Friday, October 2, 2015

Oct2015: IDPs & Possibilities of Corruption

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین امام
بدعنوانیوں کے امکانات
چند ہفتوں یا مہینوں کی بات نہیں بلکہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں نے آٹھ برس جس کرب و اذیت میں بسر کئے ہیں‘ اُن کا الفاظ میں احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ مختصراً بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی بسر کرنے والوں کے لئے یہ عرصہ کسی بھی طرح خوشگوار یادوں کا مجموعہ نہیں۔ وہ کونسی مصیبت‘ تکلیف یا مشکل ہے‘ جو دربدری کے اِس تلخ تجربے کے دوران خیبر‘ جنوبی وزیرستان‘ شمالی وزیرستان‘ اُورکزئی اُور کرم ایجنسی کے رہنے والے ہزاروں قبائلی خاندانوں نے نہ جھیلی ہو! قبائلی علاقوں کے رہنے والے غیور افراد کی آنکھوں میں آنسو بھی خشک ہو چکے ہیں اور شاید ہی اُن کی مسکراہٹیں کبھی لوٹ سکیں لیکن اگر اُنہیں دعاؤں کی قبولیت کا یقین ہو تو خبر یہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی باعزت واپسی اور شورش زدہ علاقوں میں معیشت و معاشرت کی بحالی کے لئے حکومتی سطح پر غوروخوض کا عمل سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اُور پہلے مرحلے میں اُورکزئی ایجنسی کے 700 خاندانوں کو واپس بھیجنے کے لئے 6 اکتوبر کے روز سہولیات بشمول حفاظتی حصار مہیا کیا جائے گا۔ زریں اور مرکزی اُورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والوں کی نقل مکانی ’توغ سرائے (ہنگو)‘ کے مقام سے کی جائے گی۔ یاد رہے کہ خیبرایجنسی سے تعلق رکھنے والے 97ہزار 81‘شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 ہزار 590 اور جنوبی وزیرستان کے 19ہزار 728 افراد پہلے ہی اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔ واپسی کے اِس عمل میں معاونت کرنے کے لئے لاگت کا تخمینہ کم و بیش 2 ارب روپے لگایا گیا ہے!
نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے عمل میں حکومت کے ہم پلہ کلیدی کردار ’غیرملکی امدادی اداروں (انٹرنیشنل این جی اُوز) بھی ادا کر رہی ہیں لیکن یکم اکتوبر کو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس نے غیرملکی این جی اُوز کے نگرانوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے‘ جنہیں حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے دھواں دھار بیانات تو سننے کو مل رہے ہیں لیکن نہ تو این جی اُوز کی پالیسی میں اچانک ردوبدل کے حوالے سے صوبوں یا این جی اُوز سے مشاورت کی گئی ہے اور نہ ایسے این جی اُوز کی تفصیلات ظاہر کی گئیں ہیں جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھیں۔ وزیرداخلہ نے دوسری مرتبہ ’غیرملکی این جی اُوز‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ جملہ خرابیوں کی وجہ یہی ادارے ہیں‘ حالانکہ صورتحال قطعی مختلف ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان میں بناء ٹیکس ادا کئے مشکوک ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی کی بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والے کوئی اُور نہیں بلکہ ہمارے معزز و محترم سیاستدان ہی ہیں۔ وزیر داخلہ کو ایسے تمام افراد سیکورٹی کے لئے خطرہ نہیں لگ رہے جو حکومت میں آنے کے لئے پہلے انتخابات اُور پھر وزارت یا عہدہ پانے کے لئے قیادت کو اُن کے اطمینان و تسلی کے مطابق ’’خوش‘‘ رکھنے کا ہنر جانتے ہیں! قوم کی نظروں میں ’ملکی و غیرملکی این جی اُوز‘ کو مشکوک بنانے سے کونسا قومی مفاد حاصل کیا گیا ہے‘ یہ علم نہیں ہوسکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ’این جی اُوز کی رجسٹریشن و دیگر معاملات اگر ’اکنامک ڈویژن‘ سے ’وزارت داخلہ‘ کو منتقل کردیئے گئے ہیں تو اس کا فائدہ بھی قوم کو بتایا جاتا اور اگر کسی قاعدے و ضابطے میں کمی تھی تو محض اُسے دور کرنا کیوں ممکن نہیں تھا؟

