Showing posts with label CBA. Show all posts
Showing posts with label CBA. Show all posts

Friday, April 14, 2017

Apr2017: Rectifying issues of the Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محتاج توجہ: اَیبٹ آباد!
شہری زندگی کا حسن مانند کرنے والے مسائل کہاں نہیں لیکن جس انداز میں بنیادی سہولیات و ضروریات سے جڑے مسائل کی شدت ’ایبٹ آباد‘ میں محسوس کی جاسکتی ہے اُس کی مثال شاید ہی خیبرپختونخوا تو کیا ملک کے کسی بھی دوسرے حصے میں باوجود تلاش کرنے بھی مل پائے!

پینے کے صاف پانی کی قلت: سال 2009-10ء کے دوران جاپان حکومت کے مالی و تکنیکی تعاون سے ایبٹ آباد کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ایک منصوبہ متعارف کرایا گیا۔ اِس نہایت ہی سادہ لیکن پُراثر منصوبے میں اتنی گنجائش رکھی گئی کہ اِسے مستقبل میں وسعت دی جاسکے یا اِسی طرز کے دیگر منصوبے شروع کرکے ایبٹ آباد کے قرب و جوار میں موجود قدرتی پانی کے ذخائر سے استفادہ کیا جاسکے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ 2 لاکھ 16 ہزار افراد کے لئے یومیہ 68لاکھ گیلن پانی فراہم کرنے والا یہ ’’گریوٹی فلو‘‘ منصوبہ ایبٹ آباد کی صرف 3 یونین کونسلوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا۔ دس کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے داور (Daur) سے پانی پائپ لائن کے ذریعے ایبٹ آباد لایا گیا اور پھر ایک پہاڑی (اُوکھریلا یونین کونسل دھمتوڑ) کی چوٹی کو ہموار کرکے وہاں بڑے تالاب بنائے گئے جہاں یہ پانی کچھ وقت کے لئے ذخیرہ اور کیمیائی طور پر اس کی تطہیر کرنے کے بعد ایبٹ آباد کو فراہم ہونے لگا لیکن ابھی چھاؤنی کی حدود سے متصل یونین کونسلوں میں پانی کے ترسیلی پائپ لائنیں بچھانے کا کام مکمل ہونے بھی نہیں پایا تھا کہ فوجی حکام کے دباؤ کی وجہ سے منصوبے کا 40فیصد پانی چھاؤنی اور دیگر شہری علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یوں ’’گریوٹی فلو (کشش ثقل سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ترسیلی نظام) سے ساٹھ فیصد پانی لینے والی یونین کونسلوں کے ایسے حصے بھی متاثر ہونے لگے جہاں یا تو پانی پہنچ ہی نہیں پایا یا پھر انہیں مقررہ ایام و اوقات میں (چند گھنٹے) ملنے والا پانی یومیہ ضروریات کے لئے کافی نہیں ہے۔ اگر ایبٹ آباد کی چھاؤنی (پانچ وارڈوں) کی حدود میں رہنے والوں کو بھی پانی کی قلت کا سامنا تھا تو اس کے لئے الگ منصوبہ شروع کیا جاسکتا تھا لیکن بجائے منصوبہ بندی جیسا مشکل کام کرنے اس بات کو زیادہ آسان سمجھا گیا کہ دستیاب پانی کا رخ موڑ دیا جائے اور کہا جائے کہ چالیس فیصد کی کمی 28 ٹیوب ویلیوں کے ذریعے پوری کرلو۔ ایبٹ آباد سخت زمینی ساخت پر مشتمل پہاڑی علاقہ ہے اُور یہاں زیرزمین پانی کے ذخائر سے اِستفادہ نہ صرف مہنگی بجلی اُور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ’قابل عمل‘ نہیں بلکہ ٹیوب ویلوں کے ذریعے تیزی سے پھیلتے شہر کی ضروریات پوری کرنا ممکن بھی نہیں۔ ایک ایسی صورت میں جبکہ اَیبٹ آباد کے اِردگرد قدرتی چشموں اُور شفاف پانی برساتی ندی نالوں میں بہہ کر ضائع ہو رہا ہے‘ وہیں پانی کی قلت کا بنیادی محرک سوائے سرکاری اداروں کی نااہلی (منصوبہ بندی کے فقدان) کے سوأ کچھ اُور نہیں!

