Sunday, March 24, 2019

TRANSLATION "Pakistan Steel" by Dr. Farrukh Saleem

Pakistan Steel
پاکستان اسٹیل ملز
تاریخ: پاکستان اسٹیل ملز سال 2000ء سے لیکر 2007ء کے دوران ہر سال منافع دے رہی تھی۔ اِس تمام عرصے میں مجموعی منافع 20 ارب روپے تھا لیکن 2008ء سے 2013ء کے درمیانی عرصے میں پاکستان اسٹیل ملز کا خسارہ 100ارب روپے تک پہنچ گیا‘ یعنی دوہزارآٹھ سے دوہزارتیرہ کے درمیان ہر سال اِس اہم قومی ادارے نے قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچایا اُور اگر ہم مجموعی خسارے کی بات کریں تو اِس عرصے میں 138 ارب روپے نقصان ہوا تھا۔

سوال: پاکستان اسٹیل ملز کا مالی خسارہ اُور اِس کے ذمے واجب الادأ مالی ذمہ داریوں کی مالیت کتنی ہے؟
جواب: پاکستان اسٹیل ملز کل 476 ارب روپے کا مقروض ہے لیکن کسی بھی حکومت نے اِس مالی خسارے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات نہیں کروائیں۔ کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا اُور نہ ہی اِس سلسلے میں کسی کا احتساب ہوا۔ تصور کیجئے کہ 476 ارب روپے جیسا خطیر بوجھ اور اِس مالی بوجھ کو پر پاکستانی خاندان پر مساوی تقسیم کیا جائے تو یہ رقم 15 ہزار روپے فی خاندان بنے گی!

پاکستان اسٹیل ملز کے مالی نقصانات کے بارے میں ’سپرئم کورٹ (عدالت عظمیٰ)‘ کو آگاہ کیا گیا ہے اُور اِس سلسلے میں عدالت کو فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اسٹیل ملز کا ایک سال میں کاروباری خسارہ 4.68 ارب روپے۔ بدعنوانیوں کی وجہ سے ایک سال میں خسارہ 9.99 ارب روپے۔ بدانتظامیوں کی وجہ سے ایک سال میں ہونے والا خسارہ 11.84 ارب روپے اُوریوں سال2008-09ء کے دوران اِس کا کل خسارہ 26 ارب روپے تھا۔ 18 اگست 2009ء کے روز‘ اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ’پاکستان اسٹیل ملز‘ کے چیئرمین کو بدعنوانی کے الزامات پر اپنے عہدے سے الگ کیا لیکن خاص بات یہ ہے کہ اُن کے خلاف بدعنوانیوں کے جرم میں تحقیقات نہیں کی گئیں۔

خطرے کی گھنٹی: لائق توجہ امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے سات ماہ کے عرصے میں بھی ’پاکستان اسٹیل ملز‘ کے معاملات (خسارہ‘ بدعنوانی اُور بدانتظامی) کا سلسلہ جاری ہے اور تحریک انصاف حکومت (سات ماہ) کے دوران اِس ادارہ نے ہر دن 120 ملین (12 کروڑ روپے یومیہ) کے حساب سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے اور نقصان کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اگست 2018ء سے مارچ 2019ء تک پاکستان اسٹیل ملز نے 25 ارب روپے نقصان کیا۔

