Showing posts with label Electronic Media. Show all posts
Showing posts with label Electronic Media. Show all posts

Thursday, May 18, 2017

May2017: The use & application of INTERNET in education!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تکنیکی اُلجھنیں!
شعبۂ صحافت سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ’عکاسی (فوٹوگرافی)‘ کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش کے ساتھ چند ایسے تکنیکی امور کے بارے سوالات پوچھے ہیں‘ جن کے بنیادی نکات سے لیکر ماہرانہ تفصیلات تک قریب سبھی پہلوؤں کا احاطہ بذریعہ تحریر‘ تصویر اور فلم (ویڈیو ٹیوٹوریلز) باآسانی ’گوگل (انٹرنیٹ سرچ)‘ کے ذریعے پڑھے‘ دیکھے‘ سنے یا پھر اپنے کمپیوٹر لیب ٹاپ یا موبائل فون میں محفوظ بھی کئے جا سکتے ہیں تاکہ ’بار بار دیکھے‘ جا سکیں یا پھر اِن کا حسب ضرورت دوسروں سے تبادلہ (شیئر) کیا جائے‘ تاہم جو بات طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو عموماً معلوم نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ ’’انٹرنیٹ پر تکنیکی (اصطلاحی) موضوعات کی تلاش (سرچ) کا مؤثر طریقہ کیا ہے؟‘‘ 

عجب یہ بھی نہیں کہ ’انٹرنیٹ‘ سے تحریر و تحقیق اور درس وتدریس میں مدد (مؤثر استفادہ) کے اصول بھی خود انٹرنیٹ پر ہی مثالوں کے ساتھ موجود (دستیاب) ہیں لیکن انہیں سمجھنے اور اپنے ’آن لائن‘ ہر ایک منٹ کو ’کارآمد‘ بنانے کے لئے طلباء و طالبات کی رہنمائی ضروری ہے۔ شعبۂ تعلیم کے فیصلہ سازوں سے نصاب مرتب کرنے اُور تدریس و تربیت کے مراحل میں رہنماؤں (اساتذہ) کو عہدحاضر کے تقاضوں (ضروریات) کا ادراک کرنا ہوگا کہ کس طرح یہ بات ضروری نہیں رہی کہ دنیا کو ’گلوبل ویلیج‘ بنانے والا ’انٹرنیٹ‘ صرف ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ پڑھنے والوں ہی کے لئے متعلقہ و بنیادی مضمون ہو بلکہ ’انٹرنیٹ‘ تو ہر ایک مضمون اور علم کی تمام شاخوں کا احاطہ کرنے والی ایک ایسی سہولت ہے جو سارا سال‘ چوبیس گھنٹے بناء کسی تعطیل اور معاوضے کے ’حاضر جناب‘ رہتی ہے اور بالکل ’اُس جناتی مخلوق (جادو)‘ جیسی ہے جسے ’چراغ رگڑنے‘ سے فوراً طلب کیا جاسکتا ہے اور وہ تابع فرمان کردار کوئی بھی کام ’آن کی آن‘ میں یہ کہتے ہوئے سرانجام دے دیتا ہے کہ ’’جو حکم میرے آقا!‘‘

انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہماری نوجوان نسل کو اِس حد تک اپنا غلام (اسیر) بنا دیا ہے کہ انہیں اپنا قیمتی وقت ’آن لائن‘ تفریح طبع کی نذر کرنے جیسے خسارے کا احساس بھی نہیں۔ رہی سہی کسر موبائل فونز کمپنیوں کی جانب سے گھنٹوں باتیں یا لاتعداد مختصر پیغامات (ایس ایم ایس) کے تبادلے جیسی ’کم قیمت‘ سہولت کی فراہمی نے پوری کر دی ہے۔ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کا چسکا (ذائقہ) ہی ایسا ہے کہ اِس میں وقت گزرنے (دن رات) کا اِحساس نہیں ہوتا اُور وہ ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ جو ہماری غلام (تابع اور دسترس میں) ہونی چاہئے تھی لیکن صرف اور صرف رہنمائی اور معلومات نہ ہونے کے سبب (بدقسمتی) سے ہمارے نوجوانوں کی اکثریت کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہے اور لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ جب موبائل خراب ہو تو کہا جاتا ہے کہ بچے نے خراب کیا ہے یا پھر جب یہ پوچھا جائے کہ بچے کو کس نے گمراہ (خراب) کیا تو جواب دیتے ہیں کہ موبائل فون نے! کوئی بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں! 