خستہ حال شاہراہیں: فیصلہ سازوں کو اَندازہ ہی نہیں کہ اَیبٹ آباد کے معمولات زندگی کس حد تک متاثر ہیں۔ مثالی آب و ہوا اور صحت افزأ مقام ہونے جیسی عمومی شہرت رکھنے والا یہ شہر جہاں ناقص منصوبہ بندی اُور احساس سے عاری شاہانہ مزاج کے باعث عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت کے لئے جہنم بن چکا ہے‘ وہیں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے جاری تعمیراتی کام کے بوجھ نے تو رہی سہی کسر ہی نکال دی ہے۔ تعلیمی اداروں کا مرکز کہلانے والے اِس شہر کی وہ شاہراہیں جو مقامی ٹریفک ہی کے لئے ناکافی تھیں‘ اُن پر دن رات بھاری ٹریفک کی وجہ سے نہ صرف سڑکیں اکھڑ گئیں ہیں بلکہ چھوٹی گاڑیوں اور سکول بسوں میں سفر کرنے والوں کے لئے ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ اوقات کی پابندی کر سکیں۔ علاؤہ ازیں ’’پاکستان ملٹری اکیڈمی‘ کاکول‘‘ ایبٹ آباد کے وسط میں واقع ہے جس کے عظیم الشان توسیعی منصوبے اور آئے روز تقریبات کو جواز بنا کر ’غیراعلانیہ مرکزی شاہراہیں بشمول بائی پاس روڈ‘ بند کر دی جاتی ہیں‘ جس کی وجہ سے نہ صرف ایبٹ آباد کے مشرق و مغرب رہنے والے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ عجب ہے کہ رواں ماہ (تیرہ سے پندرہ اپریل) ’پاسنگ آؤٹ پریڈ‘ کے لئے ’بائی پاس‘ اُور ’پی ایم اے روڈ‘ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ مقامی اور ’سی پیک‘ سے جڑی بھاری ٹریفک اگر متبادل راستے استعمال کرے گی تو وہ متبادل راستے کون کون سے ہیں؟ پاسنگ آؤٹ پریڈ تو ایک دن‘ چند گھنٹوں کی تقریب ہوتی ہے‘ جس کے لئے مہمان خصوصی‘ فوجی شخصیات اور غیرملکی مہمان (وی وی آئی پیز) بذریعہ ہیلی کاپٹرز تشریف لاتے ہیں لیکن اِس تقریب کی تیاری کے لئے تین روز تک تمام دن ٹریفک معطل رکھنے کا جواز کیا ہے؟

فوجی حکام کو سمجھنا ہوگا کہ جس طرح صوبائی و وفاقی حکومت سڑکوں کی توسیع و مرمت جیسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء نہ ہونے کے سبب عام آدمی کی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے بالکل اِسی طرح ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی نظروں میں وہ باوردی فیصلہ ساز بھی یکساں مجرم ہیں‘ جنہیں عوام کی تکلیف کا احساس نہیں۔ جنہیں سکول کالجز اور دفاتر کو پہنچنے والوں کی جسمانی و ذہنی اذیت و مشکلات کا رتی برابر احساس نہیں اور نہ ہی وہ خود کو اُس ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں جس کے ٹیکسوں سے ساری ’رونقیں لگی ہوئی ہیں۔‘

جواب چاہئے کہ مری روڈ کے راستے ایک لمبی مسافت طے کرکے کاکول‘ ناڑیاں‘ نواں شہر یا دھمتوڑ جانے یا اِن یونین کونسلوں سے جھنگی‘ میرپور وغیرہ کو جانے والوں کو جس ٹریفک کے بدترین و ابتر نظام سے نمٹنا پڑتا ہے اُس کے ذمہ دار کون ہیں؟ ڈیڑھ برس سے مری روڈ کی توسیع کا سست رفتار ترقیاتی کام اور گردوغبار کے بادلوں کے لئے کسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ 

المیہ در المیہ ہے کہ جیسے قوم نے سوچنا ہی ترک کر دیا ہو۔ دیگر شہروں سے پرفضا ماحول و سکون کی تلاش میں نتھیاگلی ٹھنڈیانی و گلیات جانے والوں کا گزر جب کبھی بھی ’ایبٹ آباد‘ سے ہوتا ہے تو اُن پر ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کے انقلابی تبدیلی و اصلاحات کے وعدوں کی حقیقت یقیناًآشکارہ ہو جاتی ہوگی! عوام کے منتخب قانون ساز ایوانوں اور بلدیاتی نمائندوں کے لئے دعوت فکروعمل ہے کہ وہ اِس منفی تاثر کے بارے سنجیدگی سے سوچیں کہ ایبٹ آباد کے وسائل پر آبادی کے بوجھ‘ پینے کے صاف پانی کی قلت‘ صفائی کی ناقابل بیان صورتحال‘ خستہ حال سڑکیں اُور ’’اُلجھی ٹریفک‘‘ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لئے کس قدر بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, June 1, 2016

