Monday, May 2, 2022

Have a meaningful Eid, this year!

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

بامقصد تہوار

پشاور کے سرتاج روحانی‘ علمی و ادبی اُور سیاسی گھرانے کے بزگوار پیر طریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ اپنے خطبات اُور محافل میں زندگی کو بامقصد بسر کرنے کی تلقین فرماتے بالخصوص ’عیدالفطر‘ جیسے تہوار یا دیگر خصوصی مواقعوں پر آپؒ کی وعظ و نصیحت کا خلاصہ ”فرائض کا اہتمام‘ سنتوں کی اتباع اُور تقویٰ“ سے متعلق ہوتا۔ آپ چاہتے تھے کہ ہر شخص اپنی زندگی کے ہر ایک لمحے کا احتساب اُور حساب کرے۔ تفکر سے کام لے۔ سوچ سمجھ کر زندگی بسر کرے اُور اگر زندگی بامقصد اُور تعمیری انداز میں منائی جائے تو اِس سے ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی اُور اگر تہواروں کو شعوری طور پر منانے اُور مختلف انداز میں ’یادگار‘ بنانے کی کوشش کی جائے تو اِس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر خیر و اصلاح جیسے ثمرات بھی حاصل ہوں گے۔ امیرالمومنین سیّدنا علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ ”مومن کے لئے اُس کی زندگی کا وہ ہر دن عید ہے‘ جس دن اُس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔“ اسلامی تہواروں کے حقیقی تصور اُور مقصد کے حصول کے لئے عہد کیا جا سکتا ہے کہ اِس مرتبہ عیدالفطر پر کم سے کم ”9 امور کی انجام دہی کا بطور خاص خیال رکھا جائے گا۔“

1: صبح جلدی اُٹھ کر مسواک یا ٹوتھ برش کے ذریعے دانت صاف کئے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں میں جس ایک عمل کا کثرت سے ذکر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ عید الفطر کی صبح سویرے مسواک سے دن کا آغاز فرماتے۔ طبی نکتہئ نظر سے بھی دانتوں کی اچھی دیکھ بھال نہ صرف مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ اس سے خوشگوار مسکراہٹ اور تازہ سانس کے ذریعے ایک پراعتماد دن کا آغاز ہوتا ہے۔

2: عیدالفطر کی صبح غسل کرنا‘ صاف اُور بہترین کپڑے پہننا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق (سنت) ہے۔ غسل (نہانے) کا مطلب جسمانی تطہیر ہے۔ یہی غسل جمعۃ المبارک‘ عیدین اُور دیگر خصوصی ایام کے لئے بھی کیا جاتا ہے جو اگرچہ واجب نہیں لیکن سنت کی اتباع اگر مقصود ہے تو اِس کی پابندی مستحبات میں شامل ہے۔ عید کے دن صاف‘ پاک و پاکیزہ لباس اُور خوشبو (پرفیوم) کا استعمال بہترین اعمال و معمولات میں سے ہیں۔ حدیث شریف ہے کہ ”اگر کوئی شخص (مرد یا عورت) عید کے دن نئے کپڑوں کی مالی سکت نہ رکھتے ہوں تو پہلے سے استعمال شدہ کپڑے اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔“ یہ شرعی نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ خواتین کے لئے خوشبو لگانے کی شرائط مرد سے مختلف ہیں اُور خواتین کو ”تیز خوشبو“ لگانے کی اجازت نہیں۔ اِسی طرح مردوں کے لئے ریشمی کپڑے اُور زیورات پہننے کی ممانعت ہے۔ 

3: عید کے دن تکبیرات (اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ وَاَللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ) پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔ 

4: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کے لئے پیدل جایا جائے یا مسجد کے کچھ فاصلے تک گاڑی میں سفر کرنے کے بعد سنت ادا کرنے کی نیت سے چند قدم ہی سہی لیکن لازماً پیدل چل کر جایا جائے۔ اِسی طرح نماز عید کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکلنے سے قبل کچھ میٹھا (بہتر ہے کہ کھجوریں) کھائی جائیں۔

