Sunday, November 17, 2019

TRANSLATION: The gap by Dr Farrukh Saleem

The gap
فرق و تضاد

حکومت کی ترجیحات اُور عوام کی توقعات کے درمیان ’زمین آسمان کا فرق‘ نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر زمین پر جب ٹماٹروں کی فی کلوگرام قیمت 320 روپے تھی تب حکومت کے اہم رکن نے کہا کہ یہ 17 روپے فی کلوگرام ہیں۔ اِسی طرح جب زمین پر موسمی سبزی مٹر کی فی کلوگرام قیمت 100 روپے تھی تو حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ 5 روپے فی کلوگرام ہے۔ اِسی طرح اہل زمین کو عام گاڑی سے سفر کرنے میں جتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے حکومت کی نظر میں ہیلی کاپٹر سے فی کلومیٹر 55 روپے میں سفر ہوتا ہے۔ یہ سبھی مثالیں اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ برسراقتدار طبقے اُور عوام کو مختلف قسم کے حالات درپیش ہیں اُور دونوں ہی کے لئے حالات سے نمٹنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

حکومت کے لئے پاکستان کی معاشی واقتصادی نظام کو درست کرنا ایک ضرورت اُور مشکل ہے جس کے لئے اُس نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھاری سود اُور سخت مالیاتی نظم و ضبط لاگو کرنے جیسی شرائط پر قرض حاصل کیا ہے جبکہ عام آدمی کی مشکل یہ ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کے نام پر کئے گئے اقدامات سے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ حکومت خوش ہے کہ اُس نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر دی ہیں اُور عوام فکرمند ہے کہ اُن کا معاشی مستقبل پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہو چکا ہے۔ ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ روزگار کو تحفظ حاصل نہیں جبکہ مہنگائی کی شرح اِس کے علاو ¿ہ اضافی بوجھ ہے۔ خلاو ¿ں میں رہنے والوں پر زمین کی سطح پر پائی جانے والی ’کشش ثقل‘ کا اثر نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین جب چھانگ مارتے ہیں تو وہ زیادہ بلندی تک ہوا میں اُڑتے ہیں اُور سمجھتے ہیں کہ اہل زمین (ہم عوام) بھی ایسی ہی صورتحال سے محظوظ ہو رہے ہوں گے۔ حکومت کے لئے بجلی و گیس کے بلوں میں اضافہ معمولی سی بات ہے اُور یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں گیس کے بلوں میں ڈھائی سے چھ روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا کیونکہ کابینہ کے کسی رکن کے لئے ڈھائی سے چھ روپے اضافہ معمولی سی بات ہے لیکن ایک ایسا شخص جس کی یومیہ آمدنی ہر دن کم ہو رہی ہے اُور اُسے ایک بڑے کنبے کی کفالت کرنی ہے لیکن اُس کی مالی ذمہ داریوں میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے!

خلاوں میں رہنے والوں کے لئے موسمیاتی تبدیلی‘ فضائی آلودگی اُور آب و ہوا کی خرابی کوئی مسئلہ نہیں لیکن زمین پر رہنے والوں کو آلودہ ہوا میں سانس لینے کی وجہ سے بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔ زراعت و کاشتکاری کو الگ سے خطرات لاحق ہیں جبکہ پاکستان کے کئی شہروں کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شمار کر لیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں سیاحت کی ترقی کیونکر ممکن ہو گی جبکہ پاکستان کے مرکزی شہروں کی فضا آلودہ ترین ہیں!؟

1700 کے اواخر کی بات ہے جب ملکہ ماری (Queen Marie Antoinette) سے کہا گیا کہ عوام روٹی نہ ملنے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں تو اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ کیک کیوں نہیں کھا لیتے؟ فرانس کے حکمرانوں کا یہ رویہ اُنہیں لے ڈوبا تھا اُور 14جولائی 1789ءکو ’فرانسیسی انقلاب‘ میں شریک عوام نے بادشاہت کا تختہ اُلٹا۔ یاد رہے کہ فرانسیسی انقلاب 1789ءمیں شروع ہوا تھا۔

