Showing posts with label Suba Hazara. Show all posts
Showing posts with label Suba Hazara. Show all posts

Tuesday, February 16, 2021

PTI's Senate Nominations & Hazara Reservation

 شبیرحسین اِمام

ہزارہ در سینیٹ: حقیقی نمائندگی سے محروم

تحریک انصاف کو سینیٹ محاذ پر نیا اِمتحان درپیش ہے جہاں زیرغور معاملہ (قضیہ) ”واجبی نمائندگی“ کا نہیں بلکہ ”حقیقی نمائندگی“کا ہے۔ سینیٹ اِنتخابات (3 مارچ) کے لئے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزدگیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے جن میں خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی سے سب سے زیادہ تعداد میں یعنی 10سینیٹرز کا انتخاب ہونا ہے چونکہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا اسمبلی کی اکثریتی جماعت ہے اِس لئے سب کی نظریں اُس انصاف کی جانب مبذول تھیں کہ اِس مرتبہ صوبے کے 35 اَضلاع پر مشتمل 7 ڈویژنز (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈیرہ اسماعیل خان) سے کتنا اِنصاف کیا جاتا ہے بالخصوص تحریک اِنصاف کے دیرینہ کارکن سینیٹ نامزدگیوں سے متعلق فیصلوں سے کس قدر اتفاق کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے 13 فروری کی شام سینیٹ کے لئے نامزد اراکین کی فہرست جاری کی گئی جس کے مطابق جنرل نشستوں پر شبلی فراز‘ محسن عزیز‘ ذیشان خانزادہ‘ فیصل سلیم اُور نجی اللہ خٹک۔ ٹیکنوکریٹ نشستوں پر دوست محمد محسود اُور ڈاکٹر ہمایوں مہمند۔ خواتین کی نشستوں پر ثانیہ نشتر اُور فلک ناز چترالی جبکہ اقلیتی نشست پر گردیپ سنگھ نامزد ہوئے ہیں اُور 15 فروری (کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ) تک اِن ناموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی حالانکہ خیبرپختونخوا کے مختلف ڈویژنوں سے تحریک انصاف کے کارکنوں کا احتجاج (تیرہ فروری کی شام ہوئے اعلان سے) جاری ہے۔

سینیٹ کے لئے نامزدگیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا (فیس بک اُور ٹوئیٹر) کے علاوہ واٹس ایپ گروپوں میں تحریک انصاف ہزارہ ڈویژن کے کارکن شدید ردعمل (ناپسندیدگی) کا اظہار کر رہے ہیں۔ فیس بک کے ایسے ہی ایک پیغام (پوسٹ) میں کہا گیا ہے کہ ”سینیٹ نامزدگیاں کرتے ہوئے تحریک ِانصاف نے ہزارہ ڈویژن کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا اُور ہزارہ سے قریب دو درجن اراکین اسمبلیوں کے باوجود بھی سینیٹ کے لئے نئے (تازہ دم) رکن پر نگاہ نہیں کی گئی جبکہ ضلع مردان سے 2 افراد کو سینیٹ کے لئے نامزد کرنے کو اہل ہزارہ اپنی حق تلفی سمجھتے ہیں۔“ کارکنوں کی جانب سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے سخت تبصرے بھی کئے گئے ہیں اُور قیام پاکستان کی تحریک میں ہزارہ ڈویژن کے تاریخی کردار‘ واقعات و کارکردگی کے حوالے دیئے گئے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ سوشل میڈیا کے اسلوب سے ’کلام نرم و نازک‘ اُس قیادت پر ’اثر‘ نہیں کرے گا جو اِس وقت اقتدار میں ہے اُور اقتدار کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اِس میں پاوں زمین پر نہیں رہتے۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں کارکنوں کی بے قدری کی یہ پہلی مثال نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق اُس جمہور کی رائے اُور جذبات کا احترام نہیں کرتیں جن سے جمہوریت تخلیق پاتی ہے۔

