Wednesday, September 14, 2022

Sham e Hamdard

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

خلاصہ حالات

’ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے زیراہتمام ہر ماہ ’شوریٰ ہمدرد (Thinker's Forum)‘ کا انعقاد باقاعدگی سے ہوتا ہے جس میں اظہار ِخیال کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مقررین کو مدعو کیا جاتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ و ثقافت اُور معیشت و معاشرت کو سمجھنے کی اِس ”سنجیدہ کوشش“ کو علمی ادبی حلقے ”اہم“ قرار دیتے ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ اِس جیسی کوئی دوسری ہم عصر کوشش پشاور میں دکھائی نہیں دیتی۔ شہید حکیم سعید کی زندگی میں ”ہمدرد شوریٰ“ اب ”شوریٰ ہمدرد“ کہلاتی ہے جبکہ اِس نشست کے دعوت ناموں سے لیکر محافل کی عمومی بول چال اُور خطبات پر انگریزی زبان کے الفاظ اُور ایسے موضوعات حاوی ہوتے محسوس ہو رہے ہیں جن کا پاکستان کو درپیش حالات (عصری مسائل) سے بہت کم تعلق ہوتا ہے یا اُن کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ مفکرین و ماہرین کی رہنمائی میں جاری زبانوں کی اِس کشمکش میں ہمدرد شوریٰ یا شوریٰ ہمدرد کا ”اصل مقصد“ فوت نہیں ہونا چاہئے۔ رواں ماہ (ستمبر دوہزاربائیس) کے لئے ’شوریٰ ہمدرد پشاور‘ کا موضوع ”ذمہ دارانہ صحافت اُور اخلاقی اقدار“ رکھا گیا جس کے لئے مقرر کا انتخاب بھی شعبۂ صحافت ہی سے کیا گیا لیکن اِس کے لئے ”ایوان ِصحافت“ کا انتخاب نہیں کیا گیا جو صرف اِس ایک موضوع ہی نہیں بلکہ دیگر سبھی موضوعات کے لئے علمی و فکری نشستوں کا زیادہ موزوں مقام ہے۔ نشان امتیاز و ستارۂ امتیاز‘ شہید حکیم سعید (1920ء- 1998ء) کی حیات میں ’ہمدرد شوریٰ‘ میں سیاسی اُور غیرسیاسی موضوعات کے سیاسی پہلوؤں پر بھی اظہار خیال کیا جاتا تھا جسے سننے والوں میں سیاسی فیصلہ ساز بھی شریک ہوتے تھے اُور سب سے بڑھ کر ’ہمدرد شوریٰ‘ کے لئے حالات ِحاضرہ کی مناسبت سے موضوع کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ ’ہمدرد شوریٰ‘ کی روایت کو جاری و ساری رکھنے والوں سے اُمید تھی کہ آئندہ چند ماہ تک ہر نشست میں ”سیلاب متاثرین کی بحالی و امداد‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات (انوائرمنٹل چیلنجز) اُور پاکستان میں آبی نظم و نسق“ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اُور مسلسل رہنمائی کرتے ہوئے صرف موضوعات ہی نہیں بلکہ اِن کے ذیلی موضوعات کا بھی احاطہ کیا جائے گا یعنی ”بال کی کھال“ اُتاری جائے گی کیونکہ پاکستان موسمیاتی اُور ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے اُور دنیا میں سب سے پہلے یہ تبدیلیاں پاکستان میں رونما ہو رہی ہیں۔ 

