Showing posts with label Airport. Show all posts
Showing posts with label Airport. Show all posts

Thursday, February 1, 2018

Feb 2018: Peshawar Airport - the bad impression!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
بے جرم سزائیں!
پشاور کی قسمت میں ’فقط سزائیں‘ تحریر ہیں؟ جبکہ جنوب مشرق ایشیاء کا قدیم ترین زندہ تاریخی ’گندھارا تہذیب کا مرکزی‘ شہر اِس قسم کے ’متعصبانہ رویئے کا قطعی مستحق (حقدار) نہیں۔ 

آج کا پشاور تعمیروترقی کے ’اندھا دھند‘ دور سے گزر رہا ہے‘ جس نے نہ صرف شہری زندگی کے معمولات کو ’اُلٹ پلٹ‘ کے رکھ دیا ہے بلکہ عام انتخابات کے قریب شروع ہونے والی تعمیراتی سرگرمیاں دراصل ’وقت کا پہیہ‘ اُلٹ گھمانے کی ’ناکام کوشش‘ دکھائی دیتی ہے! لیکن پشاور کو ’’بے جرم سزاوار‘‘ ٹھہرانے والوں میں صرف تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت ہی ذمہ دار نہیں بلکہ اِس میں وفاقی حکومت بھی برابر کی شریک ہے‘ جس نے پہلے تو ’باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ کو پسماندگی اور غربت کی ایسی تصویر بنایا کہ یہ اِس ہوائی اڈے سے استفادہ کرنے والوں کو کسی بھی زاویئے سے یہ ایک ’انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مسافروں کے لئے جدید ترین سہولیات تو بہت دور کی بات‘ صفائی کے لحاظ سے بھی پشاور کا ائرپورٹ کچھ ایسا منظر پیش کرتا تھا کہ آمدورفت کرنے والے عازمین کے علاؤہ عزیزواقارب اور دوستوں کو ’پک اینڈ ڈراپ‘ کرنے والوں کی کوشش ہوتی کہ وہ جلد از جلد یہاں سے چلتا بنیں! اِن دنوں پشاور ائرپورٹ کی توسیع کا عمل جاری ہے‘ جس کے بارے میں شہری ہوابازی (سول ایوی ایشن اتھارٹی) حکام پراُمید ہیں کہ یہ کام پورے معیار اور خوبیوں کے ساتھ رواں برس (دوہزاراٹھارہ) کے چوتھے ماہ کے اختتام سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔ اِس توسیعی کام کی تفصیلات یہ ہیں کہ ’’2 ارب روپے کی خطیر رقم سے اندرون و بیرون ملک پروازوں کے لئے سہولیات میں اضافہ متوقع ہے لیکن نہ تو عمارتی ڈھانچے کی خاطرخواہ بڑے پیمانے پر توسیع دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود رقبے میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ سبزہ زار اور راہداری کے اُن حصوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے‘ جن کی وجہ سے پہلے کچھ نہ کچھ کشادگی کا احساس ہوتا تھا۔ ائرپورٹ کے سامنے سبزہ زار کی اپنی اہمیت تھی‘ لیکن حکام کے لئے 700 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش پیدا کرنا زیادہ بڑی ضرورت تھی‘ جبکہ یہ کام تین اطراف میں کشادہ سڑکوں پر باقاعدہ پارکنگ بنانے سے باآسانی ممکن تھا۔ ائرپورٹ کا ’پارکنگ پلازہ‘ حال و مستقبل کی ضروریات پوری کرسکتا تھا۔ بہرحال ملک کے دیگر ہوائی اڈوں کا اگر پشاور سے موازنہ کیا جائے تو سوائے کوئٹہ ائرپورٹ سب زیادہ ’بے سروسامانی پشاور‘ میں دکھائی دیتی ہے۔

