Showing posts with label transgender community. Show all posts
Showing posts with label transgender community. Show all posts

Sunday, January 14, 2018

Jan 2018: Priority health without priorities!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سبز باغ!
’پارو‘ اُور ’آرزو‘ کا تعلق پشاور کے اُن چنیدہ ’خوش نصیب‘ خواجہ سراؤں میں ہوتا ہے‘ جنہیں صوبائی حکومت کی جانب سے ’’صحت اِنصاف کارڈ‘‘ فراہم کئے گئے ہیں اُور اب وہ مخصوص سرکاری و نجی ہسپتالوں سے ’سالانہ‘ پانچ لاکھ چالیس ہزار روپے تک ’علاج معالجے کی سہولیات‘ مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ 

خواجہ سراؤں کو ’صحت اِنصاف کارڈز‘ کی فراہمی کا عمل مرحلہ وار انداز میں مکمل کیا جائے گا جبکہ پہلے مرحلے میں پشاور سے تعلق رکھنے والے خواجہ سراؤں کو کارڈز فراہم کر دیئے گئے ہیں اور بعدازاں اِس منصوبے کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے دیگر تمام ’خواجہ سراء‘ بھی صوبائی حکومت کی جانب سے ’صحت کا بیمہ‘ حاصل کر لیں گے۔ 

انصاف صحت کارڈ حاصل کرنے کا طریقۂ کار کسی عام فرد کے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن حد تک دشوار ہے‘ جس میں اُس کی ضرورت اور مالی حیثیت کا تعین وفاقی حکومت کی جانب سے کئے گئے سروے (جائزے) کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ اصولی طور پر صوبائی حکومت کو اپنے وسائل سے ’غربت کا سروے‘ کرنا چاہئے تھا اور یہ عمل اضلاع یا ڈویژنز کی سطح پر مکمل ہونے کے بعد ’صحت انصاف کارڈز‘ کا اجرأ عمل میں لایا جاتا لیکن چونکہ سیاسی حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور سرکاری افسروں کو ’برق رفتار کارکردگی‘ دکھانے کا شوق ہوتا ہے تاکہ وہ اعلیٰ و ادنی انتظامی عہدوں پر فائز رہیں اور اُنہیں ملنے والی مراعات میں اضافے کا سلسلہ بھی جاری رہے اِس لئے کامیابی اِسی میں ہے کہ سیاسی حکمرانوں کے مزاج کے مطابق اُنہیں ’’سبز باغ‘‘ دکھائے جائیں۔ یہی طریقۂ واردات ’صحت انصاف کارڈ‘ نامی اُس حکمت عملی سے بھی روا رکھا گیا‘ جسے اگر سوچ سمجھ اور منصوبہ بندی سے عملی جامہ پہنایا جاتا تو بھلے ہی یہ حکمت عملی عام انتخابات کے قریب منظرعام پر آتی لیکن اِس سے زیادہ بڑے پیمانے پر مستحقین مستفید ہو سکتے تھے۔ بہرحال دنیا کی نظروں میں آنے کے لئے‘ عام مستحقین کے مقابلے ’صحت انصاف کارڈ‘ کی رجسٹریشن کا عمل ’خواجہ سراؤں‘ کے لئے ’آسان تر‘ رکھا گیا ہے اور اِس پوری کوشش کے پیچھے ’بلیووینز‘ نامی اُس غیرسرکاری تنظیم کی کوششوں کا بڑا عمل دخل ہے‘ جو ’خواجہ سراؤں‘ کے حقوق کے تحفظ اور انہیں سماجی و آئینی انصاف کی فراہمی ممکن بنانے کے لئے غیرملکی (بیرونی مالی) امداد حاصل کرتی ہے۔ یوں خواجہ سراؤں کے دم کرم سے خیبرپختونخوا میں کئی ’این جی اُوز‘ اُور اِن تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کے چولہے جل رہے ہیں! خواجہ سراؤں کو دھوم دھام اور پورے اہتمام سے ’صحت انصاف کارڈ‘ دیئے گئے اور وہ سرکاری اہلکار جنہیں دفتری کاموں سے فرصت نہیں ہوتی اور جن کے دفتروں اُن کے منتظر رہتے ہیں! ایک ایسی تقریب کی زینت بنے رہے‘ جس کی کئی ایک وجوہات کی بناء پر ضرورت نہیں تھی۔ تصور کیجئے کہ خیبرپختونخوا میں مکحمۂ صحت کے نگران ’ڈائریکٹر جنرل‘ ڈاکٹر ایوب روز‘ سوشل ویلفیئر کے ڈائریکٹر عابداللہ کاکا خیل‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر امتیاز تنولی‘ بلیو وینز کے پروگرام کوآرڈینیٹر قمر نسیم اور خواجہ سراؤں کی تنظیم کے صوبائی صدر فرزانہ جان حاضر جناب رہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے بقول ’’پاکستان میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد بیس ہزار ہے جن میں سے دو ہزار کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ پشاور میں رہنے والے 229 خواجہ سراؤں کو پہلے مرحلے میں ’صحت انصاف کارڈز‘ فراہم کئے گئے ہیں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں رہنے والوں کو بھی اِن کارڈز کی فراہمی کا سلسلہ جلد شروع ہو جائے گا۔‘‘

