Showing posts with label Tehreek e Soba Hazara. Show all posts
Showing posts with label Tehreek e Soba Hazara. Show all posts

Tuesday, May 16, 2017

May2017: Political Mistakes after every take!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاسی غلطیاں!

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل میں ’سیاست‘ کی بجائے اگر ’انتظامی ضروریات (تقاضوں)‘ کو مدنظر رکھا جائے تو اِس سے عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات حل ہو سکتی ہیں‘ جمہوریت مضبوط و توانا اور جمہوری اداروں سے جڑی توقعات پوری ہونے کی بس یہی ایک صورت ہے لیکن کیا پاکستان میں کوئی مسئلہ بنا متنازعہ بنائے حل بھی ہوتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں نئے صوبے کی تشکیل (اضافے) کا سب سے توانا مطالبہ ’صوبہ ہزارہ‘ کا قیام ہے‘ جو سات برس قبل ایک احتجاج اور اُس کے خونی انجام کے بعد تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے تو کیا اُمید کی جا سکتی ہے کہ ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کی قیادت اُس ایک مقصد سے ’’پرخلوص وابستگی‘‘ قائم رکھ پائے گی‘ جس کے لئے سات کارکنوں نے جام شہادت نوش کیا اور سینکڑوں زخمی آج بھی علیل یا معذور ہیں! یادش بخیر 12 اپریل 2010ء کے روز صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کرنے والے نہتے مظاہرین پر باوردی اور بناء وردی تعینات پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ شہید ہونے والے مظاہرین کو پشت میں گولیاں لگیں لیکن ’عدالتی تحقیقاتی کمیشن‘ نے محض ایک صحافی کی یاداشت اور ’کراس فائرنگ‘ جیسے لفظ کے استعمال کو بنیاد بنا کر پورے مقدمے (حقائق) کی بساط لپیٹ دی! بناء سمجھے اور بناء احساس کئے انگریزی بولنے کے جنون میں کیا کسی ایک صحافی کا بیان کافی سمجھا جانا چاہئے تھا!؟ پاکستان میں اعلیٰ تحقیقاتی کوششوں کا انجام بخیر ایسا ہی ہوتا ہے کہ حکومت وقت پر دباؤ اور خون کے دھبے اُن ہاتھوں پر نہیں ہوتے جو درحقیقت اِس میں ملوث ہوتے ہیں۔

سات شہداء کے خون (سانحۂ اَیبٹ آباد) کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی جس میں تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا حیدر زمان سمیت موجودہ صوبائی حکومت سے تعلق رکھنے والے صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین و دیگر کئی رہنماؤں کے نام بھی اُسی ایف آئی آر میں شامل ہیں‘ جو اُس وقت کی صوبائی حکومت (عوامی نیشنل پارٹی) نے عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’سربمہر (سیل)‘ کر دیا۔ ظاہر تھا کہ کوئی بھی حکومت اپنے ہی اقدام اور سرزد ہونے والی دانستہ یا غیردانستہ غلطی پر خود کو موردالزام نہیں ٹھہرائے گی۔ عجب ہے کہ ایف آئی آر میں احتجاج کرنے والوں کو نامزد تو کیا گیا لیکن اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ بشمول اُن پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں فائرنگ ہوئی اُن کے نام ایف آئی آر کا حصہ نہیں۔ جب کمیشن کی جانب سے دونوں فریقین کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تو پھر ’ایف آئی آر‘ صرف ایک فریق (تحریک صوبہ ہزارہ کے قائدین) کے خلاف کیوں درج کی گئی۔ کون بھول سکتا ہے کہ اُس وقت کے ڈی آئی جی ہزارہ امتیاز الطاف‘ ڈی پی اُو اقبال خان اُور ڈی سی اُو جو عینی شاہدین بھی ہیں لیکن اُن کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی! اِس سانحے کے بعد ضلعی انتظامیہ تبدیل کی گئی‘ جس نے درپردہ ایسی سازشیں کیں کہ تحریک صوبہ ہزارہ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی اور وہ قوت جو ہزارہ ڈویژن تو کیا نئے صوبوں کی تشکیل کی راہ ہموار کرتے ہوئے پورے پاکستان کی تقدیر بدل سکتی تھی ’ہائی جیک‘ کر لی گئی! صوبہ ہزارہ کے خلاف سازشیں کامیاب ہوئیں اور آج بھی کامیاب ہو رہی ہیں!