پہلی حقیقت: سال 2015ء میں ایک موقع پر ’پاکستان اسٹیل ملز‘ کو بند کر دیا گیا تھا۔ 
دوسری حقیقت: پاکستان ہر ماہ 40 کروڑ ڈالر مالیت کی اسٹیل درآمد کرتا ہے۔
تیسری حقیقت: پاکستان اسٹیل ملز سے پیداوار اُور منافع تو حاصل نہیں ہورہا لیکن اِس ادارے کے ملازمین کی ماہانہ تنخواہیں 380 ملین (38 کروڑ روپے) ہیں۔
موجودہ صورتحال: اکتوبر 2018ء میں وزارت صنعت و پیداوار نے اسٹیل ملز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے 45 روزہ حکمت عملی (پلان) کا اعلان کیا۔ یہ حکمت عملی وزیراعظم کے مشیر رزاق داؤد کی سوچ بچار کا نتیجہ تھی۔ 16 نومبر 2018ء کے روز وزیرخزانہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’’حکومت کا اسٹیل ملز اصلاحات کے حوالے سے بہت سا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔‘‘ مارچ 2019ء تک اسٹیل ملز بحالی سے متعلق حکومتی حکمت عملی کا اطلاق نہ ہوسکا اُور قابل ذکر ہے کہ اگست 2018ء سے مارچ 2019ء کے درمیانی عرصے میں پاکستان اسٹیل ملز نے مزید (اضافی) 25 ارب روپے کا خسارہ کیا۔

راقم کو ’اکنامک کورآرڈنیشن کونسل (اقتصادی رابطہ کونسل)‘ کے 7 اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ اجلاس اکتوبر 2018ء سے مارچ 2019ء کے درمیان منعقد ہوئے اور اِن میں پاکستان اسٹیل ملز کا معاملہ زیرغور آیا۔ مارچ 2019ء میں بھی اسٹیل ملز بحالی کی حکمت عملی نافذ نہیں ہو سکی اُور اِس ادارے نے مزید 25 ارب روپے کا خسارہ کیا ہے۔

رکاوٹیں کیا ہیں؟ مفادات کا تصادم پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق حکومتی اصلاحات کے نفاذ کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نجی شعبہ نہیں چاہتا کہ کسی بھی صورت پاکستان اسٹیل ملز اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔

چوتھی حقیقت: پاکستان میں اسٹیل کی صنعت کے لئے حکومتی قیمتیں کچھ اِس طرح مرتب کی گئی ہیں کہ پاکستان اسٹیل ملز کی عدم موجودگی میں نجی شعبہ ہر سال اربوں روپے کما رہا ہے۔

پہلی تجویز: سرکاری اداروں کو چلانے کے لئے ’’پبلک سیکٹر رولز 2013ء‘‘ پر عمل درآمد کیا جائے۔
دوسری تجویز: پیشہ ور اور تجربہ کار شخص کو پاکستان اسٹیل ملز کا سربراہ مقرر کیا جائے۔
تیسری تجویز: اسٹیل ملز کے مالی امور کی درستگی اور سخت گیر مالی نظم و ضبط لاگو کرنے کے لئے پیشہ ور‘ تجربہ کار اُور اچھی ساکھ رکھنے والا ’چیف فنانشیل آفسیر‘ (مالی امور کا منتظم) مقرر کیا جائے۔
چوتھی تجویز: پیشہ ور ڈائریکٹرز تعینات کئے جائیں۔
پانچویں تجویز: پیشہ ور جنرل منیجرز تعینات کئے جائیں۔
چھٹی تجویز: اسٹیل کی قیمتوں کا ازسرنو تعین کیا جائے اور پاکستان اسٹیل ملز کے لئے بھی کاروبار کے یکساں مواقع پیدا کئے جائیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں اسٹیل ملز کی بحالی کے لئے جو کامیابی کوششیں کی گئیں اُن کے لائحہ عمل اور نتائج مطالعے کے لئے موجود ہیں۔ اِن میں ڈاکٹر اکرم شیخ نے اسٹیل ملز کی افرادی قوت اور مالی امور کی درستگی کے لئے اقدامات کئے تھے۔ اِسی طرح لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) صبیح قمر الزمان نے اسٹیل ملز کی 95فیصد پیداواری صلاحیت بحال کر دی تھی۔