بناء دماغ (عقل) ٹیکنالوجی کسی تیز دھار آلے کی طرح ’خیرمحض‘ ہے جس سے مفید استفادہ اِس کے صارف کی نیت نہیں بلکہ عمل و مرضی پر منحصر ہے تو کیا ہماری نوجوان (نئی) نسل کو تمباکو نوشی اُور دیگر مضرصحت اشیاء سے پرہیز کی تلقین (بطور پالیسی) کرنے والوں نے کبھی اِس ضرورت کو محسوس کیا کہ کم معلومات کی وجہ سے اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون یا انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ’’کم عمری اُور کم علمی‘‘ دونوں ہی ایسی خطرناک صورتیں (جواز) ہیں کہ اِن سے ’’بچوں‘‘ کو دُور رکھنے ہی میں دانشمندی ہے۔ یہاں بچوں کی اصطلاح کا اطلاق صرف اٹھارہ برس سے کم عمروں یا نابالغوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ ہر اُس عمر کے افراد اِس ذیل میں شمار کئے جا سکتے ہیں جو ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ سے بناء علم (واضح مقصد) کچھ اِس طرح سے (اندھوں کی طرح) استفادہ کر رہے ہوں کہ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا قیمتی وقت‘ صحت‘ اخلاقیات اور وسائل بھی ضائع کرنے کا سبب بن رہے ہوں لیکن انہیں اپنے اِس طرز عمل پر رتی بھر ’اِحساس ضیاع (ندامت)‘ بھی نہ ہو۔

بذریعہ ’برقی مکتوب (اِی میل)‘ سوال پوچھا گیا ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کا ’’4k (فور کے)‘‘ فارمیٹ کیا ہوتا ہے اور اگر ہم اِس ویڈیو ریکارڈنگ فارمیٹ (طریق) کا موازنہ ’’Full HD (فل ایچ ڈی)‘‘ سے کریں تو دونوں میں فرق کیا ہوگا؟ چونکہ آج کل ہر موبائل فون اُور ڈیجیٹل سنگل لیز ریفلیکس (DSLR) کیمرے میں ’ویڈیو ریکارڈنگ‘ کی سہولت (آپشن) دیا گیا ہوتا ہے جس کے ذریعے تصاویر کے ساتھ ویڈیو بھی بنائی جا سکتی ہے اِس لئے ’ڈی ایس ایل آرز‘ کے استعمال کا رجحان فلمبندی (ویڈیوگرافی) میں روز بہ روز بڑھ رہا ہے اور بالخصوص ’صحافتی ٹیلی ویژن (ویڈیو جرنلزم)‘ اور ’کمرشلز (ویڈیو اشتہارات)‘ کی دنیا میں ’ڈی ایس ایل آرز‘ پر اعتماد کیا جانے لگا ہے کیونکہ ’ڈی ایس ایل آرز‘ کم دورانیئے کے ’ویڈیو کلپ‘ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور اِن نسبتاً کم قیمت آلات کی بدولت خوبیوں سے مزین ’آواز و تصویر‘ حاصل کرنا ممکن ہو چکی ہے۔ 

