Showing posts with label Masjid Mohabbat Khan. Show all posts
Showing posts with label Masjid Mohabbat Khan. Show all posts

Sunday, May 14, 2017

May2017: Over spending on restoration of Masjid Mohabbat Khan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اسراف!
خبر یہ نہیں تھی کہ صوبائی حکومت کو پشاور کے تاریخی و ثقافتی اثاثوں کی اہمیت کا یکایک احساس ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیٹھی ہاؤسیز اُور گورگٹھڑی (تحصیل) کے بعد ’مسجد مہابت خان‘ کی بحالی‘ تعمیرومرمت اور خوبصورتی کے لئے کم و بیش نو کروڑ روپے خرچ کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ فرق اِس سے بھی کچھ نہیں پڑتا کہ اِس ترقیاتی کام کو سرانجام دینے کے لئے کس سرکاری محکمے کی ’لاٹری نکل آئی‘ ہے اور کیا وہ یہ کام مقررہ مدت یا کسی معلوم عرصے میں کرنے کے قابل بھی ہے۔ عام آدمی کے نکتۂ نظر سے ’مسجد مہابت خان‘ کی آمدنی اور اخراجات کا میزانیہ پیش کیا جانا چاہئے کہ ماہانہ کرایوں اور دیگر مدوں سے اربوں کی آمدن اور اثاثہ جات رکھنے والے (متعلقہ) ’محکمۂ اوقاف‘ مذکورہ مسجد کی دیکھ بھال سے متعلق اپنی ذمہ داری (فرض) کی بجاآوری میں کیوں ناکام رہا؟ لیکن تیرہ مئی کے ’’حساب و جواب‘‘ سے مقصود ’عوامی عدالت‘ میں چند ایسے نکات (مقدمہ) بحث کے لئے پیش کرنا تھا‘ جس کے مدعی کی طرح گواہوں کو بھی چست ہونا پڑے گا۔ علاؤہ ازیں قارئین کی توجہ اِس امر کی جانب مبذول کی جائے کہ ماضی میں (چند برس قبل) جو ترقیاتی کام پانچ کروڑ روپے سے ہو رہا تھا اُس میں تین کروڑ کا اضافہ کرنے والے سرکاری خزانے سے اخراجات کرنے میں جس ’غیرمعمولی سخاوت‘ کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اِس کی شان و شوکت پر جس قدر بھی دنیاوی اسباب خرچ کئے جائیں کم ہی رہیں گے لیکن کہیں ایسا تو نہیں مساجد اور مزارات صرف آمدن کا ذریعہ ہوں اور محکمۂ اوقاف کو خودمختاری دینے سے مقامات مقدسہ سے زیادہ فیصلہ سازوں کو فائدہ ہو رہا ہو؟ 

ضرورت سے زیادہ اور بیجا اخراجات ’اسراف‘ کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں تو بحالی و خوبصورتی کے نام پر غیرمعمولی مالی وسائل مختص کرنے میں ایسا کونسا مشاورت کا عمل اختیار کیا گیا‘ جس کے ذریعے ایک سے زیادہ پہلو بشمول بچت (کم خرچ بالا نشین) پیش نظر رہتی؟ صوبہ پنجاب کو ایسی تاریخی عمارتیں بشمول مساجد بحال کرنے کا خاصہ تجربہ ہے‘ جن کی مہارت سے فائدہ اُٹھانے میں کیا امر مانع ہے۔ جب سیٹھی ہاؤسیز اور گورگٹھڑی کے لئے کراچی (سندھ) سے مشیر (کنسلٹنسی) سرکاری خرچ پر طلب کی جا سکتی ہے تو لاہور (پنجاب) سے کیوں نہیں؟ 

مسجد مہابت خان میں نمازیوں کی گنجائش بڑھانے کی اشد ضرورت کے ساتھ وضوخانوں کی گنجائش اور سہولیات کا معیار بہتر بنانے کا مطالبہ اپنی جگہ موجود تھا اور کم وبیش نو کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد بھی موجود رہے گا تو ایسی پائیدار حکمت عملی کیوں نہیں وضع کی جا سکی جس کے تحت مسجد کے فن تعمیر کی کشش اور خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے اِسے جدت سے ہم آہنگ کر دیا جاتا۔ سرکاری خزانے سے مالی وسائل مختص کرنے میں ’’بڑی بات‘‘ کیا ہے؟ لیکن اگر ’خوداحتسابی‘ اور ’امانت‘ کے تصورات ذہن میں رکھتے ہوئے ہر ایک پائی پھونک پھونک کر (احتیاط سے) خرچ کی جائے تو حاصل ہونے والی بچت سے خیبرپختونخوا میں اُن تعلیمی اداروں کی عمارتیں تعمیر یا اُن کی توسیع ممکن ہے‘ جو یا تو بوسیدہ ہیں کہ اُن سے استفادہ کرنے والوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں یا اُن کی گنجائش اِس قدر کم ہے کہ ایک ہی کمرے میں کئی کلاس رومز کے بچے مل جل کر بیٹھتے ہیں! 