دریائے سندھ کے مشرقی کنارے سرسبز پہاڑی (بالائی) اُور زرخیز میدانی (زریں) علاقوں پر مشتمل ہزارہ ڈویژن میں اِیبٹ آباد‘ بٹ گرام‘ ہری پور‘ لوئر کوہستان‘ مانسہرہ‘ تورغر‘ کولائی پلاس اُور اَپر کوہستان نامی اضلاع شامل ہیں‘ جن کی سینیٹ میں ہزارہ ڈویژن کی نمائندگی سینیٹر اعظم سواتی 2006ءسے کر رہے ہیں لیکن یہ نمائندگی سیاسی و نظریاتی نہیں بلکہ وہ اپنے ذاتی اثرورسوخ اُور کاروباری مفادات و معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جبکہ تقاضا یہ ہو رہا ہے کہ ’سینیٹ میں ہزارہ ڈویژن کو نمائندگی ملنی چاہئے‘ جو (برائے نام) نمائندگی ہونے کے باوجود بھی محروم ہے!“ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کسی ایک ڈویژن کو سینیٹ میں 2 لیکن دوسرے ڈویژن کو سینیٹ میں ”حقیقی نمائندگی“ نہ دی جائے جس سے دور افتادہ اُور بیشتر غربت زدہ اضلاع میں پائے جانے والے ’احساس محرومی‘ میں اضافہ منطقی ردعمل ہے اُور سیاسی شعور رکھنے والوں کے علاوہ عوامی حلقے بھی اِس امتیازی سلوک کی مذمت کر رہے ہیں۔

  شخصیات کے ذاتی مفادات نہ ہوتے تو سیدھا سادا حساب تھا کہ تحریک ِانصاف نے خیبرپختونخوا کے 7 ڈویژنز سے 10 سینیٹ نامزدگیاں کرنا تھیں اُور یہ قطعی مشکل نہ تھا کہ ہر ڈویژن کو نمائندگی دی جاتی۔ اگر مردان سے دو سینیٹرز کا اضافہ ہو سکتا ہے تو ہزارہ ڈویژن سے کیوں نہیں؟ لیکن ایسا نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ بھی ہے اُور وہ یہ کہ خیبرپختونخوا میں تحریک ِانصاف کسی بھی ضلع یا ڈویژن میں منظم نہیں اُور جماعتی فیصلے اُنہی رہنماوں کے ہاتھ میں ہیں اُور یہی کردار صوبے یا وفاق میں بیٹھ کر سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔
 
خیبرپختونخوا میں تحریک ِانصاف کا پہلا دور (مئی دوہزارتیرہ سے جون دوہزار اٹھارہ) اُور دوسرا دور (جولائی دوہزار اٹھارہ سے) تاحال جاری ہے۔ اِس دوران اگر سب سے کم توجہ کسی ایک شعبے پر دی گئی ہے تو وہ ”تنظیم سازی“ ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی برسرزمین صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کسی بھی ڈویژن‘ ضلع‘ تحصیل حتیٰ کہ یونین کونسل کی سطح پر بھی منظم نہیں اُور اِس کا تنظیمی ڈھانچہ برائے نام موجود ہے۔ المیہ ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو اپنی ذات میں جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن اُن کی تنظیم سازی کو کمزور رکھا گیا ہے جس سے کارکنوں کی خاطرخواہ اہمیت نہیں رہی اُور اب کارکنوں کی ضرورت صرف اُور صرف عام اِنتخابات تک محدود ہو گئی ہے۔ جہاں سیاسی تنظیم سازی نہ ہو‘ وہاں سیاسی کارکنوں (عوام) کی رائے کو بھی توجہ نہیں دی جاتی اُور سینیٹ کے لئے نامزدگیاں کرتے ہوئے یہی ہوا کہ تحریک ِانصاف نے نہ صرف خیبرپختونخوا کے سات اضلاع پر مشتمل ہزارہ ڈویژن کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کو نظرانداز کیا بلکہ یہاں کے سیاسی کارکنوں کو بھی ”صفر سے ضرب دی۔“ یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ ہزارہ ڈویژن وہی ہے جس نے ایک ارب شجرکاری مہم (بلین ٹری سونامی) سے لیکر سیاحتی ترقی کے ذریعے تحریک انصاف کے ویژن کو عملی جامہ پہنایا اُور پوری دنیا میں تحریک انصاف کو پذیرائی ملی۔ وقت گزر جائے گا لیکن سوشل میڈیا پر کارکنوں کے تبصرے موجود رہیں گے جن پر نظر رکھے مورخین تحریک انصاف کی غلطیوں کو شمار کر رہے ہیں کہ وہ ملک کے لئے متبادل قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی لیکن طاقت کے سرچشمے عوام کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔ ”اے دل خود ناشناس ایسا بھی کیا .... آئینہ اُور اِس قدر اندھا بھی کیا (اُمید فاضلی)۔

مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ہزارہ ڈویژن کے اضلاع میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 23 لاکھ 41 ہزار 782 (مرد ووٹرز 13 لاکھ 31ہزار 518 اُور خواتین ووٹرز 10لاکھ 10ہزار 264) تھی جبکہ جولائی 2018ءکے عام اِنتخابات کے موقع پر جہاں ملک گیر سطح پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں 2013ءکے عام انتخابات کے مقابلے میں 23 فیصد اضافہ ہوا‘ وہیں ہزارہ ڈویژن کے ووٹرز کی تعداد 35 لاکھ تک جا پہنچی۔ اِن اعدادوشمار کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہزارہ ڈویژن سینیٹ میں حقیقی نمائندگی نہیں رکھتی تو درحقیقت اِس سے مراد 35 لاکھ سے زائد ووٹرز کی آواز ہوتی ہے جن کے نمائندے قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹ میں تو موجود ہیں لیکن 3 مارچ کے بعد قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) میں ہزارہ ڈویژن کی ”حقیقی و معنوی نمائندگی“ نہیں ہوگی۔


Tuesday, May 16, 2017

May2017: Political Mistakes after every take!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاسی غلطیاں!

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل میں ’سیاست‘ کی بجائے اگر ’انتظامی ضروریات (تقاضوں)‘ کو مدنظر رکھا جائے تو اِس سے عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات حل ہو سکتی ہیں‘ جمہوریت مضبوط و توانا اور جمہوری اداروں سے جڑی توقعات پوری ہونے کی بس یہی ایک صورت ہے لیکن کیا پاکستان میں کوئی مسئلہ بنا متنازعہ بنائے حل بھی ہوتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں نئے صوبے کی تشکیل (اضافے) کا سب سے توانا مطالبہ ’صوبہ ہزارہ‘ کا قیام ہے‘ جو سات برس قبل ایک احتجاج اور اُس کے خونی انجام کے بعد تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے تو کیا اُمید کی جا سکتی ہے کہ ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کی قیادت اُس ایک مقصد سے ’’پرخلوص وابستگی‘‘ قائم رکھ پائے گی‘ جس کے لئے سات کارکنوں نے جام شہادت نوش کیا اور سینکڑوں زخمی آج بھی علیل یا معذور ہیں! یادش بخیر 12 اپریل 2010ء کے روز صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کرنے والے نہتے مظاہرین پر باوردی اور بناء وردی تعینات پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ شہید ہونے والے مظاہرین کو پشت میں گولیاں لگیں لیکن ’عدالتی تحقیقاتی کمیشن‘ نے محض ایک صحافی کی یاداشت اور ’کراس فائرنگ‘ جیسے لفظ کے استعمال کو بنیاد بنا کر پورے مقدمے (حقائق) کی بساط لپیٹ دی! بناء سمجھے اور بناء احساس کئے انگریزی بولنے کے جنون میں کیا کسی ایک صحافی کا بیان کافی سمجھا جانا چاہئے تھا!؟ پاکستان میں اعلیٰ تحقیقاتی کوششوں کا انجام بخیر ایسا ہی ہوتا ہے کہ حکومت وقت پر دباؤ اور خون کے دھبے اُن ہاتھوں پر نہیں ہوتے جو درحقیقت اِس میں ملوث ہوتے ہیں۔

سات شہداء کے خون (سانحۂ اَیبٹ آباد) کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی جس میں تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا حیدر زمان سمیت موجودہ صوبائی حکومت سے تعلق رکھنے والے صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین و دیگر کئی رہنماؤں کے نام بھی اُسی ایف آئی آر میں شامل ہیں‘ جو اُس وقت کی صوبائی حکومت (عوامی نیشنل پارٹی) نے عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’سربمہر (سیل)‘ کر دیا۔ ظاہر تھا کہ کوئی بھی حکومت اپنے ہی اقدام اور سرزد ہونے والی دانستہ یا غیردانستہ غلطی پر خود کو موردالزام نہیں ٹھہرائے گی۔ عجب ہے کہ ایف آئی آر میں احتجاج کرنے والوں کو نامزد تو کیا گیا لیکن اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ بشمول اُن پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں فائرنگ ہوئی اُن کے نام ایف آئی آر کا حصہ نہیں۔ جب کمیشن کی جانب سے دونوں فریقین کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تو پھر ’ایف آئی آر‘ صرف ایک فریق (تحریک صوبہ ہزارہ کے قائدین) کے خلاف کیوں درج کی گئی۔ کون بھول سکتا ہے کہ اُس وقت کے ڈی آئی جی ہزارہ امتیاز الطاف‘ ڈی پی اُو اقبال خان اُور ڈی سی اُو جو عینی شاہدین بھی ہیں لیکن اُن کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی! اِس سانحے کے بعد ضلعی انتظامیہ تبدیل کی گئی‘ جس نے درپردہ ایسی سازشیں کیں کہ تحریک صوبہ ہزارہ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی اور وہ قوت جو ہزارہ ڈویژن تو کیا نئے صوبوں کی تشکیل کی راہ ہموار کرتے ہوئے پورے پاکستان کی تقدیر بدل سکتی تھی ’ہائی جیک‘ کر لی گئی! صوبہ ہزارہ کے خلاف سازشیں کامیاب ہوئیں اور آج بھی کامیاب ہو رہی ہیں!

