Sunday, January 13, 2019

TRANSLATION: Course correction by Dr. Farrukh Saleem

Course correction
طرزحکمرانی: سمتِ سفر
ایک نہیں بلکہ دو ’اچھی خبریں‘ ایسی ہیں‘ جن کا ذکر ضروری ہے۔ 1: پاکستان کی برآمدات میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اُور 2: پاکستان کے تجارتی خسارے میں 5 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ہفتہ وار کالم لکھتے ہوئے راقم کو 20 برس ہو گئے ہیں جس کے لئے میں ’دِی نیوز (اَخبار)‘ کی اِنتظامیہ کا مشکور ہوں‘ جنہوں نے مجھے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ مجھے کیا لکھنا چاہئے۔ بیس برس ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اَلبتہ اِس عرصے کے دوران ہزاروں کی تعداد میں میری تحریریں شائع ہوئیں لیکن ’3 مرتبہ‘ ایسا ہوا کہ میرے کالم شائع نہیں کئے گئے۔

گذشتہ 20 سال کے دوران ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کی ذاتی ترجیحات قومی ضروریات کے مطابق ہیں۔ وزیراعظم دل سے چاہتے ہیں کہ پاکستان سے بدعنوانی (کرپشن) کا خاتمہ ہو اور غربت کا شکار 13 کروڑ ایسے پاکستانیوں کو غربت کی دلدل سے نکالا جائے جن کی آمدنی یومیہ 300 سے 400 روپے ہے لیکن اِس مقصد کے لئے حکومت کو ایک جامع اقتصادی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔ جس کا انتخاب کرتے ہوئے یہ بات بھی یکساں اہم ہے کہ ماضی میں انسداد بدعنوانی اور غربت کے خاتمے کے لئے کی گئیں حکومتی کوششوں (مشقوں) کی ناکامی سے حاصل ہونے والے اسباق (نتائج) پر بھی نظر رکھی جائے۔

انسداد بدعنوانی کی مہمات (ماضی) میں پاکستان کو خاطرخواہ کامیابیاں حاصل نہیں ہوسکیں اُور اگر اِس مرتبہ بھی ’غیر روائتی انداز‘ اختیار نہ کیا گیا اُور ماضی ہی کی طرح انسداد بدعنوانی کی کوششیں کی گئیں تو اِس کے نتائج زیادہ مختلف برآمد نہیں ہوں گے۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی میں بہتری لانے کے لئے ماضی کی حکمت عملیوں سے مختلف راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو اگرچہ مشکل ہوگا لیکن اِس کے سوأ ’اِصلاح کی کوئی دوسری صورت باقی نہیں ہے۔‘

پاکستان کا گردشی قرض 1400 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ گردشی قرضوں کے اِس غیرمعمولی حجم کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ 1100 ارب روپے ہے یعنی ہم پاکستان کے دفاع سے زیادہ گردشی قرضہ جات پر ادا کریں گے! گذشتہ 137 دنوں میں تحریک انصاف حکومت نے قومی قرضہ جات میں 260 ارب روپے کا اضافہ کیا ہے‘ جو 137 دنوں میں فی دن 2 ارب روپے بنتا ہے۔ چند برس قبل حکومت 1ارب روپے روزانہ قرض لے رہی تھی جو دگنا ہو چکا ہے۔ حکومت نے اقتصادی و معاشی محاذوں پر بہتری کے لئے ٹاسک فورسیز بنائی ہیں جن کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ لومڑیوں سے گوشت کی رکھوالی کراوئی جا سکے؟ بجلی (توانائی) کی عدم موجودگی میں کسی اقتصادی بہتری کا امکان نہیں ہو سکتا اور حکومت جو 2 ارب روپے یومیہ قرض لے رہی ہے‘ اُس کا استعمال توانائی کے پیداواری منصوبوں پر نہیں کیا جارہا۔ اِس سلسلے میں حکومتی ترجیحات کو درست کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