Jun2016: Save the "Lady Garden" of Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
لیڈی گارڈن بچاؤ!
خیبرپختونخوا کو سرسبزوشاداب کرنے کا عزم لئے صوبائی حکومت کی کوششیں اُس وقت رائیگاں معلوم ہوتی ہیں‘ جب ترقی کے نام پر توسیع و مرمت یا تعمیراتی منصوبوں کے لئے درختوں کا ’قتل عام‘ کیا جاتا ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے بالائی علاقوں میں ایسے مناظر سڑک کنارے بکھرے پڑے ہیں‘ جہاں کبھی درختوں کی قطاریں ہوا کرتی تھیں اب ’ائرکنڈیشن گاڑیوں‘ میں بیٹھ کر سائے کی تلاش میں سرگرداں سیاح دکھائی دیتے ہیں۔ کسی ایک درخت کے ساتھ جُڑی اُس علاقے کی تاریخ و ثقافت اور معیشت و معاشرت جڑی ہوتی ہے‘ درختوں پر صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی انحصار کر رہے ہوتے ہیں اور جنگلات جس حیاتیاتی تنوع کا مرکز ہوتے ہیں‘ اگر اُس کا توازن کسی وجہ سے بگڑ جائے تو نتیجہ غیرمتوقع موسمیاتی تبدیلیوں (خشک سالی یا پھر دیگر انتہاؤں یعنی موسلادھار بارشوں سے آنے والے سیلاب) کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ کاش کہ ’حضرت انسان‘ یہ ’آسان‘ بات سمجھ سکے کہ اُس کی حیات و بقاء جس ہوا میں سانس لینے اور جس زمین پر قدم جما کر رہنے میں ہے‘ اُس کے لئے قدرت کے مقررہ کردہ میزان و عدل کا احترام صرف ضروری نہیں بلکہ لازم ہے۔ اگر یہ ایک بات سمجھ لی گئی تو پھر درخت لگانا یا اُن کی حفاظت کرنا صرف حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں رہے گی بلکہ یہ معاشرے کا اِجتماعی فرض بن جائے گا‘ بس یہی شعور کی وہ منزل ہے‘ جہاں صرف آج کی نہیں بلکہ مستقبل کا فکر ہمارے ماضی وحال کو آسودہ اُور مستقبل کو خوشحال بنا دے گی۔

ایبٹ آباد میں بڑھتی ہوئی مقامی آبادی کے لئے تفریح گاہوں کی ضرورت کا مطالبہ اپنی جگہ اہم و توجہ طلب تھا جس پر زور دینے والے سیاسی و غیرسیاسی‘ سماجی اُور قانونی حلقے ’لیڈی گارڈن‘ نامی اُس تفریح گاہ کو ’کمرشل ازم‘ سے بچانے کے لئے ’سرگرم‘ ہو گئے ہیں۔ کس قدر بھیانک منظر ہے کہ ہمارے پاس اتنے مالی وسائل بھی نہیں کہ اپنے سبزہ زاروں کی دیکھ بھال کر سکیں! کم و بیش ’سات کنال اراضی‘ پانچ سال کے لئے سالانہ اٹھارہ لاکھ روپے کرائے پر دینے کی مذمت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اِس سے 1:سبزہ زار کی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور اسے نقصان پہنچے گا۔ 2: صحت مند تفریح کے وسیلے سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بجائے کم ہوگی کیونکہ ہر شخص اپنے بچوں کو بیش قیمت جھولوں سے استفادہ کرانے کی سکت نہیں رکھے گا۔ بچے ضد اور والدین اُنہیں چپ کرانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیں گے! 3: سبزہ زار میں شور شرابہ (فضائی آلودگی) بڑھے گی۔ 4: جھولوں کی تنصیب کے لئے فرش بندی ہو گی جس سے نہ صرف سبزہ زار کے متعلقہ حصے ہی نہیں بلکہ سبزہ زار کے دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ یاد رہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ نے چند ہفتے قبل ہی ’لیڈی گارڈن‘ میں داخلے کی فیس ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ کم مالی وسائل رکھنے والے بھی اپنے بچوں کے ہمراہ چند لمحے سکون پا سکیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2014ء میں لیڈی گارڈن کی تعمیرومرمت کے نام پر جب پختہ تعمیرات (کنکریٹ) کا جال بچھایا جانے لگا تو ایبٹ آباد کے شہریوں کی جانب سے ظفراقبال ایڈوکیٹ نے ’پشاور ہائی کورٹ‘ میں ایک مقدمہ (پٹیشن) دائر کیا جس پر سماعتوں کے بعد ایبٹ آباد کی کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ نے تحریری طور پر عہد کیا کہ ’’لیڈی گارڈن کی حیثیت تبدیل نہیں کی جائے گی اور ایسا کوئی بھی کام نہیں کیا جائے گا جس سے سبزہ زار کا رقبہ کم ہو یا سبزہ زار کو نقصان پہنچے یا درخت کاٹے جائیں۔‘‘ لیکن چونکہ انتظامیہ تبدیل ہوتی رہتی ہے لہٰذا ماضی میں کئے گئے عہد بھی فائلوں تلے دم گھٹنے سے شاید دم توڑ چکے ہیں۔ لیڈی گارڈن کے انچارج پرویز خان نے تصدیق کی ہے کہ ’’سبزہ زار کا کل رقبہ چالیس کنال سے زیادہ ہے جس میں سے سات کنال کا رقبہ اجارے پر دیا گیا ہے‘‘ لیکن انہوں نے ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’سبزہ زار کو نقصان پہنچانے یا درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘ کیا تخریبی کام کرنے والے ’اجازت طلب کیا کرتے ہیں؟‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ اکتیس مئی کو ’کنٹونمنٹ بورڈ ایبٹ آباد‘ کے انتظامی نگرانوں کا (بورڈ) اجلاس بھی ہوا جس کے بارے اسسٹنٹ پی آر اُو ثاقب کے بقول ایجنڈے (غوروخوض کے عمل) میں ’لیڈی گارڈن کے ایک حصّے کی نجکاری شامل نہیں۔‘

