Thursday, February 1, 2018

Feb 2018: Solution for Peace & Stability in Afghanistan

مہمان کالم
افغان قیام امن: واحد حل!
امریکہ کی سیاسی قیادت افغانستان میں اپنے غلط فیصلوں کے نتائج تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن خود اُس کے اپنے ادارے اِس بات کی گواہی دیتے ہوئے انکشاف کر رہے ہیں کہ ’سال دوہزار نو‘ سے افغان حکومت کے زیر اثر علاقوں میں کمی آئی ہے جبکہ عسکریت پسندوں کا مختلف علاقوں میں اثرو رسوخ بڑھ رہا ہے۔ 

’’افغانستان کی تعمیرِ نو‘‘ کے لئے خصوصی انسپکٹر جنرل ( سیگار) ’’جوہن ایف سوپکو‘‘ کی امریکی کانگریس کے سامنے پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’افغان طالبان کی کامیابی ایک حقیقت ہے‘‘ لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ’’عوامی مفادات کے معاملے پر افغان حکومت بالکل دور ہوچکی ہے۔‘‘ افغانستان کے حکمران ذاتی مفادات کو امن کی بحالی کے قومی تقاضوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔ ’سیگار‘ دوہزار آٹھ میں بنایا گیا تھا جبکہ سال دوہزار نو میں کانگریس کے مینڈیٹ کے دوران اس نے افغانستان میں امریکہ کی شمولیت سے متعلق سہ ماہی رپورٹ کانگریس کو بھیجنا شروع کردی تھی تاہم آخری سہ ماہی میں امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ’سیگار‘ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ افغان کے اضلاع کی تعداد اور ان میں مقیم افراد‘ وہاں افغان حکومت یا مزاحمت کاروں کے کنٹرول یا دونوں کے مقابلے سے متعلق عوامی اعداد و شمار جاری نہ کرے۔ ظاہر ہے کہ اِس پابندی کا مقصد سوائے اِس بات کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت نہیں چاہتا کہ اُس کی ناکامی ظاہر ہو۔ قابل ذکر ہے کہ ’جوہن ایف سوپکو‘ نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’محکمہ دفاع کی جانب سے سال دوہزارنو کے بعد موجودہ سہ ماہی میں پہلی بار اس تشویشناک صورتحال کا سامنا دیکھنے میں آیا تھا جبکہ اس دوران افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز کے اعداد و شمار کی بھی مکمل درجہ بندی کی گئی تھی۔‘‘ کانگریس کو پیش کردہ اپنی حالیہ رپورٹ میں سیگار نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ گزشتہ برس اگست میں نئی افغان پالیسی کے بعد باغیوں کے خلاف امریکی فضائی حملوں اور خصوصی آپریشنز میں اضافہ ہوا۔ 

اکتوبر دوہزار سترہ میں امریکہ نے افغانستان میں 653 مرتبہ گولہ بارود گرایا‘ جو سال دوہزار بارہ کے بعد سب سے زیادہ تھا جبکہ اکتوبر دوہزارسولہ کے مقابلے میں اس میں تین گناہ اضافہ ہوا ہے لیکن رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ان تمام کاروائیوں کے باوجود آبادی پر افغان حکومت کے کنٹرول میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ پاکستان کی جانب سے امریکہ کو بارہا مطلع کیا گیا کہ افغانستان میں طاقت کے استعمال کی بجائے اِس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ جب تک افغان طالبان کے تحفظات دور نہیں کئے جاتے اور اُنہیں قومی سیاست میں نمائندگی نہیں دی جاتی اُس وقت تک خانہ جنگی کا دور جاری رہے گا لیکن افغان طالبان کی مخالفت رکھنے والے ذاتی و سیاسی مفادات کے لئے اِس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہے‘ جو اُنہیں خود بھی زیادہ بہتر انداز و گہرائی سے علم ہے۔