پاکستان میں مہنگائی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اُور اِس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہوئے کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حال ہی میں ہوئے گیلپ و گیلانی سروے (Gallup & Gilani Poll) سے معلوم ہوا کہ 53فیصد پاکستانیوں کے لئے مہنگائی 23 فیصد کے لئے بیروزگاری جبکہ صرف 4فیصد کے لئے بدعنوانی بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا ایک تعلق بجلی و گیس اُور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت کم سے کم بجلی و گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے گریز کرے تو اِس سے مارکیٹ میں ایک طرح کا استحکام دیکھنے میں آئے گا۔ حکومت قریب 2 کھرب روپے بجلی و گیس کی قیمت میں اضافے اُور اضافی ٹیکسوں سے حاصل کر رہی ہے‘ جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید میں مسلسل کمی کا رجحان ہے اُور جب قوت خرید کم ہوتی ہے تو پیداواری اداروں کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑتی ہے جس کے لئے مزدوروں کی تعداد گھٹانا پڑتی ہے اُور یوں معیشت زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ مہنگائی کے محرکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عوام سے متعلق فیصلہ سازی اُسی سطح پر کی جائے جہاں عوام رہتے ہیں۔ اِس کے لئے فیصلہ ساز کو زمین پر اُترنا ہوگا جہاں پاکستان کے معاشی حالات اُن کی سوچ سے زیادہ مختلف اُور گھمبیر ہیں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)


Sunday, November 10, 2019

TRANSLATION Wrong focus by Dr Farrukh Saleem

Wrong focus
غلط ترجیحات
پہلی ترجیح‘ ٹیکس وصولی: اِصطلاحی طور پر ٹیکس وصولی ایک ایسی اقتصادی سرگرمی کا نام ہے جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی ہو اُور اِس ترقی کے نتیجے میں ٹیکس وصول ہونے کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کسی ملک میں اقتصادی سرگرمیاں تو سکڑ رہی ہوں لیکن وہاں کی حکومت ٹیکس وصولی کے زیادہ بڑے اہداف مقرر کر کے بیٹھی ہو۔ پاکستان حکومت بھی ایک ایسا ہی غلط گمان کئے بیٹھی ہے کہ اِسے اقتصادی بحران کے حالات میں عوام اُور کاروباری طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا چاہئے۔ فیصلہ سازوں کو غور کرنا چاہئے کہ اصل ضرورت ’اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے‘ کی ہے‘ جس سے ٹیکس وصولی کی شرح میں خودبخود اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس لاگو کرنے سے پہلے آمدن کے لحاظ سے طبقات کو تقسیم کرنے کا ہے۔ فیصلہ سازوں کو تین سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں۔
1: ٹیکس کون ادا کرے گا؟
2: ٹیکس کتنا ادا کرے گا اُور
3: ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے کتنے فیصد حصے کا حکومت اپنے اخراجات کے لئے استعمال کر سکتی ہے؟

