ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سجے چہرے‘ بجھے دل
سجے چہرے‘ بجھے دل
پانچ مارچ کے روز ہوئے سینیٹ کے ’انتخابی امتحان‘ سے ’تحریک انصاف‘ سرخرو
ہو کر نکلی ہے یقیناًخیبرپختونخوا حکومت کے ذمہ داروں نے سکھ کا سانس لیا
ہوگا کہ اراکین اسمبلی کی صفوں میں انتشار‘ ووٹوں کی خریدوفروخت اور بلیک
میلنگ جیسی مشکلات و مراحل ’خوش اسلوبی‘ سے طے کر لئے گئے اور اِس یک سوئی
کا سہرا پارٹی چیئرمین کے سر جاتا ہے‘ جنہوں نے اراکین کو اپنی مقناطیسی
کشش و قوت کے ذریعے قریب رکھا ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ تحریک انصاف سے اُن
کی وابستگی مشروط بھی ہے اور چیئرمین کی نظروں سے گرنے والے کا کوئی
مستقبل نہیں!
تحریک انصاف حسب حیثیت سینیٹ کی سات نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ خطرات منڈلاتا رہے لیکن محسن عزیز‘ لیاقت تراکئی اُور شبلی فراز ’جنرل سیٹ‘ سے منتخب ہوئے جبکہ نعمان وزیر نے ٹیکنوکریٹ اور ثمینہ عابد نے خواتین کے لئے مخصوص نشست پر قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) رکنیت حاصل کر لی۔ رواں سینیٹ انتخابات کی اہم بات یہ بھی ہے کہ کئی ایک سینیٹرز پہلی مرتبہ ایوان بالا کا حصہ بنے ہیں‘ حالانکہ اُنہیں اِس سے قبل ’قانون ساز ایوانوں‘ کا حصہ بنے رہنے کا تجربہ نہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ (امیر) سراج الحق اپنے سیاسی سفر میں پہلی مرتبہ سینیٹر کی حیثیت سے کیا کردار اَدا کریں گے‘ یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا کیونکہ مذہبی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف جاری حکومتی کوششوں پر کڑی تنقید کر رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ مسئلے کا حل مسئلے کو چھوئے بغیر تلاش کیا جائے جو ناممکن حد تک دشوار ہے۔ ماضی میں ایسی ہی مصلحتوں کی وجہ سے نہ تو عسکریت پسندی ختم کی جاسکی اور نہ ہی انتہاء پسندی پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکی تھی۔ ہمارے قانون ساز ایوانوں کے اراکین کو دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو وہ ہیں جنہیں عسکریت پسندوں سے جانی ومالی خطرات لاحق ہیں جبکہ دوسری قسم کے قانون سازوں کو معلوم ہے کہ اگر انہیں اپنی جان ومال کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو ایسی قوتوں سے براہ راست ٹکراؤ سے گریز کرنا ہوگا‘ جو تخریب کار ذہنیت کے مالک ہیں۔ بہرکیف خیبرپختونخوا سے منتخب ہونے والے سینیٹرز کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہوں گی کیونکہ تحریک انصاف نے قوم کو نفسیاتی طور پر ’نظام کی تبدیلی بذریعہ اصلاحاتی انقلاب‘ کی جو اُمید دلائی ہے‘ اُسے عملی طورپر ثابت کرنے کے لئے پارلیمانی کردار بھی بیانات ہی کی طرح حاوی و بالا ہونا چاہئے۔
’عوامی جمہوری اتحاد پاکستان‘ سے تعلق رکھنے والے نسبتاً چھوٹے و نوزائیدہ سیاسی گروہ سب سے زیادہ فائدے میں رہی ہے‘ جن کی نمائندگی کرنے والے شہرام ترکئی صحت جیسی کلیدی وزارت بھی رکھتے ہیں اور اُن کے والد سینیٹر بھی منتخب ہو چکے ہیں‘ کسی ضلع کے لوگ اگر اتحاد کا مظاہرہ کریں تو کتنی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں‘ اِس بات کو بطور مثال سمجھنے والوں کو ’عوامی جمہوری اتحاد‘ کی نپی تلی چالوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ جماعت اسلامی پاکستان بھی خیبرپختونخوا میں ایک قدم آگے بڑھی ہے اُور سینیٹ کے حالیہ انتخاب پر مطمئن ہے‘ جن کا باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ ’’پہلی مرتبہ پیسے کا کرشمہ نہیں چل سکا‘ اُور سینیٹ انتخاب بذریعہ سرمایہ جیتنے والوں کے خواب چکنا چور ہوئے ہیں!‘‘ اگرچہ جماعت اسلامی کی قیادت ’آف دی ریکارڈ‘ مانتی ہے کہ پیسے کا استعمال ہوا ہے لیکن اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی کی طرح ’پیسہ‘ ہی فیصلہ کن کردار اَدا نہیں کرسکا۔
وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سینیٹ انتخابات کے لئے جو حکمت عملی مرتب کی تھی وہ ’کامیاب‘ رہی اور اِسی وجہ سے وہ ناممکن کام ہوگیا کہ پیسے جیسی میٹھی چیز بھی ٹھکرا دی گئی لیکن تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت میں کچھ طریقۂ کار سے متعلق اختلافات بھی سامنے آئے جو ایک مشترکہ مقصد کے لئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ انتخابات کے بعد اُن کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ قومی وطن پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے وقتی اتحاد کی بدولت نہ صرف ہارس ٹریڈنگ کا امکان کم کیا جاسکا بلکہ تحریک انصاف اپنا ووٹ بینک بھی اسی وجہ سے یکجا رکھ سکی کہ بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر اپنی توانائیاں اور وسائل خرچ نہیں کئے۔ اجتماعی طور پر سینیٹ انتخابات کے لئے سیاسی جماعتوں کو جس شعور و پختگی کا مظاہرہ کرناچاہئے تھا وہ دیکھنے میں نہیں آیا۔مثال کے طور پر جس جماعت کی جتنی نشستیں بنتی تھیں اُنہیں اصولی طورپر اُتنی ہی تعداد میں اراکین نامزد کرنا چاہئے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ دوسری بات ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کی اصلاح پر ایک جیسا نکتۂ نظر رکھنے کے باوجود آئینی ترمیم لانے پر اتفاق نہ ہونا تھا۔ مضبوط جمہوریت اور بہترین طرزحکمرانی (گڈ گورننس) جیسے اہداف کا حصول آئینی و عملی ارتقاء کے بناء ممکن نہیں۔ ایسے اقدامات جن کی تہہ میں خلوص کی کمی ہو‘ سیاسی جماعتوں کے لئے اپنی اپنی حیثیت میں تو اہم ہو سکتے ہیں لیکن نظام کے لئے معنی نہیں رکھتے۔ اگر تحریک انصاف اور نواز لیگ (غیراعلانیہ) اتحاد نہ کرتیں تو جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے لئے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اپنا نامزد اُمیدوار کامیاب کرانا آسان ہو جاتا۔
سینیٹ انتخابات کا نتیجہ سب کے سامنے ہے بالخصوص خیبرپختونخوا حکومت نے جس ذمہ دارانہ رویئے کا مظاہرہ کیا ہے‘ وہ کسی بھی طرح معمولی نہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اصولی مؤقف رکھنے والوں نے عملی طورپر بھی ثابت کیا ہے کہ وہ اصول پسند ہیں اور یہی ہماری سیاست کا وہ روشن پہلو‘ وہ تبدیل ہوا چہرہ ہے‘ جس کا وعدہ گیارہ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل کم و بیش سبھی سیاسی جماعتوں نے کیا لیکن اِس کا عملی اطلاق زیادہ واضح اور زیادہ برتر خیبرپختونخوا میں دکھائی دیتا ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت سے وابستہ توقعات جہاں پوری ہوئیں ہیں تو وہیں ترقیاتی عمل کی سست روی پر اُنگلیاں اُٹھانے والوں کو بھی خاموش کرنے کے بارے سوچنا چاہئے۔ رحمان بابا چوک میں ’فلائی اوور‘ کی تعمیر کا کام مکمل کرنے کے لئے ’28 فروری‘ کی تاریخ دی گئی تھی اور یہ ٹھیکہ بھی واپس لے کر جس تیزرفتاری اور معیار میں بہتری کا وعدہ کیا گیا تھا‘ جو ہنوز پورا نہیں ہوسکا ہے۔ التجا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح صوبائی دارالحکومت پشاور کو بھی توجہ کی ضرورت ہے‘ جس کے لئے اربوں روپے مختص تو کر دیئے گئے ہیں لیکن ترقیاتی حکمت عملیوں کے نہ تو خدوخال واضح ہیں اور نہ اہداف کی تکمیل کی حتمی تاریخیں بیان کی گئیں ہیں۔ اِس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے وضاحت اور تفصیلات سے متعلق ’فریم ورک‘ جاری ہونے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔’’چاند کا دشت بھی آباد کبھی کر لینا۔۔۔پہلے دنیا کے یہ اُجڑے ہوئے گھر تو دیکھو!‘‘