’ڈی ایس ایل آر‘ کیمروں کے ذریعے بنیادی طور پر تین فارمیٹس کا استعمال ہو رہا ہے۔ کسی بھی مقصد کے لئے کی جانے والی فلم بندی (ویڈیوگرافی) کے معیار کی پیمائش ’’ریزولوشن (resolution)‘‘ کی کسوٹی پر کیا جاتا ہے جبکہ یہ ’ریزولوشن‘ تصویر میں روشنی یعنی مختلف رنگوں کے نکتوں (ڈاٹس) کی تعداد سے ظاہر یا منتخب کی جاتی ہے اور ہر ایک نکتے کو پکسل (pixel) کی تعداد سے بیان یا سمجھا جاتا ہے۔ ایسی فلم بندی جو 1280x720 ریزولوشن پر فلمائی جائے اُسے ’’720P یا ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی)‘‘ ویڈیو کہا جاتا ہے۔ 1920x1080 پکسلز ریزولوشن کی ویڈیو کو ’فل ہائی ڈیفینیشن (ایف ایچ ڈی)‘‘ جبکہ 3840x2160 پکسلز ریزولوشن پر بنائی گئی ویڈیو کو ’فور کے (4K)‘ کہا جائے گا۔ایک اُور نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جب ہم پکسلز ریزولوشن کو اعداد جیسا کہ ’’1280x720‘‘ سے ظاہر کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کی ہر ایک تصویر (اسٹل فریم) ٹیلی ویژن کی چوڑائی (width) میں 1280پکسلز جبکہ لمبائی (height) میں 720 پکسلز (ڈاٹس) پر مشتمل ہوگی۔ اگر اِس عدد کے ساتھ ’پی (P)‘ کے حرف کا اضافہ بھی شامل ہو تو اِس کا مطلب ’پروگریسیو‘ ہوگا جو ’انٹرلیس (interlace)‘ ویڈیو کے متضاد ہوتا ہے۔ اگر مقصد یہ ہو کہ ویڈیو کلپ کو بعدازاں اُس کی اصل رفتار سے کم یعنی ’سلوموشن‘ میں دیکھنا ہو تو ’انٹرلیس‘ شوٹنگ فارمیٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تیسری تکنیکی اصطلاح ’ویڈیو گرافی‘ کی کوالٹی (آوٹ پٹ) پر اثرانداز ہوتی ہے۔ 

’’ڈیجیٹل کیمروں‘‘ سے چوبیس‘ تیس یا ساٹھ فریم فی سکینڈ (ایف پی ایس) پر شوٹنگ ہوتی ہے۔ پاکستان میں صحافتی ٹیلی ویژن اُور دستاویزی فلمیں یا ٹیلی ویژن ڈرامے بنانے والے ’چوبیس فریمز فی سیکنڈ‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر ساٹھ فریم فی سکینڈ پر ویڈیو شوٹ کی جائے اور اُسے چوبیس فریم فی سکینڈ پر ’پلے بیک (playback)‘ کیا جائے تو ایسی فلم ’سلوموشن‘ میں چلتی محسوس ہوگی۔ بطور اصول کوئی ایک ’فریم فی سکینڈ‘ قاعدہ ایسا نہیں جسے حتمی سمجھا جائے لیکن اِس چوائس (انتخاب) کا انحصار ’فلم ساز‘ کی ذاتی پسند‘ ترجیح (مقصد) اُور دستیاب آلات اُور وسائل پر ہوتا ہے۔

