Sunday, June 30, 2019

Six questions by Dr. Farrukh Saleem

Six questions
چھ سوالات

پہلی حقیقت: مئی 2018ء میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے فی امریکی ڈالر کی قدر 115 روپے تھی۔ مئی 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی اُور یہ ’157 روپے (29 جون کے روز 163روپے)‘ تک جا پہنچا‘ جو روپے کی قدر میں ’35 فیصد‘ کمی ہے۔ 

دوسری حقیقت: مئی 2018ء پاکستانی برآمدات کا مجموعی حجم 2.139 ارب ڈالر تھا جو مئی2019ءمیں کم ہو کر 2.102 ارب ڈالر رہ گیا اُور یہ کمی 1.7فیصد بنتی ہے۔ جب ہم مئی (دوہزاراٹھارہ) سے مئی (دوہزاراُنیس) کا جائزہ لیتے ہیں تو پاکستانی روپے کی قدر میں 35فیصد اُور برآمدات میں 1.7فیصد کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ 

پہلا سوال: اگر ہم پاکستانی روپے کی قدر مزید کم کر کے اِسے 200 روپے فی ڈالر تک نیچے لے آئیں تو کیا اِس سے پاکستانی برآمدات میں اِضافہ ہوگا؟

تیسری حقیقت: جون 2018‘ کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ (KIBOR) 8.35 فیصد تھا‘ جو ایک سال کے دوران 13.60 رہا۔ 

چوتھی حقیقت: بجٹ 2018-19ءمیں قرضوں کی ادائیگی کے لئے 1.6 کھرب روپے مختص کئے گئے جو 2019-20ءکے بجٹ میں 2.9 کھرب جیسی بلند سطح تک جا پہنچے یعنی ملک کو ٹیکسوں سے وصول ہونے والی آمدنی کا قریب 50 فیصد قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گا۔

دوسرا سوال: کیا پاکستان کو اپنے سود کی شرح 20 فیصد تک بلند کر دینا چاہئے تاکہ جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے کر لے؟ 

تیسرا سوال: جب شرح سود بڑھتی ہے تو حکومت کو قرضوں کے لئے کتنے مالی وسائل مختص کرنا ہوتے ہیں؟ 

چوتھا سوال: اگر پاکستان میں شرح سود 20فیصد تک بڑھا دی گئی تو کیا ہماری صنعتیں فعال رہ پائیں گی؟

پانچویں حقیقت: پاکستان میں گذشتہ برس بجلی کی قیمت 11 سینٹ (cent) فی یونٹ تھی‘ جو خطے میں بجلی کی بلند ترین قیمت تھی۔ تب بھارت میں 9 سینٹ‘ چین میں 8.3 سینٹ‘ بنگلہ دیش میں 3.7 سینٹ اُور ویتنام میں 7سینٹ تھی۔ پانچواں سوال: پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنا اضافہ ہو تو یہ صنعتوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگی اُور وہ اپنی پیداوار کی قیمتوں کا عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر پائیں گی؟

پہلا واقعہ: 
موٹر گاڑیاں ٹھیک کرنے والے ایک مکینک (ہنرمند) نے مجھے بتایا کہ وہ پہلے معمول کے مطابق ہر روز پانچ سے سات گاڑیاں مرمت کرتا تھا۔ اب بمشکل دو گاڑیاں بھی تمام دن نہیں آتیں۔ مذکورہ مکینک کے پاس پانچ افراد ملازمت کرتے ہیں‘ جن میں سے تین کو اُس نے ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ اُس کی دکان سے متصل ایک اُور مکینک نے اپنی دکان ہی ختم کر دی کیونکہ وہ ماہانہ تنخواہیں اور دیگر اخراجات (مالی ذمہ داریاں) ادا نہیں کر پاتا تھا۔

دوسرا واقعہ: 
کاروباری سرگرمیاں اِس حد تک ماند پڑ گئی ہیں کہ لاہور کے بڑے شاپنگ مالز میں دکانداروں کی کثیر تعداد گزشتہ کئی ماہ سے کرایہ ادا نہیں کر پا رہی لیکن اِن شاپنگ مالز کے مالکان اپنی دکانیں خالی نہیں کروا رہے۔