چودہ مئی کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایبٹ آباد میں جلسۂ عام کا اعلان کیاتو ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ نے ’8 نکات‘ پیش کئے اور کہا کہ وہ عمران خان کو کسی بھی صورت جلسۂ عام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اِس موقع پر داخلی و خارجی راستوں سمیت شہر کو ’’لاک ڈاؤن‘‘ کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت جانتی تھی کہ ’صوبہ ہزارہ‘ کا مطالبہ اگرچہ راکھ ہے لیکن اِس کے اندر چنگاڑی موجود ہے جو سب کچھ جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔ راتوں رات اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ تحریک ہزارہ سے مذاکرات کریں اور تیرہ مئی کی رات گئے ’10نکاتی معاہدہ‘ طے پایا جسے اگر ’لالی پاپ‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ کسی ایسے معاہدے کی قانونی حیثیت کیا ہو سکتی ہے جو سفید کاغذ پر تحریر ہو اور جس پر نہ تو سرکاری مہر ثبت ہو اور نہ ہی وہ حکومتی لیٹرپیڈ پر ہو اور اُس پر گواہوں کے نام درج ہوں!؟

ایک مرتبہ پھر ہاتھ ہو گیا ہے!؟
صوبائی حکومت عمران خان کا جلسہ منعقد کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے لیکن یہ کامیابی درحقیقت تحریک صوبہ ہزارہ کی ایک ایسی ناکامی ہے‘ جو اِس کا پیچھا کرتی رہے گی! تحریک صوبہ ہزارہ اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذکورہ معاہدے میں ’صوبہ ہزارہ کے قیام‘ اور شہدائے بارہ اپریل کی ’ایف آئی آر‘ کی دو اہم شقیں جو کہ تحریک صوبہ ہزارہ (نامی سیاسی جماعت) کے منشور کا حصہ ہے کو اِس طرح منہا کر دیا گیا اور اس کی جگہ غیرمتعلقہ و ایسے غیرضروری امور شامل کر دیئے گئے جن کا تعلق صوبے کی بجائے وفاق سے ہے اُن پر دونوں فریقین نے زیادہ زور دیا۔

دونوں فریقین رضامند ہوئے اور ایک تحریری معاہدے کی صورت میں ضبط کر لیا گیا تاہم تحریک صوبہ ہزارہ کے بزرگ (معمر) قائد اِس مذاکراتی عمل میں شریک نہیں تھے اور جب اُن کے سامنے انگریزی زبان میں تحریر کردہ یہ معاہدہ پیش کیا گیا تو اُنہوں نے اصل منشور کے دو بنیادی نکات کو پس پشت ڈالنے پر اظہار برہمی کیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی! اگلی صبح ’ہزارہ ہاؤس‘ میں پرتکلف ناشتے کا اہتمام خبر نہیں تھی کیونکہ ہزارہ ہاؤس کی مہمان نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ناشتے میں سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر‘ ترجمان خیبرپختونخوا حکومت مشتاق غنی‘ رکن صوبائی اسمبلی سردار ادریس‘ ڈویژنل و ضلعی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے اہم کردار بھی اِس موقع پر موجود تھے جنہیں رخصت کے وقت تحائف بھی دیئے گئے اور مسکراہٹوں کے تبادلوں پر بات ختم ہوگئی! جب صبح کا ناشتہ گیارہ بجے تک اپنی خوشبوئیں (مہک) پھیلاتا رہے تو دماغ کسی ایسے ضمنی موضوع کی طرف کیونکر مرتکز ہو سکتا ہے جو بنیادی اہمیت کا ہو۔ بہرکیف ایک سوال کا جواب بذات خود دینے کی بجائے اسپیکر صوبائی اسمبلی نے نہایت ہی ذہانت سے ’گیند‘ جنرل سیکرٹری تحریک صوبہ ہزارہ سردار فدا کی طرف اچھال دی‘ جو پہلے ہی تنقید کا نشانہ بن رہے تھے اور ابھی اُس معاہدے پر روشنائی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ تحریک صوبہ ہزارہ کے داخلی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری تھیں!