Thursday, October 29, 2015

Oct2015: Disasters & our handling!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قدرتی آفت: سیاسی و نمائشی تقاضے!
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی پارکنگ میں گاڑی کھڑا کرنے کی جگہ نہیں رہی‘ کیونکہ اِن دنوں وہاں ایک تو ٹیلی ویژن چینلوں کی اُو بی وینز (ڈی ایس این جی گاڑیاں) مستقل ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور دوسرا سبب یہ ہے کہ اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کی آمدورفت کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کرنا پڑے ہیں۔عجب ہے کہ سیاسی رہنما تو اپنی جگہ بیچارے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن اُن کی بیگمات بھی اس ’نادر موقع‘ پر گھروں سے نکل آئیں ہیں اور ضروری سمجھتی ہیں کہ پہلے رش زدہ ہسپتالوں کی رونقوں میں اضافہ کریں! یقیناًسیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ کسی آفت کے موقع پر یہ بات کتنی ضروری ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر کچھ کریں یا نہ کریں لیکن ذرائع ابلاغ میں اُن کی موجودگی برقرار رہنی چاہئے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس دفعہ بھی ڈاکٹروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ’’زخمیوں کو ہرممکن علاج کی سہولیات فراہم کریں‘‘ جیسا کہ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو ڈاکٹر زیرعلاج مریضوں کی نگہداشت کی بجائے اُنہیں ہسپتالوں سے باہر پھینک دیتے! خدارا دکھوں کی ماری قوم سے مذاق بند کیا جائے۔ درد سے کراہتے ہوئے مریضوں کے سراہانے کھڑے ہوکر تصاویر اور فلمیں بناے والوں کو خوف خدا بھی نہیں رہا! کسی مریض پر جھک کر قوم کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کتنے دردمند ہیں حالانکہ اُنہوں نے سانس روک رکھی ہوگی کہ مبادا بدبو اُن کے نتھنوں سے نہ ٹکرائے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ حضور آپ جس وارڈ میں کھڑے ہیں کیا کبھی یہاں علاج کے لئے آنا پسند کریں گے؟ ہسپتال انتظامیہ بھی معاون بنی ہوئی ہے جو ہاتھ باندھے منتظر رہتی ہے اور چند ایسے مریضوں کوصاف ستھرے بیڈوں اور سلیقے سے رکھی ہوئی ادویات والے ایک وارڈ کو سجا کر رکھا جاتا ہے تاکہ سیاست دان تصاویر بنانے کا اپنا شوق اور ایک سیاسی ضرورت پوری کرسکیں۔

کسی سرکاری ہسپتال کے لئے انتظامی نگران اور مختلف شعبہ جات کی سربراہی کا فیصلہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاست دان کرتے ہیں۔ اگر قابلیت اور اہلیت کوئی معنی رکھتی تو ہمیں سرکاری ہسپتالوں کی اکثریت میں میڈیکل ڈاکٹر بطور نگران تعینات نہ ملتے بلکہ وہ تو اپنے تجربے اور طب پر دسترس کا فائدہ مریضوں کوپہنچا رہے ہوتے لیکن ہمارے ہاں عجب ہے کہ سرکاری ہسپتال میں بطور نگران بن کر وسیع و عریض کمرہ‘ مراعات و اختیارات جن میں حکومت سے ملنے والے کروڑوں روپے کی گرانٹ‘ ہسپتال کی اپنی آمدنی‘ ہزاروں کروڑوں روپے کی ادویات اور آلات کی خریداری وغیرہ جیسے امور شامل ہوتے ہیں پر حاکمیت برقرار رکھی جائے۔ یہ معاملہ صرف سرکاری ہسپتالوں ہی کا نہیں بلکہ ہر حکومتی ادارے کے انتظامی معاملات کو ایک ایسے نظام سے جوڑ دیا گیا ہے جس میں حکمراں سیاسی جماعت کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے لیکن کسی ادارے کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری نہ تو انتظامیہ قبول کرتی ہے اور نہ اُن کا انتخاب کرنے والے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں ایک ایسے ہسپتال کا جہاں جدید ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں اور تشخیص میں معاون آلات نہ ہوں۔ چھبیس اکتوبر کے زلزلے نے ایک مرتبہ پھر ہماری علاج گاہوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جہاں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ مریضوں کاعلاج ہوتا ہے اور کسی ہنگامی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ مریض ہوتے ہیں جن کے طبی عملے کا رخ دیگر مریضوں کی جانب موڑ دیا جاتا ہے!

