ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تذبذب: اعتراف حقیقت
تذبذب: اعتراف حقیقت
شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ کے 29 دیہات سے نقل مکانی
کرنے والوں کی واپسی کا عمل رواں ماہ کے آخر تک مکمل کرنے کے لئے ’فاٹا
ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ کا اعلان تو کرچکے ہیں لیکن حکام ماضی کی طرح
اعلان کردہ تاریخوں پر عمل درآمد کے بارے میں زیادہ پراُمید دکھائی نہیں دے
رہے۔ مسئلہ مالی وسائل اور تکنیکی امداد کا ہے‘ جس کا وعدہ ’اقوام متحدہ‘
نے کر رکھا ہے لیکن چونکہ مذکورہ قبائلی علاقے ’نوگو ایریاز‘ ہیں کہ جہاں
اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو جانے سے منع کیا جاتا ہے اِس لئے وفاق و
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تمام تر کوششیں اور خواہشات معنی نہیں
رکھتیں اور سب کی نظریں امریکہ کے شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر
پر لگی ہوئی ہیں جہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی سے متعلق فیصلہ
ہونا ہے اگرچہ حکومت منظوری دے چکی ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کو واپس
بھیجنے کے عمل کا آغاز کیا جائے اور اس سلسلے میں 31 مارچ کی تاریخ کو حتمی
بھی قرار دے دیا گیا ہے اور واپسی کے اِس پہلے مرحلے میں بارہ سے تیرہ
ہزار رجسٹرڈ خاندانوں کو واپس بھیجا جائے گا‘ لیکن اُن نقل مکانی کرنے
والوں کا کیا ہوگا‘ جنہوں نے خود کو رجسٹرڈ کرانے کو ضروری نہیں سمجھا؟
حکام کے مطابق اکاخیل اور باڑہ سے نقل مکانی کرنے والے وہ خاندان جو کہ
جلوزئی کیمپ میں مقیم ہیں اُنہیں رضاکارانہ واپسی کے لئے ایک فارم دیا جائے
گا‘ جبکہ وہ خاندان جو کیمپ میں مقیم نہیں وہ میلوارٹ قلعہ سے یہ فارم
حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں 10سے 15 مارچ کے دوران رنگ روڈ پشاور پر
لگنے والے کیمپ سے وہ سبھی خاندان واپسی کے عمل کے لئے مالی امداد حاصل
کرسکیں گے‘ جو متعین خیمہ بستیوں میں مقیم نہیں۔ حکمت عملی کے تحت ’فاٹا
ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ کی جانب سے ہر خاندان کو 10 ہزار روپے بذریعہ
موبائل فون کنکشن اور 25 ہزار روپے بذریعہ بینک اکاونٹ ’اے ٹی ایم کارڈ‘
دیئے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف (UNICEF) کی جانب سے نقل
مکانی کرنے والے ہر خاندان کو برتن و صفائی برقرار رکھنے کے لئے ضروری
سازوسامان (Hygiene kit) فراہم جبکہ ’ورلڈ فوڈ پروگرام‘ کی جانب سے فی
خاندان کی ضروریات کے تناسب سے چھ ماہ کے لئے غذائی اجناس مفت دی جائیں گی۔
فیصلہ سازوں کی باہمی مشاورت میں قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی ہی زیرغور نہیں رہی بلکہ وہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تین مراحل میں تقسیم کرکے 2 سے 5 برس (مدت) کا تعین کرچکے ہیں۔ اِس سلسلے میں سب سے زیادہ لائق توجہ وہ اعدادوشمار ہیں جو قبائلی علاقوں میں ہوئی تباہی و بربادی سے متعلق ہیں۔ سات قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کے لئے مجموعی طور پر 44.03 ملین (چار کروڑ چالیس لاکھ) ڈالر سے زیادہ مالی وسائل درکار ہیں جبکہ 320 ملین (3 کروڑ 20 لاکھ) ڈالر اضافی بھی چاہئے ہوں گے۔ فوجی آپریشن کے ذریعے قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندوں کے مراکز تو ختم کردیئے گئے ہیں لیکن اگر اِن قبائلی علاقوں کی حیثیت بندوبستی علاقوں کی طرح بحال نہیں کی جاتی‘ تو اندیشہ ہے کہ نہ تو طاقت کا استعمال اور نہ ہی تعمیر و ترقی پر خطیر رقم خرچ کرنے سے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد خیمہ بستیوں (کیمپوں) سے باہر آباد ہے‘ جس کی وجہ سے اُن کی واپسی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اِس سلسلے میں سب سے تشویشناک رجحان یہ ہے کہ خیبرایجنسی سے ’پشاور‘ نقل مکانی کرنے والے خیمہ بستیوں سے باہر آباد ہیں اور اب واپس جانا نہیں چاہتے۔ حکام کے بقول ۔۔۔’’ایسے قبائلی خاندانوں کو واپس بھیجنا چیلنج سے کم نہیں کیونکہ حکومت زبردستی نہیں کرسکتی اور چونکہ خیبرایجنسی کی نسبت پشاور زیادہ محفوظ اور روزگار و کاروبار جیسی سہولیات رکھتا ہے‘ اِس لئے سیکورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر جو کوئی پشاور میں مستقل رہائش اختیار رکھنا چاہے‘ اُس سے زبردستی نہیں کی جاسکتی!‘‘
مسئلہ پشاور اور یہاں کے وسائل پر آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا ہے۔ میونسپل حکام پشاور کی 92 یونین کونسلوں کی مقامی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ جبکہ نقل مکانی کرنے والوں اور افغان مہاجرین کے بشمول 80 لاکھ بیان کرتے ہوئے درخواست گزار ہیں کہ پشاور کے لئے وفاقی و صوبائی حکومت خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کرے‘ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں رہی۔ آبادی کے یہ اندازے ’مردم شماری‘ کے متقاضی ہیں کیونکہ جب تک پشاور کی اصل آبادی کا تعین ہی نہیں کر لیا جاتا‘ کسی بھی نوعیت کی ترقیاتی عملی کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اِس سلسلے میں جب صوبائی وزیربلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کئی ایک خوشخبریاں سنائیں کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں پشاور کی ترقی کے لئے 31 فیصد مالی وسائل مختص کئے گئے ہیں اور 29 روپے مرحلہ وار ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ وزیربلدیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’پشاور کا اصل چہرہ ختم ہو چکا ہے اور یہاں 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم ہیں۔ پشاور کو باغات کا شہر بنانے کے لئے 13 باغات کو بحال کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ‘‘
ارباب اختیار کے پاس ’اعتراف حقیقت‘ میں الفاظ کی کمی نہیں لیکن ’اعتراف جرم‘ کرنے والا کوئی نہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کے مستقل ٹھکانوں‘ افغان مہاجرین کے مستقل قیام اور پشاور کا عالمی برادری پر قرض بیان تو کیا جاتا ہے لیکن اِن مسائل کو صوبائی و وفاقی فیصلہ سازوں میں کچھ اِس طرح تقسیم کر دیاگیا ہے کہ سب کے سب بری الذمہ ہیں۔ عنایت اللہ خان نے یہ بھی بات زور دے کر کہی ہے کہ ’’پشاور کے وسائل پر بوجھ اور یہاں کی معیشت و اقتصادیات کو متاثر کرنے والے محرکات کا تعلق ماضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہے‘ تاہم صورتحال میں بہتری راتوں رات ممکن نہیں!‘‘ قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے مختص وسائل کی لوٹ مار کرنے والے اپنی جگہ مطمئن و مسرور لیکن ’’سارے کا سارا بوجھ‘‘ پشاور پر آ گرا ہے‘ اُور مستقبل قریب میں اِس بار کو بانٹنے یا کم کرنے کی ذیل میں پیشرفت کے بارے بہت کچھ سوچا تو جا سکتا ہے لیکن اِس کی کامیابی کے امکانات (اشارے) دکھائی نہیں دے رہے!