صوبہ ہزارہ سے متعلق سانحۂ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو اُس وقت ’سپرئم کورٹ‘ میں چیلنجز نہ کرنا ایک ایسی غلطی ہے جس کا خمیازہ آج ’ہزارے وال قوم‘ بھگت رہی ہے۔ کسی ایسی تحریک کا مستقبل بھلا کیا ہو سکتا ہے جس کے قائدین کی سیاسی بصیرت ’طفلانہ‘ ہو اور جسے سات برس گزرنے کے باوجود بھی معلوم نہ ہو کہ اُنہیں صوبائی یا وفاقی حکومتوں سے کس چیز کا مطالبہ کیوں اور کس شدت (بنیاد) سے کرنا چاہئے۔

Thursday, April 13, 2017

Apr2017: Right Demand Wrongly Assumed!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شہدائے ہزارہ ساتویں برسی!
’صوبہ ہزارہ‘ کے نام سے ’اَلگ صوبے کی تحریک‘ کے لئے قربانیاں دینے والوں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں تو اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تحریک کی قیادت ’شخصی تسلط‘ سنجیدگی اُور معاملہ فہمی‘ کی بجائے جذبات کی رو میں بہہ گئی! نتیجہ یہ ہوا کہ بطور سیاسی جماعت تشکیل و ترتیب کے باوجود بھی ایک ’’جائز مطالبہ‘‘ خاطرخواہ توانا افرادی اُور توانائی (وسائل) سے محروم رہا۔ فیصلہ سازی پر ہوش سے زیادہ جوش اور نئے صوبے کی تشکیل جیسے آئینی مسئلے کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے ’حسب خواہش حل‘ کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ خودفریبی میں نہ تو اپنے وقت کا نقصان کریں اور نہ ہی اہل ہزارہ کے جان و مال کو داؤ پر لگائیں‘ جو پہلے ہی وفاقی اُور صوبائی حکومت کی جانب سے خاطرخواہ توجہ نہ ملنے کی وجہ سے محرومیوں اُور استحصال کے سبب مصائب و مشکلات بھری زندگی بسر کر رہے ہیں! 

تصور کیجئے کہ بالائی ایبٹ آباد کے علاقوں میں آج بھی پختہ شاہراہیں نہیں اُور پگڈنڈیوں پر چلنے والی گاڑیوں کو آئے روز حادثات پیش آتے ہیں۔ آبادی کے تناسب سے طلباء و طالبات کے لئے تعلیم کے مواقع میسر نہیں۔ علاج معالجے کے لئے دشوار گزار کچے راستوں میں گھنٹوں مسافت کی وجہ سے مرض کی شدت بڑھ جاتی ہے اور اکثر مریض راستوں ہی میں دم توڑ دیتے ہیں! بارش اُور برفباری جیسے شدید موسم تو کیا عمومی حالات میں بھی عام آدمی کی سفری مشکلات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔ بالائی ایبٹ آباد کی جنت نظیر وادیوں پر مشتمل علاقوں میں سیاحت اور چھوٹے پیمانے پر بجلی کے پیداواری منصوبوں کے علاؤہ زراعت و مال مویشیوں کی افزائش کے وسیع امکانات موجود ہیں لیکن جہاں خیبرپختونخوا کے اِن دور افتادہ (راندۂ درگاہ) علاقوں میں خود صوبائی اُور وفاقی حکومتیں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی نہ رکھتی ہوں‘ کیا وہاں مسیحا آسمان سے اُترے گا؟

صوبہ ہزارہ کی تحریک کا بنیادی خیال اُس ’حق تلفی‘ سے پیدا ہوا‘ جو یہاں سے منتخب ہونے والے اُن عوامی نمائندوں کا طرزفکر و عمل تھا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل ڈھائی دہائیوں (پچیس برس) سے زائد عرصے تک ایک ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے جن افراد کو ’اہل ہزارہ‘ ووٹ دے دے کر منتخب کیا‘ آج اُن کے اثاثے اور ظاہری مالی حیثیت چنار کے درختوں اور ایبٹ آباد کو حصار میں لئے پہاڑوں سے بھی زیادہ بلند ہو چکی ہے! 