5: تسلی کر لیں کہ عید الفطر کی نماز ادا کرنے سے قبل صدقہ فطر اَدا کر دیا گیا ہے اگر نہیں کیا تو ساری زندگی ساکت (ختم) نہیں ہوگا بلکہ واجب الادأ رہے گا۔ فقہ حنفیہ (اہلسنت و الجماعت) کے مطابق رواں برس 2022ء کے لئے گندم کے حساب سے کم سے کم فطرانہ 160 روپے فی کس جبکہ ’فقہئ جعفریہ‘ اُور مسلک ِاہل حدیث کے مطابق 170 روپے فی کس مقرر ہے۔ صدقہئ فطر کی کم سے کم شرح کی بجائے سے زیادہ سے زیادہ شرح سے فطرانہ اَدا کر کے غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں یکساں شریک کریں۔ ذہن نشین رہے کہ اسلام میں کسی بھی خصوصیت یا تہوار کا تصور انفرادی خوشی کا اظہار و اہتمام نہیں بلکہ تہوار بامعنی ہیں اُور یہ خوشی کے اجتماعی اظہار کے مواقع ہیں اُور اِس لحاظ سے عید محض عید نہیں بلکہ اگر اسے سمجھا جائے تو اِس تہوار کی معنویت اُور مقصدیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

 6: نماز عید کی ادائیگی کے لئے کسی ایسے مقام کا انتخاب کیا جائے جہاں عید کھلے آسمان کے نیچے ادا کرنے کا انتظام ہو‘ بہ امر مجبوری الگ بات ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز ہمیشہ کھلے آسمان تلے ادا فرمائی جبکہ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے اندر (چھت تلے) عید کی نماز اَدا کی تھی۔

7: عید کا تہوار تحفے‘ تحائف (عیدی)‘ اِہل و عیال اُور پڑوسیوں سے ملاقات کا موقع ہے۔ عمومی معمولات میں جب عزیزواقارب سے ملنے ملانے کی فرصت نہیں رہتی تو عید کے موقع پر ایسی ملاقاتوں کا بالخصوص اہتمام کیا جانا چاہئے۔

 8: رمضان المبارک کے بعد شروع ہونے والے اسلامی مہینے شوال المعظم کے 6 روزے رکھنے کی نیت ابھی سے کر لیں۔ شوال کے روزے عید الفطر کے دوسرے دن سے ماہئ شوال المکرم کے دوران کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں اُور اِن کا اہتمام لگاتار بھی کیا جا سکتا ہے اُور یہ روزے مسلسل (یکے بعد دیگرے) یا ایام کے وقفے سے بھی رکھے جا سکتے ہیں تاہم چھ روزوں کی گنتی پوری کرنا سنت ہے۔ حدیث شریف ہے کہ ”جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھے اُور پھر شوال کے چھ دن بھی روزہ دار رہا‘ تو اِسے پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔“

9: رمضان المبارک کی طرح سال کے دیگر مہینوں میں بھی عبادات بالخصوص قرآن شریف پڑھنے کی ابھی سے نیت کر لیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جس طرح رمضان المبارک میں عبادت گاہیں آباد رہیں بالکل اِسی طرح سال کے دیگر ایام میں بھی عبادات کا ذوق و شوق برقرار (ساری زندگی قائم و دائم) رہے۔ 

