Showing posts with label Central Jail. Show all posts
Showing posts with label Central Jail. Show all posts

Sunday, April 9, 2017

Apr2017: Jail Reforms, other side of the picture!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جیل اصلاحات: گھر کا بھیدی!
خیبرپختونخوا کے جیل خانہ جات میں سہولیات کا معیار اور اِن کے حالات کا موازنہ ملک کے دیگر صوبوں سے نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایک تو جیل خانہ جات پر قیدیوں کا بوجھ موجود سہولیات کے مقابلے زیادہ ہے اور دوسرا انتہائی مطلوب قیدیوں کی ایک ایسی بڑی تعداد بھی قید ہے جو دہشت گردی جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں اور جرائم کے تفتیشی طریقۂ کار یا پھر عدالتی نظام میں پائی جانے والی تاخیری خامیوں یا خرابیوں کے باعث ایسے خطرناک مجرموں کو یا تو بہت کم عرصے کی سزائیں مل رہی ہیں یا پھر اُن کے مقدمات کی لمبے عرصے تک سماعتیں ہی ختم نہیں ہو پا رہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ جیل خانہ جات میں عمومی جرائم کے قیدیوں سے گھلنے ملنے کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ 

حکومت کو سوچنا چاہئے کہ انسداد دہشت گردی کے لئے کوئی بھی بڑی کاروائی (آپریشن) شروع کرنے سے قبل مشتبہ اور جرائم پیشہ افراد کو دیگر قیدیوں سے الگ رکھنے اُور جیل خانہ جات کے حفاظتی انتظامات (سیکورٹی) کے لئے جدید الیکٹرانک آلات نصب کرنے کے ساتھ ریٹائرڈ فوجی کمانڈوز پر مشتمل خصوصی فورس بھی تیار کرے‘ جو جیل خانہ جات و صوبائی حکومت کی دیگر حساس تنصیبات کی حفاظت کے مخصوص ہوں۔ ’’جیل خانہ جات: اصلاحات‘‘ کے عنوان سے (چھ اپریل دوہزار سترہ) شائع ہونے والے نکتۂ نظر کے بارے ’گھر کے کسی بھیدی‘ نے بذریعہ ’ٹوئیٹر اکاونٹ @prisonerkpk‘ چند ایسے امور کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں جیل کے اعلیٰ انتظامی اہلکاروں سے وضاحت باوجود کوشش بھی حاصل نہیں ہوسکی تاہم ’واٹس ایپ تبادلۂ خیال‘ میں اُنہوں نے اِن تمام اِلزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا‘ لیکن چونکہ معاملہ ایسے اَفراد کا ہے جو قید ہیں یا قیدیوں کی خدمت کے لئے ملازم رکھے گئے ہیں تو اِن سبھی نکات کو من و عن پیش کرنے کا مقصد یہ اُمید ہے کہ بلاشک و شبہ خیبرپختونخوا کے مختلف جیل خانہ جات میں اصلاحات کی گئیں ہیں لیکن وہ سبھی شعبہ جات جہاں ابھی ’’مزید‘‘ بہتری کی گنجائش موجود ہے اُن کی جانب بھی فیصلہ ساز (صوبائی حکومت) متوجہ ہو۔

گھر کے بھیدی کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا کے جیل خانہ جات میں اِصلاحات کے حوالے سے صوبائی حکومت کا دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں۔ جو اصلاحات نافذ ہوئی بھی ہیں تو وہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت کے دور میں تجویز و نافذ کی گئیں تھیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت جیل اصلاحات کے بارے میں سنجیدہ نہیں اور صوبہ پنجاب اور سندھ کے جیل خانہ جات خیبرپختونخوا سے زیادہ بہتر ہیں‘ جہاں قیدیوں کے لئے فراہم کی جانے والی رہائشی سہولیات کا معیار بہتر ہے۔