سماجی سطح پر یہ بحث بھی زیربحث آنی چاہئے کہ کیا سائنسی تحقیق اُس درجے تک کمال حاصل کر چکی ہے کہ اِس کے ذریعے انسان اپنی مرضی کے موسم تخلیق کر سکتا ہے؟ پاکستان میں حالیہ سیلاب اُور مون سون بارشوں کے بارے میں ایک رائے (تاثر) یہ بھی عام ہے کہ یہ پاکستان میں بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے اُور سائنسی علم نے یہ کمال حاصل کر لیا ہے کہ اب مصنوعی طریقے سے کسی بھی ملک کے سرد‘ گرم یا بارشوں کے موسم کی شدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ کرہ¿ ارض (زمین) کی فضا کا ایک حصہ جسے ’روان دار علاقہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ’روانی کرۂ (ionsphere)‘ جو کہ زمین کی سطح کے تیس سے پچاس میل اوپر سے شروع ہو کر 200 میل تک پھیلا ہوا ہے اُور اِس میں سورج سے آنے والی ایکس (x) اُور بالا بنفشی (uv) اشعاع کی ’آئیونائزیشن‘ ہوتی ہے جس سے آزاد گردش کرنے والے ذرات (الیکٹران) وقوع پذیر ہوتے ہیں اگر کسی بھی طریقے سے الیکٹران پیدا کئے جائیں تو یہ عمل موسموں کی تخلیق میں قدرت کے بنائے ہوئے توازن کو بگاڑنے یعنی مداخلت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سال 1990ءمیں امریکہ کے محکمۂ دفاع اُور عسکری علوم و تحقیق کے مراکز نے مشترکہ حکمت ِعملی کی منظوری دی جس کے تحت 1993ءمیں ’ہائی فریکونسی ایکٹو ایرورال ریسرچ پروگرام (HAARP)‘ کے لئے باقاعدہ مرکز تعمیر کیا گیا اُور اِس پچیس کروڑ ڈالر (250ملین ڈالر) مالیت کے منصوبے (تنصیبات اُور تحقیقی سہولیات) کو امریکی ریاست ’الاسکا (Alaska)‘ کی جامعہ کے حوالے کر دیا گیا یوں فوجی (دفاعی) مقاصد کے لئے شروع ہونے والا یہ پروگرام بعدازاں غیرفوجی (غیردفاعی) مقاصد کے لئے استعمال ہونے لگا اُور خاص بات یہ ہے کہ ’ہارپ‘ نامی اِس پروگرام کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ اِسے جاری رکھا گیا جس کے بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ امریکہ دنیا کے موسموں کو تسخیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اِس تاثر کو ’سازشی نظریہ (کانسپریسی تھیوری)‘ قرار دیتا ہے اُور اُس کا کہنا ہے کہ ’ہاراپ‘ کرۂ ارض کو سمجھنے کے لئے جاری علمی تحقیق کا نام ہے‘ جس کی تفصیلات خفیہ نہیں بلکہ کوئی بھی امریکی یا غیرامریکی شخص اِس تحقیق کے نتائج اُور طریقۂ کار کو قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کر سکتا ہے۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں ملک کی داخلی سلامتی و بقا کے لئے ”حقیقی خطرہ“ ہیں جس کا خاطرخواہ سنجیدگی سے تصور اُور ادارک نہیں کیا جا رہا۔ اِس سلسلے میں غیرسرکاری ماہرین اُور تحقیق کاروں کو سامنے آنا چاہئے کہ کس طرح ملک کو درپیش موسمیاتی خطرات سے بچنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اگر آئندہ مون اُور موسم سرما میں برفباری کے معمولات زیادہ ہوئے تو ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے قومی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے چاروں صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے بھی ماہرین کی رائے (input) ملنا بھی ضروری ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل (چیلنجز) کے بارے میں بروقت دفاعی حکمت ِعملی وضع کی جا سکے۔ اقوام عالم کی ترقی ’فلسفیانہ نظریات‘ سے شروع ہوتی ہے اُور اِنہی نظریات کی روشنی میں ’قومی ترجیحات‘ کا تعین کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ”ذمہ دارانہ صحافت اُور اخلاقی اقدار“ کا تعلق ہے تو اِس کے لئے کاروباری اُور ادارہ جاتی پہلوؤں کی اصلاح بھی یکساں ضروری ہے۔ صحافت میں پیشہ ورانہ اخلاقیات پر خاطرخواہ عمل درآمد نہ ہونے کے بارے میں سطحی (بنا سیاق و سباق) غوروخوض اِس شعبے میں اصلاحات اُور اِس کی ترجیحات کے عمل کو سست کرنے کا باعث بن رہی ہے اُور اِس سے مسائل کی گھتیاں مزید الجھ رہی ہیں۔ موضوع متنوع ہے کہ صحافت میں علمی و عملی سرمایہ کاری کرنے والے اُور اِس کے مالی سرمایہ کار اپنی اپنی ذمہ داریوں کی بجاآوری الگ الگ نکتہ ہائے نظر سے کر رہے ہیں۔ سچ کا بھی وقار ہوتا ہے اُور اِسی وقار سے مزین باوقار اقوام ابھرتی ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ صحافت سے جڑے سبھی طبقات کے نظریئے (فکر و عمل) میں حائل خلیج (فاصلہ) کم کیا جائے اُور سچ کے سفر کا آغاز پسندوناپسند یا حمایت و مخالفت میں نہیں بلکہ غیرجانبداری اُور ذمہ داری کی رہنمائی میں آگے بڑھے۔ ”خلاصہ یہ مرے حالات کا ہے .... کہ اپنا سب سفر ہی رات کا ہے (سیّد ضمیر جعفری)۔“

Clipping from Daily Aaj - Sept 14, 2022 Wednesday




Tuesday, September 6, 2022

Peshawar Kahani - Epidemics.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: بڑے شہر کا خواب

