Showing posts with label Bio Matrix. Show all posts
Showing posts with label Bio Matrix. Show all posts

Thursday, July 30, 2015

Jul2015: Difficulties in obtaining passports!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پاسپورٹ کاحصول:حاصل اُور وصول!
یہ زعم اپنی جگہ اَلمیہ‘ لمحۂ فکریہ اُور خودفریبی کی اِنتہاء ہے کہ خدمت کے سرکاری منصب پر فائز کسی وفاقی‘ صوبائی یا مقامی حکومتوں کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکار برسرزمین حقائق کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اگرچہ اعدادوشمار اِس بات کی تائید کرتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت یا تو غریب ہے یا پھر انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے اُور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز ’اذہان عالیہ‘ کو اِس بات کی واجبیسی پرواہ بھی نہیں لگتی کہ اُن کی وضع کردہ حکمت عملیوں‘ دفتری اُوقات‘ حتیٰ کہ تعطیلات کا معاشرے کے اِس عمومی غریب طبقے یعنی کہ ہم عوام کی اکثریت پر کس قدر منفی اَثر پڑ رہا ہے!
تیس جولائی کی صبح جبکہ ابھی سورج کی کرنوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع ہی کیا اور پہلے سے حبس زدہ ماحول میں رفتہ رفتہ گرمی کا اضافہ محسوس کرنے والوں کی بے چینی اُن کے پسینے میں شرابور تن بدن اور دہکتے ہوئے چہروں سے عیاں ہو رہی تھی۔ یہ منظرنامہ ’پاسپورٹ آفس (حیات آباد)‘ کے باہر کا تھا جہاں رُک کر یکے بعد دیگرے کئی ایک لمبی سانسیں لینی پڑیں۔ دفتری اُوقات سے 2 گھنٹے قبل پہنچنے پر بھی وہاں کم وبیش دوسو سے ڈھائی سو افراد قطار بنائے کھڑے پائے گئے۔ یہ قطار سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی ’پاسپورٹ آفس‘ کے داخلی گیٹ سے دیوار کے ساتھ ساتھ کسی پودے کی طرح چپکی ہوئی تھی جہاں سے مڑ کر سڑک اور پھر دوسرے کنارے درختوں کے گرد گھومتی ہوئی واپس عین سڑک کے بیچوں بیچ تک پھیل چکی تھی۔ پھیکی پھیکی دھوپ میں بناء کسی سائے قطار میں کھڑے درخواست گزاروں کے نام اور شکلیں مختلف لیکن اُن سب کی قسمت ایک جیسی تھی! ہاتھوں میں فائلیں اُور اکثریت کے کندھوں پر سوتی چادریں رکھی ہوئی تھیں‘ جنہیں سروں پر کمال مہارت سے ٹکائے کئی ایک تو تھک کر پاؤں کے بل اور چند ایک مزید تھک کر زمین پر بیٹھ چکے تھے۔