جیل خانہ جات کے عملے کی تنخواہیں اور اوقات کار ناقابل یقین حد تک خراب ہیں! عملے کی تربیت کا اہتمام نہیں۔ محکمانہ ترقیاں ایک عرصے سے نہیں ہو رہیں اور ’سات سو پچاس‘ ملازمین کا بطور وارڈنز اِضافہ کرتے ہوئے اہلیت و قابلیت (میرٹ) کا خیال نہیں رکھا گیا۔ میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے فرائض کی ادائیگی کرنے والے اِہلکاروں کی دل شکنی اُور حوصلہ شکنی ہوئی ہے جو مالی مشکلات کا بھی شکار ہیں۔ دہشت گردی جیسے جرائم کا اِرتکاب کرنے والے قیدیوں کے ساتھ عام قیدیوں کو اَکٹھا قید رکھا جاتا ہے جس سے اِنتہاء پسندی بڑھ رہی ہے اور یہ عام قیدی دہشت گردوں کے لئے پیغام رسانی کا کام بھی کر رہے ہیں۔ ہری پور جیل میں تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ دہشت گرد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اِس جیل کا بیرونی حفاظتی حصار پاک فوج کے پاس ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیل انتظامیہ نہ تو اندرونی طور پر حسب ’جیل مینول‘ سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے بلکہ جیل کے حفاظتی اَمور بھی زیادہ مثالی اَنداز میں نہیں چلائے جا رہے اور سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں۔ کیا ہم اِس بات کو اِصلاح کہہ سکتے ہیں کہ ایک اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ کو ’پی سی ایس (مقابلے کے)‘ امتحان کے ذریعے بھرتی کیا گیا لیکن اُنہیں محکمانہ ترقی حاصل کرنے میں 23 برس جیسا طویل عرصہ لگا اُور اِن تیئس برس وہ ایک ہی عہدے پر کام کرتے رہے! 

یہ تاثر بھی غورطلب اور گمراہ کن ہے کہ خیبرپختونخوا کے جیل خانہ جات میں صرف قیدیوں ہی کے لئے قیام و طعام کی سہولیات کا معیار کم سے کم اِنسانی ضروریات کے مطابق نہیں بلکہ اگر ہم جیل خانہ جات کے ملازمین اور بالخصوص ادنیٰ ملازمین کے اُوقات کار اُور حالات کار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کس طرح غربت زدہ افراد کو کس قدر بڑی اور اہم ذمہ داری سونپ کر حکومت اطمینان سے بیٹھی ہے۔ اعلیٰ و ادنیٰ عملے کے لئے جو رہائش گاہیں (بیرکس) موجود ہیں اُن کی عمارتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ سہولیات ناپید ہیں اُور یہ عمارتیں کسی حادثے کی صورت جانی نقصانات کا سبب بن سکتی ہیں! جیل عملے میں وارڈر جیسے اہم عہدے پر تعینات اِہلکاروں کو آمدورفت کے لئے (کنوینس) الاؤنس نہیں دیا جاتا اور ایسے وارڈر کی مثال بھی موجود ہے جسے محکمانہ ترقی ملنے اور ہیڈ بننے میں 20 برس کا عرصہ لگا! انتظامی طور پر جیل خانہ جات کے عملے کی مشکلات کے لئے ذمہ دار خیبرپختونخوا کا محکمہ داخلہ ہے جن کے بابوؤں (افسرشاہی) کو دیئے گئے اختیارات اُور کارکردگی کا جب تک احتساب نہیں ہوتا اُس وقت تک اِصلاح کا کوئی بھی عمل مکمل نہیں ہو سکے گا۔ 

اَلمیہ ہے کہ جیل خانہ جات کے ادنیٰ ملازمین سب سے زیادہ متاثر ہیں‘ جن کی حالت زار کے بارے صوبائی حکومت کو خصوصی توجہ دینا چاہئے۔ جیل خانہ جات ایسی چاردیواریاں (قیدوبند کے مراکز) نہیں ہوتے‘ جہاں اِنسانوں کو ایک خاص عرصے کے لئے قید رکھا جائے بلکہ اِن مراکز میں ایسی سرگرمیاں اور تربیت کے مواقع فراہم کرنا حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ جرائم سے بیزاری پیدا ہو۔ 