چھبیس اکتوبر کے زلزلے کے بعد ہر کوئی ذرائع ابلاغ میں اپنی اپنی ساکھ بنانے کے چکر میں ایک دوسرے پر برتری لیجانے کی کوشش میں ہے۔ عجب ہے کہ اگر کسی کو امداد دینی ہے تو یہ عمل رازداری اور ’’مبنی بر نمائش‘‘ نہیں ہونا چاہئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر پاک فوج کا ادارہ فوری ردعمل کا مظاہرہ نہ کرتا تو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ جانی نقصان ہوتا اور یہ نقصان کسی عمارت کے ملبے تلے دبنے یا اس قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں بلکہ موسم کی شدت اور بھوک و پیاس سے ہوتا۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں زلزلہ متاثرین بے سروسامانی کی حالت میں ہیں۔ انہیں گرم کپڑوں سمیت سر چھپانے کے لئے چھت کی ضرورت ہے۔امدادی اداروں کی جانب سے فراہم کئے جانے والے خیمے برفباری اور بارش جیسے شدید موسم کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہیں خریدے گئے۔ پالیسی سازوں کی فہم و فراست کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موسمی شدت والے علاقوں کے لئے الگ قسم کے خیمے خرید کر نہیں رکھے گئے۔ پاک فوج جیسے منظم ادارے کے پاس ملبہ ہٹانے‘ عارضی پل‘ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش کے لئے الیکٹرانک آلات‘ ہیلی کاپٹر‘ ترسیل کے لئے طاقتور گاڑیاں (ٹرک) اور کیمونیکشن (رابطہ کاری) کا ایک ایسا مستعد و مؤثر نظام ہے‘ جو کسی بھی موسم اور درجۂ حرارت میں کام کر سکتا ہے۔ اس قسم کی تکنیکی صلاحیت امدادی اداروں بالخصوص ریسکیو 1122 کے پاس بھی ہونی چاہئے تھی۔ خیبرپختونخوا حکومت کو سوچنا چاہئے کہ انہیں ترجیح بنیادوں پر ’ریسکیو 1122‘ کی خدمات کو کم از کم اضلاع کی سطح تک توسیع دے۔ چند بڑے شہروں کی حد تک ’ریسکیو کا ادارہ‘ کافی نہیں۔

قدرتی آفت چھوٹی ہو یا بڑے پیمانے پر اس کے وسیع منظرنامے اور پہلوؤں پر غور کرنے سے پہلے سیاسی و نمائشی تقاضوں کو الگ رکھنا ہوگا۔ جہاں دس برس بعد بھی زلزلے سے متاثرہ سکول تعمیر نہیں ہوسکے۔ جہاں 2005ء کے زلزلہ متاثرین کو بحالی کے لئے امداد ملنے کا سلسلہ پانچ برس بعد شروع کرنا ممکن ہوا ہو‘ وہاں اُنہی حکومتی اداروں سے یہ توقع کرنا کہ ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا کے دکھوں پر مرہم رکھیں گے‘ یہ بات اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ چھبیس اکتوبر کا زلزلہ نہ تو آخری تھا اور نہ ہی اس کے بعد قدرت کے مقرر کردہ ماحولیاتی توازن میں بگاڑ کی وجہ سے تغیرات کا سلسلہ رک جائے گا۔ جس ملک میں ’ماحولیات‘ کے محکمے کو ’ماخولیات‘ سمجھا جائے۔ جہاں انتخابات میں کامیاب ہونے کے ماہرین کو فیصلہ سازی سونپ دی جائے وہاں ذاتی و سیاسی ترجیحات کے تحفظ پر حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ زلزلہ متاثرین کی امداد اور متاثرہ علاقوں میں معیشت و معاشرت کی بحالی کے لئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کو زحمت کرنے کی قطعی ضرورت نہیں بلکہ یہ کام زیادہ بہتر انداز میں بلدیاتی نمائندے کر سکتے ہیں کیونکہ اُن کی موجودگی ہر گاؤں‘ تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود ہے۔ نہایت مناسب وقت ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں بلدیاتی نمائندوں کی شرکت اور تعمیروترقی کے حوالے سے ترجیحات کے تعین میں اُن کی رائے کو خاطرخواہ اہمیت دی جائے۔