مساوات اُور انصاف یہ ہے کہ ٹیکس مالی حیثیت کے مطابق نافذ ہو یعنی ملک کے سرمایہ دار طبقات کو نسبتاً زیادہ اُور کم آمدنی یا کم مالی حیثیت رکھنے والوں پر اِسی شرح سے ٹیکسوں کا کم بوجھ لادا جائے۔ پاکستان میں ٹیکس وصولی کے اہداف اُور ٹیکسوں سے متعلق حکومت کی پالیسی کا جائزہ لیں تو صورتحال بالکل متضاد اُور مختلف نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں طرزحکمرانی عوام دوست نہیں بلکہ اِس میں خواص کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ زیادہ آمدنی اُور زیادہ مالی حیثیت رکھنے والوں کی نسبت کم آمدنی اُور کم مالی حیثیت رکھنے والے طبقات سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
دوسری ترجیح‘ ماضی کی غلامی: پاکستان کی حکومت آگے (مستقبل) کی جانب دیکھنے کی بجائے پیچھے (ماضی) کی جانب دیکھتے ہوئے سفر کر رہی ہے۔ ایسا سفر حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت کی ساری کوشش یہ جاننے میں لگی ہوئی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں میں شامل کرداروں میں سے کس نے کتنے قومی وسائل ذاتی اثاثوں میں منتقل کئے۔ اگر یہ طرزعمل جاری رہا کہ حکومت آگے کی بجائے پیچھے کی جانب دیکھتی رہی تو اِس کا انجام یا تو یہ ہوگا کہ آگے کی جانب سفر رک جائے یا اگر سفر جاری رہا تو یہ حادثے کا سبب بنے گا۔ حکمراں جماعت کو انسداد بدعنوانی اُور اقتصادی حکمت عملی میں تمیز کرنا ہوگی۔ پاکستان کی ضرورت ایک ایسے تربیت یافتہ‘ اہل ادارے کی ہے جو ملک میں ’انسداد بدعنوانی‘ جیسے انتظامات کر سکے۔ قومی احتساب بیورو یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ اِس کی خاطرخواہ تربیت نہیں۔ اِس کی خاطرخواہ صلاحیت نہیں اُور اِسے خاطرخواہ آزادی حاصل نہیں۔

تیسری ترجیح‘ غیرملکی سرمایہ کار: پاکستان کی نظریں غیرملکی سرمایہ کاروں پر لگی ہوئی ہیں اُور اِس ماحول میں انہیں ملکی سرمایہ کار دکھائی نہیں دے رہے جو سالانہ قریب 5000 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اُور یہ سرمایہ کاری بیرونی سرمایہ کاری سے زیادہ ہے۔ اِس لئے حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے مواقع اور مراعات کی تشکیل سے زیادہ ملکی و مقامی سرمایہ کاروں کے بارے میں سوچنا چاہئے اُور اُنہیں ایسا ماحول دینا چاہئے کہ جس میں وہ حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے پہلے کی نسبت زیادہ سرمایہ کاری کریں۔

چوتھی ترجیح‘ شرح سود: حکومت نے آمدن بڑھانے کے لئے شرح سود میں اضافہ کیا ہے جو فی الوقت دس فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ اِس کا نقصان یہ ہے کہ کم وقت کے لئے سرمایہ کاری کرنے والے زیادہ منافع کما کر چلتے بنیں گے اُور ملک کے اقتصادی مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے اُور دوسرا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے نئے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے اُور اِس کا نتیجہ یہ بھی نکل رہا ہے کہ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پانچویں ترجیح‘ درآمدات میں کمی: حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں کمی ہو۔ اِس مقصد کے لئے اب تک کئے گئے اقدامات میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اصولاً درآمدات میں کمی سے زیادہ برآمدات میں اضافے پر توجہ دینی چاہئے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات (تیل‘ کوئلہ‘ مائع گیس اُور مشینری) درآمد کرنے پر سالانہ 30ارب ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ ضروری اشیائے خوردونوش کی درآمد پر سالانہ 4 ارب ڈالر اُور لوہے (iron) و سٹیل (steel) کی درآمدات پر سالانہ 3 ارب روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔

برآمدات میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ کم و بیش ’5 برس‘ قبل بنگلہ دیش اُور پاکستان ایک جیسی مالیت کی برآمدات کرتا تھا یعنی بنگلہ دیشی اُور پاکستانی برآمدی حجم 25 ارب ڈالر تھا لیکن پانچ برس بعد کی صورتحال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی برآمدات سالانہ 25 ارب ڈالر سے بڑھ کر سالانہ 40 ارب ڈالر ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر سے کم ہیں! اگر پاکستان 40 ارب ڈالر کی برآمدات کرے اُور اِسے ترسیلات زر سے 24 ارب ڈالر ملیں تو اِس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کم ہو گا اُور ملک کی اقتصادی صورتحال ایک ایسے توازن پر آن کھڑی ہو گی‘ جس کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............