یہ ایک خوفناک اور انتہائی ڈروانا بلکہ دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں کے علاؤہ ایک اچھی خاصی تعداد لوہے کے زنگ آلودہ گیٹ پر بھی الگ سے چپکی ہوئی تھی‘ جنہیں عمارت کی چاردیواری کے اندر حد نگاہ تک سنساٹا اور بندوقیں تان کر کھڑے سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر حیرت ہو رہی ہوگی لیکن شاید ان سب کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ پشاور سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندے کہاں تھے؟ وہ تبدیلی کہاں تھی جس کے خواب کا تسلسل نیند ٹوٹنے کے باوجود بھی ختم نہیں ہورہا۔ ایک عمارت کہ جس کی کھڑکیاں دروازے حتی کہ روشن دان بھی بند لیکن اُس کے باہر سائل لو پھوٹنے سے قبل جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ دفتری مقررہ اُوقات شروع ہونے میں دو گھنٹے کا وقت باقی ہونے کی وجہ سے ائرکنڈیشن کے بیرونی یونٹ بھی خاموش تھے‘ جنہیں دیکھتے اور گرمی کو محسوس کرتے ہوئے یہ سوال بھی سر سے پاؤں تک قطرہ قطرہ بہہ رہا تھا کہ اگر سرکاری دفاتر میں فراہم کردہ سہولیات (اصولی طور پر) ’صارفین‘ کے لئے ہیں جن کی قیمت بھی عوام ایک سے زیادہ ٹیکس یا متعلقہ اداروں کی مقررہ فیسوں کی صورت اَدا کرتے ہیں تو پھر اِن سہولیات پر عام آدمی کا حق کیوں نہیں؟ پاسپورٹ یا شناختی کارڈ (نادار) دفاتر کے باہر قطار میں کھڑے ہوئے ’درخواست گزار‘ کون لوگ ہیں؟ کیا یہ کسی دوسرے ملک کے باشندے ہیں؟ کیا انہیں پاکستانی ہونے کی سزا مل رہی ہے؟ قومی شناختی دستاویزات کے حصول جیسا حق کیوں اس قدر ’مشکل بلکہ مشکل ترین‘ بنا دیا گیا ہے؟ جن دفاتر سے رجوع کرنے والے قطاروں میں سارا دن انتظار کرنے کے باوجود بھی مایوس لوٹ جاتے ہیں وہاں دفتر کے اوقات بڑھا کیوں نہیں دیئے جاتے؟ آخر یہ کس آسمانی کتاب یا مقدس صحیفے میں تحریر ہے کہ سرکاری دفاتر کے اوقات نہ تو بڑھائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جا سکتا ہے جبکہ اُن سے رجوع کرنے والوں کی بڑی تعداد مشکلات کا دوچار ہو؟


ایک سے زیادہ شفٹیں کیوں مقرر نہیں کی جا سکتیں تاکہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ حاصل کرنے والوں کی یوں ’کھلے عام (ظاہری و پوشیدہ) زحمتیں‘ تمام ہوں؟ آخر کیا اَمر مانع ہے کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی بنیادی دستاویزات کا حصول ایک ہی دفتر (ڈیسک) سے اُور ایک ہی مرتبہ کی شناختی جانچ پڑتال و تصدیق کے مراحل مکمل کرنے کے بعد حاصل کرنا ممکن نہیں بنایا جاسکتا؟ ایک جیسی قومی دستاویزات فراہم کرنے والے وفاقی اداروں کو ایک چھت تلے جمع کرنے میں کیا مضائقہ ہے یا کیا رکاوٹ حائل ہے؟ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح پاسپورٹ حاصل کرنے کے جملہ مراحل بھی ’بائیومیٹرکس تصدیق‘ کی بنیاد پر مرتب ہیں‘ اگر ایک سے زیادہ شفٹیں مقرر کرنے یا سردست دفتری اوقات (چوبیس گھنٹے تک) بڑھانا ’انتظامی و سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر ممکن نہ ہوں تو ایک ایسا ’آن لائن(online)‘ نظام کیوں متعارف نہیں کرایا جاسکتا‘ جس میں شناختی کارڈ یا پاسپورٹ یا دونوں کے حصول کے لئے قطار میں لگ کر انتظار کرنے کی بجائے حاضری کا نمبر (اپوائمنٹ) پہلے ہی سے حاصل کر لیا جایا کرے؟ پبلک آفسیز میں ’باسہولت انتظارگاہیں‘ کیوں نہیں بنائی جا سکتیں؟ اگر ’انٹرنیٹ (ویب سائٹ)‘ اُور ’ایس ایم ایس (موبائل فون)‘ کے قابل بھروسہ وسائل پر بھروسہ کیا جائے تو اِس سے نہ صرف جاری غیرانسانی‘ غیراخلاقی اور سراپا ذلت بھرے رویئے کی اصلاح ممکن ہو گی بلکہ متعلقہ محکمے درخواستوں کی تعداد کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے (منصوبہ بندی کے ذریعے) اِس قابل بھی ہوں گے کہ اپنی خدمات و سہولیات کے ساتھ دفتری اُوقات میں حسب ضرورت اضافہ (ردوبدل) کریں۔ پاسپورٹ کے حصول کے لئے مقررہ فیس کسی ایک دور دراز الگ مقام پر بینک کی بجائے پہلے تو درخواست وصول اور اس کی تصدیق وغیرہ کی جانچ کرنے کے مرحلے پر وصول ہونی چاہئے اور اگر ایسا ’سرکاری ملازمین کی صداقت‘ امانت و دیانت‘ کی وجہ سے ممکن نہیں تو یہ آپشن (سہولت) بھی ہونی چاہئے کہ کسی بھی ’آن لائن بینک‘ یا موبائل فون یا اے ٹی ایم یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے مقررہ فیس جمع کرائی جا سکے‘ جس کی بطور چھ یا آٹھ ہندسوں پر مبنی خفیہ نمبر(کوڈ) بذریعہ ایس ایم ایس یا پرنٹ آؤٹ متعلقہ صارف کو فراہم کر دیا جائے اور یہی کوڈ بعدازاں ’اپوٹمنٹ(appointment)‘ حاصل کرنے کی ’آن لائن درخواست‘ کے ہمراہ منسلک کر دیا جائے‘ جیسا کہ ’میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ‘ کے لئے پہلے سے اِسی قسم کا طریقۂ کار رائج ہے۔ ایسے دفاتر جن سے بڑی تعداد میں عوام کا واسطہ پڑتا ہے اُن سے براہ راست رجوع کی بجائے ’آن لائن‘ طریقہ کار باسہولت بھی ہے اور اِسے چوبیس گھنٹے خودکار انداز میں چلانا بھی ممکن ہے لیکن چونکہ اس سے اُن ’وی وی آئی پیز‘کے لئے مشکل کھڑی ہو جائے گی‘ جنہیں انتظار کی عادت نہیں اور اُن کا استحقاق بھی کانچ سے زیادہ نازک ہے! اگر درخواست گزار کو خودکار انداز میں ویب سائٹ‘ ای میل‘ یا ’ایس ایم ایس‘ کے ذریعے مطلع کردیا جایا کرے کہ وہ (یوں قطاروں میں کھڑا ہونے کی بجائے) کسی مقررہ دن‘ فلاں وقت‘ فلاں کاؤنٹر اُور فلاں مقام پر قائم دفتر سے رجوع کرے تو یہ ہر لحاظ سے محفوظ طریقۂ کار ہوگا۔

