Showing posts with label JUIF. Show all posts
Showing posts with label JUIF. Show all posts

Sunday, October 27, 2019

Maulana, please reconsider by Dr. Farrukh Saleem

Maulana, please reconsider
تخریب نہیں تعمیر!

بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار چاہتی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام سے پاکستان کی معاشی ترقی اور اصلاحات کا جاری عمل رک جائے گا جبکہ اِس سے قومی ادارے بشمول پاک فوج کا ادارہ بھی کمزور ہوگا اُور اگر پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے تو اِس کی وجہ سے متاثر ہونے والوں میں سرفہرست پاک فوج ہی ہوگی‘ جس کی دہشت گردی و انتہاءپسندی کے خلاف جاری کوششیں ڈھکی چھپی نہیں۔

پاکستان کے طول و عرض میں‘ اِن دنوں‘ ہر کوئی جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ روزمرہ معمولات سرانجام دیتے ہوئے جس کسی سے بھی بات چیت کا موقع ملتا ہے اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار اُور ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے بارے میں اپنے محتاط یا غیرمحتاط خدشات کا اظہار کرے۔ متوقع ہے کہ ’آزادی مارچ‘ اکتیس اکتوبر کے روز ’اسلام آباد‘ سے ٹکرائے گا۔ ہر جگہ اُور ہر سطح پر ’آزادی مارچ‘ کی دھوم ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ پاکستان کے 98فیصد بالغ لوگ اپنے اپنے پیشوں سے وابستہ مزدوری کرنے والے محنت کش ہیں جبکہ باقی 2 فیصد لوگ وہ ہیں جنہیں تشہیر چاہئے یعنی وہ ہر حال اُور بہرصورت خبروں‘ اخبارات اُور ذرائع ابلاغ کی زینت رہنے (خودنمائی) کے شوق (لت) میں مبتلا ہیں!

صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ’آزادی مارچ‘ کے عنوان سے جو کچھ بھی ہونے جا رہا ہے اُس سے حکومتی امور اُور عوام کے معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہوں گے۔ یہ خلل کس قدر پاکستان کے حق میں ہے‘ اِس بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے اُور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی‘ معاشی و اقتصادی‘ دفاعی اور داخلی صورتحال اُس مقام پر کھڑی ہے‘ جہاں ایسا کوئی بھی خلل‘ ایسا کوئی بھی اقدام ’تعمیر‘ کی بجائے ’تخریب‘ کا باعث بنے گا اُور یقینا سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قطعی مقصود نہیں ہوگا کہ وہ حب الوطنوں کی طرح کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ اُن کے کسی اقدام‘ فعل یا کلام سے ’پاکستان کا نقصان ہو۔‘

پاکستان میں اِن دنوں کیا ہو رہا ہے‘ آیئے اُن پر ایک نظر کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) چاہتا ہے کہ وہ ملک میں بجلی و گیس کی فروخت کو اپنے ہاتھ میں لے۔ اگر ایسا ہوگیا تو تصور محال ہے کہ اِس کے بعد کیا ہوگا۔ ’2 نومبر‘ کے روز ’تحریک لبیک پاکستان‘ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ اِس تحریک کی جانب سے نامزد اُمیدواروں نے 2018ءکے عام انتخابات میں مجموعی طور پر 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔ ’3 نومبر‘ کے روز ’تبلیغی جماعت‘ سے وابستہ لوگ رائیونڈ اجتماع میں ہونے دعا میں شریک ہوں گے۔ اندازہ ہے کہ اِس موقع پر 20 لاکھ جمع ہوتے ہیں۔ نومبر ہی کے مہینے میں پاکستان کو لئے ہوئے قرض کی ایک ارب ڈالر قسط ادا کرنی ہے۔ قومی خزانے پر ایسے قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جن کا استعمال غیرترقیاتی کاموں پر ہو رہا ہے یعنی قرض لیکر قومی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ اِسی طرح پاکستان میں بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے اُور ’ایف اے ٹی ایف (FATF)‘ کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے‘ جس سے بچنے کے لئے پاکستان کو صرف چار مہینوں کا وقت دیا گیا ہے۔ اِن سبھی واقعات اُور پہلوو ¿ں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ایسا کوئی بھی عمل ہوتا ہے جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو یہ قطعی طور پر پاکستان کے حق میں مفید نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن دور اندیش‘ سیاسی بصیرت سے مالا مال اُور ایک منظم انسان ہیں‘ جنہوں نے جمعیت کو ملک کے تین صوبوں (خیبرپختونخوا‘ بلوچستان اُور سندھ) میں تنظیم سازی اُور اثرورسوخ کا لوہا منوایا ہے۔ عام انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کل ڈالے گئے ووٹوں کا صرف 2 فیصد حاصل کرتی ہے لیکن جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) خود کو 2 فیصد نہیں بلکہ ملک کے زیادہ بڑے طبقے کی رائے کی ترجمان قرار دیتی ہے جو یقینا اِس کے قد کاٹھ سے زیادہ بڑا دعویٰ ہے۔