آسان و فوری مقبول فیصلوں کی بجائے اگر ’مستقبل کے سامنے سرخرو‘ ہونے کو اہمیت دی جاتی تو اُس ’’ووٹ بینک‘‘ کی لاج رہ جاتی یا کم سے کم ’تبدیلی کے لئے ووٹ دینے والوں کا کچھ حق ہی ادا ہو جاتا۔ یہ طرزعمل کسی ایسی حکومت کے قطعی شایان شان نہیں جو تبدیلی کے نام پر ووٹ حاصل کرنے اور چار سال حکومت کرنے کے بعد بھی اُنہی غلطیوں کو دہرا رہی ہے‘ جن کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے عوام نے گیارہ مئی دوہزار تیرہ کو اُنہیں چنا تھا! سخت گیر مالی و انتظامی نظم و ضبط کی کل سے زیادہ اگر آج ضرورت محسوس ہو رہی ہے آخر کیوں!؟

Saturday, May 13, 2017

May2017: Beautification of the Masjid Mohabbat Khan

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حساب و جواب!
خیبرپختونخوا حکومت نے فن تعمیر کے زندہ و نادر شاہکار‘ پشاور کی تاریخی ’مسجد مہابت خان‘ کی شان و شوکت (خوبصورتی) میں اِضافے اُور تعمیرومرمت کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ نمازیوں کے لئے دستیاب سہولیات میں اِضافے کا فیصلہ کیا ہے اور اِس مقصد کے لئے ’’8 کروڑ 77 لاکھ روپے‘‘ مختص کئے گئے ہیں‘ جن کی منظوری ’صوبائی ترقیاتی حکمت عملیاں‘ طے کرنے کے عمل میں ’پروانشیل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی‘ نے دے دی ہے۔ 

عرصہ دراز سے زیرالتوأ اِس ترقیاتی منصوبے کی نگرانی و تکمیل کے لئے ذمہ داریاں ’محکمۂ آثار قدیمہ‘ کو سونپی گئیں ہیں‘ جو اِس سے قبل آس پاس میں گورگٹھڑی‘ سیٹھی ہاوسیز اُور ہیئرٹیج ٹریل جیسے ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے اُور بس اُمید ہی کی جا سکتی ہے کہ ایک ایسا ادارہ جس کی اہمیت یہ ہے کہ اُسے 5 محکموں کی فہرست میں شمار کر کے ایک انتظامی نگرانی میں رکھا گیا ہے یعنی کلچر (ثقافت)‘ سپورٹس (کھیل)‘ ٹورازم (سیاحت)‘ آرکیالوجی (آثار قدیمہ) اور یوتھ افیئرز (امور نوجوانان) جیسے اہم شعبوں کو ’ایک لاٹھی‘ سے ہانکا جاتا ہے۔ اگر صوبائی حکومت آثار قدیمہ کو اتنا ہی قابل بھروسہ اور اہم سمجھتی ہے تو اِن پانچ محکموں اور درجنوں ذیلی شعبہ جات کو ’محکمۂ اوقاف‘ کی طرح خودمختاری کیوں نہیں دیتی! کیا یہ عجب نہیں کہ پشاور کے تاریخی اثاثوں حتی کہ جدید تعمیروترقی جیسے امور بھی آثار قدیمہ کو سونپ دیئے گئے ہیں لیکن اگر خیبرپختونخوا حکومت کی ویب سائٹ (kp.gov.pk) پر اِن پانچ محکموں کی موجودگی‘ کارکردگی اور سالانہ ترقیاتی حکمت عملی سے ملنے والے مالی وسائل کے بارے تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ’ویب سائٹ کا مطلوبہ حصہ زیرتعمیر (انڈرکنسٹرکشن) ہے!‘ اور یہ تعمیراتی عمل چار سال سے مکمل نہیں کیا جاسکا تو کس طرح اعتماد و یقین کر لیا جائے کہ قریب نو کروڑ روپے جیسی خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد کچھ بہتری آئے گی! ذہن نشین رہے کہ ہر صوبائی حکومت کے دور میں ’مسجد مہابت خان‘ توجہ کا مرکز رہتی ہے اور بالخصوص جب ماہ رمضان المبارک قریب آتا ہے تو حکومتی محکموں کی پھرتیاں دیدنی ہوتی ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ مالی وسائل مختص کرتی ہے اور مسجد پر اب تک نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی حکومتوں اور غیرملکی امداد بشمول امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کے ڈالرز بھی خرچ ہو چکے ہیں لیکن سترہویں صدی میں تعمیر کی گئی‘ مغل گورنر (نواب) مہابت خان کے نام سے منسوب اِس مسجد کی حالت نہیں بدلی! 