 اگر حساس نوعیت کی شناختی دستاویزات کے حصول کے لئے ٹیکنالوجی پر انحصار کر ہی لیا گیا ہے تو پھر یہ استعمال ’سو فیصد‘ ہونا چاہئے۔ ’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘ جیسی ’ادھوری ٹیکنالوجی‘ کی بجائے ’مکمل حل‘ اختیار و پیش کر کے بہت سی مشکلات سے چھٹکارہ ممکن ہے‘ ذرا سی حساسیت کا مظاہرہ کرکے پیچیدہ و عذاب کی صورت اعصاب شکن مراحل کو کیوں نہ آسان بنا دیا جائے؟ جمہوری اسلامی کے وزیراعظم‘ وزیر داخلہ اور وفاقی حکومت کے خیبرپختونخوا میں نمائندہ گورنر سے التجا ہے کہ وہ نظرکرم فرماتے ہوئے پاسپورٹ و قومی شناختی کارڈ دفاتر کے باہر قطار میں کھڑے ’پاکستانیوں‘ کی مشکلات کا احساس کریں۔ اگر یقین نہ آئے تو خود بھی عملی تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ ’میرے عزیز ہم وطنوں‘ سے شناختی کارڈ و پاسپورٹ دفاتر کے باہر کس طرح‘ کس قدر اور کس اِنتہاء کا ’ذلت بھرا سلوک‘ روا رکھا جا رہا ہے!