قبائلی علاقوں میں ملکی و غیرملکی این جی اُوز کے اہلکاروں بالخصوص خواتین ورکرز کی فعالیت کبھی بھی آسان نہیں رہی اور بالخصوص موجودہ حالات میں جبکہ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل جاری ہے‘ غیرملکی این جی اُوز سے امدادی پروگراموں کے لئے ذمہ داریان حاصل کرنے والے مقامی این جی اُوز بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہے۔ ضلع بنوں جیسے بندوبستی علاقے میں کئی این جی اُوز ورکرز کو عسکریت پسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں کے بعد بہت سے دفاتر پشاور منتقل کر دیئے گئے ہیں اور این جی اُوز کے ملکی و غیرملکی اہلکار پشاور سے باہر قدم رکھنے کو محفوط نہیں سمجھتے۔ اِس پورے منظرنامے میں ایک طبقہ خوشحال ہے جس کے ہاتھ میں مالی وسائل ہیں کیونکہ این جی اُوز کی صورت اُن کی نگرانی کا عمل ہو رہا ہوتا ہے اور جب ملکی یا غیرملکی غیرسرکاری تنظیمیں کسی علاقے میں فعال ہوں وہاں امدادی وسائل میں خردبرد کا امکان کم رہتا ہے! کئی ایسے فیصلہ ساز بھی ہیں جنہوں نے ’این جی اوز‘ کو کام کرنے کی اجازت دینے کے عوض اپنی جائیدادیں یا گاڑیاں بھاری کرائے پر دے رکھی ہیں! علاؤہ ازیں این جی اُوز کو سفر یا کام کرنے کے لئے الگ سے ’این اُو سی‘ جاری کرنے کا طریقۂ کار بھی اصلاح چاہتا ہے‘ جس میں افسرشاہی نے خود اپنے لئے ایسے اختیارات رکھ چھوڑے ہیں جس سے بدعنوانی کے امکانات موجود رہیں! عجب ہے کہ ہمیں ایک ہاتھ غیرملکی امداد کی بھی ضرورت ہے اور ہم اِن اداروں کو اُن کے اپنے اپنے انتظامی طریقۂ کار کے مطابق کام کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے! نجانے ہمارے ہاں کی سیکورٹی کو ہر دیکھی اَن دیکھی چیز سے خطرات کیوں لاحق رہتے ہیں! خودداری و غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اپنے ہی لوگوں کی آبادکاری خود اپنے وسائل سے کرتے ہوئے ایثار کا مظاہرہ کیا جائے لیکن ایک ہاتھ میں کشکول اور دوسرے میں بندوق تان کر بات منوانا کسی بھی صورت مبنی برانصاف اور منطقی طرزعمل نہیں۔

