھی رکن (ایم این اے) وزیراعظم بن سکتا ہے لیکن وہ ’عبوری‘ نہیں ہوگا۔ اِس اصطلاحی و آئینی وضاحت کی ضرورت اِس لئے بھی پیش آئی کیونکہ ’یکم اگست‘ کے روز قومی اسمبلی میں مہمانوں کی گیلری میں بُراجمان اور اکثر نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے نمائندے موبائل فونز پر چیخ چیخ کر ’عبوری‘ کا لاحقہ متواتر استعمال کر رہے تھے۔ 

چیخنے کی ضرورت اِس لئے پیش آ رہی تھی کہ قومی اسمبلی ایوان کے شایان شان خاموشی اور سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آ رہی تھی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب جب کبھی بھی ہوتا ہے تو اکثریتی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کے انتخابی حلقے اور سیاسی جماعت کے سرگرم کارکنوں کی بڑی تعداد اِس موقع پر مدعو ہوتی ہے اور انہیں قومی اسمبلی میں داخلے کے خصوصی اجازت نامے (پاسیز) جاری کئے جاتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں داخلے کا اجازت نامہ کسی عام پاکستانی کے لئے حاصل کرنا ’ناممکن‘ حد تک دشوار ہے اور اِس بارے میں رہنمائی بھی دستیاب نہیں۔ اصولی طور پر ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کی ووٹرز لسٹ (ووٹ دینے کے اہل افراد کی فہرست) میں جس کسی کا بھی نام درج ہو‘ وہ اہل ہونا چاہئے کہ جب چاہے قومی اسمبلی یا اِس کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا بطور مہمان مشاہدہ و مطالعہ کر سکے اور جان سکے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی کیا ہے۔ 

بھارت میں قومی اُور ریاستی صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں کی براہ راست نشریات کے لئے الگ الگ ٹیلی ویژن چینلز فعال ہیں جو ’دور درشن (ڈی ڈی فری ڈش)‘ کی ’ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ)‘ کے ذریعے ’93.5 ڈگری‘ مشرق کی سمت صرف پانچ سو روپے مالیت کے اضافی ’2 فٹ‘ ڈش اِنٹینا کی مدد سے موصول کئے جا سکتے ہیں۔ بہرحال یہ الگ موضوع ہے کیونکہ ہمارے ہاں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھا جاتا اُور عمومی تصور بھی یہی ہے کہ منتخب نمائندوں کے اِحتساب کا واحد ذریعہ صرف ’عام انتخابات‘ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ رہی کہ موجودہ قومی اسمبلی سے قبل اراکین اسمبلی کی حاضری ’خفیہ‘ رکھی جاتی تھی لیکن اب اِسے مختلف ویب سائٹس پر باقاعدگی سے جاری کیا جاتا ہے۔

یکم اگست کو موجودہ قومی اسمبلی کا ’44واں یک نکاتی اِجلاس‘ طلب کیا گیا ہے‘ جس کا کل دورانیہ تین گھنٹے تیس منٹ رہا۔ جب پاکستان کے وزیراعظم کا انتخاب ہونا تھا اور پوری دنیا کی نظریں ہماری قومی اسمبلی پر لگی ہوئی تھیں‘ تب طلب کردہ اجلاس سہ پہر تین بجے کی بجائے اکیاون منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ ہمارے منتخب نمائندوں نے قوم کو وقت کی پابندی کا کیا اچھا درس دیا۔ واہ واہ۔ ملک کے 28ویں وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر جب اِجلاس شروع ہوا‘ تو ’257 اراکین‘ قومی اسمبلی (75فیصد) موجود تھے لیکن اِختتام کے وقت اِن کی تعداد کم ہوکر صرف ’27فیصد (94 اراکین)‘ رہ گئی تھی یعنی اَراکین قومی اسمبلی نہ تو بروقت حاضری یقینی بناتے ہیں اور نہ ہی اجلاس کے اختتام تک ایوان میں موجود رہنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اِس پر بھی ’واہ واہ‘ تو بنتی ہے! قومی اسمبلی کی پرہجوم گیلری سے نظارے اور قومی اسمبلی اجلاس میں شریک اراکین کے نعرے بیان تھے کہ ’یکم اگست‘ کا دن سیاسی وابستگیوں کے اظہار کا موقع سمجھا گیا۔ 