مثبت سوچ پروان چڑھے اُور قید مکمل کرنے کے بعد معاشرے کو ایسے افراد دیئے جائیں جن کی پیشہ وارانہ تربیت کا بندوبست کیا گیا ہو تاکہ وہ معاشرے کا ایک فعال رکن بننے کے ساتھ اپنی ذمہ داری زیادہ مثبت انداز میں ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اِس ضرورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہری پور جیل میں فنی و تکنیکی امور کے حوالے سے ایک تربیت گاہ ’ٹویٹا (TEVTA)‘ کے تعاون سے بنائی گئی‘ جسے پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی محض اِس وجہ سے مکمل طور پر فعال نہیں کیا جاسکا کیونکہ مذکورہ تربیتی مرکز کے لئے ایک عدد بجلی کے ٹرانسفارمر کی ضرورت تھی جو نصب نہیں ہوسکا ہے! اگر ایک ایسی حکومت جو اپنے ہی دور میں‘ اپنی ہی اصلاحی تربیتی منصوبے کے لئے بجلی کا ایک عدد ٹرانسفارمر نصب کرنے میں دلچسپی نہ لے رہی ہو‘ اُس سے بھلا یہ توقع بھی کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ’جیل خانہ جات‘ میں معیار زندگی کو بذریعہ اصلاحات کسی مثالی و بلند سطح تک لے جائے گی!‘‘

Thursday, April 6, 2017

Apr2017: Jail reforms in KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جیل خانہ جات: اصلاحات
خیبرپختونخوا حکومت نے ’جیل خانہ جات اِصلاحات‘ پر نہ صرف عمل درآمد یقینی بنایا ہے‘ بلکہ جیل خانہ جات میں سہولیات کی فراہمی کا معیار بھی بلند کیا ہے اور کئی ایسے ترقیاتی کامجن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ تبدیلی قدرے تاخیر سے ہی لیکن اِس کے ثمرات بہرحال ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

سنٹرل جیل پشاور میں نویں اور دسویں جماعتوں کے لئے بورڈ کی زیرنگرانی امتحانی مرکز میں ممتحن اور مبصر داد دیئے بغیر نہ رہ سکے کیونکہ سنٹرل جیل پشاور کا ماحول اس سال تبدیل دکھائی دیا۔ سبزہ زار‘ رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں اور شجرکاری نے منظر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے یقیناًقیدیوں کے لئے صحت افزأ ماحول‘ سہولیات اُور انسان دوست روئیوں کے نہایت ہی مثبت اثرات ظاہر ہوں گے۔

سنٹرل جیل پشاور میں کھانے پینے کا بہتر انتظام اور قیدیوں کی مشاورت سے ’مینو (اشیائے خوردونوش کی فہرست)‘ بھی ترتیب دی گئی ہے جو اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ماضی کی طرح قیدیوں کے لئے جاری ہونے والے فنڈز فیصلہ سازوں کے جیبوں میں منتقل نہیں ہو رہے اور قیدیوں کو غیرمعیاری کھانا نہیں دیا جارہا! جیل اِنتظامیہ کو یقین ہے کہ ’’صحت مند رہن سہن اُور ماحول کی فراہمی سے مجرموں میں منفی روئیوں کی اِصلاح ہو گی اُور اپنی اپنی سزا کاٹنے کے بعد معاشرے میں ایک ذمہ دار کردار و مثبت سوچ کو آگے بڑھائیں گے تاہم مجرموں کی ذہن سازی (تربیت) اُور کچھ ایسی رعایت دینا بھی ضروری ہے جس سے قیدخانوں پر افرادی بوجھ کم ہو سکے۔ اِمتحانات دینے والے قیدیوں سے ہوئی بات چیت میں بھی مطالبہ سامنے آیا کہ وزیراعلیٰ علم حاصل کرنے والے قیدیوں کے لئے رعائت کا اعلان کریں کیونکہ جو قیدی یہ چاہتے ہیں کہ قید سے رہائی کے بعد عملی زندگی میں ایک کامیاب اور مختلف انسان ثابت ہوں تو حکومت کو اُن کے جذبات کی قدر اور اُن کے لئے آسانیوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہئے۔ اچھے اخلاق و کردار اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے قیدیوں کی اگر سزاؤں میں تخفیف دی جائے تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں اور جیل خانہ جات کو ’اصلاحی گھروں‘ میں تبدیل کر دیا جائے تو بھی معاشرے کی اُسی طور خدمت ہوگی جیسا کہ دوسروں کے لئے خطرہ بننے کو الگ تھلگ رکھ کر کیا جاتا ہے۔