اسٹیل ملز کی بحالی سے حکومت کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ اگر حکومت اسٹیل ملز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتی ہے اُور اِس کی پیداوار شروع ہونے کے بعد اسٹیل کی قیمتوں کا ازسرنو تعین کرتی ہے تو اِس سے اضافی ٹیکسوں کی صورت اربوں روپے کا منافع حاصل ہوگا۔ دوسرا حکومت ملکی ضروریات پورا کرنے کے لئے جو 3 ارب ڈالر مالیت کی سالانہ اسٹیل درآمد کر رہی ہے اُس میں بھی بچت ہوگی۔ تیسرا یہ کہ حکومت نئے پاکستان میں 50لاکھ نئے گھر تعمیر کرنے کا وعدہ کئے بیٹھی ہے اور اگر اسٹیل کی ملکی پیداوار کا آغاز ہوتا ہے تو اِس سے حکومت کے لئے کم قیمت میں اپنے وعدوں کی تکمیل ممکن ہوگی۔ چوتھا فائدہ یہ ہے کہ کم قیمت اسٹیل سے ملک میں تعمیر ہونے والے پن بجلی کے منصوبوں کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی اُور پانچواں فائدہ قومی خزانے پر اسٹیل مل کا بوجھ کم ہونے کے ساتھ ملک کا اقتصادی تحفظ و مفاد یقینی اور مضبوط بنایا جا سکے گا۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, March 17, 2019

TRANSLATION: Is it working by Dr. Farrukh Saleem

 ? Is it working
طرزحکمرانی: خاطرخواہ نتائج؟

بیس اگست دوہزار اٹھارہ: سولہ رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا۔ اُس وقت (اگست دوہزاراٹھارہ) میں پاکستان کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 10 ارب ڈالر تھا۔ تب سے آج (مارچ دوہزار اُنیس) تک پاکستان 3ارب ڈالر ’سعودی عرب‘ اُور 2 ارب ڈالر ’متحدہ عرب امارات (یو اے اِی)‘ یعنی مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر قرض لے چکا ہے۔ اِس حساب سے پاکستان کے خزانے میں 15 ارب ڈالر ہونے چاہیءں لیکن صورتحال یہ ہے کہ 8 مارچ 2019ء کے روز‘ ملک کے مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8.1 ارب ڈالر ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان کی اقتصادی بہتری کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کے آنے کے وقت (اگست 2018ء) میں ملک کا گردشی قرض 1.1 کھرب روپے تھا۔ 17 ستمبر 2018ء کو حکومت نے بجلی کے پیداواری شعبے میں اصلاحات متعارف کروانے کا فیصلہ کیا‘ اُور اِس مقصد کے لئے ایک ’ٹاسک فورس (task-force)‘ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ 20 اکتوبر 2018ء کے روز وفاقی حکومت نے ’خصوصی معاون برائے شعبۂ توانائی‘ مقرر کیا۔ اِس کوشش کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ نہ صرف توانائی کے پیداواری شعبے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے بلکہ اِس کی کارکردگی بھی بہتر بنائی جا سکے‘ جس سے ملک کو گردشی قرضے جیسے مسئلے سے مستقل نجات دلائی جائے لیکن گردشی قرض بڑھتا چلا گیا۔ جنوری 2019ء میں گردشی قرض کا حجم 1.4کھرب روپے تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے 137دن کے اندر گردشی قرضے میں 260 ارب روپے اضافہ ہوا جبکہ چند برس قبل تک گردشی قرض میں ہر روز 1 ارب روپے اضافہ ہو رہا تھا۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان گردشی قرضے سے نمٹنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

سال 2000ء سے 2008ء کے درمیانی عرصے میں پاکستان اسٹیل ملز نے ’20 ارب روپے‘ منافع کمایا تھا۔ سال 2008ء اور 2013ء کے درمیان پاکستان اسٹیل ملز کا خسارہ 100 ارب روپے رہا یعنی اِس عرصے (سال 2013ء سے سال 2018ء) کے درمیان اسٹیل ملز نے 138 ارب روپے خسارہ کیا۔ فی الوقت (مارچ دوہزار اُنیس میں) ’پاکستان اسٹیل ملز‘ یومیہ 7 کروڑ (70ملین) روپے خسارہ کر رہی ہے اور یہ خسارہ کسی ایک دن نہیں ہوتا بلکہ سارا سال ہر دن سات کروڑ روپے کے حساب سے ہو رہا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان ’اسٹیل ملز‘ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور خسارے سے نکالنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