’صحت انصاف کارڈ‘ نامی ’ہیلتھ انشورنس‘ اکتیس اگست دوہزارسولہ روز کو جاری کی گئی تھی۔ اِس دوسالہ حکمت عملی کے لئے مالی وسائل (پانچ ارب‘ چھتیس کروڑ بائیس لاکھ روپے) جرمنی کے مالیاتی ادارے ’کے ایف ڈبلیو‘ نے فراہم کئے تھے اور طے یہ ہوا تھا کہ اِس کے ذریعے خیبرپختونخوا کے 18لاکھ گھرانوں (فی گھرانہ آٹھ افراد) کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اندازہ تھا کہ اس سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو فائدہ ہوگا تاہم جلد ہی اِس منصوبے میں لاکھوں سرکاری ملازمین کو بھی شامل کر لیا گیا جو پہلے ہی آمدنی کا مستقل اور پائیدار ذریعہ رکھتے تھے اور وہ کسی بھی صورت اہل (مستحق) نہیں تھے۔ اب خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کے بعد باقی ماندہ خیبرپختونخوا کو بھی شامل کر ہی لیا جائے کیونکہ ویسے بھی سرمایہ دار اور خود سیاست دان اپنا علاج معالجہ اپنے صوبے یا ملک میں علاج کروانا پسند نہیں کرتے اور جن کے پاس تھوڑے بہت مالی وسائل ہوتے ہیں وہ اپنا یا اپنے پیاروں کا علاج نجی ہسپتالوں سے کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں سے بہ اَمر مجبوری رجوع کرنے والوں کی حالت زار کسی بھی ضلعی یا پشاور کے مرکزی ہسپتالوں میں مشاہدہ کی جاسکتی ہے! 

انصاف صحت کارڈ کوئی تعویذ نہیں کہ اِسے حاصل کرنے والے کی شفایابی یقینی ہوگی‘ حکومت اگر سرکاری ہسپتالوں کا قبلہ درست کرنے پر توجہ مرکوز کرتی تو ایسے کسی کارڈ (اضافی اخراجات) کی ضرورت ہی پیش نہ آتی! 

بہرحال اِس مرحلے پر صرف یہی مقصود ہے کہ ’انصاف صحت کارڈ‘ سے متعلق خیبرپختونخوا حکومت کی کوششیں اصلاحات کی متقاضی ہیں۔ اِس حکمت عملی کے تحت سیاسی بنیادوں پر کئی نجی ہسپتالوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ یہ بات آج کی تاریخ میں کوئی تسلیم نہیں کرے گا لیکن مستقبل میں جب بدعنوانی کے مقدمات قائم ہوں گے تو کئی معززین کے نام آئیں گے جن کی عدالتوں کے باہر قطاریں لگی دکھائی دیں گی‘ یہ وہی ہوں گے جنہوں نے تجاہل عارفانہ اختیار کیا اور ایسے نجی ہسپتالوں کو پینل پر لیا‘ یا اُن کے پینل پر لانے کی غیرتحریری سفارش کی یا پینل پر لانے کے بعد اُن پر اعتراض نہیں اٹھایا‘ جس کا اُنہیں اختیار نہ بھی ہوتا لیکن غریبوں کے علاج معالجے کے لئے مختص وسائل کی یوں لوٹ مار پر خاموش تماشائی رہنے والوں کو بھی جرم میں یکساں (برابر کا) شریک سمجھا جائے گا۔ وہ وقت زیادہ دور نہیں!