تحریک انصاف حسب حیثیت سینیٹ کی سات نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ خطرات منڈلاتا رہے لیکن محسن عزیز‘ لیاقت تراکئی اُور شبلی فراز ’جنرل سیٹ‘ سے منتخب ہوئے جبکہ نعمان وزیر نے ٹیکنوکریٹ اور ثمینہ عابد نے خواتین کے لئے مخصوص نشست پر قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) رکنیت حاصل کر لی۔ رواں سینیٹ انتخابات کی اہم بات یہ بھی ہے کہ کئی ایک سینیٹرز پہلی مرتبہ ایوان بالا کا حصہ بنے ہیں‘ حالانکہ اُنہیں اِس سے قبل ’قانون ساز ایوانوں‘ کا حصہ بنے رہنے کا تجربہ نہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ (امیر) سراج الحق اپنے سیاسی سفر میں پہلی مرتبہ سینیٹر کی حیثیت سے کیا کردار اَدا کریں گے‘ یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا کیونکہ مذہبی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف جاری حکومتی کوششوں پر کڑی تنقید کر رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ مسئلے کا حل مسئلے کو چھوئے بغیر تلاش کیا جائے جو ناممکن حد تک دشوار ہے۔ ماضی میں ایسی ہی مصلحتوں کی وجہ سے نہ تو عسکریت پسندی ختم کی جاسکی اور نہ ہی انتہاء پسندی پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکی تھی۔ ہمارے قانون ساز ایوانوں کے اراکین کو دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو وہ ہیں جنہیں عسکریت پسندوں سے جانی ومالی خطرات لاحق ہیں جبکہ دوسری قسم کے قانون سازوں کو معلوم ہے کہ اگر انہیں اپنی جان ومال کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو ایسی قوتوں سے براہ راست ٹکراؤ سے گریز کرنا ہوگا‘ جو تخریب کار ذہنیت کے مالک ہیں۔ بہرکیف خیبرپختونخوا سے منتخب ہونے والے سینیٹرز کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہوں گی کیونکہ تحریک انصاف نے قوم کو نفسیاتی طور پر ’نظام کی تبدیلی بذریعہ اصلاحاتی انقلاب‘ کی جو اُمید دلائی ہے‘ اُسے عملی طورپر ثابت کرنے کے لئے پارلیمانی کردار بھی بیانات ہی کی طرح حاوی و بالا ہونا چاہئے۔
’عوامی جمہوری اتحاد پاکستان‘ سے تعلق رکھنے والے نسبتاً چھوٹے و نوزائیدہ سیاسی گروہ سب سے زیادہ فائدے میں رہی ہے‘ جن کی نمائندگی کرنے والے شہرام ترکئی صحت جیسی کلیدی وزارت بھی رکھتے ہیں اور اُن کے والد سینیٹر بھی منتخب ہو چکے ہیں‘ کسی ضلع کے لوگ اگر اتحاد کا مظاہرہ کریں تو کتنی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں‘ اِس بات کو بطور مثال سمجھنے والوں کو ’عوامی جمہوری اتحاد‘ کی نپی تلی چالوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ جماعت اسلامی پاکستان بھی خیبرپختونخوا میں ایک قدم آگے بڑھی ہے اُور سینیٹ کے حالیہ انتخاب پر مطمئن ہے‘ جن کا باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ ’’پہلی مرتبہ پیسے کا کرشمہ نہیں چل سکا‘ اُور سینیٹ انتخاب بذریعہ سرمایہ جیتنے والوں کے خواب چکنا چور ہوئے ہیں!‘‘ اگرچہ جماعت اسلامی کی قیادت ’آف دی ریکارڈ‘ مانتی ہے کہ پیسے کا استعمال ہوا ہے لیکن اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی کی طرح ’پیسہ‘ ہی فیصلہ کن کردار اَدا نہیں کرسکا۔
وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سینیٹ انتخابات کے لئے جو حکمت عملی مرتب کی تھی وہ ’کامیاب‘ رہی اور اِسی وجہ سے وہ ناممکن کام ہوگیا کہ پیسے جیسی میٹھی چیز بھی ٹھکرا دی گئی لیکن تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت میں کچھ طریقۂ کار سے متعلق اختلافات بھی سامنے آئے جو ایک مشترکہ مقصد کے لئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ انتخابات کے بعد اُن کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ قومی وطن پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے وقتی اتحاد کی بدولت نہ صرف ہارس ٹریڈنگ کا امکان کم کیا جاسکا بلکہ تحریک انصاف اپنا ووٹ بینک بھی اسی وجہ سے یکجا رکھ سکی کہ بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر اپنی توانائیاں اور وسائل خرچ نہیں کئے۔ اجتماعی طور پر سینیٹ انتخابات کے لئے سیاسی جماعتوں کو جس شعور و پختگی کا مظاہرہ کرناچاہئے تھا وہ دیکھنے میں نہیں آیا۔مثال کے طور پر جس جماعت کی جتنی نشستیں بنتی تھیں اُنہیں اصولی طورپر اُتنی ہی تعداد میں اراکین نامزد کرنا چاہئے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ دوسری بات ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کی اصلاح پر ایک جیسا نکتۂ نظر رکھنے کے باوجود آئینی ترمیم لانے پر اتفاق نہ ہونا تھا۔ مضبوط جمہوریت اور بہترین طرزحکمرانی (گڈ گورننس) جیسے اہداف کا حصول آئینی و عملی ارتقاء کے بناء ممکن نہیں۔ ایسے اقدامات جن کی تہہ میں خلوص کی کمی ہو‘ سیاسی جماعتوں کے لئے اپنی اپنی حیثیت میں تو اہم ہو سکتے ہیں لیکن نظام کے لئے معنی نہیں رکھتے۔ اگر تحریک انصاف اور نواز لیگ (غیراعلانیہ) اتحاد نہ کرتیں تو جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے لئے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اپنا نامزد اُمیدوار کامیاب کرانا آسان ہو جاتا۔
سینیٹ انتخابات کا نتیجہ سب کے سامنے ہے بالخصوص خیبرپختونخوا حکومت نے جس ذمہ دارانہ رویئے کا مظاہرہ کیا ہے‘ وہ کسی بھی طرح معمولی نہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اصولی مؤقف رکھنے والوں نے عملی طورپر بھی ثابت کیا ہے کہ وہ اصول پسند ہیں اور یہی ہماری سیاست کا وہ روشن پہلو‘ وہ تبدیل ہوا چہرہ ہے‘ جس کا وعدہ گیارہ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل کم و بیش سبھی سیاسی جماعتوں نے کیا لیکن اِس کا عملی اطلاق زیادہ واضح اور زیادہ برتر خیبرپختونخوا میں دکھائی دیتا ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت سے وابستہ توقعات جہاں پوری ہوئیں ہیں تو وہیں ترقیاتی عمل کی سست روی پر اُنگلیاں اُٹھانے والوں کو بھی خاموش کرنے کے بارے سوچنا چاہئے۔ رحمان بابا چوک میں ’فلائی اوور‘ کی تعمیر کا کام مکمل کرنے کے لئے ’28 فروری‘ کی تاریخ دی گئی تھی اور یہ ٹھیکہ بھی واپس لے کر جس تیزرفتاری اور معیار میں بہتری کا وعدہ کیا گیا تھا‘ جو ہنوز پورا نہیں ہوسکا ہے۔ التجا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح صوبائی دارالحکومت پشاور کو بھی توجہ کی ضرورت ہے‘ جس کے لئے اربوں روپے مختص تو کر دیئے گئے ہیں لیکن ترقیاتی حکمت عملیوں کے نہ تو خدوخال واضح ہیں اور نہ اہداف کی تکمیل کی حتمی تاریخیں بیان کی گئیں ہیں۔ اِس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے وضاحت اور تفصیلات سے متعلق ’فریم ورک‘ جاری ہونے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔’’چاند کا دشت بھی آباد کبھی کر لینا۔۔۔پہلے دنیا کے یہ اُجڑے ہوئے گھر تو دیکھو!‘‘

No comments:
Post a Comment