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ’ہزارہ‘ تو ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب ہوتا چلا گیا لیکن چند خاندان کس طرح ارب پتی بن گئے؟ کیا سبب ہے کہ ہزارہ اور بالخصوص ایبٹ آباد کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ پینے کا پانی اور صحت و علاج کی معیاری سہولیات میسر نہیں لیکن یہاں سے منتخب ہونے والے ماضی کے سیاسی قائدین اور حکمرانوں کے وارے نیارے ہیں! 

اگر کسی نے ’سیاست کی تباہ کاریوں‘ اور ’سیاست دانوں کی حرص و طمع‘ کا قریب سے مشاہدہ کرنا ہو‘ تو اُنہیں ’کبھی پرفضا کہلانے والے ضلع ایبٹ آباد‘ سے منتخب ہونے والے نمائندوں کی بودوباش کو قریب سے دیکھنا چاہئے۔ ایبٹ آباد کے کسی بھی چوک سے گزرنے والی ’لینڈ کروزر‘ اور دیگر بیش قیمت آف روڈ درآمد شدہ گاڑیوں کا تناسب خیبرپختونخوا کے کسی بھی دوسرے ضلع سے زیادہ کیوں ہے؟ 

ایک طرف عام آدمی نجی تعلیمی اداروں اور نجی علاج گاہوں کے رحم و کرم پر ہے تو دوسری طرف تھانہ کچہری کے رعب اور دھونس و دھاندلی کے ہر ایک حربے کو جائز سمجھنے والوں نے انتظامی طور پر ضلع ایبٹ آباد کو ’’جنت سے جہنم‘‘ بنا دیا ہے۔ تجاوزات ہیں تو بے شمار۔ جائیدادوں کے تنازعات اور پولیس کے ساتھ شراکت داری رکھنے والے قبضہ مافیا کے گروہ ہیں تو لاتعداد۔ پاکستان کی سب سے اہم فوجی چھاؤنی‘ جہاں سے فوج کی قیادت کرنے والے تربیت کی ’پہلی سیڑھی‘ پر قدم رکھتے ہیں نہ تو جدید ہے اور نہ ہی یہاں سہولیات و ترقی مثالی دکھائی دیتی ہے۔ 

ایبٹ آباد میں یومیہ ڈھائی لاکھ کلوگرام ٹھوس گندگی (کوڑا کرکٹ) پیدا ہوتا ہے لیکن اگر یومیہ ایک لاکھ کلوگرام سے بھی کم اُٹھایا جا رہا ہے تو اِس بات کا تصور محال نہیں کی کس طرح گندگی کے پہاڑ آنے والے موسم گرما کو اذیت ناک بنائیں گے! پینے کا صاف پانی پچاس سے زائد یونین کونسلوں میں سے کسی ایک بھی یونین کونسل کے رہنے والوں کو میسر نہیں۔ جس کے پاس جتنا پیسہ ہے وہ اُتنا ہی ماحول دشمن ہے۔ باغات کے حصے اجارے پر دیئے گئے ہیں اور پشاور کی طرح جلد ہی باقی ماندہ حصوں کی بھی نجکاری ہو جائے گی! فکروعمل کی دعوت ہے کہ ہزارہ اور بالخصوص ضلع ایبٹ آباد کے حقوق کے لئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا جائے۔ صوبہ ہزارہ کے نام پر ’’سیاست برائے سیاست‘‘ اور ’’مخالفت برائے مخالفت‘‘ کرنے والوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ’ہزارہ کے حقوق‘ کے لئے متحد ہونا پڑے گا بصورت دیگر کوئی صورت نہیں جس کے ذریعے ہزارہ کے حقوق کا حصول‘ تحفظ اور ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔ 

شہدائے ہزارہ کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرنے کا درست طریقہ (انداز) یہی ہے کہ اُن آئینی راستوں کا انتخاب کیا جائے‘ جن پر تصادم کا امکان نہیں‘ جو منزل تک پہنچنے کا ’شارٹ کٹ‘ بھی ہیں اور بھلا ایسا بزرگ کس طرح دانشمند کہلائے گا‘ جو تمام تر توانائیاں‘ وسائل اُور ساکھ ’احتجاج‘ کی نذر کرکے اپنے اور اپنے پیروکاروں کے پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسی ہٹ دھرمی کا ڈٹ کر دفاع کرنے کو ’عین جمہوری اُور واحد حل‘ سمجھنے جیسے مغالطے کا شکار ہو!؟ 
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی
اِک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اِس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی! (جان ایلیا)۔