……

Clipping from Editorial Page Daily Aaj Peshawar / Abbottabad May 02, 2022



Thursday, April 21, 2022

Peshawar Kahani: Air Quality Report

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: وقت کب ہاتھ سے پھسل جائے

شاعر روبینہ ممتاز روبی نے کہا تھا کہ ”وقت کب ہاتھ سے پھسل جائے …… زندگی موت میں بدل جائے!“ اِس شاعرانہ تصور کا عملی زندگی اطلاق جب گردوپیش پر کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اِنسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی اُور بربادی کے سامان پیدا کر رہا ہے اُور اگر یہ تجاہل عارفانہ یعنی حقیقت کے باوجود مسلسل انکار کا طرزعمل جاری رہا تو اندیشہ ہے کہ کرہئ ارض پر زندگی موت سے بدل جائے گی اُور یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور میں ”فضائی آلودگی“ سے متعلق ایک حالیہ تحقیق سے علم ہوا ہے کہ ”پشاور شہر کے کئی حصے ایسے ہیں کہ وہاں سانس تک لینا زندگی کے لئے خطرات قرار دیا گیا ہے۔“ اُور جب ہم ہوا میں موجود انتہائی باریک ذرات کی صورت پھیلی ’جان لیوا آلودگی‘ کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو فضائی آلودگی کی بلند شرح کے حوالے سے مذکورہ انکشاف اِس لئے بھی باعث تشویش دکھائی دیتا ہے کیونکہ ایک وقت تھا جب پشاور کو پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا اُور یہاں کی آب و ہوا اِس قدر خالص ہوتی تھی کہ دنیا بھر میں بطور مثال پیش کی جاتی لیکن آج وہی پشاور گردآلود اُور زہرآلود ہے جبکہ انواع و اقسام کی آلودگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محتاط اندازہ ہے کہ دنیا کے چند آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل پشاور کی فضائی آلودگی سے کم و بیش 50 لاکھ مقامی جبکہ 10 لاکھ سے زائد غیرمقامی افراد متاثر ہیں اُور اِس وجہ سے لاحق امراض میں اضافے کے باعث صحت عامہ پر حکومتی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ آلودہ فضا میں سانس لینے سے کسی بھی جاندار کی عمر دو سے تین سال کم ہو جاتی ہے! یہ سبھی حقائق ’پشاور کلین ائر الائنس‘ نامی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں منظرعام پر آئے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کی تیاری میں مختلف ملکی و غیرملکی اداروں کی مالیاتی و تکنیکی معاونت حاصل کی گئی ہے جن میں کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس برطانیہ (ایف سی ڈی او) اُور پائیدار توانائی اور اقتصادی ترقی سے متعلق خیبرپختونخوا کا پروگرام (سیڈ) جسے ایڈم سمتھ انٹرنیشنل کی سرپرستی حاصل ہے شامل ہیں۔ پشاور میں فضائی آلودگی سے متعلق مذکورہ (54 صفحات پر مشتمل) مطالعہ ویب سائٹ (https://seed-pk.com/knowledge-centre) سے بلاقیمت حاصل (ڈاؤن لوڈ) کیا جا سکتا ہے‘ جو 20 اپریل کے روز جاری کیا گیا ہے اُور اِس کے ذریعے توجہ دلائی گئی ہے کہ ”پشاور میں فضائی آلودگی کی اُوسط قومی اور صوبائی معیارات کے مقابلے چار سے پانچ گنا زیادہ جبکہ عالمی ادارہئ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار کے مطابق ’بارہ سے سولہ گنا‘ زیادہ ہے اُور اِس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی کا سبب بننے والے محرکات و اسباب پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ برسرزمین صورتحال یہ ہے کہ پشاور کے مختلف حصوں بالخصوص مصروف شاہراؤں اُور تجارتی مراکز جہاں ہر قسم کی گاڑیوں (ٹریفک) کی آمدورفت زیادہ رہتی ہے‘ وہاں فضا میں آلودگی ناپنے کے آلات نصب نہیں ہیں تاہم متعلقہ حکومتی ادارے کے پاس فضائی آلودگی ناپنے کی گشتی سہولت ہے جس سے وقتاً فوقتاً کام لیا جاتا ہے اُور ’تحفظ ِماحول‘ کا حکومتی ادارہ بھی متعدد مرتبہ اِس جیسے ہی اعدادوشمار جاری کر چکا ہے لہٰذا پشاور میں ’فضائی آلودگی‘ کوئی نئی بات نہیں البتہ نئی بات یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصوں اُور عالمی سطح پر فضائی آلودگی کے معیار جیسے پیمانے پر پشاور آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے اُور اِس کا بنیادی سبب ’پیٹرولیم مصنوعات‘ کا استعمال ہے جیسا کہ رپورٹ کے ایک حصے میں توجہ دلائی گئی ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ مالی سال دوہزاربیس اکیس کے دوران ضلع پشاور میں قریب آٹھ لاکھ ٹن پیٹرولیم ایندھن استعمال کیا گیا اُور یہی وجہ ہے کہ پشاور میں فضائی آلودگی پیدا کرنے کے بڑے اسباب میں ٹرانسپورٹ‘ صنعت‘ گھریلو پیمانے پر ٹھوس ایندھن کا استعمال‘ شہر سے اکٹھا کیا جانے والا کوڑا کرکٹ اُور فضلہ جلانے جیسے محرکات شامل ہیں کیونکہ اِن سب سے ’کثیف دھواں‘ پیدا ہوتا ہے۔