Saturday, August 22, 2015

Aug2015: REFRESHING PEMRA Code of Conduct

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ضابطۂ اخلاق
وفاقی حکومت کی جانب سے ’الیکٹرانک میڈیا (ٹیلی ویژن چینلوں)‘ کے لئے ضابطۂ اخلاق (کوڈ آف کنڈکٹ) جاری کیا گیا ہے‘ جس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ نجی اِداروں کو ٹیلی ویژن اسٹیشنوں‘ اَیف اَیم ریڈیو چینلز (نشریاتی اداروں) اُور کیبل آپریٹروں کو اِجازت نامے (لائسینس) جاری کرنے سے قبل تحریری ’قواعد وضوابط‘ پر دستخط لئے جاتے ہیں لیکن یہ تسلی قابل تشفی نہیں کیونکہ قواعد تو موجود ہیں لیکن اُن پر سرکاری ادارے عمل درآمد کرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے جس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ ’سیاسی مداخلت‘ ہے۔ جب تک سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت اور سیاسی فیصلہ سازوں کے اپنے ذاتی و کاروباری مفادات الگ الگ نہیں ہو جاتے‘ اُس وقت تک صورتحال بہتر نہیں بنائی جا سکے گی۔

سردست صورتحال یہ ہے کہ نیوز اور تفریحی ٹیلی ویژن چینلوں جو مواد نشر کرتے ہیں‘ اس میں غیرملکی پروگراموں کا تناسب مقررہ حد سے زیادہ ہے اور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) قواعد کی رو سے یہ ایک خلاف ورزی ہے جس کے مرتکب چینلوں کے لائسینس تک منسوخ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح فی گھنٹہ اشتہارات نشر کرنے کے زیادہ سے زیادہ اوقات بھی مقرر ہیں جن پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور جرائم کو ڈرامائی تشکیل کے ساتھ پیش کرنے کی ’بھیڑ چال‘ اپنی جگہ قابل مذمت ہے جسے نئے ضابطۂ اخلاق کے تحت اگرچہ رات گیارہ بجے کے بعد نشر کیا جائے گا لیکن چونکہ ایسے پروگراموں کی نشر مکرر بھی ہوتی ہے اور چینلز انہیں انٹرنیٹ پر ڈال دیتے ہیں‘ جہاں اِنہیں کسی بھی وقت دیکھا جا سکتا ہے اُور عمر کی جس حد کی نظروں سے اِسے دور رکھنا مقصود ہے وہ کئی ذرائع سے اس خطرناک مواد تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ عجب ہے کہ ٹیلی ویژن چینلوں نے ’واٹس ایپ‘ کے گروپس بنا رکھے ہیں جہاں پروگراموں بشمول بلیٹنز کی لمحہ بہ لمحہ تشہیر کی جاتی ہے۔ پیمرا حکام کو سمجھنا ہوگا کہ صرف سیٹلائٹ کے ذریعے نشریات میں پروگراموں کے اوقات کار ہی اہم نہیں بلکہ ان کی تیاری میں جس احتیاط اور اخلاقی قدروں کا احساس کرنے کی ضرورت ہے‘ وہ ہر شے پر مقدم ہونی چاہئے۔ عالمی سطح پر پائے جانے والے ’میڈیا کے رجحانات‘ کو من و عن پیچھا کرنا یا اشتہاری اداروں کی ضروریات کے مطابق مورننگ شوز سے لیکر نیوز بلٹین تک ترتیب دینے والے اِداروں کا ’کڑا احتساب‘ضروری ہے۔