’سیگار‘ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر دوہزارسترہ میں افغانستان میں امریکی فورسیز کے کمانڈر جنرل جوہن نیکولسن نے پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ 64فیصد افغان آبادی کا حصہ افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے جبکہ 12فیصد حصے پر باغیوں کا اثر و رسوخ ہے اور باقی چوبیس فیصے متنازعہ علاقے موجود ہیں تاہم آئندہ دو برس میں افغان حکومت کا مقصد 80فیصد آبادی پر اپنا کنٹرول قائم کرنا ہے۔ ’سیگار‘ کی پیش کردہ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگست میں پالیسی کے اعلان کے بعد زیادہ تر امریکی فضائی حملے افغان سیکیورٹی فورسیز کی حمایت کے لئے کئے گئے اور اس مہم کے دوران افغان سیکیورٹی فورسز اے 29‘ ائرکرافٹ استعمال کر رہی ہے جبکہ اسے امریکی فضائی کی جانب سے بی باون ایس‘ ایف اے اٹھارہ ایس سمیت اے دس تھنڈر بولٹس اور ایف بائیس ریپٹرز جیسے جدید جہازوں کی مدد بھی حاصل ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکن (غیرملکی) اور افغان فورسیز کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں کا ایک خطرناک نتیجہ تو شہریوں کی ہلاکت ہے جو افغان حکومت کی حمایت کے لئے خطرہ بن سکتا ہے جبکہ اس سے باغیوں کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افغان طالبان کے لئے اپنا مؤقف پیش کرنا نہایت ہی آسان ہو گیا ہے کہ افغان اور امریکی حکومتیں افغانستان کی بربادی کی اصل ذمہ دار ہیں۔ امریکی کانگریس میں پیش کردہ مذکورہ حالیہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کا حوالہ بھی دیا گیا ہے‘ کہ یکم جنوری دوہزار سترہ سے تیس ستمبر دوہزار سترہ تک قریب آٹھ ہزار سے زائد شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر اور نومبر ’عام افغان شہریوں‘ کے لئے سب سے بدترین مہینے تھے جس دوران امریکی فورسیز کی جانب سے حملوں کے بعد باغیوں کی جانب سے امریکیوں کو مارنے کے سلسلے میں بھی اضافہ ہوا اور گزشتہ سال کے ابتدائی گیارہ ماہ میں گیارہ امریکی فوجی افغانستان میں قتل کئے گئے‘ جو سال دوہزارپندرہ اور دوہزار سولہ کے اعداد و شمار کے مطابق دوگنی تعداد ہے۔ 

امریکہ کو افغانستان میں جانی و مالی نقصانات ہو رہے ہیں لیکن اِس کے باوجود بھی وہ پاکستان کے مشورے اور کردار پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔ سال دوہزار سولہ سے افغان سرزمین پر اندرونی حملوں میں افغان فورسیز کے اہلکاروں کی اموات میں کمی آئی ہے اور اکتیس اکتوبر دوہزار سترہ تک اِن حملوں میں ایک سو دو اہلکار ہلاک تھے تاہم دوبرس کے دوران اندرونی حملوں میں امریکیوں کی اموات میں اضافہ اور اکتیس اکتوبر کے اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں تین امریکی فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے تھے۔ افغانستان کے محاذ پر امریکہ کو صرف جنگی محاذ پر ہی شکست کا سامنا نہیں بلکہ انسداد منشیات کی کوششیں بھی خاطرخواہ نتائج کی حامل نہیں۔ 

امریکہ کی جانب سے افغانستان میں انسداد منشیات کے لئے آٹھ ارب ستر کروڑ ڈالر کی امداد کے باوجود بھی گزشتہ برس افغانستان میں افیون کی پیداوار میں ستاسی فیصد اضافہ ہوا جبکہ افیون کی کاشت کے لئے زیراستعمال زمین کا رقبہ ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے۔ امریکہ سمیت دنیا جس قدر جلد یہ حقیقت جان جائے کہ امن بذریعہ مذاکرات ہی واحد صورت ہے‘ اُتنا نہ صرف افغانستان بلکہ اِس کے ہمسایہ ممالک‘ خطے اور خود امریکہ کے لئے بہتر ہوگا۔
۔

Feb 2018: Peshawar Airport - the bad impression!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
بے جرم سزائیں!
پشاور کی قسمت میں ’فقط سزائیں‘ تحریر ہیں؟ جبکہ جنوب مشرق ایشیاء کا قدیم ترین زندہ تاریخی ’گندھارا تہذیب کا مرکزی‘ شہر اِس قسم کے ’متعصبانہ رویئے کا قطعی مستحق (حقدار) نہیں۔ 