کیا سنٹرل جیل پشاور کا ہر قیدی اپنے ہی جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟
کیا قیدیوں کو دی جانے والی سزا میں وہ اذیت بھی شامل ہونی چاہئے جو ماضی میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہ بے زبان جانوروں کی طرح سہتے رہے؟
کیا جیل خانہ جات کا ماحول اس قدر بہتر نہیں ہونا چاہئے کہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے ایک تبدیل شخصیت اور شناخت کے ساتھ رہائی پائیں تو معاشرہ اُن کی مثالیں دے؟

اُمید کی جاسکتی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی فرصت کے کسی لمحے اچانک سنٹرل جیل پشاور یا صوبے کے دیگر اضلاع میں جیل خانہ جات کا دورہ کریں گے جہاں اُنہیں موقع ملے گا کہ قیدیوں سے براہ راست ملاقات میں اُن کی جرائم پر اُس ’’ندامت و پشیمانی‘‘ کا بذات خود نوٹس لیں جنہیں یہاں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

سنٹرل جیل پشاور میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد تندرست و توانا افراد پر مشتمل ہے جنہیں اگر کسی صنعت یا دور افتادہ علاقے میں کیمپ لگا کر ترقیاتی کاموں میں شریک کر لیا جائے تو اِس سے نہ صرف اُن کے مشکل اوقات کٹنے میں آسانی رہے گی بلکہ وہ کم معاوضے کے عوض ترقیاتی عمل کا حصہ بھی بن جائیں گے اور ہنرمند بھی ہو جائیں گے۔ اِس سلسلے میں ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ‘‘ ایک اچھی عملی (لائق مطالعہ) مثال کا درجہ رکھتا ہے جس میں ہمسایہ ملک چین سے لائے گئے قیدیوں کا ایک کیمپ خیبرپختونخوا میں بھی قائم کیا گیا ہے اور تعمیراتی کاموں میں قیدیوں کی خدمات (معاونت) سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ اگر قیدیوں کو چین سے لاکر پاکستان میں ترقی کے عمل میں شریک کیا جا سکتا ہے تو یہی کام ہم اپنے قیدیوں سے کیوں نہیں لے سکتے جبکہ اسلام بھی ایسے افراد کی خدمات سے مشروط استفادے کی اجازت دیتا ہے اگر مشقت لیتے ہوئے مزدوروں کے انسانی حقوق (لیبر قوانین) کا خیال اور انسانیت کا احترام و تعظیم ملحوظ رکھی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت صرف جیل خانہ جات میں سہولیات ہی فراہم نہیں کر رہی بلکہ ایک جامع اصلاحی تربیتی حکمت عملی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کے لئے پچیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اور حکمت عملی کے تحت خیبرپختونخوا کے 9 بڑے (مرکزی) جیل خانہ جات بشمول ہری پور‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں‘ نوشہرہ میں خواتین اور کم عمر (نابالغ) قیدیوں کو مختلف پیشوں کی فنی و تکنیکی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ قیدخانوں کے بعد اپنی عملی زندگی میں کامیاب و کامران ثابت ہو سکیں۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے محکمۂ داخلہ نے ایک سروے مکمل کر لیا ہے جس میں ایسے قیدیوں کے معمولی نوعیت کے جرمانے معاف کرنے اور انہیں رہائی دینے کا سلسلہ جاری ہے جو اپنی قید کی مدت تو پوری کر چکے ہیں لیکن جرمانہ نہ ہونے کی وجہ سے جن کی رہائی ممکن نہیں ہو پا رہی‘ اُن کی آنکھیں مسیحاؤں کی منتظر ہیں۔ اِس سلسلے میں انسانی حقوق کمیشن‘ عدالت اور صوبائی حکومت سے بھی رابطہ کیا گیا ہے کہ معمولی جرائم کے جرمانے ادا نہ کرنے کی وجہ سے زیرحراست مجرموں کو کس طرح معاف کرتے ہوئے رہائی دلائی جائے۔ یاد رہے کہ جرمانہ ادا کرنے کی مالی سکت نہ رکھنے والے سنٹرل جیل بنوں میں ایسے قیدیوں کی تعداد 6‘ سنٹرل جیل پشاور میں 13‘ سنٹرل جیل ہری پور میں 6‘ سنٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان میں 2‘ سنٹرل جیل تیمرگرہ میں 2‘ سنٹرل جیل کوہاٹ میں 2 جبکہ سنٹڑل جیل چترال میں ستائیس سالہ ابراہیم ولد صلاح الدین نامی قیدی ایسا بھی ہے جسے محض جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے رہائی نہیں مل پا رہی۔