پشاور ائرپورٹ پر عموماً 35 ہوائی جہازوں (فلائٹس) کی یومیہ آمدورفت ہوتی ہے جبکہ یہی ہوائی پٹی خصوصی طیاروں اور فضائیہ کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے‘ اگرچہ لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد جیسے تین بڑے ائرپورٹس کی طرح ’پشاور‘ مصروف ترین تو نہیں لیکن دفاعی اور شہری ہوا بازی کے نکتۂ نظر سے اِسے خاصی اہمیت حاصل ہے اور اِس کا استعمال خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے خلیجی ممالک کے محنت کش ترجیحی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ یہی ائرپورٹ غیرملکیوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے اور پشاور میں تعینات غیرملکی سفارتکار بھی اِسی کے ذریعے نجی یا چارٹرڈ اور بالخصوص معروف خلیجی ائرلائن ’ایمریٹس‘ سے استفادہ کرتے ہیں۔ چند روز قبل پشاور میں تعینات امریکی سفارت خانے کے سینیئر عملے کے اراکین نے ائرپورٹ حکام سے درخواست کی کہ اُنہیں کوئی باسہولت و محفوظ جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ اپنی فلائٹ کا انتظار کر سکیں لیکن ائرپورٹ حکام نے معذرت کر لی کہ سفارتی عملے کو نہ تو اہم شخصیات کے لئے مخصوص حصوں تک رسائی دی جاسکتی ہے اور نہ ہی اُن کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کسی قسم کے انتظامات ممکن ہیں کیونکہ ائرپورٹ کی توسیع کا عمل جاری ہے! 

امریکی سفارتکاروں کو پاکستانی حکام سے اِس قسم کے سرد رویئے کی قطعی توقع نہیں تھی‘ وگرنہ وہ کبھی بھی اپنی سبکی نہ کرواتے لیکن چند ہفتوں میں ایسا دوسری مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے جب امریکیوں سے عام مسافروں کی طرح سلوک کیا گیا ہو! ’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘ کے مترداف ’شہری ہوا بازی‘ کے اہلکاروں نے یقیناًاِس قسم کی خلاف توقع سردمہری کا مظاہرہ حکام بالا سے پوچھ بلکہ ’پوچھ پوچھ کر‘ کیا ہوگا‘ وگرنہ امریکہ بہادر کے سفارتکاروں سے اِس قسم کے سلوک کی ماضی میں کوئی ایک بھی مثال ڈھونڈے نہیں ملتی!

جون دوہزار چودہ میں ہوئے ایک ہوائی حادثے کی وجہ سے پشاور ائرپورٹ پر رات کے وقت پروازوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی تھی۔ اُس حادثے میں طیارے کو آگ لگنے سے ایک مسافر کی موت بھی ہو گئی تھی‘ جس کے بعد سہولیات میں اضافہ اور ائرپورٹ آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بجائے غروب آفتاب کے بعد پروازوں کا سلسلہ ہی ختم کر دیا گیا۔ تصور کیجئے ایک ایسے ائرپورٹ کا‘ جہاں ہوائی جہازوں کی آمدورفت بھی خاص اوقات کے علاؤہ ممکن نہ ہو! ایک طرف مثالیں موجود ہیں کہ ائرپورٹس کی سہولیات کو چوبیس گھنٹے کے ہر سیکنڈ استعمال کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ایک ایسا ائرپورٹ بھی ہے جہاں ایک گلاس پینے کے صاف پانی سے لیکر انتظارگاہوں میں نشستوں تک کچھ بھی مثالی نہیں! 

ضرورت تو اِس امر کی تھی کہ دو ارب روپے سب سے پہلے تو ’نائٹ آپریشنز‘ کی بحالی پر خرچ کئے جاتے لیکن شاید مسافروں کا یہ دیرینہ مطالبہ کبھی پورا ہو پائے کیونکہ ’شہری ہوابازی‘ کا شعبہ وفاقی حکومت سے متعلق ہے اور اگرچہ اِس کے جملہ امور کی نگرانی کرنے والے مشیر کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے لیکن ’پشاور ائرپورٹ‘ کی قسمت بالکل اُسی طرح نہیں بدلی جس طرح خیبرپختونخوا میں وزیر سے وزیراعلیٰ اور گورنر جیسے کلیدی عہدوں پر تعینات رہنے کے باوجود اِس مشیر کے اپنے آبائی علاقے کی حالت زار میں تبدیلی نہیں آئی! پشاور ائرپورٹ سے اُڑان بھرنے والی ’پینتیس پروازوں‘ میں اکثریت غیرملکی روٹس پر اُڑنے والے جہازوں کی ہے جبکہ صرف چار مقامی (اندرون ملک) پروازیں ہیں۔ 