سال 2013ء میں پاکستان کے تمام سرکاری اداروں (پبلک سیکٹر انٹرپرائزیز) کا مجموعی خسارہ 495 ارب روپے تھا۔ سال 2018ء میں یہ خسارہ بڑھ کر 1100 ارب روپے ہو گیا۔ ’پندرہ نومبر دوہزار اٹھارہ‘ کے روز ’وفاقی کابینہ‘ کے ایک اجلاس میں ’سرمایہ پاکستان کمپنی‘ کے نام سے ایک حکومتی ادارہ قائم کیا گیا۔ اِس ادارے کی کارکردگی کیا رہی یہ جاننے کے لئے پندرہ نومبر سے آج تک ہوئے سرکاری اداروں کے خسارے پر نظر ڈالیں تو اِس میں ماضی کے مقابلے ’500 ارب روپے‘ کا اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان سرکاری اداروں کے خسارے کو کم کرنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جولائی سے جنوری 2018ء کے مالی سال کے دوران پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری (foreign investment) کا حجم 4.1 ارب ڈالر رہا جبکہ جولائی سے جنوری 2019ء (تحریک انصاف کے دور حکومت میں) 1 ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری پاکستان میں کی گئی! سیاسی رہنماؤں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور حکمران بننے کے بعد اُن کے رویئے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے لیکن اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے اور اعدادوشمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ حکومت پاکستان ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے لئے جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ اُس پر غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد نہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومتی کوششوں کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد نہیں ہو رہے!
کسی حکومت کی کارکردگی کا اصل احوال اِن دو امور سے چلتا ہے کہ اُس کے دور حکومت میں ملک کی مجموعی خام پیداوار میں کس قدر اضافہ ہوا‘ اُور اُس کے دور حکومت میں پاکستان کے ذمے واجب الادأ مالی ذمہ داریوں (قرضوں) کے حجم میں کس قدر کمی ہوئی۔ سال 2008ء‘ میں پاکستان کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت کے دوران اِس میں اضافہ کرتے ہوئے 16 کھرب روپے کر دیا گیا یعنی پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں ہر دن 5 ارب روپے قرض لیا۔ سال 2013ء میں پاکستان کے ذمے کل قرض 16کھرب روپے تھا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پانچ سالہ دور حکومت میں ہر دن 7.7 ارب روپے قرض لیا گیا جس سے مجموعی قومی قرض کا حجم 30 کھرب روپے تک جا پہنچا۔

خطرے کی گھنٹی: تحریک انصاف حکومت کے گزشتہ 7 ماہ کے دوران پاکستان کے ذمے غیرملکی قرضہ جات کے حجم ’’5.7 ارب ڈالر‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں پاکستان ماہانہ 814 ملین (81 کروڑ 40لاکھ) ڈالر کی شرح سے قرض لے رہا ہے جبکہ مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں ماہانہ ’556 ملین (55 کروڑ 60 لاکھ) ڈالر‘ قرض لیا جاتا رہا۔

جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان کے عوام نے ’تحریک انصاف‘ کو 5 سال حکومت کرنے کا اختیار (مینڈیٹ) دیا۔ کسی حکومت کی آئینی مدت 5 سال یعنی مجموعی طور پر 1825 دن بنتی ہے۔ اِس حساب سے موجودہ حکومت کے دور اقتدار کا آٹھواں حصہ مکمل ہو چکا ہے اُور اِس کے پاس کل آئینی مدت کے سات حصے باقی بچے ہیں لیکن مالی نظم و ضبط و اقتصادی بہتری کے لئے اب تک کئے گئے حکومتی اقدامات کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)