ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حساب و جواب!
خیبرپختونخوا حکومت نے فن تعمیر کے زندہ و نادر شاہکار‘ پشاور کی تاریخی ’مسجد مہابت خان‘ کی شان و شوکت (خوبصورتی) میں اِضافے اُور تعمیرومرمت کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ نمازیوں کے لئے دستیاب سہولیات میں اِضافے کا فیصلہ کیا ہے اور اِس مقصد کے لئے ’’8 کروڑ 77 لاکھ روپے‘‘ مختص کئے گئے ہیں‘ جن کی منظوری ’صوبائی ترقیاتی حکمت عملیاں‘ طے کرنے کے عمل میں ’پروانشیل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی‘ نے دے دی ہے۔
عرصہ دراز سے زیرالتوأ اِس ترقیاتی منصوبے کی نگرانی و تکمیل کے لئے ذمہ داریاں ’محکمۂ آثار قدیمہ‘ کو سونپی گئیں ہیں‘ جو اِس سے قبل آس پاس میں گورگٹھڑی‘ سیٹھی ہاوسیز اُور ہیئرٹیج ٹریل جیسے ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے اُور بس اُمید ہی کی جا سکتی ہے کہ ایک ایسا ادارہ جس کی اہمیت یہ ہے کہ اُسے 5 محکموں کی فہرست میں شمار کر کے ایک انتظامی نگرانی میں رکھا گیا ہے یعنی کلچر (ثقافت)‘ سپورٹس (کھیل)‘ ٹورازم (سیاحت)‘ آرکیالوجی (آثار قدیمہ) اور یوتھ افیئرز (امور نوجوانان) جیسے اہم شعبوں کو ’ایک لاٹھی‘ سے ہانکا جاتا ہے۔ اگر صوبائی حکومت آثار قدیمہ کو اتنا ہی قابل بھروسہ اور اہم سمجھتی ہے تو اِن پانچ محکموں اور درجنوں ذیلی شعبہ جات کو ’محکمۂ اوقاف‘ کی طرح خودمختاری کیوں نہیں دیتی! کیا یہ عجب نہیں کہ پشاور کے تاریخی اثاثوں حتی کہ جدید تعمیروترقی جیسے امور بھی آثار قدیمہ کو سونپ دیئے گئے ہیں لیکن اگر خیبرپختونخوا حکومت کی ویب سائٹ (kp.gov.pk) پر اِن پانچ محکموں کی موجودگی‘ کارکردگی اور سالانہ ترقیاتی حکمت عملی سے ملنے والے مالی وسائل کے بارے تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ’ویب سائٹ کا مطلوبہ حصہ زیرتعمیر (انڈرکنسٹرکشن) ہے!‘ اور یہ تعمیراتی عمل چار سال سے مکمل نہیں کیا جاسکا تو کس طرح اعتماد و یقین کر لیا جائے کہ قریب نو کروڑ روپے جیسی خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد کچھ بہتری آئے گی! ذہن نشین رہے کہ ہر صوبائی حکومت کے دور میں ’مسجد مہابت خان‘ توجہ کا مرکز رہتی ہے اور بالخصوص جب ماہ رمضان المبارک قریب آتا ہے تو حکومتی محکموں کی پھرتیاں دیدنی ہوتی ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مالی وسائل مختص کرتی ہے اور مسجد پر اب تک نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی حکومتوں اور غیرملکی امداد بشمول امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کے ڈالرز بھی خرچ ہو چکے ہیں لیکن سترہویں صدی میں تعمیر کی گئی‘ مغل گورنر (نواب) مہابت خان کے نام سے منسوب اِس مسجد کی حالت نہیں بدلی!
مسجد مہابت خان ایک جیتا جاگتا خزانہ اُور آمدن کا پائیدار ذریعہ ہے‘ کہ اگر اِس کی ایک ہی مرتبہ مکمل مرمت اور بحالی کر دی جاتی ہے تو پھر ہر سال یا ہر چند برس بعد کروڑوں روپے خرچ کرنے کا جواز ہی باقی نہیں رہے گا! مسجد سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ایک الگ موضوع ہے کہ مسجد سے متصل بازار صرافہ (سونے کی خریدوفروخت کے بڑے مرکز) کے دکانداروں کی اکثریت اِس کے جملہ اخراجات اور ضروریات وسہولیات کی فراہمی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بجلی کے بل‘ پنکھے‘ صفیں یا معمول کی صفائی کے اخراجات ادا کرنا ہر کوئی اپنے لئے اعزاز کی بات سمجھتے ہوئے خدا کے گھر کی خدمت اور صدقۂ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے نمودونمائش بھی نہیں کی جاتی!
خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2014-15ء کی ترقیاتی حکمت عملی (اے ڈی پی) میں مسجد مہابت خان کے لئے 5 کروڑ روپے مختص کئے تھے لیکن اپریل 2016ء میں مالی وسائل یہ کہتے ہوئے روک دیئے گئے کہ محکمۂ اوقاف اِس مسجد کے شایان شان بحالی و مرمت کا کام کرنے کی مہارت ہی نہیں رکھتی! مسجد مہابت خان کی تزئین و بحالی کے نام پر اب تک جس قدر مالی وسائل خرچ ہوئے‘ اُن کے استعمال میں ایسی ایک درجن مساجد تعمیر ہو سکتی تھیں‘ جن میں نمازیوں کی گنجائش بھی زیادہ ہوتی۔ مسجد مہابت خان کی بحالی اور خوبصورتی میں اضافہ تو درکنار اِس کی مزید خستہ حالی اُس وقت تک نہیں رکے گی‘ جب تک اِسے لاحق ’مستقل خطرات‘ کا علاج نہیں کیا جاتا۔
احتساب ضروری ہے کہ سالہا سال سے مسجد مہابت خان پر کون مسلط ہیں؟ مسجد کے لئے مختص وسائل‘ انتظامی اختیارات رکھنے والوں کی من مانیوں کی بدولت اِس کی موجودہ ’حالت زار‘ کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے کہ جب تک فیصلہ سازی یا اس پر اثرانداز ہونے والے کردار رکھیں گے‘ اُس وقت تک کوئی بھی صورت (حربہ) کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ المیہ ہے کہ مسجد مہابت خان سے متصل نجی جائیدادیں فروخت ہوئیں لیکن محکمۂ اوقاف نے اِس کا کوئی نوٹس نہیں لیا کہ ایک تو مسجد کو کشادہ کیا جاسکتا تھا اور دوئم یہ بھی ضروری تھا کہ مسجد مہابت خان سے متصل اُور اردگرد کثیرالمنزلہ ایسی عمارتیں تعمیر نہ ہونے دی جاتیں‘ جو اِس کے میناروں سے بلند اُور جن سے مسجد کے درودیوار پر منفی اثرات پڑتے۔ کاش کہ سمجھ لیا جاتا کہ مسجد مہابت خان کی تعمیر میں سیمنٹ کا اِستعمال نہیں کیا گیا‘ جس کی وجہ سے اگر اِس کی دیواروں کے ساتھ ’نم دار‘ تعمیرات بالخصوص اگر اینٹ استعمال کی جاتی ہے تو اِن سے رسنے والا پانی مسجد کی دیواروں اور اُن پر بنے نقوش کو متاثر کرے گا۔
عجب یہ بھی ہے کہ مسجد کے میناروں تلے دکانداروں نے کھدائی کرکے رہی سہی کسر نکال دی اور جس کا جہاں جی چاہا اُنہوں نے مسجد کی عمارت سے اپنے مفاد کے مطابق استفادہ کیا! کون جواب دے گا کہ ایک تاریخی مسجد کی دیواروں میں سوراخ کر کے ائرکنڈیشن لگانے کی اجازت کس نے دی؟ مسجد کے ایک حصے میں بیت الخلاء (فلش ٹائلٹ) تعمیر کرنے میں مسجد کے تقدس و احترام کا کتنا خیال رکھا گیا؟
کون حساب دے گا اور کون حساب لے گا کہ ۔۔۔ مسجد مہابت خان کی دیواروں پر قدآور بورڈ آویزاں کرنا‘ رنگ برنگے پوسٹر چسپاں کرنے سے اِس کی تعمیرات اور ظاہری خوبصورتی کو کتنا نقصان ہوا؟ مسجد کے صحن اُور برآمدوں کی اصل حالت تبدیل کرتے ہوئے عمومی قسم کا سستا ترین پتھر (ماربل) استعمال کرنے کا فیصلہ کہاں کی دانشمندی تھی؟ ماضی میں مسجد مہابت خان کی بحالی کے لئے محکمۂ آثار قدیمہ کی خدمات یا مہارت سے استفادہ کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہونا خوش آئند ہے لیکن یہ خدشات بدستور اپنی جگہ موجود (حلطلب) ہیں کہ کیا اربوں کی آمدنی اور اثاثہ جات رکھنے والا خودمختار ’محکمۂ اوقاف‘ کسی دوسری وزارت کے ماتحت ماہرین کو اپنی حدود میں کام کرنے کی غیرمشروط آزادی (اجازت) بھی دے گا؟

No comments:
Post a Comment