انتخاب ملک کے وزیراعظم کا ہو رہا تھا اور ’’زندہ باد و مردہ باد‘‘ کے نعروں کی گونج میں ایک دوسرے کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ اشارے کئے جا رہے تھے! خواتین اراکین اسمبلی اپنے ساتھ ’نواز شریف‘ کی تصاویر لے آئیں تھیں‘ جنہوں نے یہاں وہاں آویزاں کر دیا گیا۔ جن صحافیوں کو ماضی میں وزیراعظم کے انتخاب کا نظارہ کرنے کا شرف مل چکا ہے اُن کے لئے ’یکم اگست‘ اِس لئے مختلف تھا کہ اِس مرتبہ ’وزیٹرز گیلری‘ سے اراکین اسمبلی پر نعروں اور غیراخلاقی زبان میں ’باآواز بلند‘ تنقید کی بارش کی گئی! ماضی میں کبھی بھی ایسا نہیں دیکھا گیا کہ مہمانوں نے اس قدر شور شرابا کیا ہو۔ اِسی طرح یہ بھی کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں حزب اختلاف سے زیادہ حزب اقتدار والے پیش پیش ہوں۔ خود اسپیکر کو ایک مرحلے پر کہنا پڑا کہ اگر وزیراعظم کے اُمیدوار شیخ رشید کی تقریر کے دوران ہنگامہ ختم نہ کیا گیا تو انہیں ڈیوٹی پر موجود محافظوں کی خدمات حاصل کرنا پڑیں گی لیکن ایسا عملاً کیا نہیں گیا۔ 

صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی شورشرابا کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں بصورت دیگر وہ اجلاس کی کاروائی روک کر ’وزیٹرز گیلری‘ خالی کرنے کا حکم دے سکتے تھے جہاں سے ہنگامہ آرائی کا آغاز ہوا تھا! وزیراعظم کے انتخاب کا خصوصی موقع ہو یا عمومی اجلاس ماسوائے ’پی ٹی وی‘ اور اسمبلی ملازمین ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ’فلور آف دی ہاؤس‘ جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور جملہ ذرائع ابلاغ کو ’پاکستان ٹیلی ویژن‘ کی نشریات یا پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والی نشریات و تصاویر پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ ماضی میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ’پی ٹی وی‘ نے وزیراعظم کے کسی اُمیدوار کی تقریر نشر کرنے سے روک لی ہو۔ شاہد خاقان عباسی کے بعد ’نوید قمر‘ نے ایوان کا شکریہ اَدا کیا بطور وزیراعظم اگرچہ شاہد خاقان کی تقریر کا معیار بلند نہیں تھا لیکن چونکہ (منطقی ضرورت تھی کہ) اُنہیں اور دیگر اراکین اسمبلی کو ’نواز شریف سے اپنی سیاسی وابستگی اُور وفاداری‘ کا زبانی و عملی مظاہرہ کرنا تھا اِس لئے وہ ہر حد سے گزرتے چلے گئے لیکن اِس کا قطعی مطلب یہ نہیں تھا کہ دوسروں سے ’فلور آف دی ہاؤس خطاب‘ کا حق چھین لیا جاتا۔ قوم دیکھ رہی تھی کہ شیخ رشید احمد کا خطاب جاری ہے اور وہ ابھی تمہید سے آگے ہی بڑھے تھے کہ ’پی ٹی وی‘ نے پہلے اُن کا مائیکروفون (صوتی نشریات) بند کی اور بعد میں ٹرانسمیشن ہی ختم کر دی گئی! 

شیخ رشید احمد کے بیان کردہ یہ حقائق اور اعتراضات درست ہیں کہ ’’پاکستان ٹیلی ویژن‘ قومی اِدارہ ہے جس کے اَخراجات پوری قوم بجلی کے ماہانہ بلوں میں ’لائسینس فیس‘ کی صورت برداشت کرتی ہے لیکن جس طرح یہ ’قومی اِدارہ‘ صرف اُور صرف ’حکمراں جماعت‘ کا ترجمان بنا ہوا ہے‘ وہ قطعی طور پر اَصولی طرزعمل نہیں۔ قومی اسمبلی پاکستان کا نمائندہ اِدارہ ہے۔ وزیراعظم کسی ایک سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے مفادات کے محافظ ہیں۔ ٹیلی ویژن‘ ریڈیو اور پی آئی ڈی‘ بھی پاکستان کے مؤقف اُور اِداروں کے ترجمان ہیں لیکن کیا ایسا عملی طور پر ہوتا بھی ہے؟