اگر اِس سلسلے میں محکمۂ داخلہ یا صوبائی حکومت یا جیل خانہ جات کی جانب سے اپیل کی جائے تو کئی ایسے مخیرحضرات بھی ہوں گے جو یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کر کے قیدیوں کی رہائی ممکن بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گے لیکن اِس معاملے پر مختلف آئینی پہلوؤں سے غور کے بعد ایک واضح حکومتی پالیسی سامنے آنی چاہئے جس میں دیگر قیدیوں کی رہائی اور جیل خانہ جات پر آبادی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ لب لباب یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے جیل خانہ جات میں اصلاحات کا ’’عملاً نفاذ‘‘ ایک ایسی ضرورت تھی جس کا ایک عرصے سے تقاضا اُور اُمید کی جارہی تھی اور اِن اصلاحات نے سیّد قمر عباس مرحوم کی یاد بھی دلائی ہے‘ جنہوں نے بطور وزیر جیل اصلاحات کی تھیں اور اُس وقت یہ معمولی اضافہ کہ قیدیوں کے لئے صابن کی ایک چھوٹی ٹکیہ دی جایا کرے گی‘ غیرمعمولی بات تھی۔

آج ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے خیبرپختونخوا حکومت کو اعزاز حاصل ہوا ہے کہ قیدیوں سے انسانی بنیادوں پر بہتر سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور یہ قطعی طور پر ایسی معمولی بات نہیں کہ اِس پر تحریک انصاف کی صوبائی اور مرکزی قیادت فخر نہ کرے۔
Prisons in Khyber Pukhtunkhwa reformed

Sunday, April 24, 2016

APR2016: Prisons reforms 2

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قیدخانہ: عرض حال!
پشاور سنٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش اُور حفاظت کا مسئلہ تو کسی حد تک نئی تعمیرات سے حل ہو ہی گیا ہے‘ اب ضرورت اُن مکینوں بارے سوچنے کی ہے‘ جن کا کوئی پرسان حال نہیں اور اُن کے لئے صوبائی حکومت تک آواز پہنچانے کا کوئی ذریعہ یا ایسا آزاد وسیلہ بھی دستیاب نہیں‘ جو تسلی و تشفی ہی کے لئے کافی قرار دیا جاسکے۔ ہمارے قیدخانے اصلاح سے زیادہ عبرت کا نشان ہیں جہاں جرائم میں ملوث افراد کے توبہ تائب ہونے کے امکانات نہایت ہی کم اُور غیرضروری پابندیوں (سختیوں ) کی وجہ سے اِنتقام کے جذبات مزید بھڑک اُٹھتے ہیں۔ ضرورت اِس پورے منظرنامے کے بارے غوروخوض کی ہے کیونکہ قیدیوں کو ملنے والی سہولیات تو بہت دور کی بات ’بنیادی ضروریات‘ کی دستیابی نہیں اُور اسی ذکر کے بارے اشارہ‘ تیئس فروری بعنوان ’قیدخانہ: سہولیات کا فقدان‘ کیا گیا جس کے لئے نہ صرف قانون میں ترمیم بلکہ ’’قیدیوں کو انسان سمجھنے کی ضرورت بطور دعوت فکر پیش کی گئی۔‘‘ (ملاحظہ کیجئے آن لائن http://tinyurl.com/22042016)
سنٹرل جیل پشاور کے ایک قیدی نے جیل کے عمومی حالات‘ اَندرونی نظم و ضبط‘ خوراک اُور ماحول بارے جو ’عرض حال‘ ارسال کی ہے اُس بارے انتظامیہ کا مؤقف بالکل اُلٹ (متضاد) ہے جو ایسے کسی ظلم و زیادتی جیسے بیان سے اتفاق نہیں کرتی۔ جیل انتظامیہ کے مطابق قواعد و ضوابط کے مطابق قیدیوں کی ’’ہرممکن خدمت‘‘ کی جاتی ہے لیکن اگر ایسا ہی ہوتا تو ’قید کا تجربہ‘ حاصل کرنے والے ایسی کہانیاں نہ سناتے جس میں دوران حراست بااثر اُور پیسے والے افراد سے مختلف معاملہ کیا جاتا ہے۔
بہرکیف سمجھنے لائق بنیادی بات یہ ہے کہ پاکستان بھر میں جیل خانہ جات کا نظام ’برطانوی دور‘ کا تشکیل کردہ (یادگار) ہے جب قیدخانوں کا بنیادی مقصد سیاسی مخالفین کو اس قدر صعوبتوں اور نفسیاتی و جسمانی سزاؤں سے دوچار کرنا ہوتا تھا تاکہ وہ حکومت مخالف تحریک سے الگ ہو جائیں یا اِس قابل ہی نہ رہیں کہ وہ کسی قسم کا مزاحمتی کردار ادا کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں قید خانوں کا استعمال سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ریاستیں کرتی ہیں تو ظلم و جبر کی داستانیں عام ہوتی ہیں جیسا کہ امریکہ کا گوانتاناموبے یا باگرام قیدخانہ۔