آج کا پشاور تعمیروترقی کے ’اندھا دھند‘ دور سے گزر رہا ہے‘ جس نے نہ صرف شہری زندگی کے معمولات کو ’اُلٹ پلٹ‘ کے رکھ دیا ہے بلکہ عام انتخابات کے قریب شروع ہونے والی تعمیراتی سرگرمیاں دراصل ’وقت کا پہیہ‘ اُلٹ گھمانے کی ’ناکام کوشش‘ دکھائی دیتی ہے! لیکن پشاور کو ’’بے جرم سزاوار‘‘ ٹھہرانے والوں میں صرف تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت ہی ذمہ دار نہیں بلکہ اِس میں وفاقی حکومت بھی برابر کی شریک ہے‘ جس نے پہلے تو ’باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ کو پسماندگی اور غربت کی ایسی تصویر بنایا کہ یہ اِس ہوائی اڈے سے استفادہ کرنے والوں کو کسی بھی زاویئے سے یہ ایک ’انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مسافروں کے لئے جدید ترین سہولیات تو بہت دور کی بات‘ صفائی کے لحاظ سے بھی پشاور کا ائرپورٹ کچھ ایسا منظر پیش کرتا تھا کہ آمدورفت کرنے والے عازمین کے علاؤہ عزیزواقارب اور دوستوں کو ’پک اینڈ ڈراپ‘ کرنے والوں کی کوشش ہوتی کہ وہ جلد از جلد یہاں سے چلتا بنیں! اِن دنوں پشاور ائرپورٹ کی توسیع کا عمل جاری ہے‘ جس کے بارے میں شہری ہوابازی (سول ایوی ایشن اتھارٹی) حکام پراُمید ہیں کہ یہ کام پورے معیار اور خوبیوں کے ساتھ رواں برس (دوہزاراٹھارہ) کے چوتھے ماہ کے اختتام سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔ اِس توسیعی کام کی تفصیلات یہ ہیں کہ ’’2 ارب روپے کی خطیر رقم سے اندرون و بیرون ملک پروازوں کے لئے سہولیات میں اضافہ متوقع ہے لیکن نہ تو عمارتی ڈھانچے کی خاطرخواہ بڑے پیمانے پر توسیع دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود رقبے میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ سبزہ زار اور راہداری کے اُن حصوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے‘ جن کی وجہ سے پہلے کچھ نہ کچھ کشادگی کا احساس ہوتا تھا۔ ائرپورٹ کے سامنے سبزہ زار کی اپنی اہمیت تھی‘ لیکن حکام کے لئے 700 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش پیدا کرنا زیادہ بڑی ضرورت تھی‘ جبکہ یہ کام تین اطراف میں کشادہ سڑکوں پر باقاعدہ پارکنگ بنانے سے باآسانی ممکن تھا۔ ائرپورٹ کا ’پارکنگ پلازہ‘ حال و مستقبل کی ضروریات پوری کرسکتا تھا۔ بہرحال ملک کے دیگر ہوائی اڈوں کا اگر پشاور سے موازنہ کیا جائے تو سوائے کوئٹہ ائرپورٹ سب زیادہ ’بے سروسامانی پشاور‘ میں دکھائی دیتی ہے۔

پشاور ائرپورٹ پر عموماً 35 ہوائی جہازوں (فلائٹس) کی یومیہ آمدورفت ہوتی ہے جبکہ یہی ہوائی پٹی خصوصی طیاروں اور فضائیہ کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے‘ اگرچہ لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد جیسے تین بڑے ائرپورٹس کی طرح ’پشاور‘ مصروف ترین تو نہیں لیکن دفاعی اور شہری ہوا بازی کے نکتۂ نظر سے اِسے خاصی اہمیت حاصل ہے اور اِس کا استعمال خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے خلیجی ممالک کے محنت کش ترجیحی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ یہی ائرپورٹ غیرملکیوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے اور پشاور میں تعینات غیرملکی سفارتکار بھی اِسی کے ذریعے نجی یا چارٹرڈ اور بالخصوص معروف خلیجی ائرلائن ’ایمریٹس‘ سے استفادہ کرتے ہیں۔ چند روز قبل پشاور میں تعینات امریکی سفارت خانے کے سینیئر عملے کے اراکین نے ائرپورٹ حکام سے درخواست کی کہ اُنہیں کوئی باسہولت و محفوظ جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ اپنی فلائٹ کا انتظار کر سکیں لیکن ائرپورٹ حکام نے معذرت کر لی کہ سفارتی عملے کو نہ تو اہم شخصیات کے لئے مخصوص حصوں تک رسائی دی جاسکتی ہے اور نہ ہی اُن کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کسی قسم کے انتظامات ممکن ہیں کیونکہ ائرپورٹ کی توسیع کا عمل جاری ہے! 