پورے خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ہر روز اندرون ملک کی صرف چار پروازیں کسی بھی طور انصاف نہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسافروں کو طویل سفری مشکلات اور اخراجات برداشت کرکے بہ امر مجبوری اسلام آباد یا لاہور ائرپورٹس کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ’بے جرم سزا‘ کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ 

وفاقی حکومت اگر سیاسی وجوہات کی بناء پر پشاور کے حقوق اَدا نہیں کر رہی اور کسی بڑے (میگا) ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی نہیں کیا جا رہا تو کم سے کم اپنے حصے کے اُس بنیادی فریضے سے تو عہدہ برآء ہو‘ جس کی وجہ سے ’پشاور ائرپورٹ‘ پشاور کے لئے بدنامی اور مسافروں کے لئے ’باعث آزار‘ ہے۔
۔

Monday, February 20, 2017

Feb2017: Peshawar Airport, journey started!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور کا ہوائی اڈہ!
سفر ہے شرط‘ خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت اُور مرکزی ہوائی اڈہ (باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ) جہازوں کی آمدورفت (ہوائی ٹریفک) کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا مصروف ترین ائرپورٹ ہے لیکن یہاں مسافروں سے زیادہ اُن کے ہمراہ آنے والوں کی تعداد کی ایسی بڑی تعداد معمول بن چکی ہے جس کے باعث اندرون و بیرون چاردیواری رش دیدنی ہوتا ہے بالخصوص عرب ممالک سے آنے والی فلائٹس سے اُترنے والوں کے چہرے اپنے پیاروں کے گلے مل کر دمک رہے ہوتے ہیں جبکہ سبز پاسپورٹ ہاتھوں میں لئے قطاروں میں لگے نوجوان اچھے مستقبل کے لئے عزیزوں سے بچھڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایک عجیب سماں ہوتا ہے‘ بچھڑنے کے آنسو اور ملنے کے آنسو! گلے میں پھولوں کے ہار اور بانہیں۔ منتظر خواب اور آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں! سب کچھ پشاور ائرپورٹ کی اُس خاص ’’مہمان نوازی‘‘ کے دلچسپ مناظر کا حصہ ہے‘ جو پاکستان کے کسی بھی دوسرے ائرپورٹ سے استفادہ کرنے والوں کو بمشکل دیکھنے کو ملے۔ 

عرب ممالک کے لئے سستی افرادی قوت (ورک فورس) کا بڑا حصہ یہیں سے پرواز بھرتا ہے! علاؤہ ازیں پشاور ائرپورٹ دنیا کا ایسا واحد عجوبہ ائرپورٹ بھی ہے جس کے ’رن وے‘ کے ایک (آخری) حصے سے ریل گاڑی کی پٹڑی بھی گزرتی ہے۔ ستائیس جنوری دوہزار بارہ کے روز خدائی خدمتگار تحریک سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما خان عبدالغفار خان کے نام سے منسوب کئے جانے کے بعد سے ’پشاور ائرپورٹ‘ پر نہ تو سہولیات میں غیرمعمولی (کماحقہ) اضافہ ہوا‘ اور نہ ہی اِس کی تعمیرات سے کہیں بھی پختون ثقافت کا کوئی رنگ دکھائی دیتا ہے جیسا کہ ہمیں لاہور (علامہ اقبال انٹرنیشنل) اور کراچی (قائداعظم انٹرنیشل) ائرپورٹس پر دیکھنے اور محسوس کرنے کو ملتا ہے۔ یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) حکومت کے دوران ’’خان عبدالغفار خان‘‘ المعروف باچا خان (چھ فروری اٹھارہ سو نوے سے بیس جنوری انیس سو اٹھاسی) کے نام نامی سے منسوب کیا گیا جبکہ باچا خان کی تدفین اُن کی وصیت کے مطابق پاکستان کے کسی بھی حصّے‘ حتیٰ کہ اُن کے آبائی گاؤں کی بجائے افغانستان کے صوبے ننگرھار کے شہر جلال آباد میں کی گئی اور اِسی جانب اشارہ کرتے ہوئے اِس فیصلے کی مخالفت کرنے والے دلیل دیتے ہیں کہ جب کسی جماعت کے بزرگ رہنما نے سوچ سمجھ کر پاکستان میں تدفین پسند نہیں تو اُن کے نام سے پشاور ائرپورٹ منسوب کرنے میں کتنی سوچ سمجھ یا حب الوطنی سے کام لیا گیا؟ 

