Sunday, June 9, 2019

TRANSLATION: Dear prime minister by Dr. Farrukh Saleem

Dear prime minister
بنام ’وزیر اعظم‘

جناب عالیٰ‘ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آپ پاکستان کے ایسے پہلے وزیراعظم ہیں‘ جس نے ’انسداد بدعنوانی‘ اُور ’غربت کے خاتمے‘ کو اپنی ذاتی و سیاسی ترجیحات کا محور و مرکز بنا رکھا ہے اُور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کی بدعنوانی اُور ہر قسم کی غربت و پسماندگی سے نجات کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے جنہوں نے حالیہ عام انتخابات (جولائی 2018ئ) میں تحریک انصاف کو ملک کے چاروں صوبوں میں منتخب کیا اُور اِس وقت تحریک انصاف ملک کی واحد قومی سیاسی جماعت دکھائی دیتی ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد آپ کے اقدامات اُور حکمت عملیاں عوام میں خاطرخواہ مقبول نہیں رہیں!

اقتدار کے ساتھ جڑے چند حقائق آپ کے پیش نظر رہنے چاہیئں کہ صاحبان اقتدار کو خوشامدی اور مفاد پرست ٹولے گھیر لیتے ہیں‘ جن کی اپنی ترجیحات اور اہداف ہوتے ہیں اُور وہ ذاتی مفادات کے لئے حکمرانوں کو گمراہ کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہی تاثر ’تحریک انصاف‘ سے تعلق رکھنے والے جملہ حکمرانوں بشمول وزارت عظمیٰ جیسے منصب سے متعلق بھی ہے کہ اِنہیں برسرزمین حالات کی جو تصویر دکھائی جاتی ہے‘ وہ گمراہ کن حد تک غلط ہے۔

جناب عالی‘ ہر پاکستانی مرد و عورت اُور بچہ سالانہ اوسطاً ”13 ہزار روپے“ مختلف ٹیکسوں کی مد میں ادا کرتا ہے‘ جن میں سیلز ٹیکس‘ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ڈیوٹیاں اُور کسٹم ڈیوٹی شامل ہے لیکن آمدنی کے لحاظ سے کم حیثیت رکھنے والوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی بجائے ہر سال بڑھ رہا ہے اُور شنید ہے کہ آنے والے بجٹ میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے ’1.4 کھرب روپے‘ مالیت کے اضافی ٹیکس وصول کئے جائیں گے۔ اِس اضافے سے ہر پاکستانی خاندان کو سالانہ اوسطاً ”47 ہزار روپے“ اَدا کرنا پڑیں گے۔ آپ کو یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہر ایک فیصد ٹیکس بڑھانے سے ملک کی اقتصادی ترقی 1.68فیصد کم ہو جاتی ہے۔ یہ بات ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آئی ہے جس کا عنوان ہے ”An empirical analysis of Pakistan“ اُور اِسے شہزاد احمد‘ مقبول سیال اُور ناصر احمد نے ’پاکستان جرنل آف اپلائیڈ اکنامکس‘ کے شمارے (Vol.28 No.1 Summer 2018) کے لئے تحریر کیا تھا۔ اگر ٹیکسوں کی بڑھائی گئی تو اِس سے فی کس آمدنی میں مستقلاً کمی واقع ہوگی اُور یہ بات ایک اُور تحقیق سے ثابت کی گئی جو احتشام الحق اُور نعیم اکرم نے پیش کی ہے۔ اقتصادیات کے ماہرین کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے کی بجائے پیداوار میں اضافہ ہونا چاہئے تاکہ زیادہ پیداوار سے زیادہ ٹیکس حاصل ہوں۔ اگر بناءپیداوار میں اضافے ٹیکس کی شرح بڑھائی جاتی رہے گی تو عوام یہ ٹیکس کہاں سے اَدا کریں گے جو پہلے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوں گے اُور جن کے پاس روزگار نہیں ہوگا تو وہ بنیادی ضرورت کی اشیائے ضروریہ مہنگے داموں خریدنے کی سکت کہاں سے لائیں گے اُور کب تک اِس حال میں گزربسر کر سکیں گے۔ جناب وزیراعظم صاحب‘ اگر آپ کو اِس بات پر یقین نہ ہو تو جنوبی افریقہ کی مثال برائے مطالعہ موجود ہے‘ جہاں ٹیکس عائد کرنے کے سبب اقتصادی نشوونما متاثر ہوئی۔ دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھنا عقلمندوں کی نشانی ہوتا ہے۔