سال 2013ء میں حکومتی اداروں (پبلک سیکٹر انٹرپرائزز) نے مجموعی طور پر 495 ارب روپے کا نقصان کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے گذشتہ دور حکومت میں یہ نقصان 1100 ارب روپے تک جا پہنچا تھا‘ جو ’حسن اِتفاق‘ سے پاکستان کے دفاعی بجٹ کے مساوی رقم ہے۔ میرے خیال کے مطابق‘ تحریک انصاف حکومت کے پہلے پانچ ماہ کے دوران سرکاری اداروں کا خسارہ ’500 ارب روپے‘ ہے اور حکومت کے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں جس کے تحت اِن اداروں کے خسارے پر قابو پا سکے۔ حکومت نے ’سرمایہ پاکستان کمپنی‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اِس قسم کے تجربات ماسوائے سنگاپور دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔

پاکستان میں کاروبار اقتصادی غیریقینی پر مبنی صورتحال کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ روپے کی قدر آئندہ ماہ کیا ہوگی‘ اِس بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ برآمدکنندگان اشیاء کی بیرون ملک فروخت کے بعد سرمایہ پاکستان منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ پاکستنان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین اشرف شیخ کے بقول ’’بیروزگاری‘ بینک دیوالیہ اور آمدن میں کمی‘‘ جیسے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔ 60 ارب روپے مالیت کے ٹریکٹر بنانیو الی یہ صنعت مشکل دور سے گزر رہی ہے‘ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں کی طرح نجی پیداواری ادارے بھی اقتصادی مسائل سے نمٹنے میں مشکلات سے دوچار ہیں‘ جنہیں کم کرنے کے لئے حکومت کو اپنے ’اقتصادی لائحہ عمل‘ میں تبدیلی لانا ہوگی۔

سال 2013ء میں اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ادارے کو مطلع کیا تھا کہ قومی خزانے سے 290 ارب روپے کی ایسی ادائیگیاں کی گئیں ہیں جو قوانین و قواعد کے خلاف ہیں لیکن یہ سلسلہ رک نہیں سکا اُور آج بھی جاری ہے! پاکستان کی حکومت جس بڑے پیمانے پر قرض لیکر ملک چلا رہی ہے ماضی میں اِس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر روپے کی قدر میں کمی کو شمار کرتے ہوئے موجودہ اور سابق سیاسی حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو مالی امور میں حکومت کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ گذشتہ 5 ماہ کے دوران 15 ارب روپے یومیہ کے حساب سے قومی قرض بڑھا ہے جو سابق دور حکومت (نواز لیگ) کے وقت 8 ارب روپے یومیہ اُور پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 5 ارب روپے یومیہ تھا۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, January 6, 2019