Monday, January 8, 2018

Jan 2018: Transgender community of KP, looking a head with a hope for 2018!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ہم زمین: اِنسان!
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ’خواجہ سرا‘ پراُمید ہے کہ ’دوہزار اٹھارہ‘ اُن کے لئے گذشتہ سال کے مقابلے زیادہ محفوظ ثابت ہوگا اُور اُنہیں ماضی کے مقابلے ’نئے سال‘ کے دوران ملکی و بین الاقوامی سطح پر اِنسانی حقوق کے علمبرداروں اُور بالخصوص ذرائع ابلاغ کی حمایت و توجہ حاصل رہے گی۔ 

خواجہ سراؤں کی نمائندہ تنظیم کی جانب سے نئے سال کے آغاز پر مبارک باد اور نیک خواہشات کے اظہار پر مبنی ’برقی مکتوب (اِی میل)‘ میں اُن چند مسائل (چیلنجز) کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے جن سے یہ کیمونٹی نبردآزما ہے اور قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے علاؤہ‘ ہر طبقے اُور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی توجہ و تعاون کی متمنی ہے۔ جائز و منطقی مطالبہ ہے کہ ’’خواجہ سراؤں کو بھی ہم زمین اور اِنسان سمجھا جائے۔ اِن کی جملہ ضروریات‘ مسائل‘ درپیش مشکلات کے حل اور اِن سے متعلق عمومی رائے کو تبدیل کرنے کے لئے متعلقہ حکومتی ادارے اپنا اپنا کردار ادا کریں اور معاشرہ اِنہیں حقیر سمجھنے کی بجائے خصوصی سمجھ کر حساسیت سے معاملہ کرے کہ جس طرح آمدن کے پائیدار اور باعزت ذرائع کی ضرورت دیگر طبقات کو ہے اِسی طرح خواجہ سراؤں کے لئے بھی تعلیم‘ ہنرمندی‘ روزگار کے مواقع‘ سہولیات اُور رہنمائی کا بندوبست ہونا چاہئے۔‘‘

سالانہ جرائم سے متعلق پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار گواہ ہیں کہ ’’سال دوہزار سترہ کے دوران خیبرپختونخوا کے طول و عرض (زیادہ تر پشاور) میں خواجہ سراؤں پر حملوں کے 208 مقدمات (ایف آئی آرز) درج ہوئے جبکہ اِس عرصے میں پانچ خواجہ سراؤں کو قتل بھی کیا گیا۔‘‘ جن دوسو سے زائد حملوں کی رپورٹ تھانہ جات میں درج کرائی گئیں وہ چند ایک ہیں اور بیشتر واقعات پولیس کو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ خواجہ سراؤں کو دھمکیاں ملنے یا معاشرے میں کمزور مالی و سماجی حیثیت ہونے کی وجہ سے یہ اکثر زیادتیوں پر چپ سادھ لیتے ہیں اور یہی اِن کی کمزوری ہے کہ ظلم سہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ بہرحال جس طرح مردم شماری میں خواجہ سراؤں کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی بالکل اِسی طرح اِن کے خلاف ہونے والے پرتشدد اور ناقابل بیان جرائم کی حقیقی (اصل) تعداد کے بارے میں بھی کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ 

خواجہ سراؤں کے لئے باعزت روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور اِس کیمونٹی کے لوگ جس قسم کی اجتماعی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اُس میں بھیک مانگ کر گزر بسر کرنا ہی زیادہ مقبول (سہل) ہے۔ رقص‘ گلوکاری اور موسیقی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے والے خواجہ سراؤں کو جرائم پیشہ عناصر سے مستقل واسطہ رہتا ہے اور یہی اُن کے لئے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث امر ہے۔
سال دوہزار پندرہ سے دوہزار سترہ تک خیبرپختونخوا میں ’’54 خواجہ سراء‘‘ قتل کئے جا چکے ہیں۔ اِن اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ دوہزار سترہ نسبتاً ’’کم خونی سال‘‘ تھا اُور اِس کی وجہ بڑے پیمانے پر معاشرتی شعور میں اضافہ اور ذرائع ابلاغ کی گہری نظر ہے جس کی موجودگی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے خواجہ سراؤں پرحملہ آوروں کو معاف نہیں کرتے اور اب خواجہ سراؤں پر جسمانی حملوں یا اُن کی تضحیک کو ہنسی مذاق بھی نہیں سمجھا جاتا۔ المیہ ہے کہ خواجہ سراؤں کی آبروریزی‘ حبس بیجا‘ تشدد اور اغواء برائے تاوان جیسی وارداتیں اب بھی ایک تواتر سے رونما ہو رہی ہیں لیکن خوش آئند ہے کہ آج ’خواجہ سراء‘ تنہا نہیں اور کئی غیرسرکاری تنظیمیں (این جی اُوز) اُن کے حقوق کے تحفظ کے لئے فعال ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے پچیس میں سے پانچ اضلاع خواجہ سراؤں کے لئے انتہائی حساس قرار دیئے جا سکتے ہیں کیونکہ رپورٹ ہونے والے دوسوآٹھ واقعات اور قتل کی وارداتیں اِنہی پانچ اضلاع (پشاور‘ بنوں‘ سوات‘ مردان اُور نوشہرہ) میں پیش آئی ہیں۔ اِن پانچ اضلاع سے خواجہ سراؤں کی ایک تعداد دیگر اضلاع اُور صوبوں کو منتقل ہوئی ہے تاہم خطرات کم نہیں ہوئے۔ 

