ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تحفظ ماحول: آخری کوشش
تحفظ ماحول: آخری کوشش
’ایبٹ آباد‘ کو اپنوں کی حرص نے پرفضا مقام سے ایک ایسے شہر میں تبدیل کرکے
رکھ دیا ہے جہاں خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں کے مقابلے انسانوں کی بجائے
’درختوں‘ کو زیادہ سنگین خطرات لاحق ہیں اور یہ بات جب ’پشاور ہائی کورٹ‘
کے گوش گزار کی گئی تو عدالت نے ’انوئرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی خیبرپختونخوا‘
کے ڈائریکٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ ایبٹ آباد کا دورہ کر کے وہاں دو
ایسی کثیرالمنزلہ تعمیرات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں جن کے بارے
میں ماحول دوست‘ محمود احمد اسلم نے مقدمہ درج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا
ہے کہ ’’ایبٹ آباد میں ضلعی پولیس کے سربراہ کے دفاتر کے سامنے ایک سے
زیادہ ایسی تعمیرات ہو رہی ہیں‘ جن سے ماحول کو شدید نوعیت کے خطرات لاحق
ہیں اور مذکورہ تعمیرات کے لئے درجنوں درخت بھی کاٹے گئے ہیں۔‘‘ ایبٹ آباد
کے ماحولیاتی تنوع کے لئے خطرات کی کمی نہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ایسی مثال
موجود ہے‘ جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہوگا کیونکہ درختوں کی کٹائی
اور محفوظ قرار دیئے گئے علاقوں میں تعمیرات کرنے والے عام لوگ نہیں بلکہ
وہ خواص ہیں‘ جو قوانین اور قواعد بناتے ہیں۔ جنہیں ضوابط کا اطلاق کرنا
ہوتا ہے۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ ایبٹ آباد میں اگر کوئی عام آدمی اپنے گھر
کی چار دیواری کے اندر شاخ تراشی بھی کرے تو مختلف محکموں کے لوگ دستک دینے
پہنچ جاتے ہیں لیکن بھرے بازار اور لب سڑک کثیرالمنزلہ تعمیرات کے خلاف
اگر کوئی آواز اُٹھی ہے تو وہ ایک دردمند شخص کی ہے جو حال ہی میں بیرون
ملک سے واپس آیا ہے اور دیارِ غیر میں رہنے کی وجہ سے وہ نہ صرف سراپا
’ماحول دوست‘ بن چکا ہے بلکہ اُسے درختوں کی اہمیت و قدر کا بھی بخوبی
احساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھوک ہڑتال سے لیکر احتجاجی مظاہروں تک وہ اپنا
ہر جمہوری حق استعمال کرنے کے بعد جب درخت اور ماحول بچانے میں کامیاب نہ
ہوسکا تو بجائے ہار ماننے اُس نے ’پشاور ہائی کورٹ‘ میں فریاد دائر کر دی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے ایبٹ آباد کے رہائشی کے مؤقف کے بارے میں تحقیقات کرنے کے لئے خیبرپختونخوا میں تحفظ ماحولیات کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو حکم دیا ہے حالانکہ درخواست گزار نے درجنوں تصاویر اور ویڈیوز پر مبنی کئی ایسے ثبوت پیش کئے ہیں جو تکنیکی اعتبار سے اِس قدر مستند اور منطقی طریقے سے ترتیب دیئے گئے ہیں کہ شک و شبے کی گنجائش ہی نہیں رہتی لیکن چونکہ قانون کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں‘ جنہیں پورا کرنے کے لئے تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل صاحب کو زحمت دی گئی ہے۔ ضرورت تو اِس امر کی تھی کہ عدالت مذکورہ اعلیٰ سرکاری اہلکار کو بلا کر پوچھتی کہ وہ کس بات کی تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ اُن کے محکمے کو جملہ وسائل بشمول افرادی قوت بھی فراہم کی گئی ہے! ایبٹ آباد میں چوری چھپے درختوں کی کٹائی یوں تو سارا سال ہی جاری رہتی لیکن جس دھرلے سے نہ صرف درجنوں قیمتی درخت کاٹ ڈالے گئے بلکہ ایک برساتی نالے کا کچھ حصہ بھی قبضہ کر لیا گیا‘ وہ الگ نوعیت کے جرائم ہیں اور محکمانہ اختیارات و سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرنے کی بدترین مثالیں بھی ہیں۔
تصور کیجئے کہ ایبٹ آباد کا ایک رہائشی اپنے مالی وسائل خرچ کرکے جب مقامی عدالت سے رجوع کرتا ہے تو اُس کی درخواست کو غیرمتعلقہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ متعلقہ محکمے یعنی تحفظ ماحول کی عدالت کے سامنے جاتا ہے تو بھی اُس کے جوش و جذبے کی قدر اور نہ ہی حقائق کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ 12 دسمبر 2014ء کو ’انوئرمینٹل ٹریبونل‘ کے سامنے پیش ہونے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوتا تو وہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ جانے کا فیصلہ کرتا ہے اور ایبٹ آباد کے ماحول کے تحفظ کا تن تنہا بیڑا اُٹھانے والا یہ محمود احمد اسلم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ مضبوط اعصاب کے ساتھ کبھی بھی پشاور کا رخ نہ کرتا بلکہ تھک ہار کر بیٹھ جاتا!
لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے اراکین صوبائی اسمبلی اور رکن قومی اسمبلی جن کا تعلق انصاف پسند صوبائی حکمراں جماعت سے ہے‘ محمود احمد اسلم کی طرح ’ماحول دوست ترجیحات‘ نہیں رکھتے حالانکہ بنیادی طور پر یہ ذمہ داری اِنہی منتخب نمائندوں کی بنتی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح اِس مرتبہ بھی یہ روایت دہرائی جارہی ہے کہ ’عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے بعد ’جنبے (ذات پات اور لسانی بنیادوں پر گروہی اتحاد)‘ کے مفادات کا زیادہ خیال رکھا جا رہا ہے‘ اور یہی چلن ’ایبٹ آباد‘ سمیت ہزارہ ڈویژن کی سیاست میں کلیدی و فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ افسوس کہ ماضی کی طرح موجودہ منتخب نمائندوں کے آس پاس بھی ’گلو بٹ‘ قسم کے کردار منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں‘ جو سروں پر ٹیڑھی ٹوپیاں‘ اچک اچک کر چلنے کے انداز‘ بات بات پر طنزیہ فقرے اُچھالنے‘ جنرل سٹور چلانے جیسی مہارت کا سیاسی استعمال‘ شکار جیسے شاہانہ اطوار‘ مفت کی گاڑی‘ ایندھن اور مسئلہ کشمیر کی طرح تنازعات کو ہوا دے کر اپنے وجود کو ناگزیر بنائے رکھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ بجلی کے کھمبے‘ ٹرانسفارمر‘ نوکری‘ سفارش‘ پولیس و ضلعی انتظامیہ پر دباؤ‘ گلی‘ نالی یا سڑک کی تعمیر تک ہر ترقیاتی حکمت عملی اِنہی ’دانشوروں‘ کے مشوروں سے مرتب ہوتی ہے اور چاہے اِن کے پولنگ اسٹیشن سے منتخب نمائندے کو شکست ہی ہوئی ہو‘ لیکن بناء ضرورت ترقیاتی حکمت عملی پر یہی مخلوق بلاشرکت غیرے اپنا حق سمجھتی ہے! جسے ہم نوالہ و ہم پیالہ‘ عناصر کی بدعنوانیاں دکھائی نہیں دیتیں۔
ایبٹ آباد کا ماحولیاتی تنوع اور توازن میں بگاڑ کے رجحان کو اگر اِس مرحلے پر نہ روکا گیا تو بعدازاں درختوں کی کٹائی کے رجحان و جواز کو روکا نہیں جاسکے گا۔ ایک ارب درخت لگانے جیسی بے مثال شجرکاری مہم کا آغاز کرنے والے عمران خان کو اپنی ہی جماعت کی ناک تلے ہونے والی بے قاعدگیوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے یقیناًتحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت ہے‘ جو اقرباء پروری‘ تعصب کی سیاست اور سیاسی و انتظامی اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے میں مصلحتوں سے کام نہیں لیتی۔ ماحول اُور ماحولیاتی تنوع کے تحفظ کی ضرورت اور اِس کی اہمیت سے ہر خاص و عام کو آگاہ کرنے والے محمود احمد اسلم کا ۔۔۔ایبٹ آباد سے پشاور تک کا سفر ۔۔۔اِس بات کی دلیل بھی ہے کہ صحرا میں آذان دینے والے آج بھی موجود ہیں اور یہ وہی کردار ہے جو سرسبز و شاداب ایبٹ آباد کو صحرا بنتے نہیں دیکھنا چاہتا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے ایبٹ آباد کے رہائشی کے مؤقف کے بارے میں تحقیقات کرنے کے لئے خیبرپختونخوا میں تحفظ ماحولیات کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو حکم دیا ہے حالانکہ درخواست گزار نے درجنوں تصاویر اور ویڈیوز پر مبنی کئی ایسے ثبوت پیش کئے ہیں جو تکنیکی اعتبار سے اِس قدر مستند اور منطقی طریقے سے ترتیب دیئے گئے ہیں کہ شک و شبے کی گنجائش ہی نہیں رہتی لیکن چونکہ قانون کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں‘ جنہیں پورا کرنے کے لئے تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل صاحب کو زحمت دی گئی ہے۔ ضرورت تو اِس امر کی تھی کہ عدالت مذکورہ اعلیٰ سرکاری اہلکار کو بلا کر پوچھتی کہ وہ کس بات کی تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ اُن کے محکمے کو جملہ وسائل بشمول افرادی قوت بھی فراہم کی گئی ہے! ایبٹ آباد میں چوری چھپے درختوں کی کٹائی یوں تو سارا سال ہی جاری رہتی لیکن جس دھرلے سے نہ صرف درجنوں قیمتی درخت کاٹ ڈالے گئے بلکہ ایک برساتی نالے کا کچھ حصہ بھی قبضہ کر لیا گیا‘ وہ الگ نوعیت کے جرائم ہیں اور محکمانہ اختیارات و سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرنے کی بدترین مثالیں بھی ہیں۔
تصور کیجئے کہ ایبٹ آباد کا ایک رہائشی اپنے مالی وسائل خرچ کرکے جب مقامی عدالت سے رجوع کرتا ہے تو اُس کی درخواست کو غیرمتعلقہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ متعلقہ محکمے یعنی تحفظ ماحول کی عدالت کے سامنے جاتا ہے تو بھی اُس کے جوش و جذبے کی قدر اور نہ ہی حقائق کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ 12 دسمبر 2014ء کو ’انوئرمینٹل ٹریبونل‘ کے سامنے پیش ہونے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوتا تو وہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ جانے کا فیصلہ کرتا ہے اور ایبٹ آباد کے ماحول کے تحفظ کا تن تنہا بیڑا اُٹھانے والا یہ محمود احمد اسلم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ مضبوط اعصاب کے ساتھ کبھی بھی پشاور کا رخ نہ کرتا بلکہ تھک ہار کر بیٹھ جاتا!
لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے اراکین صوبائی اسمبلی اور رکن قومی اسمبلی جن کا تعلق انصاف پسند صوبائی حکمراں جماعت سے ہے‘ محمود احمد اسلم کی طرح ’ماحول دوست ترجیحات‘ نہیں رکھتے حالانکہ بنیادی طور پر یہ ذمہ داری اِنہی منتخب نمائندوں کی بنتی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح اِس مرتبہ بھی یہ روایت دہرائی جارہی ہے کہ ’عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے بعد ’جنبے (ذات پات اور لسانی بنیادوں پر گروہی اتحاد)‘ کے مفادات کا زیادہ خیال رکھا جا رہا ہے‘ اور یہی چلن ’ایبٹ آباد‘ سمیت ہزارہ ڈویژن کی سیاست میں کلیدی و فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ افسوس کہ ماضی کی طرح موجودہ منتخب نمائندوں کے آس پاس بھی ’گلو بٹ‘ قسم کے کردار منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں‘ جو سروں پر ٹیڑھی ٹوپیاں‘ اچک اچک کر چلنے کے انداز‘ بات بات پر طنزیہ فقرے اُچھالنے‘ جنرل سٹور چلانے جیسی مہارت کا سیاسی استعمال‘ شکار جیسے شاہانہ اطوار‘ مفت کی گاڑی‘ ایندھن اور مسئلہ کشمیر کی طرح تنازعات کو ہوا دے کر اپنے وجود کو ناگزیر بنائے رکھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ بجلی کے کھمبے‘ ٹرانسفارمر‘ نوکری‘ سفارش‘ پولیس و ضلعی انتظامیہ پر دباؤ‘ گلی‘ نالی یا سڑک کی تعمیر تک ہر ترقیاتی حکمت عملی اِنہی ’دانشوروں‘ کے مشوروں سے مرتب ہوتی ہے اور چاہے اِن کے پولنگ اسٹیشن سے منتخب نمائندے کو شکست ہی ہوئی ہو‘ لیکن بناء ضرورت ترقیاتی حکمت عملی پر یہی مخلوق بلاشرکت غیرے اپنا حق سمجھتی ہے! جسے ہم نوالہ و ہم پیالہ‘ عناصر کی بدعنوانیاں دکھائی نہیں دیتیں۔
ایبٹ آباد کا ماحولیاتی تنوع اور توازن میں بگاڑ کے رجحان کو اگر اِس مرحلے پر نہ روکا گیا تو بعدازاں درختوں کی کٹائی کے رجحان و جواز کو روکا نہیں جاسکے گا۔ ایک ارب درخت لگانے جیسی بے مثال شجرکاری مہم کا آغاز کرنے والے عمران خان کو اپنی ہی جماعت کی ناک تلے ہونے والی بے قاعدگیوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے یقیناًتحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت ہے‘ جو اقرباء پروری‘ تعصب کی سیاست اور سیاسی و انتظامی اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے میں مصلحتوں سے کام نہیں لیتی۔ ماحول اُور ماحولیاتی تنوع کے تحفظ کی ضرورت اور اِس کی اہمیت سے ہر خاص و عام کو آگاہ کرنے والے محمود احمد اسلم کا ۔۔۔ایبٹ آباد سے پشاور تک کا سفر ۔۔۔اِس بات کی دلیل بھی ہے کہ صحرا میں آذان دینے والے آج بھی موجود ہیں اور یہ وہی کردار ہے جو سرسبز و شاداب ایبٹ آباد کو صحرا بنتے نہیں دیکھنا چاہتا۔
No comments:
Post a Comment