 سال دوہزار بارہ سے دوہزاربیس کے درمیان پشاور میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد میں پچاسی فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اِسی عرصے کے دوران یعنی گزشتہ برس کے مقابلے 168.8 فیصد زیادہ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہوئے ہیں لیکن پشاور میں صرف ضلع پشاور کی مقامی رجسٹرڈ گاڑیاں ہی نہیں چلتیں بلکہ نجی گاڑیاں رکھنے والوں کی اکثریت ’اسلام آباد (وفاقی دارالحکومت)‘ کی رجسٹرڈ گاڑیاں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو پشاور میں آمدورفت کا نظام انتہائی غیرمنظم ہے۔ پشاور کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی سڑکوں پر ’پرانی سے پرانی‘ اُور ’نئی سے نئے‘ ماڈل کی گاڑی فراٹے بھرتی نظر آتی ہیں۔ دھواں اگلنے والی گاڑیوں بالخصوص مال برداری اُور پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں‘ آٹو رکشہ صوتی اُور فضائی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ 

ضلع پشاور کا کل رقبہ ’ایک ہزار پانچ سو اٹھارہ کلومیٹر‘ اُور یہاں کی 92یونین کونسلیں نئے بلدیاتی نظام کے تحت مزید 7 تحصیلوں میں تقسیم ہیں۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع پشاور کی مذکورہ 7 تحصیلیوں (پشاور سٹی تحصیل‘ شاہ عالم تحصیل‘ متھرا تحصیل‘ چمکنی تحصیل‘ بڈھ بیر تحصیل‘ پشتہ خرہ تحصیل اُور حسن خیل تحصیل) میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 19 لاکھ تھی‘ اِس تناسب کو اگر خاندان کی اوسط سے دیکھا جائے تو پشاور کی آبادی کسی بھی طرح ستر لاکھ سے کم نہیں۔ دوسرا لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ سال 2018ء کے عام انتخابات کے موقع پر ضلع پشاور میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 16 لاکھ 93 ہزار 386 تھی جن میں 9 لاکھ 79 ہزار سے زیادہ مرد اُور 7 لاکھ 13 ہزار سے زیادہ خواتین رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔ ووٹروں کے اندراج سے متعلق اِس تناسب سے عیاں ہے کہ پشاور کی آبادی سے متعلق حکومتی اداروں کے اعدادوشمار درست نہیں اُور اِن میں فرق بھی نمایاں ہے کہ آبادی بڑھ رہی ہو لیکن رجسٹرڈ ووٹر کم ہو رہے ہوں ایسا ممکن نہیں ہے۔ لب لباب (بنیادی بات) یہ ہے کہ مذکورہ ”ائر کوالٹی رپورٹ“ میں پشاور کو پاکستان کا تیسرا جبکہ دنیا کا نواں آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے اُور اِس سے زیادہ بڑی اُور بُری خبر کوئی دوسری نہیں ہو سکتی! ”بے دلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے …… صرف زندہ رہیں گے تو مر جائیں گے (جان ایلیا)۔“

……