امریکی سفارتکاروں کو پاکستانی حکام سے اِس قسم کے سرد رویئے کی قطعی توقع نہیں تھی‘ وگرنہ وہ کبھی بھی اپنی سبکی نہ کرواتے لیکن چند ہفتوں میں ایسا دوسری مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے جب امریکیوں سے عام مسافروں کی طرح سلوک کیا گیا ہو! ’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘ کے مترداف ’شہری ہوا بازی‘ کے اہلکاروں نے یقیناًاِس قسم کی خلاف توقع سردمہری کا مظاہرہ حکام بالا سے پوچھ بلکہ ’پوچھ پوچھ کر‘ کیا ہوگا‘ وگرنہ امریکہ بہادر کے سفارتکاروں سے اِس قسم کے سلوک کی ماضی میں کوئی ایک بھی مثال ڈھونڈے نہیں ملتی!

جون دوہزار چودہ میں ہوئے ایک ہوائی حادثے کی وجہ سے پشاور ائرپورٹ پر رات کے وقت پروازوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی تھی۔ اُس حادثے میں طیارے کو آگ لگنے سے ایک مسافر کی موت بھی ہو گئی تھی‘ جس کے بعد سہولیات میں اضافہ اور ائرپورٹ آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بجائے غروب آفتاب کے بعد پروازوں کا سلسلہ ہی ختم کر دیا گیا۔ تصور کیجئے ایک ایسے ائرپورٹ کا‘ جہاں ہوائی جہازوں کی آمدورفت بھی خاص اوقات کے علاؤہ ممکن نہ ہو! ایک طرف مثالیں موجود ہیں کہ ائرپورٹس کی سہولیات کو چوبیس گھنٹے کے ہر سیکنڈ استعمال کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ایک ایسا ائرپورٹ بھی ہے جہاں ایک گلاس پینے کے صاف پانی سے لیکر انتظارگاہوں میں نشستوں تک کچھ بھی مثالی نہیں! 

ضرورت تو اِس امر کی تھی کہ دو ارب روپے سب سے پہلے تو ’نائٹ آپریشنز‘ کی بحالی پر خرچ کئے جاتے لیکن شاید مسافروں کا یہ دیرینہ مطالبہ کبھی پورا ہو پائے کیونکہ ’شہری ہوابازی‘ کا شعبہ وفاقی حکومت سے متعلق ہے اور اگرچہ اِس کے جملہ امور کی نگرانی کرنے والے مشیر کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے لیکن ’پشاور ائرپورٹ‘ کی قسمت بالکل اُسی طرح نہیں بدلی جس طرح خیبرپختونخوا میں وزیر سے وزیراعلیٰ اور گورنر جیسے کلیدی عہدوں پر تعینات رہنے کے باوجود اِس مشیر کے اپنے آبائی علاقے کی حالت زار میں تبدیلی نہیں آئی! پشاور ائرپورٹ سے اُڑان بھرنے والی ’پینتیس پروازوں‘ میں اکثریت غیرملکی روٹس پر اُڑنے والے جہازوں کی ہے جبکہ صرف چار مقامی (اندرون ملک) پروازیں ہیں۔ 

پورے خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ہر روز اندرون ملک کی صرف چار پروازیں کسی بھی طور انصاف نہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسافروں کو طویل سفری مشکلات اور اخراجات برداشت کرکے بہ امر مجبوری اسلام آباد یا لاہور ائرپورٹس کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ’بے جرم سزا‘ کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ 

وفاقی حکومت اگر سیاسی وجوہات کی بناء پر پشاور کے حقوق اَدا نہیں کر رہی اور کسی بڑے (میگا) ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی نہیں کیا جا رہا تو کم سے کم اپنے حصے کے اُس بنیادی فریضے سے تو عہدہ برآء ہو‘ جس کی وجہ سے ’پشاور ائرپورٹ‘ پشاور کے لئے بدنامی اور مسافروں کے لئے ’باعث آزار‘ ہے۔
۔