جناب عالیٰ‘ ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت ٹیکسوں کی بجائے ایسا مالیاتی ماحول فراہم کرتی ہیں‘ جن میں کاروباری سرگرمیاں نشوونما پائیں۔ عوام کی آمدن بڑھے لیکن پاکستان میں اِس کے برعکس (اُلٹ) صورتحال ہے کہ ایک طرف پیداوار کم ہونے کی وجہ سے آمدنی کم ہے اُور دوسری طرف حکومت کے عائد ٹیکسوں کی شرح میں ہر سال اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
جناب عالیٰ‘ پاکستان میں صنعتوں اُور کاروبار پر عائد (کارپوریٹ) ٹیکس کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے‘ جو دنیا کی تیسری بلند شرح بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کے سیاست دانوں کی اِس لحاظ سے مثال نہیں ملتی کہ یہ دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ اُن کے ہم وطن ٹیکس چور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ’مالی امداد‘ اُور ’قرض‘ دینے والوں کی خواہش پر کیا جاتا ہے اُور اگر پاکستان کے زمینی حقائق یعنی عوام کی غربت اور پیداواری کمی کو خاطر میں نہ لایا گیا تو ٹیکس وصولی میں کمی ہوتی چلی جائے گی۔

جناب عالیٰ‘ پاکستان مالیاتی بحران کا شکار ہے لیکن اِس بحران سے کا حل ٹیکسوں کی شرح میں ”اِضافہ در اِضافہ“ نہیں۔ حکومت کو اپنی آمدن میں اضافے کے لئے دو ہی طریقے اِختیار کرنا پڑتے ہیں‘ ایک تو ٹیکسوں میں اِضافہ کرے اُور دوسرا اپنے اَخراجات میں کمی لائے۔ گزشتہ 37 برس میں دنیا کے 21 ممالک نے مالیاتی اصلاحات کیں اُور اپنی آمدنی میں 85فیصد کمی پر قابو پانے کے لئے ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کیا بلکہ اُنہوں نے اپنے اخراجات میں غیرمعمولی کمی کے ذریعے مالیاتی اصلاحات جیسے اہداف حاصل کئے۔ جناب عالیٰ‘ پاکستان حکومت کا مسئلہ ٹیکسوں کی کم شرح نہیں بلکہ حکومتی آمدن کے مقابلے حد سے زیادہ (غیرترقیاتی) اخراجات ہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Sunday, June 2, 2019

TRANSLATION: A weaponised space by Dr Farrukh Saleem

A weaponised space
مسلط جنگ: پرخطر محاذ!

دنیا میں ’انٹرنیٹ‘ سے استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد ’4.5 ارب‘ ہے جن میں 10 صارف فی سکینڈ کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا تیزی سے مقبول ہونے کے ساتھ سماجی و انفرادی روئیوں پر اثرانداز ہو رہا ہے اُور عمومی سطح دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کی وجہ سے برداشت ختم ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کیا ہے؟ یہ اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو بناءکسی بڑی لاگت‘ بناءکسی نگرانی اُور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اثر کرنے والا ہتھیار ہے۔ ریاستی اور غیرریاستی عناصر سوشل میڈیا کا استعمال مختلف اہداف کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرتے ہیں‘ جن میں فرضی معلومات‘ جھوٹ پر مبنی اطلاعات اُور افواہیں پھیلانا بھی شامل ہے۔