Thursday, October 1, 2015

Oct2015: Colorful Urdu

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
انٹرنیٹ موبائل: رنگ برنگی اُردو!
اُردو زبان سے محبت اور اس کے فروغ کے لئے دانستہ کوششوں کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور نوجوان نسل میں مختصر نویسی کے رجحانات دیکھ کر اندیشہ ہے کہ اُردو زبان کا وہ خالص مزا‘ رنگ روپ اور چاشنی جاتی رہے گی‘ جس کا لطف الفاظ پڑھ کر نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ مرحلۂ فکر ’ٹیکنالوجی گریز‘ ترغیب نہیں بلکہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ’موبائل فون‘ کے ذریعے پیغامات (ٹیکسٹ میسیجز) کے ذریعے جس طرح اُردو زبان کو تہہ و بالا کرنے کی دانستہ کوشش میں اضافہ ہوا اور جس طرح ذرائع ابلاغ (نجی ٹیلی ویژن چینلوں) نے جلتی پر تیل ڈالا تو اس کی وجہ سے بالخصوص نوجوان نسل اُردو کے غلط الفاظ اور لہجے اختیار کر بیٹھی ہے‘ جو وقت گزرنے کے ساتھ ’راسخ‘ ہوتے جا رہے ہیں۔ پندرہ بیس برس پہلے اگر کوئی غلط اُردو بولتا تو اُس سے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ ’گلابی اُردو‘ بول رہا ہے۔ ’’گلابی اُردو‘‘ بولنے والے عموماً اُردو میں انگریزی الفاظ کی آمیزش کیا کرتے تھے یعنی ان کا ہر جملہ مکمل اُردو یا انگریزی میں ہونے کے بجائے تحلیل شدہ ہوتا تھا۔ وہ زمانہ گزر گیا اور اب جبکہ سماجی رابطہ کاری (انٹرنیٹ کے وسائل) کا مادر پدر آزاد دور ہے اور ہر شخص اپنی پسند کے موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار زیادہ آسانی سے کر رہا ہے تو یہاں ایک نیا قضیہ ’’گلابی اُردو‘‘ کی جگہ ’رومن اُردو‘ کا درپیش ہے!

انٹرنیٹ اور موبائل کے سستے اور عام آدمی کی قوت خرید میں ہونے کی وجہ سے یہ اب رومن اُردو عام ہوتی جا رہی ہے جبکہ پاکستان کے خواص میں یہ بہت پہلے سے مقبول تھی۔ کہا جاتا ہے کہ رومن اُردو کی ابتدأ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں ہوئی چونکہ جنرل ایوب اُردو رسم الخط پڑھ نہیں سکتے تھے‘ اس لئے ان کی تقریر رومن اُردو میں ٹائپ کی جاتی تھی۔ اسی طرح کی بات سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے لئے بھی یہی بات مشہور ہے۔ اس کے علاؤہ حال ہی میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے کراچی کے جلسے کی تقریر کے بارے میں بھی میڈیا میں یہ اطلاعات نشر ہوئیں کہ ان کو بھی تمام تقریر ’رومن اُردو‘ میں پیش کی گئی۔ انٹرنیٹ کے عام استعمال سے قبل کمپیوٹر میں اُردو زبان لکھنے کی سہولت یا صلاحیت موجود نہیں ہوا کرتی تھی‘ اس لئے رومن اُردو استعمال کی جانے لگی۔ پہلے پہلے تو چیٹ روم میں چیٹنگ کے لئے رومن اُردو کا استعمال شروع ہوا‘ اور بعد میں مختلف ویب فورمز میں رومن اُردو میں پوسٹ عام ہونے لگی لیکن جب فیس بک‘ اسکائپ‘ سنیپ چیٹ‘ ٹوئٹر‘ واٹس ایپ وائبر یا دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر پاکستانیوں کا رش ہونا شروع ہوا‘ تو اس وقت رومن اُردو کا استعمال بہت تیزی سے بڑھنے لگا۔ شروع شروع میں مختلف آپریٹنگ سسٹم اُردو کو سپورٹ نہیں کرتے تھے جس کی وجہ سے کمپیوٹر میں اُردو زبان انسٹال کرنا کافی مشکل عمل تھا۔ اس کے علاؤہ ہمارے ہاں عام تعلیمی اداروں میں اُردو ٹائپنگ (اُردو کمپیوزنگ) سکھائی نہیں جاتی جبکہ انگریزی ٹائپنگ نوکری کے لئے لازمی تصور کی جاتی ہے۔ اس لئے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد باقاعدہ طور پر انگریزی ٹائپنگ سیکھتی ہے۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بھی انگریزی زبان میں اپنے خیالات لکھنے کی صلاحیت پر عبور نہیں رکھتے‘ جس کی وجہ سے وہ اپنے اُردو خیالات کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کے بجائے اس کو رومن اُردو میں تحریرکرنے پر ترجیح دینے لگے! بعض ماہرین کے مطابق ہم لوگ بطورِ قوم انگریزی زبان سے مرعوب ہیں اور ہمیں شدید احساس کمتری ہے کہ ہمیں انگریزی زبان نہیں آتی‘ حالانکہ ہمیں چینی زبان نہیں آتی‘ جرمن نہیں آتی‘ فرانسیسی نہیں آتی‘ ہمیں کبھی اس پر شرمندگی نہیں ہوئی لیکن انگریزی نہ آنے پر ہم خود کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اُردو کے فروغ‘ ترقی‘ تحفظ اور بقاء کے لئے حکومت کیا کررہی ہے؟ اس وقت پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر نجانے کتنے ہی ادارے ایسے ہیں جو اُردو کے فروغ اور بقا کے لئے ’’دن رات‘‘ ایک کئے ہوئے ہیں جن میں ’’ادارہ فروغ قومی زبان‘‘ (مقتدرہ قومی زبان)‘ مجلس ترقی ادب‘ اُردو سائنس بورڈ‘ قومی لغت بورڈ‘ اکادمی ادبیات‘ نظریۂ پاکستان فاؤئڈیشن‘ اُردو لغت پاکستان‘ اقبال اکادمی‘ قائد اعظم اکادمی‘ مرکز تحقیقات اُردو پروسیسنگ‘ وغیرہ وغیرہ اور نجانے کتنے ہی وغیرہ ادارے اُور بھی ہیں جن کو حکومت کی جانب سے لاکھوں کروڑوں روپے کے ماہانہ فنڈز بھی مل رہے ہیں لیکن ان حکومتی اداروں کی کارکردگی کیا ہے؟ خود مقتدرہ قومی زبان نے اپنی ویب سائٹ پر درج کیا ہوا کہ ادارۂ فروغِ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کا قیام چار اکتوبر 1979ء کو آئین پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 251 کے تحت عمل میں آیا تاکہ قومی زبان ’اُردو‘ کے بحیثیت سرکاری زبان نفاذ کے سلسلے میں مشکلات کو دور کرے اور اس کے استعمال کو عمل میں لانے کے لئے حکومت کو سفارشات پیش کرے‘ نیز مختلف علمی‘ تحقیقی اور تعلیمی اداروں کے مابین اشتراک و تعاون کو فروغ دے کر اُردو کے نفاذ کو ممکن بنائے۔ یہ ادارہ اپنے اہداف کے ساتھ کس قدر انصاف کر سکا اور کتنی کامیابی ملی‘ اس کا فیصلہ ہونا چاہئے!