کون نہیں جانتا کہ موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی ایبٹ آباد اور ایبٹ آباد کے راستے گلیات یا ناران کاغان کی وادیوں کی سیر کے لئے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں ماہ رمضان المبارک کے دوران کچھ کمی بیشی لیکن عیدالفطر اور بعدازاں زیادہ تیزی آ جاتی ہے۔ اِسی طرح تعلیمی اِداروں میں موسم گرما کی تعطیلات ہونے کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں سے تین ماہ (سیزن) گزارنے والے بھی ایبٹ آباد یا اس کے ملحقہ علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ آبادی کا یہ دباؤ ماحول اور قدرتی وسائل کو بھی یکساں متاثر کرتا ہے اور اگر ایسی صورت میں پہلے سے موجود ایبٹ آباد کے سب سے بڑے سبزہ زار کی شکل و صورت اور اِس کا بنیادی مقصد ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے تو اِس پر صرف لفظی ہی نہیں بلکہ ہر طرح سے احتجاج ہونا چاہئے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک‘ ایبٹ آباد سے منتخب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے اراکین مشتاق احمد غنی‘ قلندر خان لودھی‘ سردار ادریس اُور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ’لیڈی گارڈن بچاؤ تحریک‘ کا حصّہ بننا چاہئے۔ اگر صوبائی اور وفاقی حکومت ایبٹ آباد میں مزید سبزہ زار اور صحت مند تفریح کے مفت مواقع فراہم نہیں کرسکتی تو کم سے کم پہلے سے موجود وسائل کو تو کسی خاص طبقے کی تفریح طبع تک کے لئے محدود نہ کیا جائے۔کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی مجبوریوں اور ضروریات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسے سبزہ زار کی ماحولیاتی و سماجی حیثیت تبدیل کرنا منطقی جواز یا معنی خیزی نہیں رکھتا‘ جو سردست اَیبٹ آباد کی مقامی آبادی اور ملکی و غیرملکی سیاحوں کے لئے تفریح کا واحد ذریعہ ہے۔
Efforts need to save the Lady Garden of Abbottabad  

