Sunday, September 1, 2019

TRANSLATION: Electrocuted in Karachi by Dr Farrukh Saleem

Electrocuted in Karachi
بجلی‘ کرنٹ اُور کراچی!

دنیا میں ایسے شہروں کی تعداد 4 ہزار 416 ہے‘ جن کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ سوال: دنیا کا ایسا شہر کونسا ہے کہ جہاں بارش کے بعد بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ کی وجہ سے درجنوں لوگ ہر سال ہلاک ہو جاتے ہیں؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنے والوں کے لئے چند اشارے یہ ہیں کہ وہ شہر افریقہ یا جنوبی امریکہ کا نہیں بلکہ براعظم ایشیاءسے تعلق رکھتا ہے۔ جواب ہے کراچی۔ جی ہاں کراچی دنیا کا ایسا واحد شہر ہے جہاں ہر سال بارشوں کے موسم میں درجنوں ہلاکتیں صرف اِس وجہ سے ہوتی ہیں کیونکہ بجلی کا ترسیلی نظام خرابیوں کا مجموعہ ہے۔

کراچی میں اوسط 6.8 انچ بارش ہوتی ہے۔ کولمبیا کا شہر کیبوڈو (Quibdo) میں سالانہ 288 انچ بارش ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے ملک لائبریا (Liberia) کے شہر مون روویا (Monrovia) جس کی آبادی مشکل دس لاکھ ہے وہاں سالانہ 182 انچ بارش ہوتی ہے لیکن اِن شہروں میں ایک بھی ہلاکت بجلی کا کرنٹ لگنے (electrocution) کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اِسی طرح ہوائی (Hawaii) کے شہر ہیلو (Hilo) میں سالانہ 127 انچ بارش ہوتی ہے اور یہ سلسلہ سال 272 دن جاری رہتا ہے لیکن وہاں بھی کوئی ایک ہلاکت بجلی کا کرنٹ لگنے سے نہیں ہوتی۔ ایسے بہت سے شہروں کی فہرست پیش کی جاسکتی ہے جہاں کراچی سے زیادہ بارش ہوتی ہے لیکن تصور کیجئے کہ 6.8 انچ بارش ہونے پر بھی کراچی میں درجنوں ہلاکتیں ہونا کس قدر تشویشناک اور افسوسناک امر ہے۔ دنیا پاکستان کے بارے میں کیا سوچتی ہو گی کہ یہاں کس قسم کے فیصلہ ساز بستے ہیں‘ جن کی تعلیمی اسناد پلندوں میں پڑی دکھائی دیتی ہے لیکن اُن کی منصوبہ بندیاں اُور برسرزمین کارکردگی انتہائی ناقص و مایوس کن ہے۔

کراچی میں بارش سے ہونے والی درجنوں ہلاکتیں مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ ہیں‘ جن کے لئے کیا ’نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA)‘ کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے؟ کاروباری اخلاقیات بھی کیا کوئی چیز ہوتے ہیں؟ ایک ایسا شہر‘ جہاں کی شرح خواندگی 20فیصد ہو۔ کیا یہ ادویہ ساز ادارے (فارماسوٹیکل کمپنیوں) کو جائز ہے کہ وہ کراچی کی 80فیصد آبادی کو زائد المعیاد ادویات فروخت کریں؟ اِسی طرح اموات بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہوتی ہیں اور درجنوں لوگ مر چکے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز کہاں ہیں اُور کیا کر رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ بجلی کی تاریں جن کھمبوں سے باندھی جاتی ہیں لیکن اُنہیں محفوظ نہیں بنایا جاتا کہ کرنٹ بارش کے پانی کے ساتھ نہ پھیلے اُور نہ ہی اِن کھمبوں (بجلی کے ترسیلی نظام) پر باقاعدگی سے نظر رکھی جاتی ہے تاکہ اِن سے قیمتی انسانی جانوں کا نقصان نہ ہو۔