Translation "Alarm bells" by Dr. Farrukh Saleem

Alarm bells
خطرے کی گھنٹیاں
خطرے کی پہلی گھنٹی: پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ زرمبادلہ کا ذخیرہ ’’11 ارب ڈالر‘‘ تک جا پہنچا ہے۔ اِس حقیقت کی روشنی میں کیا یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ پاکستان اقتصادی بحران سے دوچار ہے؟ اصطلاحی طور پر ’اقتصادی بحران‘ ایسی صورتحال کو کہا جاتا ہے جس میں حکومت کے پاس جاری اخراجات کے لئے مالی وسائل نہ ہوں۔ خام قومی پیداوار میں کمی ہو اُور ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھتی چلی جائے۔
پہلا سوال: کیا پاکستان کے پاس جاری اخراجات کے لئے مالی وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں؟
دوسرا سوال: کیا پاکستان کی قومی پیداوار مائل بہ بحران ہے اور خام قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ یا کمی ہو رہی ہے؟
تیسرا سوال: کیا پاکستان میں قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی بڑھ رہی ہے؟
یاد رہے کہ پاکستان کے کل قومی وسائل ’11ارب ڈالر‘ کمی سے دوچار ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جاری اَخراجات کے لئے بھی مالی وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پاکستان کے پاس ’اَمریکی ڈالروں‘ کی صورت ’زرمبادلہ کے ذخائر‘ ختم ہو چکے ہیں۔ 30نومبر (دوہزار اٹھارہ) کے روز ’اِسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 7265 ملین ڈالر تھے جبکہ پاکستان کی ایک سال (12ماہ) کے جاری اخراجات کے لئے قریب 11 ارب ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو ’7 ارب ڈالر‘ کمی کا سامنا ہے۔
پاکستان کی اقتصادی صورتحال ہنگامی بلکہ ایک خطرناک دور سے گزر رہی ہے۔ سال 2013ء میں ’عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف‘ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 ارب ڈالر کی کمی ہے۔ سال 2008ء میں ’آئی ایم ایف‘ نے 2 ارب ڈالر کمی سے مطلع کیا تھا۔ تصور کیجئے کہ فی الوقت پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر میں 11ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ہر ماہ ’2 ارب ڈالر‘ کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ چین نے جولائی (دوہزاراٹھارہ) کے مہینے میں ’’1ارب ڈالر‘‘ کا قرض دیا تھا جو کب کا خرچ ہو چکا ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے بھی ’’1 ارب ڈالر‘‘ ملے لیکن ’نومبر (دوہزاراٹھارہ)‘ تک یہ رقم بھی خرچ کر دی گئی۔ کیا پاکستان کی حکومت کے پاس ایسا کوئی مالی انتظام ہے کہ اِسے دوست ممالک سے مالی امداد کی ضرورت نہ پڑے اور یہ اپنے مالی نظم و ضبط کے بل بوتے پر اپنی آمدنی کے وسائل کو ترقی دے؟
خطرے کی دوسری گھنٹی: پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی گئی ہے لیکن اِس حکومتی کوشش کے بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ ’نومبر 2017ء‘ کے دوران پاکستان کی برآمدات میں ’1.968 ارب ڈالر‘ اُور ’نومبر 2018ء‘ میں ’1.843 ارب ڈالر‘ کمی دیکھنے میں آئی۔ مجموعی طور پر برآمدات میں 6 فیصد کمی آئی۔ حکومت نے دوسری مرتبہ روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی کی جس سے نومبر 2018ء میں برآمدات 4.646 ارب ڈالر تک نیچے آ گئیں جبکہ یہ نومبر 2017ء میں ’4.758 ارب ڈالر‘ تھیں۔ برآمدات میں اِس مسلسل کمی اور حکومت کی جانب سے اِس خسارے کو روکنے کی کوششیں خاطرخواہ کامیاب نتائج نہیں دے پائی ہیں۔ اِس صورتحال سے صاف ظاہر ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی جیسی کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔
خطرے کی تیسری گھنٹی: اگست 2018ء میں پاکستان کے قومی بجٹ کا خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 2.26کھرب روپے کو چھو رہا تھا۔ یہ خسارہ مجموعی قومی آمدنی کا 6.6 فیصد ہے۔ حکومت مشکل اقتصادی فیصلوں کی بجائے آسان فیصلوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ جس کا نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سرکاری اداروں کا خسارہ حکومت کے لئے پریشانی کا باعث نہیں جس کے باعث مجموعی قومی پیداوار کا 10فیصد ضائع ہو رہا ہے۔حتیٰ کہ یہ صورتحال تشویش میں مزید اضافے کا باعث ہے کہ حکومت کے اخراجات میں کمی نہیں آ رہی اور حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں آمدنی کے مقرر کردہ اہداف بھی حاصل نہیں ہو رہے۔
خطرے کی چوتھی گھنٹی: اگست 2018ء میں پاکستان کا گردشی قرض 1.14 کھرب روپے تھا‘ جو بڑھ کر ’1.4 کھرب روپے‘ جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے یعنی گردشی قرضہ جات میں ہر دن ’1.8 ارب روپے‘ جیسا غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر غیریقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور جب تک یہ غیریقینی کے بادل چھٹ نہیں جاتے اُس وقت تک خاطرخواہ بہتر نتائج بھی برآمد نہیں ہوں گے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)