چودہ مئی کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایبٹ آباد میں جلسۂ عام کا اعلان کیاتو ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ نے ’8 نکات‘ پیش کئے اور کہا کہ وہ عمران خان کو کسی بھی صورت جلسۂ عام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اِس موقع پر داخلی و خارجی راستوں سمیت شہر کو ’’لاک ڈاؤن‘‘ کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت جانتی تھی کہ ’صوبہ ہزارہ‘ کا مطالبہ اگرچہ راکھ ہے لیکن اِس کے اندر چنگاڑی موجود ہے جو سب کچھ جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔ راتوں رات اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ تحریک ہزارہ سے مذاکرات کریں اور تیرہ مئی کی رات گئے ’10نکاتی معاہدہ‘ طے پایا جسے اگر ’لالی پاپ‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ کسی ایسے معاہدے کی قانونی حیثیت کیا ہو سکتی ہے جو سفید کاغذ پر تحریر ہو اور جس پر نہ تو سرکاری مہر ثبت ہو اور نہ ہی وہ حکومتی لیٹرپیڈ پر ہو اور اُس پر گواہوں کے نام درج ہوں!؟

ایک مرتبہ پھر ہاتھ ہو گیا ہے!؟
صوبائی حکومت عمران خان کا جلسہ منعقد کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے لیکن یہ کامیابی درحقیقت تحریک صوبہ ہزارہ کی ایک ایسی ناکامی ہے‘ جو اِس کا پیچھا کرتی رہے گی! تحریک صوبہ ہزارہ اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذکورہ معاہدے میں ’صوبہ ہزارہ کے قیام‘ اور شہدائے بارہ اپریل کی ’ایف آئی آر‘ کی دو اہم شقیں جو کہ تحریک صوبہ ہزارہ (نامی سیاسی جماعت) کے منشور کا حصہ ہے کو اِس طرح منہا کر دیا گیا اور اس کی جگہ غیرمتعلقہ و ایسے غیرضروری امور شامل کر دیئے گئے جن کا تعلق صوبے کی بجائے وفاق سے ہے اُن پر دونوں فریقین نے زیادہ زور دیا۔

دونوں فریقین رضامند ہوئے اور ایک تحریری معاہدے کی صورت میں ضبط کر لیا گیا تاہم تحریک صوبہ ہزارہ کے بزرگ (معمر) قائد اِس مذاکراتی عمل میں شریک نہیں تھے اور جب اُن کے سامنے انگریزی زبان میں تحریر کردہ یہ معاہدہ پیش کیا گیا تو اُنہوں نے اصل منشور کے دو بنیادی نکات کو پس پشت ڈالنے پر اظہار برہمی کیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی! اگلی صبح ’ہزارہ ہاؤس‘ میں پرتکلف ناشتے کا اہتمام خبر نہیں تھی کیونکہ ہزارہ ہاؤس کی مہمان نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ناشتے میں سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر‘ ترجمان خیبرپختونخوا حکومت مشتاق غنی‘ رکن صوبائی اسمبلی سردار ادریس‘ ڈویژنل و ضلعی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے اہم کردار بھی اِس موقع پر موجود تھے جنہیں رخصت کے وقت تحائف بھی دیئے گئے اور مسکراہٹوں کے تبادلوں پر بات ختم ہوگئی! جب صبح کا ناشتہ گیارہ بجے تک اپنی خوشبوئیں (مہک) پھیلاتا رہے تو دماغ کسی ایسے ضمنی موضوع کی طرف کیونکر مرتکز ہو سکتا ہے جو بنیادی اہمیت کا ہو۔ بہرکیف ایک سوال کا جواب بذات خود دینے کی بجائے اسپیکر صوبائی اسمبلی نے نہایت ہی ذہانت سے ’گیند‘ جنرل سیکرٹری تحریک صوبہ ہزارہ سردار فدا کی طرف اچھال دی‘ جو پہلے ہی تنقید کا نشانہ بن رہے تھے اور ابھی اُس معاہدے پر روشنائی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ تحریک صوبہ ہزارہ کے داخلی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری تھیں!