Sunday, April 24, 2016

APR2016: Cyber Crimes

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قانون کی زد۔۔۔!
بس اسی بات کی کمی رہ گئی تھی کہ پاکستان میں ایسے سائبر قوانین لاگو کر دیئے جائیں جن کے حوالے سے تنقید و تجاویز اور ترامیم اِس بات کی گواہی ہیں کہ بیس اپریل کو قومی اسمبلی کا منظور کردہ ’’پاکستان الیکٹرانک کرائمز بل 2015ء‘‘ متنازعہ و اختلافی ہے۔ تصور کیجئے کہ مجوزہ قانون کی منظوری و شفافیت اور اس کی منظوری میں جملہ قانون سازوں کی دلچسپی اس قدر تھی کہ تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں سے صرف تیس اراکین حاضر تھے جنہوں نے منظوری دی اور اب جبکہ یہ قانون پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے منظور ہو چکا ہے‘ تو ابتدائی طور پر تجویز کی گئی چند سخت ترین سزاؤں اور شقوں میں ردوبدل کے علاؤہ بھی بہت کچھ ایسا ہے جس کا نہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے بلکہ عام لوگ بوساطت وکلأ غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ ایسا قانون جس میں آزادئ اظہار اور اختلافِ رائے کو دبانے اور آگہی کی کمی کی وجہ سے سرزد ہونے والے اقدامات کو طویل قید اور بھاری جرمانے عائد کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہو!

مختلف مراحل میں سائبر کرائمز بل پر جو تنقید سب سے زیادہ ہوئی ہے‘ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بل ایسے افراد نے تحریر کیا‘ جو خود ’’ڈیجیٹل (سائبر) دنیا‘‘ کی اونچ نیچ اور حقائق سے لاعلم ہیں یا خاطرخواہ گہرائی سے اِس کے بارے میں نہیں جانتے! جیسا کہ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے توجہ دلائی کہ بل کی شق نمبر بائیس کے تحت اسپیمنگ‘ یعنی ’’وصول کنندہ کی مرضی کے بغیر اسے کوئی پیغام بھیجنا‘‘ قانون کی رو سے جرم قرار دیا گیا ہے۔ یوں تو شق میں ترمیم کے بعد کچھ بہتری آئی ہے مگر اب بھی صرف ایک ٹیکسٹ میسج (موبائل فون پر مختصر پیغام جسے عرف عام میں ’ایس ایم ایس‘ کہا جاتا ہے) بھیجنے کی سزا تین ماہ قید تک دی جاسکتی ہے۔ کیا پاکستان کا ہر شخص اِس قدر سخت سزا اُور وہ بھی ایس ایم ایس کی وجہ سے مقرر ہو کے بارے میں جانتا ہے؟ بل میں پیش کی گئی مختلف چیزوں کی تعریفیں مبہم ہیں مگر ان کی سزائیں سخت رکھی گئی ہیں اور یہ بھی کہ اس جملے سے آخر کیا مطلب اخذ کیا جائے کہ ’’منفی مقاصد کے لئے ویب سائٹ قائم کرنے پر‘‘ کسی شخص یا ادارے کی صورت اُس کے سربراہ کو تین سال قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔ آخر یہ ’’منفی مقاصد‘‘ کا مطلب کیا ہے اور اِس میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں؟ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر و بیانات چاہے آن لائن ہوں یا آف لائن پاکستان کا سلگتا ہوا (حقیقی) مسئلہ ہے لیکن کیا دیواروں پر وال چاکنگ سے سائبر اور موبائل فون تک اس منفی رجحان کو ختم کرنے کا صرف یہی ایک حل باقی بچا تھا؟ کیا کوئی بھی شخص جو یہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اختلافِ رائے کا گلا کس طرح گھونٹا گیا تھا‘ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر تنازعات پیدا کرنے اور نفرت پھیلانے کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ کسی چیز کے نفرت انگیز ہونے یا نہ ہونے کی غلط تشریح بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔

 اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کو سائبر سرگرمیوں کو ضوابط میں لانے کے لئے ایک ’’فریم ورک (ضوابط)‘‘ درکار ہے کیونکہ ہم ایسے ملک میں ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے لے کر افراد کی نجی زندگی میں مداخلت یعنی ذاتی معلومات کی چوری‘ بلیک میلنگ اور مال و زر تک رسائی (اکاؤنٹ ہیکنگ) تک کئی ایسے عوامل ہیں جن کا راستہ روکنا ہوگا لیکن آن لائن دنیا پر ضوابط عائد کرنے میں پاکستان کا سابقہ ریکارڈ اب تک کچھ خاص نہیں رہا اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکام کی آن لائن دنیا کے بارے میں فہم و فراست واجبی ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ’’یوٹیوب‘‘ پر پابندی عائدکی گئی اور پھر سالہا سال بعد خاموشی سے پابندی ہٹا بھی دی گئی جبکہ متنازعہ مواد (اصل سبب اور جواز) وہیں کا وہیں موجود ہے! قانون سازوں کو یوں تو ہر شعبے سے متعلق قانون مرتب کرتے ہوئے بہت سوچ بچار کرنی چاہئے لیکن جہاں تک سائبر کرائمز کا تعلق ہے تو یہ قانون سازی کو اتنا آسان نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اس سے عام لوگوں کی زندگیاں اور بالخصوص ذرائع ابلاغ کے اداروں اور نمائندوں کے لئے پہلے ہی سے موجود مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

Sunday, March 8, 2015

TRANSLATION: Billion-rupee questions!

Billion-rupee questions
سیاست و منفعت
ڈاکٹر فرخ سلیم
سینیٹ انتخابات: حال ہی میں مکمل ہوئے پاکستان کے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کے لئے اراکین کا چناؤ عمل میں لایا گیا جس سے متعلق مجھ سمیت بہت سے تجزیہ کاروں نے پیشنگوئی کی تھی کہ اِن کے نتائج پر ماضی کی طرح مالی وسائل کے کرشمے اپنا اثر کریں گے لیکن ایسا بڑے پیمانے پر نہ ہوسکا۔

 درحقیقت سینیٹ کے انتخابات میں اراکین اسمبلیوں کے ووٹوں کی خریداری ووٹوں کے مجموعی حجم سے ہوتی ہے جیسا کہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے گیارہ اراکین قومی اسمبلی کو چار سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ دوسرے درجے پر سب سے زیادہ مانگ بلوچستان اسمبلی کے رکن 65 اراکین اسمبلی کی ہوتی ہے جنہیں مجموعی طورپر گیارہ سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ تیسری اور ووٹوں کی خریداری کے لحاظ سے کم ترجیح خیبرپختونخوا اسمبلی کی ہوتی ہے جس کے اراکین کی کل تعداد ایک سو چوبیس ہے اور نہ ہونے کے برابر ترجیح سندھ اسمبلی کی ہوتی ہے جس کے اراکین کی تعداد 168 ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی تعداد 371جبکہ وفاقی دارالحکومت کے لئے مختص دو سینیٹ کی نشستوں کے لئے 342 اراکین اسمبلی کو صرف دو سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جس قدر ووٹ دینے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے‘ اُسی قدر ووٹوں کی خریداری کرنے والوں کے امکان ختم ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن بلوچستان اسمبلی میں ووٹوں کی خریدوفروخت ہوئی ہو گی کیونکہ آزاد حیثیت سے سینیٹ کے لئے اُمیدوار وہاں سے کامیاب ہوئے جبکہ ایوان میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے تعلق رکھنے والے بائیس اراکین اسمبلی موجود تھے لیکن اُن کے نامزد اُمیدوار ہار گئے۔ سینیٹ کے لئے اراکین اسمبلی کے ووٹوں کی خریدوفروخت (ہارس ٹریڈنگ) اس وجہ سے بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ نواز لیگ کی بلوچستان اسمبلی میں 22 اراکین ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں صرف تین سینیٹ کی نشستیں ملی ہیں جبکہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14 اور نیشنل پارٹی کے 11اراکین اسمبلی ہیں لیکن اِن دونوں جماعتوں کو مسلم لیگ نواز سے کم اراکین ہونے کے باوجود سینیٹ میں تین تین نشستیں ملی ہیں۔ جو اِس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ کم اراکین کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود اگر پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو اپنے حصے سے زیادہ نشستیں ملی ہیں تو اس کے پیچھے یقیناًکچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا‘ جس کی وجہ سے یہ بظاہر ناممکن انتخاب ممکن ہو پایا۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ اراکین قومی اسمبلی نے بھی سینیٹرز کے لئے اراکین کے چناؤ کے عوض پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کیا ہوگا کہ حکومت قبائلی سینیٹرز سے متعلق جو قانون سازی لانا چاہتی تھی جو آخری وقت میں معطل کر دی گئی۔

