Friday, April 3, 2015

Apr2015: Justice for FATA please

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِنصاف‘ قبائلی سماج اور نہیں کا علاج
پاکستان پیپلزپارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُس نے ’قبائلی علاقوں میں آئینی اصلاحات‘ کے لئے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) میں ایک مسودہ قانون اراکین کے غور و منظور کے لئے پیش کر رکھا ہے‘ جس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ’سپرئم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار کو قبائلی علاقوں تک وسعت دی جائے جیسا کہ ملک کے دیگر بندوبستی علاقوں (چاروں صوبوں) کی صورتحال ہے تاکہ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو بھی انصاف کی فراہمی اور اُن کے انسانی حقوق کا تحفظ کیاجا سکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایوان بالا میں آئین کے آرٹیکل 247 کی 7ویں شق ختم کرنے کے لئے ترمیم پیش (دائر) کر رکھی ہے‘ جو سپرئم کورٹ اور ہائی کورٹ کے قبائلی علاقوں میں فعال نہ ہونے کی راہ میں حائل بنیادی رکاوٹ ہے۔ یہ اَمر بھی قابل ذکر ہے کہ سینیٹ کی ’قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف‘ پہلے ہی اِس آئینی ترمیم کو جائز قرار دیتے ہوئے اِس ترمیم کی منظوری دے چکی ہے جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے بھی اِس سلسلے میں ایک قرارداد مئی 2012ء میں منظور کروائی گئی تھی جو کہ ایک آئینی تقاضا تھا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے منجملہ اراکین متفقہ طور پر مطالبہ کر چکے ہیں کہ ۔۔۔ ’’عدالتی طرز انصاف کے طریقۂ کار میں قبائلی علاقوں کو بھی شامل کیا جائے۔‘‘ اِس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی سفارش کر رکھی ہے کہ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح اِنصاف تک رسائی کا حق ملنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے آئین کی پہلی بات ہی یہی ہے کہ ’’چار دیگر صوبوں کی طرح پاکستان قبائلی علاقوں پر مشتمل ہے۔‘‘ تو اگر قبائلی علاقے پاکستان کا حصہ ہیں‘ جو کہ ہیں تو پھر یہ طرزعمل مبنی برانصاف نہیں کہ ایک ہی ملک کے باشندوں سے انصاف کرتے ہوئے دو الگ الگ قوانین کے تحت معاملہ کیا جائے! جبکہ قبائلی علاقوں کے رہنے والے خود کو اِنصاف سے محروم تصور کرتے ہیں اور ایک ایسی ناقابل بیان غلاموں جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں‘جس میں اُن پر انتظامیہ اور مختلف گروہوں نے اسلحہ تان رکھا ہے!

قبائلی علاقوں کے طرز حکمرانی میں اِصلاحات کے لئے آواز ہر دور حکومت میں اُٹھتی رہی ہے۔ اِس سلسلے میں کئی ایک کل جماعتی کانفرنسیں بھی منعقد ہو چکی ہیں‘ جن میں حکومتی سرپرستی و تائید والی ایک کانفرنس میں منظور کی جانے والی گیارہ متفقہ قراردادوں میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ ’’آئین کے آرٹیکل 247 میں ترمیم لائی جائے۔‘‘ ہمارے سیاستدان اپنے مفادات کے لئے مل بیٹھنے اور راتوں رات آئین کو ترمیم کرنے کے ماہر ہیں تو جب ’’کل جماعتی کانفرنس‘ پشاور ہائی کورٹ‘ سپرئم کورٹ اُور خیبرپختونخوا اسمبلی سے ہوتی ہوئی بات سینیٹ تک جا پہنچی ہے تو بظاہر آسان نظر آنے والا یہ کام (آئینی ترمیم) کیوں نہیں ہو رہی؟ ’’اِس نہیں کا کوئی علاج نہیں۔۔۔روز کہتے ہیں آپ آج نہیں!‘‘