صوبہ ہزارہ سے متعلق سانحۂ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو اُس وقت ’سپرئم کورٹ‘ میں چیلنجز نہ کرنا ایک ایسی غلطی ہے جس کا خمیازہ آج ’ہزارے وال قوم‘ بھگت رہی ہے۔ کسی ایسی تحریک کا مستقبل بھلا کیا ہو سکتا ہے جس کے قائدین کی سیاسی بصیرت ’طفلانہ‘ ہو اور جسے سات برس گزرنے کے باوجود بھی معلوم نہ ہو کہ اُنہیں صوبائی یا وفاقی حکومتوں سے کس چیز کا مطالبہ کیوں اور کس شدت (بنیاد) سے کرنا چاہئے۔

Thursday, April 13, 2017

Apr2017: Right Demand Wrongly Assumed!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شہدائے ہزارہ ساتویں برسی!
’صوبہ ہزارہ‘ کے نام سے ’اَلگ صوبے کی تحریک‘ کے لئے قربانیاں دینے والوں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں تو اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تحریک کی قیادت ’شخصی تسلط‘ سنجیدگی اُور معاملہ فہمی‘ کی بجائے جذبات کی رو میں بہہ گئی! نتیجہ یہ ہوا کہ بطور سیاسی جماعت تشکیل و ترتیب کے باوجود بھی ایک ’’جائز مطالبہ‘‘ خاطرخواہ توانا افرادی اُور توانائی (وسائل) سے محروم رہا۔ فیصلہ سازی پر ہوش سے زیادہ جوش اور نئے صوبے کی تشکیل جیسے آئینی مسئلے کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے ’حسب خواہش حل‘ کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ خودفریبی میں نہ تو اپنے وقت کا نقصان کریں اور نہ ہی اہل ہزارہ کے جان و مال کو داؤ پر لگائیں‘ جو پہلے ہی وفاقی اُور صوبائی حکومت کی جانب سے خاطرخواہ توجہ نہ ملنے کی وجہ سے محرومیوں اُور استحصال کے سبب مصائب و مشکلات بھری زندگی بسر کر رہے ہیں! 

تصور کیجئے کہ بالائی ایبٹ آباد کے علاقوں میں آج بھی پختہ شاہراہیں نہیں اُور پگڈنڈیوں پر چلنے والی گاڑیوں کو آئے روز حادثات پیش آتے ہیں۔ آبادی کے تناسب سے طلباء و طالبات کے لئے تعلیم کے مواقع میسر نہیں۔ علاج معالجے کے لئے دشوار گزار کچے راستوں میں گھنٹوں مسافت کی وجہ سے مرض کی شدت بڑھ جاتی ہے اور اکثر مریض راستوں ہی میں دم توڑ دیتے ہیں! بارش اُور برفباری جیسے شدید موسم تو کیا عمومی حالات میں بھی عام آدمی کی سفری مشکلات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔ بالائی ایبٹ آباد کی جنت نظیر وادیوں پر مشتمل علاقوں میں سیاحت اور چھوٹے پیمانے پر بجلی کے پیداواری منصوبوں کے علاؤہ زراعت و مال مویشیوں کی افزائش کے وسیع امکانات موجود ہیں لیکن جہاں خیبرپختونخوا کے اِن دور افتادہ (راندۂ درگاہ) علاقوں میں خود صوبائی اُور وفاقی حکومتیں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی نہ رکھتی ہوں‘ کیا وہاں مسیحا آسمان سے اُترے گا؟

صوبہ ہزارہ کی تحریک کا بنیادی خیال اُس ’حق تلفی‘ سے پیدا ہوا‘ جو یہاں سے منتخب ہونے والے اُن عوامی نمائندوں کا طرزفکر و عمل تھا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل ڈھائی دہائیوں (پچیس برس) سے زائد عرصے تک ایک ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے جن افراد کو ’اہل ہزارہ‘ ووٹ دے دے کر منتخب کیا‘ آج اُن کے اثاثے اور ظاہری مالی حیثیت چنار کے درختوں اور ایبٹ آباد کو حصار میں لئے پہاڑوں سے بھی زیادہ بلند ہو چکی ہے! 

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ’ہزارہ‘ تو ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب ہوتا چلا گیا لیکن چند خاندان کس طرح ارب پتی بن گئے؟ کیا سبب ہے کہ ہزارہ اور بالخصوص ایبٹ آباد کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ پینے کا پانی اور صحت و علاج کی معیاری سہولیات میسر نہیں لیکن یہاں سے منتخب ہونے والے ماضی کے سیاسی قائدین اور حکمرانوں کے وارے نیارے ہیں! 