کیا ہم یہ حقیقت فراموش کر سکتے ہیں کہ ’’پاکستان میں حکمران جمہوری ہوں یا آمر وہ خود کو احتساب سے بالا تر توسمجھتے ہی ہیں ساتھ ہی اپنے اوپر تنقید بھی برداشت نہیں کرتے۔‘‘ کوئی بھی ادارہ اسلامی اقدار‘ نظریہ پاکستان اور آئین کے خلاف پروگرام نشر نہیں کر سکتا اور اس معاملے میں اسے اپنی ذمہ داری کا بخوبی ادراک ہے۔ اگر کوئی میڈیا گروپ اس کے باوجود بھی بے لگام ہوتا ہے تو اس کا احتساب حکومت کی طرف سے بنائے گئے یکطرفہ ضابطۂ اخلاق سے نہیں آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ اکثر میڈیا گروپس اسلامی اقدار‘ نظریۂ پاکستان اُور آئین کی پاسداری کرتے ہیں۔ حکومت اگر ’کوڈ آف کنڈکٹ‘ جاری کرنا چاہتی ہے تو میڈیا گروپس کو اعتماد میں لے تاکہ کل کسی کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا الزام لگے تو اسے انتقامی کاروائی قرار دے کر واویلا نہ کیا جائے۔ ٹریفک سے لیکر ٹیلی ویژن چینلوں تک قواعد پر عمل درآمد کرانے اُس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک فیصلہ ساز اپنی اِصلاح نہیں کر لیتے کہ آئین و قواعد کا اُن پر بھی یکساں بلکہ ترجیحاً اطلاق ہوتا ہے۔

پیمرا کو ایک نظر بھارت کے ’ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ)‘ سروسیز پر بھی رکھنا ہوگی جو پاکستانی مارکیٹ سے ماہانہ اربوں روپے کما رہے ہیں۔ ایک وقت تک پاکستان کے اپنے ٹیلی فون ادارے کو موبائل فون سروس شروع کرنے کی اجازت نہیں تھی اور غیرملکی اداروں کو پاکستان میں پاؤں جمانے اور منافع کمانے کے لئے ہرممکنہ سہولیات فراہم کی گئیں۔ جس سے فائدہ اُٹھانے والے بھی سیاست دان ہی تھے۔ آج بالکل ویسی ہی صورتحال ’ڈی ٹی ایچ‘ کے حوالے سے درپیش ہے کہ اس شعبے میں نہ تو نجی اور نہ ہی سرکاری شعبہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اگرچہ اس کا لائسینس بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ نشریاتی ٹیکنالوجی وائرلیس ہو چکی ہے لیکن ہمارے ہاں آج بھی کیبل آپریٹر ’اینالاگ (analog)‘ نشریاتی وسائل کا استعمال کر رہے ہیں جس میں نشر کئے جانے والے چینلوں کی تعداد محدود بھی ہوتی ہے اور اُن کا معیار بھی تسلی بخش نہیں ہوتا۔ پیمرا حکام کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ سال 2015ء کے آخر تک کیبل آپریٹروں کو ڈیجیٹل آلات نصب کرنے کی جو ڈیڈلائن دی گئی ہے‘ اُس پر عمل درآمد کا مرحلہ وار جائزہ ابھی سے لیا جائے اور اِس ڈیڈ لائن کی مدت میں کسی بھی صورت اور کسی بھی دباؤ کے تحت توسیع نہ کی جائے۔

ٹیلی ویژن چینلز ہوں یا کیبل آپریٹرز‘ ناظرین و سامعین اُور صارفین کے حقوق کا سب سے کم خیال رکھا جاتا ہے۔ کسی کیبل آپریٹر کے بارے میں شکایت ہو بھی تو اس سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ پیمرا کے صوبائی دفاتر اور سیاسی بنیادوں پر اراکین کا چناؤ ایک ایسی روایت ہے جس کا خاتمہ کئے بناء قواعد و ضوابط اور کسی بھی قسم کے ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد عملاً ممکن نہیں ہو پائے گا۔
Govt chalked out new CODE OF CONDUCT for electronic media but it would not be fruitful as implementation is need rather more rules and regulations