تجویز ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں (اگر چاہیں تو) خواجہ سراؤں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ’’جی ایس ایم (جی پی ایس)‘‘ الیکٹرانک آلات کا استعمال کرسکتی ہیں‘ جن سے چوبیس گھنٹے نگرانی اُور جیوفینسنگ بھی ممکن ہے۔ 

خیبرپختونخوا کے جن اضلاع میں خواجہ سراؤں پر تشدد کے واقعات رپورٹ نہیں ہوئے‘ اِس کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ وہاں خواجہ سراؤں کو معاشرے نے سرآنکھوں پر بٹھا رکھا ہے یا اُن کے وجود کو قبول کر لیا گیا ہے بلکہ اصل مسئلہ اِن واقعات کا رپورٹ نہ ہونا ہے۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لئے موبائل فون ایپ (app) بھی جاری (لانچ) کی جا چکی ہے‘ تاکہ اِس موبائل فون سافٹ وئر کے ذریعے ’خواجہ سراء‘ اپنے خلاف ہونے والے کسی چھوٹے بڑے مخالفانہ رویئے (واقعات) مقامی ’این جی اُو‘ کو رپورٹ کر سکیں۔

خواجہ سراؤں کو صرف اُن کے مداح یا جرائم پیشہ عناصر یا پیشہ ورانہ مخالفین ہی سے خطرات لاحق نہیں بلکہ اُن کے اہل خانہ ’غیرت‘ کے نام پر بھی نشانہ بنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سال دوہزار سترہ میں قتل ہونے والے پانچ خواجہ سراؤں میں سے دو کو اُن کے اہل خانہ ہی نے قتل کیا کیونکہ وہ ناچ گانے سے اپنا گزر اُوقات کرتے تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ’’دوسو آٹھ‘‘ رجسٹرڈ کیسیز میں 46 آبروریزی اور اجتماعی آبروریزی کے ہیں۔ جرائم کے لحاظ سے خواجہ سراؤں کے لئے سب سے ناموافق ضلع پشاور جبکہ دیگر اَضلاع میں بالترتیب مردان‘ نوشہرہ‘ صوابی اور بنوں شامل ہیں لیکن انہیں زیادہ تشویش صحت اور علاج معالجے کے حوالے سے ہے کیونکہ قوت مدافعت ختم کرنے والی بیماری ’ایڈز (ایچ آئی وی)‘ کا غیرمحتاط جنسی تعلقات اور غیرصحتمند طرز زندگی کی وجہ سے لاحق ہونے کا امکان رہتا ہے۔ 

پاکستان میں 39 ہزار خواجہ سراء ’اَیچ آئی وی‘ (جرثومے) سے متاثر ہیں‘ جو اِس مرض کے مجموعی متاثرین کی تعداد کا قریب آٹھ فیصد بتائے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال کافی سنگین ہے۔ مثال کے طور پر حال ہی میں پشاور (دَلہ زاک روڈ‘ ملک پلازہ) اُور اِس کے اَطراف میں رہائش پذیر 38 خواجہ سراؤں کے خون کی جانچ کی گئی‘ جن میں سے 21 ’ایچ آئی وی‘ سے متاثر پائے گئے اور یہ جرثومہ انتقال خون یا پھر متاثرہ شخص کے زیراستعمال رہنے والی ٹوتھ برش‘ تولیے‘ بلیڈ‘ ریزر وغیرہ کے استعمال سے بھی پھیل سکتا ہے۔ 

خواجہ سراؤں کے بارے میں معاشرتی رویئے تبدیلی چاہتے ہیں۔ اِنتہائی کم تعداد میں اِن مظلوموں کے لئے تعلیم و ہنرمندی کے ذریعے روزگار کے پائیدار مواقع اور سماجی قبولیت و سرپرستی ہو تو اِنہیں معاشرے کا فعال و کارآمد جز بنایا جاسکتا ہے۔
۔