 اگر ہم مغربی اقوام کی تاریخ دیکھیں تو اٹھارہویں صدی ہی سے قیدخانوں کو تشدد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے جہاں قیدیوں سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا اور یہ اسلوب آج تک جاری ہے لیکن ہمارے ہاں قیدخانے کے اُس اصطلاحی مفہوم و معنی اور ضرورت پر غور نہیں ہورہا کہ درحقیقت سنٹرل جیل وہ مقام ہے جہاں کسی جرم کے سزا یافتہ قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو اپنی سزا کے دن پورے کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں زیرسماعت مقدمات کے ملزموں کو بھی سزایافتہ افراد کے ساتھ رکھنا کہاں کا انصاف ہے اور ایسی مثالیں بھی پیش کی جاتی ہیں جس میں منظم جرائم پیشہ عناصر جیل خانہ جات پر بھی اپنے پیسے کے زور سے حاوی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیل (قید) کا نام سن کر جرائم پیشہ عناصر کے ماتھے پر پسینے اور جسم میں سنسنی نہی دوڑتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جیل اُن کے مجرمانہ عزائم اور بے قاعدگیوں کا تسلسل نہیں توڑیں گے۔ ہر دور میں جیل خانہ جات کی اصلاحی (ناکافی) کوششیں ہوتی رہیں اُور اس سلسلے میں وفاقی وزارت قانون و انصاف نے جیل کے اصطلاحی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے 1997ء کی ایک رپورٹ میں لکھا کہ ’’حراست‘ دیکھ بھال‘ زیرنظر رکھنا‘ جسمانی و نفسیاتی عارضوں کی علاج گاہ‘ معاشرے کی قیدیوں کے اصلاحی عمل میں شراکت داری تاکہ وہ جرائم سے تائب ہو کر سزا کاٹنے کے بعد معاشرے کا فعال و مفید جز بن سکیں۔ قیدیوں میں خوداحتسابی اور ازخود روئیوں میں تبدیلی کی کوشش کے ساتھ جیل ایک ایسی جگہ قرار دی گئی جہاں رہنے والے نظم وضبط کے پابند ہو جائیں۔‘‘ تصور کیجئے کہ کیا ہمارے جیل خانہ جات حقیقت میں اِس مثالی تشریح و بیان کی عکاسی کرتے ہیں؟