اگر ہم جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کی سیاست کا جائزہ لیں تو 1985ءسے برسراقتدار آنے والے گذشتہ 5 حکومت کے ادوار میں یہ کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ رہی ہے۔ اِس جماعت سے تعلق رکھنے والے غیرمعمولی طور پر مالی عطیات دینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے اُور یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ جب تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو مولانا فضل الرحمن اُس کے مخالفین میں پیش پیش تھے۔

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ’جمعیت علمائے اسلام‘ کا تعلق ’دیوبندی‘ مسلک سے ہے‘ جو اسلامی عقائد میں ’سنی حنفی (اہلسنت والجماعت)‘ نظریہ فکر کے احیاءکی علمی تحریک ہے۔ دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے دنیا کے مختلف حصوں کی نسبت پاکستان‘ بھارت‘ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ برطانیہ اُور جنوبی افریقہ میں زیادہ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ دیوبندی ہیں۔ ملک کے کل 35 ہزار مدارس میں سے 23 ہزار مدارس کا تعلق دیوبند سے ملنے والی اسلامی فکر و اعمال سے ہے۔ ذہن نشین رہے کہ قیام پاکستان کے وقت (1947ءمیں) ملک میں مدارس کی کل تعداد 189 تھی۔ فی الوقت پاکستان میں 20لاکھ بچے مدارس میں زیرتعلیم ہیں جن میں سے 13 لاکھ کا تعلق دیوبند سے ہے۔

پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
بیرونی ملک دشمن طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں اُور اِس مرحلے پر ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات اُور ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہیئں۔ مولانا فضل الرحمن سے درخواست کے ساتھ اُمید ہے کہ وہ ’آزادی مارچ‘ کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے اُور ایسی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے‘ جس سے پاکستان کمزور ہو اُور جس میں ملک دشمن داخلی و خارجی طاقتیں اُن کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Thursday, March 12, 2015

Mar2015: Possibility of LG Polls

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مثالی طرز حکمرانی
بلدیاتی اِنتخابات کا طبل بج چکا ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت سے زیادہ حزب اختلاف کی جماعتیں سرجوڑ کر مشاورت کر رہی ہیں کہ اپنی حمایت (ووٹ بینک) یکجا کرتے ہوئے کس طرح یہ بات ثابت کیا جائے کہ حکمراں تحریک اِنصاف کے مقابلے خیبرپختونخوا کی دیگر سیاسی جماعتیں زیادہ مقبول ہیں اور انہیں عوام کا زیادہ اعتماد حاصل ہے۔

خیبرپختونخوا میں حزب اختلاف کی تین جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)‘ پاکستان پیپلزپارٹی اُور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نجانے کب سے ٹھان چکی ہے کہ وہ اکٹھے بلدیاتی معرکے میں حصہ لیں گے اور یہ اتحاد کچھ زیادہ غیرمنطقی بھی نہیں کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس سوائے تحریک انصاف کے خلاف اتحاد بنائے زیادہ تراکیب کی گنجائش بھی نہیں اور سبھی کی نظریں سپرئم کورٹ کے حکم کی رو سے پانچویں مہینے (مئی) کے آخر پر لگی ہوئی ہیں‘ جس سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ حتمی طور پر اِس تاریخ سے قبل خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے لیکن ایسا ممکن ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور ایک مرتبہ پھر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر غیریقینی کے بادل سایہ چھا گئے ہیں۔ بارہ مارچ کے روز چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی زیرصدارت ایک غیرمعمولی اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں الیکشن کمیشن کے مختلف شعبہ جات بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنی اپنی تیاریوں اور موجود وسائل کی بابت رپورٹیں پیش کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ ’’صوبہ پنجاب کے لئے31 کروڑ‘ صوبہ سندھ کے لئے 11کروڑ جبکہ خیبرپختونخوا کے لئے 10 کروڑ بیلٹ پیپرز (ووٹ) شائع کرنے کی ضرورت ہوگی اُور طباعت کے اِس عمل کے لئے کم از کم سات سے آٹھ ماہ درکار ہوں گے۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک طرف سپرئم کورٹ کے واضح احکامات ہیں اور دوسری جانب متعلقہ حکومتی ادارے کی تیاری ہی نہیں کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داری اَدا کر سکے۔