باچا خان کے نام سے پشاور سمیت پختون اکثریتی علاقوں میں چوراہے اور سڑکیں منسوب ہیں‘ جو اُن کی خطے میں سیاست اور جدوجہد کے لئے دی جانے والی قربانیوں اور پیغام کو دیا جانے والا اطمینان بخش خراج تحسین ہے۔ بہرکیف گذشتہ کئی ماہ (ایک سال سے) ’پشاور ائرپورٹ‘ کی توسیع کا کام جاری ہے جس کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ لاہور اور کراچی ائرپورٹس کی طرح کثیرالمنزلہ شایان شان لاؤنجز کی تعمیر بڑھتی ہوئی آمدورفت اور بالخصوص ’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)‘ منصوبے کی فعالیت سے قبل انتہائی ضروری ہے۔



جہاز کے پرواز بھرنے سے قبل عملے سے متعلق تعارفی کلمات اور سفر کی دُعا سے قبل شہری ہوابازی کے نگرانوں کی جانب سے ایک پیغام (کچھ اضافے کے ساتھ) مسافروں کو ’’بقول اُن کے اپنے مفاد میں‘‘ سنایا گیا کہ ’’پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (پی آئی اے) کے جہاز کے پرواز بھرنے سے قبل (آن بورڈ) ’سام سنگ گلیکسی نوٹ سیون‘ نامی موبائل فون (الیکٹرانک ڈیوائس) استعمال نہ کی جائے اور نہ ہی اسے چارج کیا جائے یا آن بورڈ اپنے بیگ میں رکھا جائے۔‘‘ ایسے چلتے پھرتے دھماکہ خیز فونز پر پابندی کا اطلاق مذکورہ فون کی نہایت ہی طاقتور لیکن غیرمحفوظ بیٹری کے باعث پوری دنیا میں کیا گیا کیونکہ بہت سے ایسے حادثات تواتر سے پیش آئے جن میں ’نوٹ سیون‘ جیسے مہنگے اور جدید فون (ہینڈ) سیٹ استعمال کرنے والوں کو بذات خود یا اُن کے قریب بیٹھے افراد کو بھی نقصانات اُٹھانا پڑے۔ مسافروں کے مفاد میں دوسری ہدایت کا مزاج حاکمانہ تھا کہ اگر جہاز کی پرواز میں تاخیر ہو یا مقررہ ائرپورٹ کی بجائے اِسے تکنیکی یا موسمی خرابی کے باعث کسی دوسرے شہر کے ائرپورٹ پر اُترنا پڑے تو ایسی صورت میں مسافر قانون ہاتھ میں نہ لیں یعنی نہ تو احتجاج کریں اور نہ ہی جہاز کو نقصان یا عملے (ائر کرو) سے بدتمیزی سے پیش آئیں۔ ملک کی قومی ائرلائن کو نقصان کیوں پہنچایا جائے گا لیکن اگر مسافروں (صارفین) کو ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا جائے۔ عمومی روش رہی ہے کہ ’پی آئی اے‘ کے جہاز ’وی وی آئی پیز‘ (سیاست دانوں) کے لئے تاخیر سے پرواز بھرتے رہے اور جہازوں میں صفائی کی صورتحال یا رہنمائی کے لئے عملے نے خندہ پیشانی کا مظاہرہ نہیں کیا تو مسافروں کا ردعمل فطری تھا۔ منطق‘ دلیل اور اخلاق و شائستگی کے ذریعے بڑے سے بڑے مخالف کو بھی قائل (زیر) کیا جاسکتا ہے‘ کسی ایک بیچارے مسافر کی کیا مجال کہ وہ ’’بغاوت‘‘ کا اعلان کرے یا پاکستان قوم ابھی اتنی متفق بھی نہیں ہوئی کہ وہ اپنے حق کے لئے باہمی اختلافات اور نسلی لسانی یا قبائلی و علاقائی شناخت کو خاطر میں نہ لائے!