قیام پاکستان (1947ء) کے بعد جیل خانہ جات سے متعلق اَمور کی اصلاح کی پہلی کوشش 1950ء سے 1955ء کے درمیان ہوئی جب ایک سابق انسپکٹر جنرل کرنل سلامت اللہ نے اصلاحات پیش کیں۔ پھر مشرق پاکستان جیل ریفارمز 1956ء میں ہوئے۔ مغربی پاکستان کے جیل ریفارمز 1968-70ء جسٹس ایس اے محمود کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے۔ 1981-83ء کے دوران ہوم سیکرٹری پنجاب محمد حیات اللہ خان سنبل نے جیل اصلاحات و انتظامات پر نظرثانی کی۔ 1985ء میں وزیرمملکت محمود علی نے ایک کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے جیل اصلاحات پیش کیں۔1994ء میں وزیرداخلہ میجرجنرل ریٹائرڈ نصیراللہ خان بابر نے ایک جیل اصلاحاتی کمیٹی کی سربراہی میں غوروخوض کیا۔1997ء میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں ’جیل ریفارمز کمیٹی‘ بنائی گئی لیکن پھر 1997ء ہی میں ’پاک لاء کمیشن‘ بنانے کی ضرورت پیش آئی جس کی سربراہی بھی چیف جسٹس سجاد علی شاہ ہی کر رہے تھے۔ شمالی مغربی سرحدی صوبہ (حال خیبرپختونخوا) اسمبلی نے بھی اپنی موجودگی ریکارڈ کا حصہ بنائی۔ سال 2000ء کے دوران جسٹس عبدالقادر شیخ کی قیادت میں ’ٹاسک فورس‘ کا مقصد جیل اصلاحات جامع بنانا تھا۔ سال2005ء میں اُس وقت کے وزیرداخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی سربراہی میں قومی سطح پر جیل اصلاحات کی کوششیں بھی قابل ذکر ہیں لیکن نہ تو قید خانوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکا اور نہ ہی وہاں بنیادی ضروریات کی فراہمی یا اُس کے معیار میں قابل ذکر بہتری لائی جا سکی۔

جیل خانہ جات صوبائی معاملہ (سبجیکٹ) ہے۔ جیل مینول (قواعد وضوابط) کی پانچویں شق کے مطابق صوبائی حکومتیں اپنی صوابدید پر ایک ایسے انسپکٹر جنرل کا تقرر کرتی ہیں جو جیل خانہ جات کے اَمور کی نگرانی کرسکے۔پھر ہر جیل کاایک نگران (سپرٹینڈنٹ) مقرر کیا جاتا‘ جس کے ماتحت دو یا اِس سے زیادہ نائب (ڈپٹی سپرٹینڈنٹ) ہوتے ہیں‘ علاؤہ اَزیں ماتحت عملہ جس میں چیف وارڈرز‘ ہیڈ وارڈرز اُور وارڈز عرصہ دراز تک تعینات رہنے کی وجہ سے بھی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ بہرکیف ’جیل مینول‘ کے مطابق ’ضلعی (بلدیاتی) نمائندے اپنی حدود میں کسی بھی جیل کا دورہ کرکے وہاں سہولیات و ضروریات کی فراہمی کے معیار کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ جیل میں مردوں اُور خواتین کے لئے الگ الگ حصوں میں بنیادی سہولیات و ضروریات کا معیارجب تک ’کڑی نگرانی (جانچ)‘ کے عمل سے نہیں گزرے گا‘ آئندہ اِصلاحات (بھی) ناکافی و تشنہ ہی رہیں گی۔
Part 2 in the series of emphasis on Prisons Reforms