حیرت انگیز طور پر خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت ’پاکستان تحریک انصاف‘ نے نواز لیگ کی مکمل حمایت کی۔ صوبہ پنجاب میں مختلف نوعیت کی ’ہارس ٹریڈنگ‘ ہوئی جہاں سینیٹ انتخابات سے قبل اراکین اسمبلی کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے خطیر مالی وسائل فراہم کرنے کے وعدے کئے گئے جو فی رکن اسمبلی 2 کروڑ روپے کے مساوی ہوں گے۔

سینیٹ انتخابات کے بعد کا منظرنامہ: پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس سینیٹ کی 27 نشستیں اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے پاس 26 نشستیں ہیں اور دونوں جماعتیں اِس بات کے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گی کہ آئندہ سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا تعلق اُن کی جماعت سے ہو۔ اگر پیپلزپارٹی متحدہ قومی موومنٹ‘ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے ساتھ مل بھی جائے تو بھی اُسے اکثریت پانے کے لئے پانچ مزید ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر نواز لیگ پاکستان تحریک انصاف‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی جیسے اتحادیوں پر انحصار کرتی ہے تو اُسے مزید 14 ووٹوں کی ضرورت ہوگی تاکہ سینیٹ میں اپنی اکثریت ثابت کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ زرداری اور نواز شریف بجائے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے لئے مقابلہ کرنے کے چاہیں گے کہ اتفاق رائے سے بٹوارہ کر لیں‘ جس سے زیادہ تماشا (جگ ہنسائی) نہ ہو اور جملہ معاملات بھی خوش اسلوبی (رازداری) سے طے بھی ہوجائیں۔ یہی سبب ہے کہ آنے والے دنوں میں اُن سینیٹرز کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا‘ جو آزاد حیثیت سے ایوان بالا میں پہنچے ہیں۔

انتہائی اہم (اربوں روپے کا) سوال ہے کہ ’’آئندہ چیئرمین سینیٹ کون ہوگا؟‘‘ پاکستان میں مخلوط قسم کا جمہوری طرز حکمرانی رائج ہے جس میں فوج کلیدی فیصلوں کا اختیار رکھتی ہے۔ اس پوری کوشش کا مقصد سیاست اور جرائم کو الگ الگ درجات میں رکھنا ہے۔ سندھ میں نواز لیگ فوج کے مؤقف اور طرز فکر و عمل سے اتفاق کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کی سوچ رکھتی ہیں اور جہاں تک پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بات ہے تو اُن کی کوشش ہے کہ وہ پاک فوج سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں اور جو تعطل دونوں کے درمیان آ چکا ہے‘ اُسے ختم کریں۔

دوسرا انتہائی اہم سوال دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی (نیشنل ایکشن پلان) سے متعلق ہے۔ اب تک ہوئی پیش رفت میں دہشت گردی کرنے والوں تک پہنچنے والے مالی وسائل کو مکمل طور پر نہیں روکا جا سکا۔ اس سلسلے میں بہت کم یا تھوڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی مواد کی اشاعت و تقسیم پر پابندی کا مکمل اطلاق عملاً کیا جاسکے۔ قبائلی علاقہ جات میں ترقیاتی یا انتظامی اصلاحات کے نفاذ کے سلسلے میں بھی بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ جرائم کے خاتمے کے لئے انصاف کے نظام میں بھی اصلاحات ابھی ہونا باقی ہیں۔ یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ ہماری سیاسی حکومتیں دہشت گردی جیسی پیچیدہ سوچ و عمل کا محض جذبات و بیانات سے مقابلہ چاہتی ہے اور یہ بات ہم سب یقین کی حد تک جانتے ہیں کہ جنگ چاہے کوئی بھی ہو‘ اُس میں فتح بناء عمل محض جذبات سے ممکن نہیں ہوتی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
Billion Rupee questions by Dr Farrukh Saleem from The News March 08, 2015