ہمارے قانون ساز ایوانوں کی سمجھ نہیں آتی کہ جن کا بنیادی کام تو ’قانون سازی‘ ہے لیکن یہ کام جب مفاد عامہ کے زمرے میں آئے تو اُن کی ترجیحات کا حصہ نہیں رہتا۔ پھر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اَراکین بھی مختلف قسم کے متضاد رویئے اور بیانات رکھتے ہیں‘ جنہیں ’دوغلا‘ کہنا تو اُن کے استحقاق کی توہین کے زمرے میں آئے گا‘ لیکن فوری نوعیت کے اَمور کہ جن کا تعلق اِجتماعی فلاح و بہبود اور بڑے پیمانے پر ہونے والی اِنسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مالی و انتظامی بدعنوانیوں سے ہے‘ اُس پر توجہ نہیں دی جارہی۔ پشاور ہائی کورٹ نے ’7 اپریل 2014ء‘ کے روز حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے آئین کی شق 247(7) میں ترمیم کی سفارش کی تھی جسے وفاقی حکومت نے نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اِس کے خلاف سپرئم کورٹ میں مقدمہ درج کردیا۔ خیبرپختونخوا کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وقار احمد خان سپرئم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے جس کی سربراہی چیف جسٹس ناصر الملک کر رہے تھے۔ وفاق کا نکتۂ نظر یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کو وفاق کے زیرانتظام علاقوں سے متعلق کوئی سفارش حکم یا فیصلے کا حق نہیں پہنچتا۔ عجیب منطق ہے کہ چالیس لاکھ سے زائد لوگوں کو درپیش مشکلات اور اُن کے حقوق کی تلفی نظر نہیں آ رہی لیکن وفاقی حکومت کو اپنے اختیار و استحقاق بچانے کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ اگر وفاقی حکومت قبائلی علاقوں کے حقوق ادا کر رہی ہوتی‘ وہاں عدل و انصاف کی حکمرانی چاہے کسی بھی قاعدے قانون کے تحت ہر خاص و عام کے لئے مقرر ہوتی‘ اگر قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے خرچ و مختص ہونے والے مالی وسائل خرد برد نہ ہو رہے ہوتے‘ اگر ’ایف سی آر‘ کی ظالمانہ شقوں کے تحت قبائلیوں سے غلاموں جیسا سلوک نہ ہو رہا ہوتا تو پشاور ہائی کورٹ سمیت کسی بھی سنجیدہ ادارے کی جانب سے تشویش کا اظہار نہ کیا جاتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت قبائلی علاقوں کو اپنے زیرکنٹرول رکھنا تو چاہتی ہے اور وہاں ایک افسرشاہی کا نظام بھی اپنے مفادات کو بچانے کے لئے سرگرم عمل ہے لیکن قبائلیوں کا اِستحصال اور اُن کے نام پر خردبرد‘ منظم جرائم‘ اسمگلنگ‘ عسکریت پسندی‘ انتہاء پسندی اور دہشت گردی کرنے والوں سے غرض نہیں رکھنا چاہتی۔ اگر قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو اُن کے حقوق اور انصاف دیا جاتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ انتہاء پسندوں کو پاؤں جمانے کا موقع ملتا۔ غیور قبائلی پاکستان سے محبت کو نسل درنسل منتقل کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اگر اتنا استحصال ملک کے کسی دوسرے حصے کے رہنے والوں کا ہورہا ہوتا‘ تو وہ کب کے علیحدگی پسندی کی طرف مائل ہو چکے ہوتے۔ اپنے آبائی گھروں سے بیدخلی‘ دربہ دری‘ غربت و افلاس‘ جہالت‘ ڈرون حملے سمیت انواع و اقسام کے زخموں کو پیٹھ پر سجا کر مسکرانے والے قبائلیوں کے حقوق کی ادائیگی کے بناء پاکستان میں امن و سکون کا دور دورہ ممکن نہیں ہوگا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اِس ’حقیقت کا اِدراک‘ کرنا ہو گا کہ ۔۔۔ ہر مہلت‘ ہر ظلم اُور ہر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ طاقت کے ذریعے کسی کی آواز کو دبانے اور حقوق غصب کرنے کی کوئی تو انتہاء بھی ہونی چاہئے۔

 آخر پاکستان کے چار صوبوں پر حکمرانوں کو اپنی ذات اور دیگر صوبوں کی عوام طرح قبائلیوں کیوں انسان دکھائی نہیں دیتے؟ وقت آ گیا ہے کہ قبائلیوں کے غصب شدہ جائز حقوق سے محرومی کا دور ختم کیا جائے اُور انصاف و بنیادی حقوق سے الگ رکھنے کا جاری سلسلہ بھی کہیں نہ کہیں نہیں بلکہ اِس مقام پر رک جانا چاہئے کیونکہ اگر انصاف نہیں ہوگا‘ اگر حقوق ادا نہیں ہوں گے تو ’اِطمینان عام نہیں ہو پائے گا‘ اور سبھی جانتے ہیں کہ ’’اقتدار کو بدعنوان طرز حکمرانی سے تو قائم رکھا جاسکتا ہے‘ لیکن یہ سلسلہ ظلم و ناانصافی سے جاری نہیں رکھا سکتا!‘‘
Justice system for tribal areas need to be equal like the ones in settled areas of Pakistan