خیبرپختونخوا کے سب سے زیادہ آبادی والا ضلع ’پشاور‘ بدستور ”وبائی امراض“ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ پشاور میں صوبے کے دیگر اضلاع سے عارضی و مستقل نقل مکانی کرنے والوں کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے جبکہ حالیہ سیلاب نے اِس نقل مکانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اِس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور میں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کا نظام مزید علاج گاہوں اُور تجزیہ گاہوں (لیبارٹریز) کے قیام کے ذریعے توسیع چاہتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ صوبائی دارالحکومت دیگر اضلاع کی نسبت کورونا وبا کے بھی سب سے زیادہ کیسز اُور اموات ہوئی ہیں جبکہ ڈینگی ہیمرجک بخار کے علاؤہ پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد کے حوالے سے بھی پشاور سرفہرست ہے۔ 

پشاور میں صوبے کے دیگر حصوں سے لوگ سرکاری و نجی کام کاج‘ کاروبار یا ہسپتالوں میں علاج کے سلسلے میں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں وبائی امراض (انفیکشنز) نسبتاً زیادہ ہے۔ پشاور میں وبائی وبائی امراض کی زیادہ تعداد کا تعلق تجزیہ گاہوں (لیبارٹریز) سے بھی ہے جہاں پشاور کے علاؤہ دیگر اضلاع سے نمونے ارسال کئے جاتے ہیں اُور اُن کے نتائج پشاور میں وبائی امراض کے طور پر درج ہوتے ہیں۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا وبا سے مجموعی طور پر 6 ہزار 354 ہلاکتیں ہوئی جبکہ اِن میں 3ہزار 140اموات کا تعلق پشاور سے ہے۔ اِسی طرح صوبے بھر میں 2 لاکھ 23ہزار 630 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جن میں سے 84 ہزار 569 مریضوں کا تعلق ضلع پشاور سے رہا۔ پشاور میں کورونا وبا سے ہونے والی زیادہ اموات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر اضلاع کی نسبت پشاور میں صحت کی سہولیات نسبتاً بہتر شکل و صورت میں دستیاب ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ تیمارداروں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو جلدازجلد پشاور کے مرکزی ہسپتالوں تک پہنچائیں۔ دوسرا محرک ضلعی سطح پر ہسپتالوں سے مریضوں کو پشاور بھیجنا (ریفر کرنا) بھی ایک معمول ہے اُور اِس کی وجہ سے پشاور کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں (لیڈی ریڈنگ‘ خیبر ٹیچنگ اُور حیات آباد کمپلیکس) پر غیرمقامی مریضوں کا دباؤ   رہتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں صحت کا نظام جب تک اضلاع کی سطح پر مضبوط‘ وسیع اُور فعال نہیں کیا جائے گا اُس وقت پشاور کے وسائل پر دباؤ رہے گا۔ اِس سلسلے میں ایک ضمنی پہلو بھی فیصلہ سازوں کے زیرغور رہے اُور وہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی نسبت پشاور میں مختلف امراض کے ماہر معالجین زیادہ تعداد میں موجود ہیں اُور چونکہ اِن معالجین کی اکثریت نجی علاج گاہوں کے علاؤہ سرکاری ہسپتالوں سے بھی ملازمتی وابستگی رکھتے ہیں جو مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں ریفر کرتے ہیں اُور وہیں اُن کا علاج اُور جراحت (سرجریز) کی جاتی ہیں لہٰذا علاج معالجے کے نظام کو جس قدر بھی وسعت دی جائے‘ اگر معالجین کا تعاون شامل حال نہیں ہوگا تو اُس وقت تک بہتری (اصلاح) ممکن نہیں ہے۔ پشاور میں کورونا وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ماضی کی طرح حال میں بھی زیادہ ہے۔ فی الوقت پشاور میں کورونا سے 689 مریض متاثر ہیں اِن میں 309 فعال کورونا کیسز ہیں جن کا باقاعدگی سے علاج معالجہ ہو رہا ہے۔ اِسی طرح پشاور میں 19 ایسی تجزیہ گاہیں (لیبارٹریز) ہیں جہاں کورونا وبا کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے اُور اِن لیبارٹریز میں صرف پشاور نہیں بلکہ دیگر اضلاع سے نمونے ٹیسٹنگ کے لئے ارسال کئے جاتے ہیں۔ صرف خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری نے صوبے میں ہوئے کل 50لاکھ 35 ہزار 49 ٹیسٹوں میں سے ’نوے فیصد‘ سرانجام دیئے۔ 