Monday, May 4, 2015

APR2015: Unity of voters needed

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِنتخابی اِتحاد: اِجتماعی مفاد
جن کا دعویٰ (خوش فہمی) ہے کہ وہ ’خیبرپختونخواکے نبض شناس ہیں‘ اور گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں اُنہیں صوبائی دارالحکومت ’پشاور‘ سمیت صوبے کے پچیس اضلاع میں رہنے والوں کی اکثریت نے صرف اپنا ووٹ ہی نہیں بلکہ قسمت سونپ دی ہے اُنہیں پچیس اپریل کو ہوئے ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ کے انتخابی نتائج کو بغوردیکھنا چاہئے‘ کہ کس طرح سیاسی جماعتوں سے اِظہار بیزاری کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد کامران ٹھہری اور اکثریتی رجسٹرڈ ووٹرز نہ صرف بلدیاتی انتخابی عمل سے علیحدہ رہے بلکہ جنہوں نے ووٹ ڈالا بھی تو وہ نمایاں طور پر ’سیاست گریز‘ ہی رہے۔ عجب نہیں تھا کہ مختلف النظریات سیاسی جماعتوں نے حسب سابق اپنی سیاسی ساکھ (اُور ناک) بچانے کے لئے ’انتخابی اتحاد‘ کئے۔ اپنے اپنے ووٹ بینک کا سودا کیا۔ مفادات میز پر (سامنے) رکھے۔ تحریری و زبانی وعدے وعید ہوئے اور ایک مرتبہ پھر عملاً ثابت کردیاگیاکہ ہمارے ہاں سیاست نظریات کا نہیں بلکہ مفادات کا نام ہے‘ جس میں ممکنات‘ تصورات اور عجائبات کی نہ تو کوئی کمی ہے اور نہ ہی حدود و قیود۔ سست روی ہی سے سہی لیکن رفتہ رفتہ یہ بات عام آدمی کی سمجھ میں آ رہی ہے کہ کس طرح اُس کی سیاسی وابستگی کو ’مجبوری‘ سمجھ کر ’فروخت‘ کیا جاتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بھی ’عام لوگ‘ بھی ’اِتحاد‘ کرکے جماعت کہلانے والے سیاسی شعبدہ بازوں‘ مفاد و سرمایہ پرستوں اور ذاتی و کاروباری مفادات کے پوجاریوں کی قسمت کا فیصلہ کردیں گے جنہوں نے سیاست اور سیاسی ماحول کو آلودہ کر رکھا ہے جنہوں نے سیاست کے ذریعے اپنے تسلط‘ ٹیکس چوری اور کاروباری خیانتوں کے تحفظ و بقاء دے رکھی ہے اور وہ دن زیادہ دور نہیں جب ایسے عناصر سے بذریعہ انتخابات ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کر لی جائے!

کنٹونمنٹ بورڈز کے لئے خیبرپختونخوا میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح پولنگ ہوئی تو نتیجہ یہ نکلا کہ آزاد اُمیدواروں نے نسبتاً زیادہ نہ سہی لیکن غیرمتوقع اور غیرمعمولی تعداد میں نشستیں حاصل کیں ہیں۔ اگرچہ قومی وطن پارٹی‘ عوامی نیشنل پارٹی (ولی خان)‘ جمعیت علمائے پاکستان اُور مسلم لیگ (قائد اَعظم) نے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے اِنتخابات کے لئے اُمیدوار نامزد نہیں کئے لیکن اگر کر بھی لیتے تو خوب جانتے تھے کہ ان کا حشر کیا ہوتا۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کی کل 32 کنٹونمنٹ بورڈ (چھاؤنیوں پر مشتمل) وارڈوں (حلقوں) کے لئے اُمیدواروں میں سے 14 ایسے افراد کامیاب ہوئے ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تھا اور اُنہوں نے مرکب سیاسی اتحادوں کے خلاف ’آزاد‘ حیثیت سے کامیاب ہوکر ثابت کیا ہے کہ ہمارے ہاں حق رائے دہی استعمال کرنے والوں کا شعور کس طرح ہر گزرتے انتخاب کے ساتھ بڑھتا چلا رہا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کی پانچ نشستوں کے لئے پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے چار اُمیدوار نامزد کئے اور کوئی ایک بھی کامیاب نہ ہو سکا! مسلم لیگ (قائداعظم) اور جمعیت علمائے اِسلام نے ’عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی)‘ کی حمایت پر اِکتفا کیا لیکن ’نواز لیگ‘ اور ’اے این پی‘ جیسے ’ہیوی ویٹ تجربہ کاروں‘ کی شکست نے خود اُنہیں بھی حیران چھوڑا ہے‘ جو دوسروں کو حیران کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں! بلدیاتی انتخابات آنے والے ہیں جس کے لئے ’سہ جماعتی اتحاد‘ کو ’کنٹونمنٹ بورڈز‘ انتخابی نتائج سے بہت کچھ سیکھنا چاہئے۔ سردست فیصلہ یہ ہوا ہے کہ 184 بلدیاتی نشستوں پر جمعیت علمائے اسلام 51‘ اے این پی 70 اُور پیپلزپارٹی 63 حلقوں کے لئے اُمیدوار نامزد کرے گی اور مقابلہ ہوگا صرف اور صرف ’تحریک انصاف‘ کے ساتھ جس میں ٹکٹوں (نامزدگیوں) کی تقسیم پر اختلافات ڈیرہ اسماعیل خان سے ہزارہ ڈویژن تک پھیلے ہوئے ہیں! تحریک انصاف کی اپنی ہی مرتب کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں تحریک کی بڑے پیمانے پر ناکامی کی وجہ وہ جماعتی انتخابات تھے‘ جنہوں نے کارکنوں کو تقسیم کردیا اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی بلدیاتی انتخابات کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم میں اُن پارلیمانی کمیٹیوں کی سفارشات نظرانداز کی گئیں‘ جس نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک مرتبہ پھر تقسیم کر کے رکھ دیا ہے اور اندیشہ ہے کہ بنی گالہ کو ’دو ہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات جیسے نتائج ہی بلدیاتی انتخابات میں بھی ’سہنے‘ نہ پڑجائیں!