Saturday, April 23, 2016

APR2016: Prisons & Priisoners - The condition!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قیدخانہ: سہولیات کا فقدان!
برطانوی راج کے دوران تعمیر ہونے والا پشاور جیل (سنٹرل پریزن) خیبرپختونخوا کا دوسرا بڑا قیدخانہ ہے جو 450 قیدیوں کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا تاہم اِس میں قیدیوں کی تعداد سولہ سو سے زیادہ ہے جن میں ایک ہزار سے زیادہ قیدی ایسے ہیں جن کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اُور باقی ماندہ اپنی سزا کے اذیت بھرے ایام کاٹ رہے ہیں۔ سنٹرل جیل پشاور میں معمولی جرائم سے لیکر دہشت گردی‘ قتل اُور منشیات فروشی جیسے جرائم میں ملوث افراد کو رکھا گیا ہے۔ عمارت کی گنجائش بڑھانے کے لئے ایک ارب چالیس کروڑ آٹھ لاکھ روپے سے زائد کا تخمینہ لگا کر مرحلہ وار تعمیراتی کام کا آغاز کیا گیا تاہم نئی بیرکوں کے اضافے سے قیدیوں کی گنجائش میں تو اضافہ ہوگیا ہے لیکن یہاں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا معیار اور مقدار میں حسب ضرورت اضافہ نہیں ہوسکا۔ جیسا کہ نئی تعمیر ہونے والی عمارت کا ایک بیرک ایسی بھی ہے جہاں چھت کے پنکھے نصب نہیں اور گرمی و حبس کی وجہ سے قیدیوں شدید جسمانی و ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ کے مطابق ’سنٹرل جیل پشاور‘ کی عمارت کا زیادہ گنجائش کے لئے مکمل منہدم کرکے ایک ہی وقت میں ازسرنو زیادہ تعمیر کرنا ممکن نہیں تھا‘ اِس لئے یہ کام مرحلہ وار کیا گیا اور سردست 20 عدد پنکھوں کی کمی صرف ایک بیرک میں ہے‘ جہاں صوبائی حکومت کی جانب سے مالی وسائل (فنڈز) ملتے ہی پنکھوں کی تنصیب کر دی جائے گی۔ یاد رہے کہ 14 اپریل 2012ء کو بنوں جبکہ 29 جولائی 2013ء کے روز ڈیرہ اسماعیل خان توڑنے کے بعد صوبائی حکومت نے نہ صرف جیلوں کی تعمیرات زیادہ پختہ اور گنجائش بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ فوری طورپر جیلوں کی حفاظت کے لئے چاردیواریاں بلند کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا تاہم صوبے کے چار بڑے (مرکزی) قیدخانوں ہری پور‘ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان اُور بنوں کے علاؤہ 10 جیل خانے جبکہ چار ذیلی جیل خانے اور اتنی ہی تعداد میں جوڈیشل لاک اپ اضلاع کی سطح پر قائم ہیں اور سبھی میں قدر مشترک یہ ہے کہ اِن میں گنجائش سے زائد اور خطرناک و معمولی جرائم کرنے والوں کو اکٹھا رکھا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے قیدخانے سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں۔ رواں ہفتے مانسہرہ کی ضلعی جیل میں ایک خاتون نے بچے کو جنم دیا جبکہ جیل میں نہ تو اِس قسم کی صورتحال میں طبی امداد دینے کا بندوبست موجود تھا اور نہ ہی ایمبولینس موجود تھی۔

سہولیات کے فقدان کا اعتراف صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات بھی کرتے ہیں لیکن محض غلطی کا احساس ہی کافی نہیں ہوتا جب تک کہ اِس کی فوری نہ سہی مرحلہ وار انداز ہی میں اصلاح کی جائے۔ قیدی کسی بھی طرح ’فائیوسٹار ہوٹل‘ والی سہولیات کا تقاضا نہیں کر رہے لیکن گرمی کے موسم میں اُن کی کم سے کم پنکھے جیسی ضرورت پوری ہونی چاہئے۔ ٹھنڈے پانی کی آسائش کا مطالبہ اِس مرحلے پر کرنا مناسب نہیں لیکن سابق وزیر جیل خانہ جات و عوامی شکایات سیّد قمر عباس (مرحوم) کی یاد آ رہی ہے جن کی کوششوں میں شریک بیگم نسیم ولی خان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اصلاحات کی گئیں تھیں‘جس میں قیدیوں کو صابن رکھنے کا استحقاق بھی دیا گیا تھا۔ تصور کیجئے کہ قیدخانوں میں کتنا انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور کتنی اصلاحات کی ضرورت ہنوز محسوس کی جا رہی ہے۔تاہم وقتی اقدامات و انتظامات (پنکھے‘ ٹھنڈا پانی‘ صاف کپڑے اور ایک عدد بستر وغیرہ) کے زیادہ ضرورت گیارہ ابواب اور باسٹھ شقوں پر مشتمل اُس قانون کو جدید سانچوں کے مطابق ڈھالنے (ترمیم) کرنے کی ہے جو سال 1894ء سے رائج ہے جبکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں آج کے جرائم اور مجرم زیادہ پیچیدہ و گھمبیر ہیں۔ قوانین کو ’حسب حالات‘ جامع بنانے کے لئے صرف متعلقہ وزیر ہی نہیں بلکہ جملہ اراکین صوبائی اسمبلی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے کے اُن کرداروں کا بھی خیال کریں جو اپنے کردہ ناکردہ جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں اُور ایسا بھی نہیں کہ پورے معاشرے میں صرف وہی ’’قانون شکن‘‘ تھے!
The prisons need attention too