Monday, March 16, 2015

Mar2015: Bio Matrix New Frontiers

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بائیومیٹرک کوائف
’’ہر کسی کے لئے اپنا آبائی علاقہ کشمیر ہوتا ہے‘‘ پشتو زبان کے اِس محاورے کی حقیقت قبائلی علاقوں (فاٹا) سے نقل مکانی کرنے والوں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے جو آبائی علاقوں کی مرحلہ وار واپسی پر مشکور و ممنون دکھائی دیتے ہیں۔ سولہ مارچ کے روز بندوبستی ضلع ٹانک میں جنوبی وزیرستان کے علاقوں سراروغہ‘ سرواکئی اور ملحقہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پچیس ہزار افراد کو مالی امداد‘ سفری وسائل اور چھ ماہ کی ضروریات کے اشیائے خوردونوش فراہم کی گئیں۔ واپسی کے اِس عمل کی براہ راست نگرانی ’فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ کر رہی ہے‘ جس کے ڈائریکٹر آپریشن فرمان خلجی کے مطابق فی خاندان دس ہزار روپے سفری اخراجات کے لئے دیئے جا رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کاعمل سخت حفاظتی انتظامات میں رواں ماہ وقفوں وقفوں سے جاری رہے گا۔ اہم بات یہ ہے ’بائیومیٹرک نظام‘ کے ذریعے واپس جانے والوں کے شناختی کوائف اکٹھا کئے جارہے ہیں اور حکام کے مطابق اب تک 5 ہزار 466 خاندانوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے جبکہ اس سے دگنی تعداد نے نقل مکانی کی تھی۔

پاکستان میں بائیومیٹرک کوائف جمع کرنے کا سلسلہ ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ کی تشکیل کا بنیادی مقصد تھا۔ وفاقی وزارت داخلہ کے زیرنگرانی ’نادرا‘ ہر اٹھارہ سال یا اِس سے زائد کی عمر کے فرد کے شناختی کوائف اور شخصی تصدیق کے بعد قومی شناختی کارڈ جاری کرتا ہے جبکہ بچوں کی پیدائش اور انہیں کسی ایک خاندان کا فرد بنانے کا اندراج و تفصیلات بھی ہر خاندان کے افراد کے حساب سے مرتب کی جاتی ہیں۔ سترہ ہزار سے زائد ملازمین اور 800 سے زائد دفاتر پر مشتمل نادرا کا (نیٹ ورک) نظام 10 مارچ 2000ء سے فعال ہے۔ چودہ برس اور چند روز عمر رکھنے والے اِس ادارے کو آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ حاصل ہے کہ یہ کوائف جمع کرے اور ان کا حسب ضرورت شناختی مقاصد کے لئے دیگر حکومتی اداروں سے تبادلہ بھی کرے لیکن جہاں تک قبائلی علاقوں کا تعلق ہے‘ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کی تیاری اور انسداد پولیو کی ادویات کے بارے میں ایک جیسا غلط فہمی پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تک قبائلی یا ملحقہ نیم قبائلی علاقوں کو بینک اکاونٹ‘ حج‘ عمرہ‘ ڈرائیونگ لائسینس یا دیگر ایسی سفری سہولیات کی ضرورت پیش نہ آئے وہ کمپیوٹررائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل نہیں کرتے اور قبائلی علاقوں کی خواتین بھی بڑی تعداد میں قومی شناختی کارڈز بنانے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ اِس میں تصویر کی شرط لازم کر دی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کے کوائف نیشنل ڈیٹابیس میں درج کرنے کا ہدف بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے لیکن اِس سلسلے میں بائیومیٹرک کے جدید اسلوب یعنی ’ائرس سکینگ‘ سے استفادہ کیا جانا چاہئے تھا جیسا کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ برائے مہاجرین پاک افغان طورخم سرحد پر کر رہا ہے۔ اِس نئے نظام کے تحت آنکھ کی پتلی (اندرونی حصے) کا عکس تصویر کے ساتھ محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ قدرت کی طرف سے یوں تو ہر انسان اپنی جسمانی ساخت کی کیمیائی ترتیب (ڈیواکسی بونی کلیک ایسڈ المعروف ڈی این اے) کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے لیکن ظاہری اور فوری شناخت کے لئے انگلیوں پر موجود نشانات اور آنکھوں کے داخلی حصوں میں پائے جانے والے پیٹرن کی فوری ممکن ہے۔ مستقبل قریب میں کھڑے کھڑے کسی بھی شخص کی ’ڈی این اے‘ جانچ ممکن ہوگی اور اِس سلسلے میں جسمانی درجہ حرارت سے لیکر مخصوص کیمیائی ساخت کی باریکیوں کے تجزئیات کامیابی سے جاری ہیں۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کے بعد واپس لوٹنے والوں کے کوائف ہوں یا پاکستان کی کل آبادی‘ ابھی ہم بائیومیٹرک نظام ہی مکمل طور پر رائج نہیں کرپائے کہ شناخت کا یہ نظام ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ چکا ہے۔ امریکہ اور یورپ بالخصوص لندن کے وسطی علاقوں رہائشی و تجارتی مراکز کی نگرانی ایسے کیمروں کی مدد سے کی جاتی ہے‘ جو کسی بھی راہ گیر کے چہرے کو نہ صرف سینکڑوں ہزاروں افراد میں شناخت کرلیتا ہے بلکہ دوسرے مرحلے میں صوتی ڈیٹابیس کی مدد سے باہم بات چیت کرنے والوں کی شناخت بھی کر لی جاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں جسم کے درجہ حرارت کی جانچ کرتے ہوئے مخصوص نفسیاتی عوامل کا حساب لگایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ خودکار نظام کے تحت ٹیکنالوجی کی مدد سے غیرمحسوس اندازمیں ہورہا ہوتا ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کے اِن ارتقائی مراحل پر نظر رکھتے ہوئے قومی ڈیٹابیس کی توسیع کرنا ہوگی کیونکہ شفافیت کے لئے آج نہیں تو کل اِسی بائیومیٹرک شناختی کوائف کی جانچ پڑتال پر عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں ہتھیاروں کے ساتھ ہمیں کوائف اکٹھا کرنے کے لئے اُن جملہ جدید وسائل کا استعمال کرنے اور انہیں موجودہ نظام میں سمونے (اپ گریڈیشن) کے لئے ابھی سے تحقیق کا کام جامعات کو سونپ دینا چاہئے۔ ٹیکنالوجی کا کوئی بھی درآمدی اور فوری حل وقتی ضرورت تو پوری کرسکتا ہے لیکن اس کے استعمال سے رازداری‘ اطمینان اور پائیداری جیسے اہم اہداف حاصل نہیں ہوں گے۔