جماعتی سیاست میں نظم و ضبط‘ قیادت کا سحر‘ اتحاد کے فائدے‘ تقاضے اُور ضروریات اپنی جگہ حقیقت لیکن ’پشاور کی ناقراری‘ کا سبب یہ ہے کہ ہر دُور کی طرح اِسے آج بھی ’قیادت‘ کی طلب ہے۔ سندھ و پنجاب کی مٹی سے اُٹھنے والے نظریات کے لئے ہر قسم کی ’آب و ہوا‘ بھلا کیونکر و کیسے موزوں ہو سکتی ہے یا موافق قرار دی جاسکتی ہے! یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر ایک عام اِنتخاب کے بعد زیادہ شدت سے جو ’بھوک و پیاس‘ ستاتی ہے‘ اُس کا تعلق وسائل کی کمی سے ہرگز نہیں بلکہ وسائل کی ترقی میں غیرحقیقت پسندانہ طرزعمل و ترجیحات ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ’عام آدمی (ووٹر)‘ کو ’غلام‘ بنا رکھا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جو ہم نے اُردو زبان کو لونڈی سمجھا اور اُس سے سلوک و برتاؤ بھی لونڈیوں جیسا ہی روا رکھے ہوئے ہیں! جنہیں اُردو کے چند جملے بولنے اور لکھنے میں دقت ہوتی ہے‘ جنہیں ’اُردو گرائمر کی باریکیوں‘ محدود لغت اُور مذکر و مؤنث کے صیغوں میں تمیز نہیں وہی اکثر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ’اُردو زبان‘ کی درس و تدریس کرتے دکھائی دیتے ہیں!

سیاست کا حال مختلف نہیں‘ جہاں ذاتی مفاد بالاتر ہے‘ سیاست اُور جمہوریت میں ’دامے درہمے سخنے‘ سرمایہ کاری کرنے والوں کے اگر والوں کے اگر ابھی دن گنے نہیں گئے تو ایسا بصورت عوامی اتحاد ممکن ہے۔ وہ ’خیرخواہ‘ جو انتخابی حلقوں کی تشکیل و ترتیب سے لیکر اُن کے ووٹوں کے اندارج و گنتی تک کے مراحل کے ’ایکسپرٹ (ماہر)‘ ہو چکے ہیں اور اب اِس مہارت کا مقابلہ کرنا بھی ممکن نہیں رہا کیونکہ انتخابی قواعد اور عمل اِس قدر مہنگا اور ناقابل یقین حد تک پیچیدہ عمل بنا دیا گیا ہے کہ اچھی ساکھ و شہرت اور بصیرت رکھنے والے ’باوجود ارادہ و نیت بھی ہمت ہی نہیں کرپاتے!‘ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے انتخابی نتائج اِس مفادپرستانہ سیاسی و ذاتی ترجیحات والے منظرنامہ میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں‘ اگر ہم نوشتۂ دیوار پڑھ سکیں۔ اگر ہم اپنے گردوپیش اور حاصل شدہ نتائج پر غور کر سکیں‘ جو ایک ایک کی گنتی سے ’روایت شکن اشارہ‘ دے رہے ہیں۔ کاش کہ ہم دیکھ سکیں۔ کاش کہ ہم سمجھ سکیں۔ کاش کہ ’ہم عوام‘ بھی اِجتماعی مفاد کے لئے متحد ہو سکیں!