تیسرا واقعہ: 
میرے ایک دور پار کے رشتہ دار جو گزشتہ 30 برس سے پائپ بنانے کی فیکٹری چلا رہے تھے اُنہوں نے 500 ملازمین کو فارغ کر کے فیکٹری بند کر دی کیونکہ اُنہیں ٹیکس کا محکمہ ایسا کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
اقتصادیات کے اصولوں میں شامل ہے کہ ٹیکس وہاں وصول ہونا چاہئے جہاں اقتصادی سرگرمی ہو۔ اگر کسی ملک میں اقتصادی سرگرمی ختم کر دی جائے تو وہاں ٹیکس وصولی بھی خودبخود کم ہوتی چلی جائے گی۔ کیا یہ اقتصادی واقعی اِس حد تک پیچیدہ ہے کہ اِسے سمجھا نہ جا سکے؟ 

حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹیکسوں کی بجائے اقتصادی ترقی اُور زیادہ سے زیادہ اقتصادی ترقی پر توجہ دے!

چھٹی حقیقت: پاکستان حکومت کے موجودہ اخراجات سال 2008ءمیں 1.5 کھرب روپے تھے جو 10 برس میں بڑھ کر قریب 7.2 کھرب روپے ہو گئے ہیں۔

چھٹا سوال: کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا ہے جہاں کے حکمرانوں کے اخراجات 10 برس میں 500فیصد بڑھے ہوں؟

سب سے بڑی حقیقت: 
تمام پاکستانی ٹیکس چور نہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت اپنی مالی حیثیت سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ یہ پاکستانی ہی ہیں جو ہر سال قومی خزانہ بھرتے ہیں اور یہ پاکستانی رہنما ہی ہیں جو ہر سال قومی خزانہ خالی کرتے ہیں! پاکستان میں طرزحکمرانی کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دے رہے بلکہ حکومت کے ضرورت سے زیادہ اخراجات ہیں! حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرکے اقتصادی سرگرمیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ اقتصادی ترقی کا ہدف‘ ٹیکس اُور مزید ٹیکس لاگو کرنے سے کبھی بھی اُور کسی بھی صورت حاصل نہیں ہو گا!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Monday, June 17, 2019

June-2019: Time to speak & stand up for Peshawar!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پراسرار خاموشی!؟

’ماضی‘ اُور ’یاد ماضی‘ کو عذاب نہ سمجھنے والے اگر ’اپنے آباواجداد کی نشانیوں‘ باقی ماندہ فن تعمیر کے
 نمونوں اُور اقدار و روایات‘ کے اَمین بن کر ”زندہ“ رہنا چاہتے ہیں تو اِس میں حرج ہی کیا ہے؟ ماضی کو ’حال اُور مستقبل‘ سے جوڑ کر بہتری اُور سب سے بڑھ کر اپنی شناخت کا تحفظ چاہنے والے کسی بھی طرح سطحی فکروعمل کے مالک نہیں اُور نہ ہی اِن کی ”بے لوث جدوجہد“ کو معمولی سمجھنا چاہئے۔ کسی معاشرے میں ایسے ’بیدار‘ افراد کی تعداد ہمیشہ کم ہی ہوتی ہے‘ جو شعوری طور پر دوسروں کی رہنمائی کرنے میں عقل و منطق پر مبنی مثبت سوچ کے موتی (خیرات) بانٹ رہے ہوتے ہیں۔