Apr2015: Climate change & agriculture

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
موسمی تبدیلیاں اُور زراعت
بارش ’باران رحمت‘ کہلاتی ہے‘ اگر اِس کا ضبط برقرار رہے کیونکہ آسمان سے برسنے والے ہر قطرے کا تعلق کسی نہ کسی صورت زرعی شعبے سے ہوتا ہے‘ جہاں موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات پیداوار میں کمی کی صورت ظاہر ہو رہے ہیں اور اگر اِن تغیرات کو نہ سمجھا گیا اور ان حالات سے نمٹنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات نہ کئے گئے تو اندیشہ ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں کمی کے ساتھ کاشتکاروں کے خسارے میں اضافہ ہوگا‘ جو پہلے ہی کسی فصل کے پیداواری اخراجات میں آئے روز اضافے سے پریشان ہیں۔

غذائی خودکفالت جیسے ہدف کا حصول موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھے بناء ممکن نہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے گذشتہ برس کے مقابلے اِس سال چار ماہ کی بارشوں کے مساوی پانی صرف دوماہ میں آسمان سے برسا ہے! اگر موسم کا مزاج بدل رہا ہے‘ جس کے کئی ایک عوامل ہیں تو ایسا نہیں کہ اِس بارے میں ’غوروفکر‘ نہ کی جائے‘ اُور موسم کی پیشگی صورتحال کا اندازہ نہ لگایا جا سکے بلکہ مسئلہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں ماحول کے تحفظ کا ادارہ تو موجود ہے لیکن یہ ذمہ داری معاشرے کے ہر ایک فرد کو منتقل نہیں کی جاسکی اور نہ ہی موسم کے بارے میں علاقائی سطح پر پیشنگوئی کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ ایک محکمۂ موسمیات ہے جو پورے صوبے اور ڈویژنوں کی سطح پر ہونے والے موسم کے بارے میں واجبی اور سطحی معلومات دیتا ہے‘ جسے ٹیلی ویژن چینل اہم خبروں کی بجائے ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی نشر کرتے ہیں اور لمحۂ فکریہ ہے کہ نجی اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے وسائل ماسوائے موسم کے ہر شعبے سے متعلق زیادہ خبریں ناظرین و سامعین تک پہنچانے کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہی حال تجزیہ نگاروں اور ماہرین کا ہے‘ جن کی اکثریت سیاسی موضوعات پر بناء سانس لئے بولنے کی ماہر ہے اُور اکثر کو تو اِس بات پر ملکہ حاصل ہے کہ وہ بیوقوفی کی بات نہایت ہی سنجیدگی سے کرتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاری کا جنون صرف ماہرین ہی تک محدود نہیں بلکہ حجام کی دکان سے سبزی فروش تک‘ ہر کوئی اپنی سیاسی بصیرت کا اظہار کرنے میں جس جوش وجذبے کا مظاہرہ کرتا ہے‘اُس سے اتفاق کئے بناء تعلق میں وہ گہرائی پیدا نہیں ہوتی‘ جس کی بناء پر صارف رعایت کا مستحق ٹھہرے۔