اگر کسی نے ’سیاست کی تباہ کاریوں‘ اور ’سیاست دانوں کی حرص و طمع‘ کا قریب سے مشاہدہ کرنا ہو‘ تو اُنہیں ’کبھی پرفضا کہلانے والے ضلع ایبٹ آباد‘ سے منتخب ہونے والے نمائندوں کی بودوباش کو قریب سے دیکھنا چاہئے۔ ایبٹ آباد کے کسی بھی چوک سے گزرنے والی ’لینڈ کروزر‘ اور دیگر بیش قیمت آف روڈ درآمد شدہ گاڑیوں کا تناسب خیبرپختونخوا کے کسی بھی دوسرے ضلع سے زیادہ کیوں ہے؟ 

ایک طرف عام آدمی نجی تعلیمی اداروں اور نجی علاج گاہوں کے رحم و کرم پر ہے تو دوسری طرف تھانہ کچہری کے رعب اور دھونس و دھاندلی کے ہر ایک حربے کو جائز سمجھنے والوں نے انتظامی طور پر ضلع ایبٹ آباد کو ’’جنت سے جہنم‘‘ بنا دیا ہے۔ تجاوزات ہیں تو بے شمار۔ جائیدادوں کے تنازعات اور پولیس کے ساتھ شراکت داری رکھنے والے قبضہ مافیا کے گروہ ہیں تو لاتعداد۔ پاکستان کی سب سے اہم فوجی چھاؤنی‘ جہاں سے فوج کی قیادت کرنے والے تربیت کی ’پہلی سیڑھی‘ پر قدم رکھتے ہیں نہ تو جدید ہے اور نہ ہی یہاں سہولیات و ترقی مثالی دکھائی دیتی ہے۔ 

ایبٹ آباد میں یومیہ ڈھائی لاکھ کلوگرام ٹھوس گندگی (کوڑا کرکٹ) پیدا ہوتا ہے لیکن اگر یومیہ ایک لاکھ کلوگرام سے بھی کم اُٹھایا جا رہا ہے تو اِس بات کا تصور محال نہیں کی کس طرح گندگی کے پہاڑ آنے والے موسم گرما کو اذیت ناک بنائیں گے! پینے کا صاف پانی پچاس سے زائد یونین کونسلوں میں سے کسی ایک بھی یونین کونسل کے رہنے والوں کو میسر نہیں۔ جس کے پاس جتنا پیسہ ہے وہ اُتنا ہی ماحول دشمن ہے۔ باغات کے حصے اجارے پر دیئے گئے ہیں اور پشاور کی طرح جلد ہی باقی ماندہ حصوں کی بھی نجکاری ہو جائے گی! فکروعمل کی دعوت ہے کہ ہزارہ اور بالخصوص ضلع ایبٹ آباد کے حقوق کے لئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا جائے۔ صوبہ ہزارہ کے نام پر ’’سیاست برائے سیاست‘‘ اور ’’مخالفت برائے مخالفت‘‘ کرنے والوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ’ہزارہ کے حقوق‘ کے لئے متحد ہونا پڑے گا بصورت دیگر کوئی صورت نہیں جس کے ذریعے ہزارہ کے حقوق کا حصول‘ تحفظ اور ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔ 

شہدائے ہزارہ کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرنے کا درست طریقہ (انداز) یہی ہے کہ اُن آئینی راستوں کا انتخاب کیا جائے‘ جن پر تصادم کا امکان نہیں‘ جو منزل تک پہنچنے کا ’شارٹ کٹ‘ بھی ہیں اور بھلا ایسا بزرگ کس طرح دانشمند کہلائے گا‘ جو تمام تر توانائیاں‘ وسائل اُور ساکھ ’احتجاج‘ کی نذر کرکے اپنے اور اپنے پیروکاروں کے پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسی ہٹ دھرمی کا ڈٹ کر دفاع کرنے کو ’عین جمہوری اُور واحد حل‘ سمجھنے جیسے مغالطے کا شکار ہو!؟ 
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی
اِک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اِس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی! (جان ایلیا)۔