سال 2012ءمیں انجنیئر ارشد عباسی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (KESC) کی نجکاری کے بعد کی کارکردگی کے بارے میں ایک تحقیق کی۔ جس میں نجکاری کے عمل کا بھی جائزہ شامل تھا۔ سوال یہ تھا کہ آخر حکومت کو اِس بات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ وہ بجلی کی ترسیلی کمپنی کی نجکاری کر دے؟ اِس کا جواب یہ تھا کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی پر حکومت کو بھاری رعایت (سبسڈیز) دینا پڑ رہی تھیں۔ جب حکومت بجلی کی ترسیلی کمپنی چلا رہی تھی تو اِسے سالانہ 9 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑتی تھی جس کا بوجھ ختم کرنے کے لئے نجکاری کی گئی لیکن سبسڈی دینے کا سلسلہ ختم نہ ہوا بلکہ بڑھ گیا۔ سال 2013ءمیں حکومت نے 76 ارب روپے کی سبسڈی دی تھی۔ تلخ حقیقت ہے کہ کراچی میں بجلی کی ترسیلی کمپنی (K-Electric) کو نجکاری کے بعد سے ”400 ارب روپے“ سبسڈی دی جا چکی ہے۔

کیا ’نیپرا‘ نے کبھی ’کے الیکٹرک‘ سے پوچھا ہے کہ اُسے اب تک جو 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی ہے تو اِس کا استعمال کہاں اور کیسے کیا گیا ہے؟ حکومت ’کے الیکٹرک‘ کو 600 میگاواٹ بجلی کم نرخوں پر دیتی ہے جسے مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ رواں برس اپریل میں سیکرٹری پاور عرفان علی نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ ”کے الیکٹرک نے مختلف محکموں کے 125 ارب روپے دینے ہیں۔ اِس اجب الاداء رقم میں 90 ارب سوئی سدرن گیس کمنی اور 35 ارب ’این ٹی ڈی سی‘ کے بقایا جات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سبسڈی کا بوجھ اُتارنے کے لئے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کی گئی تھی اُور نجکاری کے بعد بھی سبسڈی دینے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ اِس سبسڈی (قومی خزانے کو پہنچنے والے خسارے) میں اضافہ ہو رہا ہے تو ایسی نجکاری کا فائدہ ہی کیا ہے؟ دوسری طرف ’کے الیکٹرک‘ کا مو ¿قف ہے کہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین بلوں کی ادائیگی نہیں کر رہے اُور اُس کے عوام کے ذمے واجب الاداءبل کی مجموعی مالیت 158.8 ارب روپے ہیں! 

اعدادوشمار کے اِس گورکھ دھندے میں ’کے الیکٹرک‘ میں سرمایہ کاری کرنے والے مستفید ہو رہے ہیں‘ قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہے اُور کراچی کے عوام کرنٹ لگنے سے مر رہے ہیں! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Friday, August 30, 2019

Plantation from the heart

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
شجرکاری: دل سے!؟
پاکستان دنیا کے اُن ’10 ممالک‘ کی فہرست میں ’7ویں‘ نمبر پر ہے جو ’عالمی موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change)‘ کی وجہ سے ’بُری طرح متاثر‘ ہو رہے ہیں۔ اِس صورتحال اُور درپیش چیلنجز کا اِدراک کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے 4 اگست 2017ءکو ’کلائمنٹ چینج‘ نامی خصوصی وزارت قائم کی اُور اُس دور کی حکمراں سیاسی جماعت مسلم لیگ (نواز) نے ہنگامی بنیادوں پر ’10 کروڑ‘ درخت لگانے کا اعلان کیا۔ وہ درخت کہاں لگے یا لگنے کے بعد کہاں چلے گئے یہ موضوع الگ سے تحقیق چاہتا ہے لیکن اِس پوری کوشش سے جو ایک بات عیاں ہوئی وہ یہ تھی کہ شجرکاری سے متعلق حکومتی عزم اُور حکمت عملیاں‘ کہیں نمود و نمائش کی نذر ہو جاتی ہیں اور کہیں تسلسل نہ ہونے اُور عدم دلچسپی کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔ یہی اَسباب ہیں کہ وقت کے ساتھ پاکستان میں جنگلات کے رقبے بڑھنے کی بجائے سکڑتے گئے اور اِن میں حسب اعلانات و دوڑ دھوپ (سرگرمیاں) خاطرخواہ اِضافہ نہیں ہوا۔

جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد تحریک اِنصاف کو قومی فیصلہ سازی کا اِختیار ملا‘ تو پہلا کام (5 اکتوبر 2018) یہ کیا گیا کہ 34 سالہ محترمہ زرتاج گل (رکن قومی اسمبلی) کو ’کلائمنٹ چینج‘ کی وزارت دی گئی اُور دوسرا کام یہ ہوا کہ مذکورہ وزارت نے ’8 اکتوبر 2018‘ سے ’کلین گرین پاکستان موومنٹ‘ نامی حکمت عملی بوساطت ’وزیراعظم پاکستان‘ عمران خان کا اعلان کیا‘ جس پر باقاعدہ عمل درآمد کا آغاز 13 اکتوبر 2018ء سے جاری ہے۔ وفاقی وزارت ’کلائمنٹ چینج‘ نے درختوں کی اہمیت کے بارے میں قومی شعور کی سطح بلند کرنے کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے اُور اِسی کے تحت ملک گیر شجرکاری مہمات کی سرپرستی و نگرانی کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر ’کلین گرین پاکستان‘ کے تحت ’10 ارب‘ درخت لگائے جائیں گے! عالمی پیمانہ یہ ہے کہ کسی ملک کے کل رقبے کے 20فیصد حصے پر جنگلات ہونے چاہیئں جبکہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 5 فیصد سے کم ہے!

درخت ہاتھوں سے نہیں دل سے لگائے جاتے ہیں۔ بس یہی ایک باریک نکتہ (نتیجہ ¿ خیال) ماضی کی طرح حال کے حکمرانوں کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا‘ جو بناءموسم اِس اُمید سے درخت لگائے جا رہے ہیں کہ یہ پھلیں پھولیں گے لیکن اکثر درخت شاید اِس اُمید پر پورا نہ پائیں کیونکہ اُن کے لئے فراہم کردہ حالات موافق نہیں اُور دوسری بات یہ ہے کہ جن سرکاری ملازمین کو درخت لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے‘ حکومت اُن کے حقوق اَدا نہیں کر رہی اُور یہ دونوں محرکات ہی کسی بھی ’گرین کلین پاکستان‘ نامی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لئے کافی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کی صورتحال بطور مثال ملاحظہ کیجئے۔ صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح یہاں بھی ’کلین گرین پاکستان‘ کے لئے محکمہ زراعت کے افرادی و تکنیکی وسائل سے استفادہ کیا جا رہا ہے لیکن محکمہ زراعت (توسیعی) کے کل ملازمین کا ’25 فیصد‘ سے بھی کم عملہ ’فیلڈ سٹاف (field-staff)‘ پر مشتمل ہے۔ اصطلاحاً ’فیلڈ سٹاف‘ اُن اہلکاروں کو کہا جاتا ہے جو آرام دہ دفتروں کی بجائے متعلقہ دور دراز علاقوں میں زراعت کی ترقی و توسیع کے لئے کاشتکاروں یا عوام سے مستقل رابطے میں رہیں۔ کسی ’فیلڈ اسسٹنٹ‘ کی بنیادی تعلیم میٹرک یا ’ایف ایس سی‘ مقرر ہے‘ جو 3 سالہ ڈپلومہ کرنے کے بعد 9ویں اسکیل میں بھرتی ہوتا اُور سروس اسٹرکچر (ملازمتی ڈھانچے) کی خامیوں کے باعث‘ پچیس سے تیس سال یا اِس سے بھی زائد ملازمتی عرصہ گزارنے کے بعد بناءکسی محکمانہ ترقی ’9ویں اسکیل‘ ہی میں ریٹائر ہو جاتا ہے۔ چونکہ پورے ملک میں سب سے زیادہ جنگلات خیبرپختونخوا میں ہیں اُور یہیں کی آب و ہوا کی وجہ سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ بھی ممکن ہے تو وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ محکمہ زراعت کی تمام ذیلی شاخوں (ایگری کلچر توسیعی‘ ایگری کلچر تحقیقی‘ لائیو سٹاک‘ واٹر مینجمنٹ‘ سائل کنزرویشن‘ فشریز اُور ایگری کلچر انجنیئرنگ) کے افرادی و تکنیکی وسائل میں اضافہ کرے۔ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کی تعداد دفتری ملازمین سے زیادہ ہونی چاہئے اُور سب سے زیادہ ضروری ’ملازمتی ڈھانچے (سروس اسٹرکچر)‘ پر نظرثانی کی ہے کیونکہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع کی صورتحال مثالی نہیں اُور زرعی عملے (فیلڈ اسسٹنٹس) کی تعداد وہاں کی یونین کونسلوں کے مطابق نہیں۔