ہمیں اپنے گردوپیش موسم کو سمجھنا ہے۔ حال ہی میں ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیم ’ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف)‘ کی پاکستان شاخ نے ایک تجزیاتی رپورٹ جاری کی‘ جس کا عنوان ’’موسمی تبدیلیاں اُور ماحول سے تصرف‘‘ تھا اُور اس میں دریائے سندھ و اِس سے ملحقہ علاقوں میں زراعت و کاشتکاری سے متعلق عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے تین بنیادی فصلوں گندم‘ کپاس اور چاول کی پیداوار پر تحقیق کی گئی جس کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئندہ پچیس برس میں اِن تینوں فصلوں کی پیداوار میں 8 سے 10فیصد کمی آئے گی اگر ہمارے چھوٹے بڑے کاشتکاروں اُور زمینداروں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے تیزی سے رونما ہونے والے اثرات کو محسوس نہ کیا اُور ان سے نمٹنے کے لئے روائتی زرعی طور طریقوں میں تبدیلی نہ لائے۔ تحقیق میں اِس بات پر بہت زور دیا گیا کہ حکومت موسم پر نظر رکھنے کے لئے زیادہ وسیع پیمانے اور باریک بینی پر مبنی تجزئیات جاری کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے کیونکہ موسم کے بارے میں جاننے کے حوالے سے کاشتکاروں کا کلی طورپر انحصار حکومتی وسائل پر ہے اور اگر حکومت رہنمائی نہیں کرے گی تو فصلوں کی پیداوار نہ تو بڑھائی جاسکتی ہے اور نہ ہی فصلوں کو موسم کے منفی تغیرات سے بچایا جاسکتا ہے۔ موبائل فون‘ جی پی ایس‘ جی پی آر ایس اُور انٹرنیٹ کے وسائل (ٹیکنالوجی) سے کاشتکاروں کو روشناس کرانے کی ذمہ داری بھی حکومت ہی کی ہے‘ جو مواصلات کے شعبے میں ہونے والی ترقی سے خاطرخواہ فائدہ اٹھانے کے لئے اقدامات تجویز نہیں کر رہی۔ ہم آج بھی ٹریکٹر کے لئے قرض دینے کی پالیسی میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ زمینوں کو ہموار کرنے‘ مٹی کے فوری کیمیائی تجزیئے‘ پانی کے معیار کی جانچ اور مقدار وغیرہ معلوم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی ہماری بہت مدد کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ آٹھ سے دس فیصد پیداوار میں کمی کا مطلب گندم‘ کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ کم وبیش 30 ہزار روپے کا نقصان ہوگا۔ اِس قدر نقصان سے بچنے کے لئے ’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ نے پانچ اقدامات الگ سے تجویز کئے ہیں جن میں فصل کاشت کرنے کے روائتی اوقات اور طریقۂ کار میں تبدیلی‘ زیادہ قوت مدافعت رکھنے والے بیج کا استعمال‘ مٹی کی زرخیزی بڑھانے کے اقدامات‘ آبپاشی کے جدید طریقوں سے استفادہ جس سے پانی کی بچت اور مٹی کی زرخیزی جیسے اہداف کا بیک وقت حصول ممکن ہو۔

 پاکستان میں کاشتکاروں کی صرف پچاس فیصد تعداد ہی ایسی بتائی جاتی ہے جو موسمی اثرات کے بارے میں سنجیدگی سے جاننے کی لگن رکھتے ہیں یا اُن کی رسائی معلومات کے قابل بھروسہ وسائل تک ہے‘ باقی ماندہ کاشتکاروں کہ جن کی اکثریت چھوٹے پیمانے پر زراعت کرنے والوں کی ہے‘ کے لئے موسموں کے بارے آگاہی سے متعلق نہ تو وسائل موجود ہیں اُور نہ ہی اِس سلسلے میں متعلقہ محکمے خاطرخواہ رہنمائی کا حق اَدا کر رہے ہیں۔

موسمی تغیرات عالمی سطح پر رونما ہونے والا عمل ہے جس کے منفی اثرات سے پاکستان محفوظ نہیں۔ ہمارے ہاں اِس مرتبہ سردی کا موسم اور بارشیں مختلف اطوار کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ تین ماہ کے خشک موسم اُور مارچ کے دوسرے ہفتے تک اوسط درجہ حرارت گیارہ سے پندرہ درجے سنٹی گریڈ تک رہنے کے بعد اچانک پچیس ڈگری کو چھونے لگا‘ جو کسی بھی طور معمولی ردوبدل نہیں۔ بارشوں کا موجودہ سلسلہ بالخصوص بارانی علاقوں کی زراعت کے لئے اچھا ہے لیکن اگر چار ماہ کے مساوی بارش‘ تین ماہ میں برس کر پورے نظام کو تہہ و بالا کر دیتی ہے تو اِس سے زرعی شعبے کے متاثر ہونے کو صرف ایک ہی صورت محفوظ رکھا جاسکتا ہے کہ ہم دعاؤں کے ساتھ موسمی تغیرات کو سمجھیں۔ موسم کو اہمیت دیں۔ علاقائی سطح پر موسمی پیشنگوئیاں کاشتکاروں تک پہنچائیں۔ سیٹلائٹ و انٹرنیٹ ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں۔ تیزی سے تبدیل ہونے والے موسموں کا مقابلہ کرنے والا بیج تیار کریں۔ آبپاشی کے طریقۂ کارکی اصلاح اور پانی کے دستیاب وسائل کا دانشمندی سے استعمال کریں۔ اگر ہم سستی پن بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کے لئے پانی کے بڑے ذخیرے (ڈیم) تعمیر نہیں کرسکتے تو آبپاشی کے مقاصد کے لئے پانی کے چھوٹے بڑے ذخیرے تو بنائے جا سکتے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ’آئندہ ماہ و سال‘ زیادہ بڑے چیلنجز لاسکتے ہیں‘ جن سے نمٹنے کے لئے خالق کائنات کی رحمت و کرم پر بھروسے کے ساتھ موافق عمل اختیار کرنے اُور بناء مزید تاخیر تیاری کرنا ہوگی۔
Climate change impact on Pakistan's agriculture sector, need to be compensated