Tuesday, January 5, 2016

Jan2016: Minrate of Wisdom and Truth

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مقاصد و فراموش لمحات!
صلیبی جنگ کے بعد ’بیت المقدس‘ کی ملکہ کو شکست کا پیغام دینے والا قاصد کہتا ہے کہ ’’ہماری جنت زمین کا ٹکڑا نہیں تھی‘ جو آج ہمارے ہاتھ سے نکل گئی بلکہ یہ ہمارے دلوں اور ذہنوں میں موجود ایک تصور ہے‘ جسے ہم اپنی زندگی کا مقصد اور اسے آنے والی نسلوں کومنتقل کریں گے۔‘‘ تاریخ کی کتابوں میں درج یہ چند جملے آج اسرائیل نامی حقیقت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے کیونکہ ایک قوم نے شکست جیسی حقیقت کو اپنے اوپر طاری‘ حاوی اور مسلط ہونے نہیں دیا اور چاہے اُن کے وجود اور طریقۂ کار سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے لیکن بالآخر محکوم و منتشر اُور محدود مالی و افرادی وسائل رکھنے کے باوجود اپنے عظیم مقصد کو حاصل کرکے دم لیا۔ تو معلوم ہوا کہ مقصد و طلب بلند ہونی چاہئے‘ عمل کا معیار اپنی ذات کو اعلیٰ و برتر ثابت کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہئے اور ایسی ہی خوبیوں کے مالک ’تحریک صوبہ ہزارہ پاکستان‘ کے بانی اور قائد سردار (بابا) حیدر زمان ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور ذات کو نہ تو اَرزاں سمجھا اور نہ ہی اِسے روائتی سیاست دانوں کی طرح قابل فروخت بنا کر پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہزارہ ڈویژن کے سیاسی منظرنامے میں اُن کا توانا وجود ہمیشہ مستند حوالہ رہے گا۔کون جانتا تھا کہ تین دسمبر 1934ء کو ضلع ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کے گاؤں دیول میں پیدا ہونے والا ’حیدر زمان‘ صرف اپنے حسب نسب ہی کے لئے نیک ثابت نہیں ہوگا بلکہ وہ پورے ہزارہ کی دھڑکن بن کر ایک ایسی سمت کا تعین کر دے گا‘ جس سے اُس کے ذاتی مفادات وابستہ نہیں۔ اُسے نہ تو عہدوں اور مراعات کی لالچ ہے اور نہ ہی شہرت چاہئے۔ صرف ہزارہ تو کیا پورے ملک میں بابا حیدر زمان کا نام ایک مکمل تعارف اپنی ذات میں ایک ایسی انقلابی تحریک کا نام ہے‘ جس کی شدت و حدت وقتی طور پر کم تو ہو سکتی لیکن ’ایک ہی نعرہ۔۔۔صوبہ ہزارہ‘ جیسی سوچ کو زوال نہیں ہوسکتا۔ بابا حیدر زمان اِن دنوں علیل لیکن تیزرفتاری سے صحت یابی ہو رہے ہیں۔ منڈیاں ایبٹ آباد کے نجی ہپستال کا ایک چھوٹا سا کمرہ اُن کا مسکن ہے‘ جہاں اُن کی اصولی سیاست‘ دلیرانہ مؤقف (حق گوئی) اور کھٹی میٹھی باتیں سننے یا سراہنے والوں کا جھمگھٹا رہتا ہے۔

تین جنوری کی شب ہلکی بوندا باندی کے دوران ’ایبٹ آباد الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن‘ کے نومنتخب صدر طاہر حسین شاہ کی جانب سے دیئے جانے والے پرتکلف عشایئے کے بعد تمام اراکین بابا حیدر زمان کی عیادت کرنے کے لئے چار گاڑیوں میں الرحمن ہسپتال پہنچے تو نصف شب کے قریب اوقات میں ہسپتال کی خاموش راہداریاں جاگ اُٹھیں۔ بابا حیدر زمان کے چہرے پر بے وقت کے مہمانوں کو دیکھ کر ناگواری کے نہیں بلکہ اطمینان و خوشی کے آثار نمایاں تھے۔ خندہ پیشانی پرنور چہرے پر سرخی پھیلتی چلی گئی۔ یکایک انہوں نے کمر سیدھی کرکے ’تحریک صوبہ ہزارہ پاکستان‘ کے حصول کے لئے ہر محاذ پر جدوجہد تیز کرنے سے متعلق لائحہ عمل بیان کرنا شروع کردیا‘ جن کا تناظر حالیہ چند اقدامات تھے۔ ایک موقع پر تو انہوں نے دبی ہوئی آواز میں یہ بھی کہا کہ ’’مجھے اپنی جسمانی کیفیات کا اندازہ ہے۔ میں تم لوگوں کے درمیان شاید قلیل عرصے کا مہمان ہوں۔ میری یہ نصیحت یاد رکھنا کہ اگر ’ہزارہ‘ کے رہنے والوں نے اپنے الگ صوبے کے لئے جدوجہد نہ کی تو آنے والے دور میں اُن کا نام و نشان مٹ جائے گا۔‘‘ بابا حیدر زمان ’’چین پاکستان اِقتصادی راہداری منصوبے‘‘ کا نام لئے بناء بات کر رہے تھے جو ہزارہ ڈویژن کے کئی بڑے شہروں بشمول ایبٹ آباد سے ہو کر گزرے گی۔ اُنہیں اِس راہداری منصوبے پر تحفظات نہیں کیونکہ وہ ایک محب وطن اور مثبت سوچ رکھنے والے انسان ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے ساتھ تعمیروترقی کے جو اہداف جوڑ دیئے گئے ہیں اُنہیں حقیقی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ’صوبہ ہزارہ‘ بنانے کے لئے دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم لائی جائے اور عوام کی آنکھوں میں صوبائی اسمبلی کی ایک ایسی قرارداد کی منظوری سے دھول نہ جھونکی جائے‘ جس کا وجود تو ہے لیکن اُس کی آئینی حیثیت نہیں۔ بابا حیدر زمان تلخ و شریں لب و لہجے میں ’حق گوئی‘ کا حوصلہ اور جرأت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے وسیع دسترخوان اور مہمان نوازی میں بھی ہزارہ کے جملہ سیاستدانوں میں ممتاز ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی عزت‘ مرتبہ اور مقام بڑے بڑے عہدے و مراتب رکھنے والوں سے زیادہ ہے۔