یہی وہ مقام ہے کہ جہاں ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام متعارف کرانے کے مطالبے کی حقیقت و گہرائی اور بصیرت سمجھ آتی ہے۔ پاکستان میں انتخابات سے جڑی طرح طرح کی خباثتوں کا علاج ’بائیومیٹرک تصدیق‘ والے طرز انتخابات کے بغیر ممکن نہیں اور جہاں تک بیلٹ پیرز کی اِس قدر بڑے پیمانے پر اشاعت کا تعلق ہے تو بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اِس قدر بڑے پیمانے پر (کروڑوں کی تعداد میں) بیلٹ پیپرز شائع کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی یعنی کم خرچ بالا نشین اور انتخابی دھاندلیاں روکنے سمیت شفاف انتخابات کے انعقاد جیسا پائیدار حل موجود ہے‘ لیکن ارباب اختیار اِس مسلسل مطالبے پر ایسی توجہ نہیں دیتے جو عام آدمی کی مستقل خاموشی کا جواب بنے! ’’میری خاموشئ مسلسل کو ۔۔۔ اِک مسلسل گلہ سمجھ لیجئے۔(جون ایلیا)‘‘

بات چاہے حکومتی جماعتوں کی ہو یا حزب اختلاف کے مابین تعاون و اتحاد کی‘ ایسی باریک تفصیلات کبھی بھی کھلے عام منعقدہ اجلاسوں میں طے نہیں کی جاتیں لیکن ایک روایت کے طور پر پورے زوروشور سے اجلاس ضرور طلب کئے جاتے ہیں تاکہ ذرائع ابلاغ میں اپنی موجودگی برقرار رکھی جاسکے۔ خیبرپختونخوا میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے بھی سترہ مارچ کے روز مردان میں اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں حسب روایت ’اہم فیصلے‘ کئے جائیں گے‘ تاہم اِس اجلاس کے ’ایجنڈے‘ کی تفصیلات (اگر کچھ ہیں بھی تو وہ) خفیہ رکھی گئیں ہیں! یاد رہے کہ سہ جماعتی اتحاد گزشتہ برس صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مبینہ ’ٹال مٹول‘ سے کام لینے کے جواز پر تشکیل دیا گیا لیکن پھر جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کے جماعتی انتخابات کی وجہ سے سیکرٹریز کی سطح پر ہوئے پہلے مذاکرات کے فیصلے بھی کہیں اِدھر اُدھر ہو گئے یا کر دیئے گئے۔ کم و بیش ایک سال بعد سترہ مارچ کے روز طلب کیا جانے والا خیبرپختونخوا کی حزب اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس کئی لحاظ سے غیرمعمولی ہے اور یہ کوشش بھی کی جائے گی کہ اِس مرتبہ قومی وطن پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو بھی ’بلدیاتی انتخابی اتحاد‘ میں شامل کر لیا جائے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں ’نواز لیگ‘ کا ساتھ دینے سے برسراقتدار جماعت کی بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں اور کم ازکم وفاقی حکومت کی جانب سے ایسی کسی تحریک یا کوشش کا حصہ بننے سے گریز کیا جائے گا‘ جو تحریک انصاف کے لئے خیبرپختونخوا میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنے۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے بننے والے اتحاد نے پانچ مارچ کے سینیٹ انتخابات میں اکٹھے حصہ لیا اُور ستائیس اراکین پر سینیٹ کی 3 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اگست 2013ء میں جب پشاور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے ون کے لئے ضمنی انتخابات ہو رہے تھے تب بھی جمعیت علمائے اسلام‘ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی نے اتحاد کرکے کامیابی حاصل کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ مختلف النظریات جماعتیں اپنی کوششوں کے نتائج حاصل کرنے میں اِس مرتبہ بھی پراُمید ہی نہیں یقین کی حد سے آگے کامیابی کے دعوی کر رہی ہیں‘ لیکن اگر بلدیاتی انتخابات کا اِنعقاد ایک مرتبہ پھر مزید چند ماہ تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے تو کیا حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد باقی رہ پائے گا؟

پس تحریر: انقلابی شاعر حبیب جالب کی آج بائیس برسویں منائی جا رہی ہے۔ جالب کی شاعری محض آمریت اور غیرجمہوری حکومتوں کی مذمت ہی میں نہیں بلکہ خود کو جمہوری قرار دینے والوں کے لئے سبق آموز ہیں کیونکہ اُنہوں نے حریت‘ بہادری اور سامراجی قوتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تلقین کی ہے۔ چوبیس مارچ 1928ء سے 13 مارچ 1993ء تک چونسٹھ برس کے سفر کا شعوری دور حبیب جالب نے ’ترقی پسند ادب‘ کے نام کیا اور علمبردار رہے۔ نگار ایوارڈز اور 2009ء میں ’نشان امتیاز‘ پانے والے حبیب جالب اپنے نام زمین جائیداد اور بینک بیلنس چھوڑ کر دنیا سے رخصت نہیں ہوئے۔ وہ حکومتوں کے قریب رہے‘ عہدے اور وزارتیں پا سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنے ہنر و فن کی قیمت نہیں لگائی۔ یہی وہ (مشعل راہ) کردار ہے جس کی عظمت اُور امانت و دیانت کی آج کے پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے! ’’محبت گولیوں سے بو رہے ہو: وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو۔۔۔گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے: یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو!‘‘
LG Polls delayed and dreams of opposition party to settle account with PTI in KP