پس تحریر: خانہ فرہنگ جمہوری اِسلامی اِیران کے پشاور مرکز کی ’علم و اَدب دوستی‘ اضافی تعارف کی محتاج نہیں۔ گذشتہ برس کی طرح اِس مرتبہ بھی ’پشتو زبان و ادب‘ کے شعبوں سے متعلق سالانہ جائزہ کی بنیاد پر نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازہ گیا‘ جسے چار چاند لگانے کے لئے اِس موقع پر مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا جو رواں برس کی پہلی بڑی ادبی تقریب تھی‘ جس سے پشاور کے ادبی ماحول پر طاری سکوت ختم ہوا ہے۔ ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والی ادبی تنظیم ’دریاب‘ کی میزبانی میں منعقد ہوئی اِس دوسری تقریب میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع‘ دیگر صوبوں اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان کے صاحبان علم و دانش کو صحت مند و موافق ماحول میں ایک چھت تلے مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ انتشار اُور خوف و دہشت کے ماحول میں اِس قسم کی تقریب کا انعقاد کسی غنیمت سے کم نہیں تھا‘ جس کا علمی و ادبی حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت بھی ایران کے ثقافتی مرکز کی طرز پر ادبی تحقیق و تنقیدی و تعارفی اور اعزازی محافل کی سرپرستی کے لئے دستیاب وسائل کا بہتر استعمال زیادہ بڑے پیمانے پر کرسکتی ہے۔ اِس سلسلے میں برس ہا برس سے ادبی اداروں پر مسلط طبقات کی اجارہ داری اُور خوشامدی و درآمدی نام نہاد ادیبوں کے تعصب سے نجات ضروری ہے۔ جدید سائنسی علوم کے ساتھ علم و اَدب سے تعارف اُور دلی وابستگی وقت کا تقاضا ہے کیونکہ ہمیں صرف ’خواندہ‘ نہیں بلکہ ’انسانیت سے محبت کرنے والی سوچ‘ فکر اور عمل کرنے والی نسلوں کی بھی ضرورت ہے۔‘