بابا حیدر زمان محض جذبات کا نام نہیں اور نہ ہی اُن کی سوچ کا مرکز و محور ہزارہ ڈویژن کی حد تک محدود ہے۔ علالت کے دوران انہوں نے 8 نکاتی ایک ایسا انقلابی منشور تحریر کیا ہے‘ جسے اگر اُن کی پوری سیاسی و غیرسیاسی زندگی اور ذہانت کا نچوڑ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’پاکستان قوم کا المیہ ’شخصیت پرستی‘ ہے۔ قوم بشمول سیاست دان قومی مسائل پر جامع اُور دیرپا عملی اقدامات کی بجائے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ عام آدمی کے پاس کوئی چارہ اور کوئی ایسا متبادل بھی نہیں رہا کہ وہ سیاست دانوں کی باتوں پر یقین نہ کرے لیکن اُسے ہر سیاسی جماعت سانپ کی طرح ڈس رہی ہے اور زہر اُس کے پورے جسم میں سرایت کر چکا ہے۔ ہمیں عام قانون سازایوانوں اور بلدیاتی اِداروں کے لئے ہونے والے عام انتخابات کے نظام کی اِصلاح کرنی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے شعوری وجود کا ثبوت دیتے ہوئے ’’مالی و انتظامی بدعنوانیوں‘ اقرباء پروری‘ سیاسی مذہبی‘ گروہی‘ نسلی و لسانی تعصبات‘‘ سے نجات حاصل کرنا ہے۔ ہمیں ’صرف پاکستانی (ایک قوم)‘ بن کر سوچنا اور اِس مقصد کے حصول کے لئے عملی عملاً کوششیں کرنی ہیں۔

ہزارہ پر مشتمل الگ صوبے کا قیام ’بابا حیدر زمان‘ کی زندگی کا لب لباب‘ اُن کا مؤقف اور اُن کی ہر سوچ و عمل کا نتیجہ ہے۔ اِس (عظیم) مقصد (حاصل) کو اپنے سینے سے لگائے اگرچہ وہ جسمانی طورپر اپنی (81سالہ) عمر سے زیادہ لاغر دکھائی دیتے ہیں لیکن جب ’صوبہ ہزارہ‘ کی بات آتی ہے تو نجانے کہاں سے اُن میں توانائی بھر جاتی ہے۔ اُن کا لہجہ گرجدار ہے کیونکہ سچائی (مصلحت آشنا) اُور کبھی زیر نہیں ہوتی۔ سچائی مرتی بھی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بابا حیدر زمان کی جلد صحت یابی اور درازئ عمر کی دعائیں کرتے ہوئے جب اُن سے ’اِلتماس دعا‘ کہا گیا تو انہوں ہاتھ تھامے کہا ’’بہت دعا‘ مجھے بھی آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ سچائی کے محاذ پر ڈٹ کر اُن قوتوں کا مقابلہ کرسکوں جو (مشتری ہوشیار باش) قیادت کے لبادے میں ’ہزارہ‘ کو پسماندہ‘ محکوم اُور اپنے مفادات کا اَسیر بنائے رکھنا چاہتے ہیں!