شہری و دیہی علاقوں میں پھلدار اُور سایہ دار درختوں کی تعداد میں اضافہ کرنا محکمہ ¿ زراعت کی ذمہ داریوں میں ہونے والا ”نیا اضافہ“ نہیں بلکہ مذکورہ محکمہ برس ہا برس سے بلاناغہ (پھلدار) باغات لگانے کے لئے ہر قسم کی رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ مضحکہ خیز صورتحال (بھیڑچال) یہ ہے کہ ’کلین گرین پاکستان‘ کے تحت خیبرپختونخوا میں ’شجر کاری مہم‘ ماہ ستمبر کے دوران جاری ہے جبکہ یہ موسم درخت لگانے کا نہیں۔ اصولی طور پر مون سون سیزن (جون‘ جولائی) میں شجرکاری ہونی چاہئے یا پھر ماہ دسمبر میں کھڈے کھود کر ایک سے ڈیڑھ ماہ زمین کو درخت لگانے کے لئے تیار کیا جائے اُور ماہ فروری میں کسی علاقے کی آب و ہوا کو مدنظر رکھتے ہوئے درختوں کا انتخاب پر مبنی شجرکاری کی جائے۔ بے موسم شجرکاری کے 2 نقصانات ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ پودا کہ جو مون سون بارشوں کے موسم میں زیادہ سے زیادہ 100 روپے میں باآسانی دستیاب ہوتا ہے‘ بعد میں ’ایک ہزار‘ سے ’بارہ سو روپے‘ میں بھی بمشکل مل پاتا ہے اُور دوسرا بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے لگائے جانے والے درختوں کے پھلنے پھولنے کے امکانات ’ساٹھ سے ستر فیصد‘ کم ہوتے ہیں۔ اگست کے اختتام اُور ماہ ستمبر کے آغاز پر نمائشی شجرکاری مہم خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں جاری ہے اُور ہر ضلع کا صاحب بہادر (کمشنر اُور ڈپٹی کمشنرز) اپنے ناموں کی تختیوں کے ساتھ پودے لگا رہا ہے۔ ماتحت ملازمین کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔ دفتری امور ٹھپ پڑے ہیں!

مہنگے داموں خریدے گئے پودے یہاں وہاں‘ جہاں کہیں کیمرہ اُور استقبالیہ دکھائی دے زمین میں ٹھونسے جا رہے ہیں اُور اِس پوری نمائشی کوشش سے اُمید یہ ہے کہ اِس طرح درختوں کے رقبے میں اضافہ ہوگا۔ زراعت جہالت کی کیاریوں میں پروان نہیں چڑھتی بلکہ اِس کے لئے محنت و لگن کی کھاد‘ پانی اُور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زرعی علوم سائنس کا درجہ رکھتے ہیں اُور یہ بات بار بار دہرانے لائق ہے کہ درخت ہاتھوں سے نہیں دل سے لگائے جاتے ہیں! اِن کی دل سے قدر (حفاظت) کی جائے تو یہ پھل بھی دیتے ہیں اور سایہ بھی!

دیکھا نہ جائے‘ دھوپ میں جلتا ہوا کوئی
میرا جو بس چلے‘ کروں سایہ درخت پر (عباس تابش)۔“
............