پشاور کو محبوب بنائے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے دردمندوں پر مشتمل ”ہیریٹیج ڈیفنس کونسل“ نامی غیرسرکاری تنظیم (Pressure Group) کسی نعمت سے کم نہیں لیکن افسوس کہ عوام کے منتخب اراکین اسمبلی‘ بلدیاتی نمائندے اُور سرکاری اہلکار خاطرخواہ تعاون نہیں کر رہے‘ جس کی ایک مثال مذکورہ کونسل کی جانب سے ضلعی حکومت (سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ) کو لکھے گئے 2 خطوط ہیں‘ جنہیں ارسال کئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن (حسب توقع) ’اسسٹنٹ ڈائریکٹر پراپرٹی‘ اُور ’ڈسٹرکٹ ناظم‘ کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پہلا خط ’چودہ مئی‘ اُور دوسرا خط ’پندرہ مئی‘ کو بذریعہ ’پوسٹ آفس‘ رجسٹرڈ میل ارسال کیا گیا‘ جن کی رسیدیں (اَسناد) بھی موجود ہیں۔ اِن خطوط کو ’بائی پوسٹ‘ اِرسال کرنے کے بعد ’ہیٹریج ڈیفنس کونسل‘ کے عہدیدار فرداً فرداً سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے متعلقہ دفاتر سے کئی مرتبہ بہ نفس نفیس رجوع بھی کر چکے ہیں لیکن ہر طرف ’ہو کا عالم‘ اُور ’پراسرار خاموشی‘ چھائی ہوئی ہے‘ جس سے اگر یہ مطلب اَخذ کیا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ .... ”پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑے اثاثوں کی خرید و فروخت‘ اُنہیں نقصان پہنچانے اُور تجاوزات کی صورت پشاور کے وسائل سے ذاتی استفادہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی سیاسی و غیر سیاسی‘ منتخب و غیرمنتخب فیصلہ سازوں پر مشتمل ایک طبقہ کر رہا ہے!“ یہی سبب ہے کہ ’پشاور کا درد‘ اگر آج ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہا اُور پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑے ’اثاثوں کی حفاظت‘ اَخباری بیانات میں اِظہار تشویش و پریشانی سے زیادہ نہیں ملتی‘ تو یہ طرزعمل بہرحال تبدیل (پشاور کے حق میں اصلاح) ہونا چاہئے!

”پشاور ہیریٹیج ڈیفنس کونسل“ بنام ’اَسسٹنٹ ڈائریکٹر (پراپرٹی) سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو لکھے گئے خط بعنوان ”2000ءسے 2019ءتک فصیل شہر کے بارے میں معلومات زیردفعہ 3 معلومات تک رسائی“ میں ”9 سوالات“ پوچھے گئے۔ اِن سوالات میں 1: مذکورہ عرصے میں (پشاور کی) فصیل شہر کو کتنی مرتبہ مسمار کیا گیا؟ 2: سٹی ڈسٹرکٹ حکومت نے اِس قانون شکنی کے مرتکب ملزمان کے خلاف کتنی مرتبہ قانونی کاروائی کی گئی؟ 3: کتنے مقدمات قائم ہوئے‘ عدالتی کاروائیاں ہوئیں؟ 4: فصیل شہر کو کلی یا جزوی طور پر نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ ’ضلعی حکومت‘ نے کیا معاملہ کیا اُور کتنے مقدمات دائر کرنے کے بعد ختم کئے گئے؟ 5: مذکورہ اُنیس برسوں میں فصیل شہر کو نقصان پہنچانے والے کتنے ملزموں کو سزائیں ہوئیں؟ 6: کتنے مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں؟ 7: صوبائی حکومت اُور ضلعی حکومت ’فصیل شہر‘ و دیگر تاریخی مقامات کی حفاظت کے لئے سالانہ کتنے مالی وسائل (گرانٹ) مختص کرتی ہے۔ 8: خیبرپختونخوا کے آثار قدیمہ سے متعلق قانون (Antiquities Act 2016) کے تحت ’سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ‘ کی ذمہ داریاں (فرائض) کیا ہیں اُور 9: مذکورہ عرصے (سال دوہزار سے دوہزار اُنیس تک) فصیل شہر کا نشان مٹا کر کتنی کمرشل جائیدادیں بنائی گئیں اُور اِس رجحان کے خلاف ’ضلعی حکومت‘ نے کیا اقدامات کئے؟ اصولی طور پر ایسا ہی ایک مکتوب خیبرپختونخوا کے ’محکمہ ¿ آثار قدیمہ‘ کے سربراہ بالخصوص پشاور شہر سے متعلق آثار قدیمہ کے نگران کو بھی ارسال کیا جانا چاہئے تھا‘ جنہیں عوام کے ٹیکسوں سے عہدے (اختیارات)‘ تنخواہیں اُور مراعات اِسی لئے باقاعدگی سے دی جاتی ہیں تاکہ وہ ’قانون شکنوں کے نہیں‘ بلکہ عوامی (پشاور کے) مفادات کا تحفظ کریں!