فیصلہ سازوں کی باہمی مشاورت میں قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی ہی زیرغور نہیں رہی بلکہ وہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تین مراحل میں تقسیم کرکے 2 سے 5 برس (مدت) کا تعین کرچکے ہیں۔ اِس سلسلے میں سب سے زیادہ لائق توجہ وہ اعدادوشمار ہیں جو قبائلی علاقوں میں ہوئی تباہی و بربادی سے متعلق ہیں۔ سات قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کے لئے مجموعی طور پر 44.03 ملین (چار کروڑ چالیس لاکھ) ڈالر سے زیادہ مالی وسائل درکار ہیں جبکہ 320 ملین (3 کروڑ 20 لاکھ) ڈالر اضافی بھی چاہئے ہوں گے۔ فوجی آپریشن کے ذریعے قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندوں کے مراکز تو ختم کردیئے گئے ہیں لیکن اگر اِن قبائلی علاقوں کی حیثیت بندوبستی علاقوں کی طرح بحال نہیں کی جاتی‘ تو اندیشہ ہے کہ نہ تو طاقت کا استعمال اور نہ ہی تعمیر و ترقی پر خطیر رقم خرچ کرنے سے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد خیمہ بستیوں (کیمپوں) سے باہر آباد ہے‘ جس کی وجہ سے اُن کی واپسی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اِس سلسلے میں سب سے تشویشناک رجحان یہ ہے کہ خیبرایجنسی سے ’پشاور‘ نقل مکانی کرنے والے خیمہ بستیوں سے باہر آباد ہیں اور اب واپس جانا نہیں چاہتے۔ حکام کے بقول ۔۔۔’’ایسے قبائلی خاندانوں کو واپس بھیجنا چیلنج سے کم نہیں کیونکہ حکومت زبردستی نہیں کرسکتی اور چونکہ خیبرایجنسی کی نسبت پشاور زیادہ محفوظ اور روزگار و کاروبار جیسی سہولیات رکھتا ہے‘ اِس لئے سیکورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر جو کوئی پشاور میں مستقل رہائش اختیار رکھنا چاہے‘ اُس سے زبردستی نہیں کی جاسکتی!‘‘
مسئلہ پشاور اور یہاں کے وسائل پر آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا ہے۔ میونسپل حکام پشاور کی 92 یونین کونسلوں کی مقامی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ جبکہ نقل مکانی کرنے والوں اور افغان مہاجرین کے بشمول 80 لاکھ بیان کرتے ہوئے درخواست گزار ہیں کہ پشاور کے لئے وفاقی و صوبائی حکومت خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کرے‘ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں رہی۔ آبادی کے یہ اندازے ’مردم شماری‘ کے متقاضی ہیں کیونکہ جب تک پشاور کی اصل آبادی کا تعین ہی نہیں کر لیا جاتا‘ کسی بھی نوعیت کی ترقیاتی عملی کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ اِس سلسلے میں جب صوبائی وزیربلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کئی ایک خوشخبریاں سنائیں کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں پشاور کی ترقی کے لئے 31 فیصد مالی وسائل مختص کئے گئے ہیں اور 29 روپے مرحلہ وار ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ وزیربلدیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’پشاور کا اصل چہرہ ختم ہو چکا ہے اور یہاں 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم ہیں۔ پشاور کو باغات کا شہر بنانے کے لئے 13 باغات کو بحال کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ‘‘
ارباب اختیار کے پاس ’اعتراف حقیقت‘ میں الفاظ کی کمی نہیں لیکن ’اعتراف جرم‘ کرنے والا کوئی نہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کے مستقل ٹھکانوں‘ افغان مہاجرین کے مستقل قیام اور پشاور کا عالمی برادری پر قرض بیان تو کیا جاتا ہے لیکن اِن مسائل کو صوبائی و وفاقی فیصلہ سازوں میں کچھ اِس طرح تقسیم کر دیاگیا ہے کہ سب کے سب بری الذمہ ہیں۔ عنایت اللہ خان نے یہ بھی بات زور دے کر کہی ہے کہ ’’پشاور کے وسائل پر بوجھ اور یہاں کی معیشت و اقتصادیات کو متاثر کرنے والے محرکات کا تعلق ماضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہے‘ تاہم صورتحال میں بہتری راتوں رات ممکن نہیں!‘‘ قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے مختص وسائل کی لوٹ مار کرنے والے اپنی جگہ مطمئن و مسرور لیکن ’’سارے کا سارا بوجھ‘‘ پشاور پر آ گرا ہے‘ اُور مستقبل قریب میں اِس بار کو بانٹنے یا کم کرنے کی ذیل میں پیشرفت کے بارے بہت کچھ سوچا تو جا سکتا ہے لیکن اِس کی کامیابی کے امکانات (اشارے) دکھائی نہیں دے رہے!
![]() |
| IDPs return and issues related to grant |

No comments:
Post a Comment