کورونا وبا کے علاؤہ پشاور میں پائی جانے والی دوسری خطرناک بیماری پولیو ہے اُور یہ بیماری (پولیو میلائٹس) صحت عامہ کے فیصلہ سازوں کے لئے کسی درد سر سے کم نہیں۔ پولیو کے انسداد کے حوالے سے گزشتہ بیس برس (دو دہائیوں) کے دوران کی جانے والی کوششوں (مہمات) اُور اِن کی کامیابی سے متعلق محکمہ¿ صحت کے حکام کے دعوو¿ں کو دیکھا جائے تو آج برسرزمین نتائج قطعی مختلف ہونے چاہیئں تھے لیکن ضلع پشاور سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہو رہا جس کی ایک وجہ یہاں نقل مکانی اُور جا بجا نئی رہائشی بستیوں کا بنا منصوبہ بندی و سہولیات قیام ہے۔ پشاور میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد بھی صوبے کے کسی بھی دوسرے ضلع کی نسبت زیادہ رہی ہے! حال ہی میں ختم ہونے والی پولیو مہم کے حوالے سے ایک رپورٹ میں جو اعدادوشمار دیئے گئے اُن کے مطابق پشاور میں 20 ہزار 274 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے جن میں 7 ہزار 204 ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے والدین نے اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے روک دیا جبکہ مذکورہ رپورٹ میں پشاور کے 13ہزار 70 ایسے بچوں کا ذکر بھی کیا گیا جو انسداد پولیو مہم کے دوران اپنے گھروں پر موجود نہیں تھے اُور ایسے ’غائب‘ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی پشاور دیگر اضلاع کے مقابلے سرفہرست ہے! پولیو کے غیر ویکسین شدہ بچے یوں تو ہر ضلع میں موجود ہیں لیکن اِن کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق پشاور سے ہونا اِس لحاظ سے بھی تشویشناک ہے کہ ایک تو پولیو کا وائرس پھلتا رہتا ہے اُور دوسرا چونکہ دیگر اضلاع سے پشاور آمدورفت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اِس لئے پولیو وائرس کی پشاور آمد اُور یہاں سے دیگر اضلاع منتقلی کا عمل جاری ہے! 

پشاور کے وبائی امراض میں کورونا اُور پولیو کے بعد ’ڈینگی بخار‘ کا نمبر آتا ہے۔ اِس وبا نے بھی محکمہ¿ صحت کے صوبائی اُور ضلعی فیصلہ سازوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ضلع پشاور ’ڈینگی‘ کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے زیادہ متاثر ہے۔ سال 2017ءمیں ڈینگی وبا پھیلنے سے پشاور میں بیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے اُور اِن کے ’ڈینگی ٹیسٹ‘ مثبت آئے تھے جن میں سے کم از کم 70 افراد کی موت بھی ڈینگی ہی سے ہوئی تھی جبکہ رواں سال (دوہزار بائیس کے دوران) خیبرپختونخوا میں اگرچہ مچھروں سے پھیلنے والی کسی بھی بیماری سے اموات ریکارڈ نہیں ہوئی تاہم کل 1972کیسز میں سے پشاور کا حصہ 111 ہے جبکہ دیگر زیادہ متاثرہ اضلاع میں مردان (783)‘ (قبائلی ضلع) خیبر (420)‘ نوشہرہ (193) اُور ہری پور (182) شامل ہیں۔ وبائی امراض کا مقابلہ کرتے ہوئے پشاور میں فضائی آلودگی کی بلند (خطرناک) سطح پر بھی غور ہونا چاہئے جس کی وجہ سے مختلف وبائی امراض پیچیدہ شکل اختیار کرتی ہیں جبکہ گلے‘ سانس‘ آنکھوں اُور جلد (اسکن) کے امراض بھی پشاور میں دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ ہیں۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ ایک وقت پشاور پھولوں کا شہر کہلاتا تھا جو ’وبائی امراض کا مرکز‘ بن چکا ہے اُور یہ صورتحال جامع منصوبہ بندی اُور عملی اقدامات پر مبنی حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ شاعر پرویز شہریار نے ”بڑے شہر کا خواب“ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی تھی جس کا اقتباس ’پشاور کی موجودہ حالت ِزار‘ کا عکاس ہے۔

لمحہ لمحہ الجھتے رہے 

سچے جھوٹے سپنوں سے 

بڑے شہر کا خواب لئے

ہر پل نیا عذاب لئے

بھاگتے رہے تمام عمر 

پیش نظر سراب لئے

لا حاصلی کا خواب لئے 

گھوڑے کے آگے گھاس ہو جیسے 

ہر سانس نئی آس ہو جیسے 

جینے کی امنگ میں 

مرتے رہے‘ مرتے رہے!

.... 

Editorial Page = Daily Aaj Peshawar = September 06, 2022