پاکستان پر جنگ مسلط ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے‘ جس کے آغاز کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا اُور نہ ہی اِس کے لئے باقاعدہ فوج کشی کی گئی ہے۔ اِس جنگ میں عوام کے نکتہ ¿ نظر اُور اُن کے نظریات و روئیوں پر اثرانداز ہوا جا رہا ہے۔ اِس جنگ کی کوئی سرحد اور جغرافیائی علاقہ (حدود) بھی معین نہیں جبکہ اِس جنگ میں ریاستی و غیرریاستی عناصر جسمانی طور پر حصہ لینے کی بجائے ’سوشل میڈیا آلات‘ کے ذریعے وار (حملہ) اُور جوابی وار (دفاع) کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال پاکستان پر حملہ آور ہونے والوں نے کیا ہے‘ جس کے ذریعے اقدار‘ عقائد‘ تاثرات‘ جذبات‘ تحریکی خیالات‘ دلائل اُور روئیے نشانے پر ہیں اُور اِس کے ذریعے وہ سبھی اہداف‘ ایک ایک کر کے‘ حاصل کئے جا رہے ہیں جو کسی ملک پر باقاعدہ فوج کشی کی صورت میں پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا پہلا وار ’دانستہ طور پر‘ غلط خبریں پھیلانا ہوتا ہے اُور ایسی افواہیں بھی جن کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلے۔ اُنہیں اپنا اُور ریاست کا مستقبل تاریک نظر آنے لگے۔ اُن میں مایوسی اور نااُمیدی جیسے جذبات پیدا ہوں اُور وہ بہتری کے لئے کوشش یا اصلاحات کے لئے حکومتی اقدامات کا اعتبار نہ کریں۔ اِس طرح معاشرے میں نفرت‘ بداعتمادی اور انتشار پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا کے ایک مقبول ذریعے ’ٹوئیٹر (twitter)‘ کی بات کریں تو اِس کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں فرضی ناموں سے صارفین کے اکاو ¿نٹس کی مدد سے ’گمراہ کن حقائق اُور اعدادوشمار‘ پر مبنی اطلاعات کو اِس قدر بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے کہ جھوٹ پر سچ کا گمان ہونے لگے۔ ہر طرف سے ’غلط اطلاعات و معلومات‘ کے بم برسائے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی صارف درست خبر‘ ایک ’نئے موضوع (Hashtag)‘ سے جاری کرتا ہے تو اُس ’ہیش ٹیگ‘ کو استعمال کرتے ہوئے یلغار کر دی جاتی ہے‘ جس سے اصل بات‘ موضوع اور حقائق دب کر رہ جاتے ہیں یا کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ اِس قسم کی کاروائیاں خودکار انداز میں کمپیوٹر پروگراموں کے ذریعے سے بھی کئے جاتے ہیں‘ جنہیں ’بوٹس (bots)‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ’بوٹس‘ کسی اِنسان کی طرح سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اُور جب اِن کو دیئے گئے عنوانات یا موضوعات سے متعلق کوئی صارف کچھ لکھتا ہے‘ تو اُس کے ٹوئیٹر پیغام کو دیگر صارفین تک پہنچنے نہ دینے کے لئے اُس پر ہونے والی بحث کو کسی دوسری سمت میں موڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی تکنیکی قسم کی چال ہے‘ اُور سوشل میڈیا کے بارے میں عمومی یا سطحی معلومات رکھنے والے صارف کی سمجھ میں یہ بات (طریقہ واردات) باآسانی نہیں آتی!

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ”سوشل میڈیا وسائل“ سے استفادہ کرتی ہے‘ جن میں معروف سائٹس ’فیس بک (facebook)‘ ٹوئیٹر (Twitter)‘ یو ٹیوب (You Tube)‘ اُور انسٹا گرام (Instagram)‘ شامل ہیں اُور انہی کے ذریعے دل کا حال (خبروں یا معلومات) کا دنیا سے تبادلہ کیا جاتا ہے لیکن پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت کو اُس جنگ کے بارے میں قطعی کوئی اندازہ ہی نہیں جو مسلط ہے‘ اُور جس میں صارفین کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ پر بھی نظر رکھی جاتی ہے‘ تاکہ اُنہیں ’ہدف (ٹارگٹ)‘ بنایا جا سکے۔ القصہ مختصر سوشل میڈیا ایک ایسا غیر فوجی جنگی ہتھیار ہے جس سے جنگی مقاصد
و اہداف حاصل کئے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا ’تباہ کن‘ اُور ’باعث ہلاکت‘ اثرات رکھتا ہے۔ اِس میں اِنسانوں کے خیالات اُور اُن کے عقائد و نظریات کو تبدیل یا الجھایا جا رہا ہے اُور عجیب (زیادہ پریشان کن) بات یہ ہے کہ جن سوشل میڈیا صارفین پر جنگ مسلط ہے‘ اُنہیں اِس بات کا احساس بھی نہیں۔ ہدف صرف ایک ہے کہ پاکستان کو کمزور بنایا جائے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت‘ سیاسی حکمرانوں اُور ریاست کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔

پاکستان کو کمزور اُور ناتواں یا ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کیا جائے‘ جو (خدانخواستہ) ناکام ہونے جا رہی ہے اُور جس کا کوئی (روشن) مستقبل نہیں! سوشل میڈیا وسائل سے استفادہ کرنے والوں کو اِن حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی ’آن لائن سرگرمیوں‘ میں پہلے سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ سوشل میڈیا کی شرانگیزیاں توجہ طلب ہیں۔ ہر اطلاع اور ہر خبر درست نہیں ہوتی بالکل اِسی طرح سوشل میڈیا پر زیرگردش (وائرل اُور مقبول عام) ہر تصور اُور تصویر بھی حقائق کے برخلاف ’دروغ گوئی یا جعل سازی‘ کا مجموعہ ہو سکتی ہے! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)