مسجد مہابت خان ایک جیتا جاگتا خزانہ اُور آمدن کا پائیدار ذریعہ ہے‘ کہ اگر اِس کی ایک ہی مرتبہ مکمل مرمت اور بحالی کر دی جاتی ہے تو پھر ہر سال یا ہر چند برس بعد کروڑوں روپے خرچ کرنے کا جواز ہی باقی نہیں رہے گا! مسجد سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ایک الگ موضوع ہے کہ مسجد سے متصل بازار صرافہ (سونے کی خریدوفروخت کے بڑے مرکز) کے دکانداروں کی اکثریت اِس کے جملہ اخراجات اور ضروریات وسہولیات کی فراہمی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بجلی کے بل‘ پنکھے‘ صفیں یا معمول کی صفائی کے اخراجات ادا کرنا ہر کوئی اپنے لئے اعزاز کی بات سمجھتے ہوئے خدا کے گھر کی خدمت اور صدقۂ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے نمودونمائش بھی نہیں کی جاتی!

خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2014-15ء کی ترقیاتی حکمت عملی (اے ڈی پی) میں مسجد مہابت خان کے لئے 5 کروڑ روپے مختص کئے تھے لیکن اپریل 2016ء میں مالی وسائل یہ کہتے ہوئے روک دیئے گئے کہ محکمۂ اوقاف اِس مسجد کے شایان شان بحالی و مرمت کا کام کرنے کی مہارت ہی نہیں رکھتی! مسجد مہابت خان کی تزئین و بحالی کے نام پر اب تک جس قدر مالی وسائل خرچ ہوئے‘ اُن کے استعمال میں ایسی ایک درجن مساجد تعمیر ہو سکتی تھیں‘ جن میں نمازیوں کی گنجائش بھی زیادہ ہوتی۔ مسجد مہابت خان کی بحالی اور خوبصورتی میں اضافہ تو درکنار اِس کی مزید خستہ حالی اُس وقت تک نہیں رکے گی‘ جب تک اِسے لاحق ’مستقل خطرات‘ کا علاج نہیں کیا جاتا۔ 

احتساب ضروری ہے کہ سالہا سال سے مسجد مہابت خان پر کون مسلط ہیں؟ مسجد کے لئے مختص وسائل‘ انتظامی اختیارات رکھنے والوں کی من مانیوں کی بدولت اِس کی موجودہ ’حالت زار‘ کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے کہ جب تک فیصلہ سازی یا اس پر اثرانداز ہونے والے کردار رکھیں گے‘ اُس وقت تک کوئی بھی صورت (حربہ) کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ المیہ ہے کہ مسجد مہابت خان سے متصل نجی جائیدادیں فروخت ہوئیں لیکن محکمۂ اوقاف نے اِس کا کوئی نوٹس نہیں لیا کہ ایک تو مسجد کو کشادہ کیا جاسکتا تھا اور دوئم یہ بھی ضروری تھا کہ مسجد مہابت خان سے متصل اُور اردگرد کثیرالمنزلہ ایسی عمارتیں تعمیر نہ ہونے دی جاتیں‘ جو اِس کے میناروں سے بلند اُور جن سے مسجد کے درودیوار پر منفی اثرات پڑتے۔ کاش کہ سمجھ لیا جاتا کہ مسجد مہابت خان کی تعمیر میں سیمنٹ کا اِستعمال نہیں کیا گیا‘ جس کی وجہ سے اگر اِس کی دیواروں کے ساتھ ’نم دار‘ تعمیرات بالخصوص اگر اینٹ استعمال کی جاتی ہے تو اِن سے رسنے والا پانی مسجد کی دیواروں اور اُن پر بنے نقوش کو متاثر کرے گا۔ 

عجب یہ بھی ہے کہ مسجد کے میناروں تلے دکانداروں نے کھدائی کرکے رہی سہی کسر نکال دی اور جس کا جہاں جی چاہا اُنہوں نے مسجد کی عمارت سے اپنے مفاد کے مطابق استفادہ کیا! کون جواب دے گا کہ ایک تاریخی مسجد کی دیواروں میں سوراخ کر کے ائرکنڈیشن لگانے کی اجازت کس نے دی؟ مسجد کے ایک حصے میں بیت الخلاء (فلش ٹائلٹ) تعمیر کرنے میں مسجد کے تقدس و احترام کا کتنا خیال رکھا گیا؟ 

کون حساب دے گا اور کون حساب لے گا کہ ۔۔۔ مسجد مہابت خان کی دیواروں پر قدآور بورڈ آویزاں کرنا‘ رنگ برنگے پوسٹر چسپاں کرنے سے اِس کی تعمیرات اور ظاہری خوبصورتی کو کتنا نقصان ہوا؟ مسجد کے صحن اُور برآمدوں کی اصل حالت تبدیل کرتے ہوئے عمومی قسم کا سستا ترین پتھر (ماربل) استعمال کرنے کا فیصلہ کہاں کی دانشمندی تھی؟ ماضی میں مسجد مہابت خان کی بحالی کے لئے محکمۂ آثار قدیمہ کی خدمات یا مہارت سے استفادہ کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہونا خوش آئند ہے لیکن یہ خدشات بدستور اپنی جگہ موجود (حلطلب) ہیں کہ کیا اربوں کی آمدنی اور اثاثہ جات رکھنے والا خودمختار ’محکمۂ اوقاف‘ کسی دوسری وزارت کے ماتحت ماہرین کو اپنی حدود میں کام کرنے کی غیرمشروط آزادی (اجازت) بھی دے گا؟