دوسرا خط ”پشاور ہیریٹیج ڈیفنس کونسل“ بنام ضلع ناظم (پشاور) بعنوان ”تصدیق شدہ جملہ دستاویزات برائے منظوری تعمیراتی نقشہ جات مسماة نسیم آفتاب زوجہ نور حضرت“ سولہ مئی (دوہزار اُنیس) کو ’پوسٹ آفس‘ کی ’رجسٹرڈ میل‘ ہی کے ذریعے ارسال کیا گیا لیکن ضلع پشاور کے ناظم یا اُن کے دفتر سے اِس کا تحریری یا زبانی کلامی جواب بھی تاحال موصول نہیں ہوا۔ درخواست گزار تنظیم کی جانب سے مدعا نہایت ہی سادہ ہے کہ ”(گذشتہ چند ہفتوں کے دوران) بیرون کوہاٹی گیٹ‘ کے مقام پر ’فصیل شہر‘ کے جس ٹکڑے کو منہدم (شکار) کیا گیا اُس سے ملحقہ تعمیراتی کام کا نقشہ ’ضلعی حکومت‘ کی منظوری سے جاری ہوا۔ مذکورہ قطعہ ¿ اراضی (پلاٹ) ’مسماة نسیم آفتاب زوجہ نور حضرت سکنہ چرچ روڈ پشاور‘ کی ذاتی ملکیت ہے‘ جس کی جملہ دستاویزات اُور نقشے کی تصدیق شدہ نقول (کاپیاں) (ہیریٹیج کونسل کو) فراہم کی جائیں تاکہ فصیل شہر کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں تیزی لائی جا سکے“۔

مقصد و ہدف (مطلوب) یہاں بھی نہایت ہی واضح ہے کہ اگر پشاور کے آثار قدیمہ کی اہمیت خاطر میں نہ لانے والے (بے قدرے) قانون شکنوں کو نشان عبرت نہ بنایا گیا تو آثار قدیمہ سے جڑی نشانیاں ایک ایک کر کے (ہماری دیکھتے ہی دیکھتے) ختم ہوتی چلی جائیں گی اُور پھر پچھتائے کیا ہوگا‘ جبکہ چڑیاں کھیت چگ گئی ہوں گی! یہاں بھی ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ اِسی قسم کی خط و کتابت کے ذریعے خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کو جگایا (جھنجھوڑا) جائے اُور کیا مضائقہ ہے کہ اگر پشاور سے منتخب ہونے والے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں‘ ضلعی حکومت اُور سینیٹرز سمیت بالخصوص حزب اختلاف کے اراکین کو بھی اِس جانب متوجہ کیا جائے۔ اگر مالی وسائل دستیاب ہوں تو ”پشاور ہیریٹیج ڈیفنس کونسل“ کے پلیٹ فارم سے ”تحفظ پشاور کانفرنس“ کے لئے ’کل جماعتی نشست (بیٹھک)‘ طلب کرنے سے بھی ’پشاور شناسی اُور یہاں کے آثار‘ حقوق و اثاثوں‘ سے جڑے پیچیدہ مسائل‘ بشمول متعلقہ حکومتی اِداروں کی کارکردگی اُور حسب شان و ضرورت اِقدامات کو زیادہ بڑے پیمانے پر اُجاگر کیا جا سکتا ہے۔
...