ہوائی جہاز کے سفر سے توقعات وابستہ ہوتی ہیں کہ یہ نسبتاً خوشگوار اور باسہولت و آرام دہ ہوتا ہے بشرطیکہ دوران پرواز موسم موافق اور عملہ (کیبن کرّو) تاآخر خوش اخلاق رہے۔ اُنیس فروری کی صبح ساڑھے نو بجے A320 طیارے کی اَندرون ملک پرواز PK351 کے ذریعے پشاور سے کراچی جانے والوں کا استقبال اور کراچی پہنچنے پر جس خندہ پیشانی سے الوداع کیا گیا‘ وہ پاکستان کے قومی جہاز راں ادارے کے شایان شان تھا۔ اُن تمام مسافروں (مرد و خواتین) کے چہروں پر تسلی کے آثار نمایاں دیکھے جا سکتے تھے‘ جنہوں نے ’پی آئی اے‘ سے سفر کرنے کا ’رسک‘ لیا اور اپنے فیصلے پر پشیمان نہیں تھے اُور یہی وجہ تھی کہ بہتری کی گنجائش بارے رائے دینے کے لئے خصوصی فارم طلب کئے گئے۔ 

کسی کارپوریٹ ادارے کے لئے صارفین کی رائے (تاثرات) بہت اہم ہوتے ہیں اور بالخصوص ایک ایسے ماحول میں جبکہ نجی ائرلائنز بھی مقابلے میں ہوں! پی آئی اے کی طرح ’سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ کو بھی اپنی خدمات کا معیار بلند کرنا ہوگا۔ پشاور ائرپورٹ کی ویب سائٹ (peshawarairport.com.pk) تو موجود ہے لیکن اُس پر مسافروں یا اُن کے ساتھ آنے والوں کے نہ تو ہدایات موجود ہیں اور نہ ہی ائرپورٹ سے استفادہ کرنے والوں کو یہ موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تاثرات (تبصرہ) مستقبل میں اِس ائرپورٹ سے سفر کرنے والوں کے لئے یہاں تحریر کر سکیں۔ ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) اور بالخصوص موسم کی صورتحال اور پشاور کے بارے میں معلومات بھی اِسی ویب سائٹ کا حصہ ہوں۔ 

فلائٹ ریڈار ٹوئنٹی فور نامی ایپلی کیشن یا خود سے ’رئیل ٹائم‘ سروس فراہم کرکے رہنمائی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اِسی طرح سفری تجربے کو خوشگوار بنانے کے لئے دوران پرواز ’وائی فائی‘ کی سہولت اور ائرپورٹ کا ’ورچوئل ٹور‘ بھی ویب سائٹ کا حصہ ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر ائرپورٹ کے نقشے سے معلوم ہو سکے کہ مردوں اور خواتین کے لئے باتھ رومز (وضوخانے) کہاں ہیں‘ بورڈنگ کارڈ ملنے کے بعد لاؤنج کو ملک کے دیگر ائرپورٹس کی طرح زیادہ باسہولت بنایا جا سکتا ہے۔ مسجد یا ائرپورٹ کے سیکورٹی و انتظامی دفاتر بارے رہنمائی کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ 


ائرپورٹ پر طبی امداد کے مراکز اگر موجود ہیں تو اُن تک رسائی کن راستوں سے ہوگی! ویب سائٹ پر ’اِی کمپلینٹ‘ کی سہولت دی گئی ہے جس کے تین جز ہیں لیکن ایسی صورت میں کسی صارف کی ’آن لائن خواندگی‘ اُور سمارٹ فونز یا ٹیبلٹ جیسے کیمونیکشن ٹولز (آلات) کا ہونا ضروری ہے۔ کسی عالمی معیار کا مطالبہ جائز نہیں لیکن ’وائی فائی‘ دستیابی بارے بنیادی معلومات جلی حروف میں آویزاں کرنے سے ائرپورٹ کا تجربہ زیادہ خوشگوار اُور انتظار کی گھڑیاں گننے کی کوفت سے مسافروں یا اِستقبالیہ پر گھنٹوں سے منتظر اَفراد کو ’وقت گزرنے کا اِحساس‘ نہیں ہوگا۔ موبائل فون ایک ایسی اِیجاد بھی ہے‘ جس کا ضرورت سے زیادہ اور بناء ضرورت استعمال بھی عام ہے تو اسے بامقصد بنانے کے لئے ’موبائل فون ایپ‘ پشاور ائرپورٹ کے توسیعی منصوبے (حکمت عملی) کا حصہ ہونی چاہئے۔