اُردو زبان کا سوشل میڈیا یا کسی بھی کمپیوٹر پر استعمال اب قطعی مشکل نہیں رہا۔ آپریٹنگ سسٹم (OS) میں صرف اُردو زبان ’کی بورڈ (keyboard)‘ اِنسٹال (install) کرنا چند منٹ کا کام ہے اُور بس۔ کمپیوٹر میں ’یونی کوڈ (unicode)‘ کے آنے سے پہلے اُردو انسٹال کرنا کافی مشکل کام تھا لیکن اَب نہیں۔ یونی کوڈ کی ایجاد سے اب کمپیوٹر میں ہر اہم زبان میں تحریر ممکن ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑے سوفٹ وئر ’یونی کوڈ‘ کو سپورٹ کرتے ہیں‘ لہٰذا ’’رومن (رنگ برنگی) اُردو‘‘ کی بجائے اگر موبائل فونز یا کمپیوٹر میں ’یونی کوڈ‘ اِنسٹال کر لیا جائے تو اِس کے استعمال کو عام کیا جائے تو اس سے نہ صرف پیغام رسانی میں وضاحت رہے گی بلکہ اُردو کے مستقبل پر بھی احسان عظیم ہوگا۔ ’’عجب تناسب سے ذہن و دل میں خیال تقسیم ہو رہے ہیں۔۔۔ مگر محبت سی ہو گئی ہے‘ تمہیں محبت سکھا سکھا کے!‘‘