Sunday, April 26, 2015

Apr2015: Cantonment Board Elections & Reflections

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِنتخابات: کار جہاں!
برطانوی راج کے دوران حفاظتی نکتۂ نظر سے شہری و دیہی علاقوں سے قدرے فاصلے پر نئی فوجی چھاؤنیاں (بستیاں) آباد کیں گئیں جنہیں باقاعدہ منصوبہ بندی سے ترتیب دیا گیا۔ بعدازاں قیام پاکستان کے بعد نہ صرف اِن چھاؤنیوں کو برقرار رکھا گیا بلکہ اِن کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا اور فی الوقت پاکستان میں بیالیس (خیبرپختونخوا میں گیارہ) چھاؤنیاں ہیں‘ جن پر یوں تو صرف اور صرف فوج ہی کا حکم چلتا ہے لیکن سے چونکہ یہ چھاؤنیاں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے دیگر علاقوں سے ’گھل مل‘ گئیں ہیں اِس لئے انہیں رقبے و آبادی کے تناسب سے وارڈز میں تقسیم کرکے متعلقہ فیصلہ سازی کے عمل میں عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو بھی شریک کیا جاتا ہے اگرچہ اِن انتخابات کا اِنعقاد ایک طویل انتظار یعنی 17برس بعد پچیس اپریل کے روز ہوا لیکن 199 وارڈوں (نشستوں) کے لئے ایک ہزار ایک سو اکیاون اُمیدواروں اور دس ہزار سے زائد انتخابی عملے کی تعیناتی سے زیادہ اگر انتخابی عمل میں کسی دوسرے طبقے نے نسبتاً زیادہ دلچسپی لی تو وہ ذرائع ابلاغ تھے‘ جن میں بالخصوص الیکٹرانک میڈیا (نجی نیوز چینلوں) نے آئندہ بلدیاتی انتخابات کی ’الیکشن ٹرانسمیشن‘ کی ڈٹ کر مشق کی جو یقیناًزیادہ بڑے اور زیادہ اہمیت کے حامل ہوں گے۔ اگرچہ کنٹونمنٹ بورڈز اراکین کا چناؤ طویل انتظار کے بعد مکمل ہوا لیکن ’کم ترین شرح پولنگ‘ اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں ’انتخابی عمل‘ سے ایک خاص طبقے کے مفادات وابستہ ہیں‘ جن کا کوئی دوسرا کام نہیں اور وہ ایک انتخاب سے دوسرے انتخاب تک تیاری (سوچ بچار) میں اپنا وقت خرچ کرتے ہیں! اُور جانتے ہیں کہ انتخابات میں کامیابی محض گھر گھر جاکر ووٹ مانگنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی سائنس ہے‘ جس کی تعلیم نہ تو جامعات و کتابوں سے ملتی ہے اور نہ ہی اِس کے لئے خلوص‘ امانت و دیانت اور نیک نامی (ساکھ) ہی کام آتی ہیں بلکہ ’دل کی مرادیں‘ پانے کے لئے ایسی ’دھونس‘ کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کا سامنا کرنے کی مخالفین میں ’تاب‘ نہ ہو۔ اگرچہ ’’اُور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت (الیکشنز) کے سوأ‘‘ لیکن ہمارے ہاں ’ہمہ وقت انتخابی سوچ‘ رکھنے والوں کی کمی نہیں جن کے لئے یہی ’کار جہاں‘ کسی دوسرے شعبے میں وقت‘ جسمانی توانائیاں اور مال و متاع کی سرمایہ کاری سے زیادہ بہتر ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہوئے ’کنٹونمنٹ بورڈز‘ کے انتخابات میں مجموعی شرح پولنگ 40 فیصد کے آس پاس رہی جبکہ خواتین کی شرح پولنگ کا رجحان بھی اوسطاً مزید دس فیصد کم رہا تو یہی رویہ آئندہ ماہ کے آخر میں ہونے جا رہے ’بلدیاتی انتخابات‘ کے موقع پر بھی دیکھنے میں آئیں گے اور صرف وہی لوگ کامیاب ہوں گے جنہیں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ یہ بالکل بھی صحت مند اور خوش آئند رجحان نہیں۔ بلدیاتی اِنتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے والوں کی کامیابی کے امکانات ’کم شرح پولنگ‘ کی وجہ سے زیادہ ’گھٹ‘ جاتی ہے!

کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں ’شرح پولنگ‘ سے کئی ایک اسباق پوشیدہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ چھاؤنی کی حدود میں رہنے والوں کو زیادہ سہولیات میسر ہوتی ہیں لیکن وہ نہ تو تعمیر وترقی سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ کشادہ و سرسبزوشاداب گردوپیش اُن کے لئے ’باعث شکر‘ ہوتا ہے جس سے ملحقہ ضلعی حکومت کے علاقے محروم ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ انتخابی عمل کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے لیکن کنٹونمنٹ بورڈز کے جو علاقے نسبتاً کم ترقی یافتہ ہوتے ہیں وہاں کے رہنے والے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہوتے ہیں کیونکہ اُنہیں اپنی محرومی کا احساس ہوتا ہے۔ معلوم یہ بھی ہوا کہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے ترجیحات کا تعین ’مساوی و غیرامتیازی بنیادوں‘ پر ہونا چاہئے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات سے قبل (برسرزمین حقائق اور سائنسی بنیادوں پر) حلقہ بندیاں کرنے کی ضرورت تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے انتخابات نے ہمیں اچانک آ لیا ہو حالانکہ یہ عمل سترہ برس کے تعطل کے بعد ہوا۔ ایبٹ آباد ہی کی مثال ملاحظہ کیجئے جہاں چھاؤنی کی حدود پر تنازعہ انتخابات سے قبل حل ہونا چاہئے تھا۔ ایبٹ آباد کا ایک محلہ ایسا بھی ہے کہ جہاں ایک گھر یونین کونسل شیخ البانڈی میں ہے تو اُس سے جڑا دوسرا گھر یونین کونسل جھنگی کی حدود میں آتا ہے جبکہ بلمقابل تیسرے گھر کے رہنے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے باسی ہیں! علاؤہ ازیں پانچ وارڈوں پر مشتمل کنٹونمنٹ کی حدود میں ایسے متنازعہ علاقے بھی ہیں‘ جن کا شمار بیک وقت ضلعی اور کنٹونمنٹ بورڈ میں کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ’لمبی ڈھیری (سیٹھی مسجد)‘ کا علاقہ جو متنازعہ حیثیت رکھتا اور یہاں کے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد کے اسمائے گرامی کنٹونمنٹ اور ضلعی (دونوں) انتخابات کی ووٹر لسٹوں کا حصہ ہیں! کیا یہ عجب نہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے لئے پولنگ اسٹیشن ایسے علاقوں میں بھی بنائے گئے جو مقامی افراد کے لئے بھی غیرمعروف تھے اور چھاؤنی کی حدود میں نہیں آتے تھے۔ اگر اُمیدواروں کی دلچسپی‘ گاڑیاں اور تعلق داری (ذات برادری (جنبہ)‘ زبان و لسان‘ عقیدہ‘ سیاسی وابستگی) آڑے نہ ہوتی تو شرح پولنگ مزید مایوس کن ہوتی! ایبٹ آباد کی کنٹونمنٹ انتظامیہ کو وضاحت بھی کرنی ہے کہ اُنہوں نے پولنگ کے عمل کو ذرائع ابلاغ کی نظروں سے پوشیدہ کیوں رکھا اور نصف وقت گزرنے کے بعد اجازت کیوں مرحمت فرمائی؟

ذرائع ابلاغ عوام کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں جنہیں آمرانہ‘ خودساختہ اُور خودفریبی پر مبنی غیرمنطقی ’ضابطۂ اخلاق‘ سے ’محکوم‘ رکھنے کی کوشش کرنے والوں کو ’معافی‘ مانگنی چاہئے۔ اشد ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ چھاؤنی کی حدود کا ازسرنو تعین کیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ چھاؤنی کو چھاؤنی ہی رہنے دیا جائے۔ فوجی تنصیبات کا شہری علاقوں کے وسط میں قیام سیکورٹی خدشات کو جنم دیتا ہے اور جس طرح ماضی میں آبادیوں سے دور جا کر نئے شہر آباد کئے گئے تھے‘ آج بھی چھاؤنیاں شہروں سے الگ اور فاصلے پر ہونی چاہیءں‘ جہاں کی فیصلہ سازی و معاملات فوج ہی پاس ہوں اور اُن میں برائے نام منتخب نمائندوں کو شریک کرنے کی روایت بھی تبدیل ہونی چاہئے۔ جو معاملات سترہ برس تک بناء منتخب قیادت ’خوش اسلوبی‘ اور ’بہ احسن و شفافیت‘ سے چلائے جاتے رہے‘ تو وہ مزید عرصہ بھی جاری و ساری رکھے جا سکتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ منتخب نمائندوں کی اپنی اپنی ترجیحات‘ سیاسی و غیرسیاسی اور سماجی حلقۂ اثرورسوخ سے متعلق مجبوریاں ہوتی ہیں‘ جن سے وابستہ توقعات اِس لئے پوری نہیں ہو پاتیں کیونکہ گلی نالی کی تعمیر‘ صفائی ستھرائی کی صورتحال‘ محصولات کی حسب حال شرح محصولات‘ معاشرت کے اصولوں کے بارے شعور و آگہی عام کرنا‘ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں بلکہ اِس کے لئے ’اصلاح کاری‘ کی خصوصیت اور جس درجے کے ’کردار و تعلیمی قابلیت‘ کی ضرورت ہے وہ ہمارے ہاں کے انتخابی عمل میں بطور اُمیدوار حصہ لینے والوں کے لئے لازمی شرط نہیں!

یہی وجہ ہے کہ بار بار یا بارہا عام انتخابات کے بعد بھی ’کلیدی فیصلوں کو معنویت دینے‘ اور اِجتماعی مفاد کے تحفظ جیسے اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے! تومعلوم ہوا کہ ۔۔۔ ’’بات چاہے کنٹونمنٹ بورڈز کی ہو یا مقامی حکومتوں (بلدیاتی اِداروں) کے قیام کی‘ جمہوری و اِنتخابی عمل کے روائتی اَسلوب سے زیادہ‘ اِس کے مفہوم و معانی عام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
LG polls, what we achieved besides the results