Showing posts with label Akhand Bharat. Show all posts
Showing posts with label Akhand Bharat. Show all posts

Sunday, July 2, 2017

TRANSLATION: The India doctrine by Dr Farrukh Saleem

The India doctrine
بھارت: سیاسی نظریات!
پچیس دسمبر دوہزار پندرہ کے روز بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سیکرٹری رام مدہیو (Ram Madhav) نے کہا تھا کہ ’’بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش ایک دن پھر سے اکٹھا ہو جائیں گے۔‘‘ بھارت کا ریاستی نعرہ ’اکھنڈ بھارت‘ یعنی ’غیرمنقسم بھارت‘ محض کوئی سیاسی نعرہ نہی بلکہ یہ اِس عوامی جمہوریہ کا مذہبی نظریات کا بھی حصہ ہے۔ 1989ء میں حکمراں ’بی جے پی‘ نے اَکھنڈ بھارت کے تصور کو باضابطہ طور پر اپنایا اور صرف بی جے پی ہی نہیں بلکہ کئی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی اِس نظریئے سے جڑی ہوئی ہے۔

بھارت کے ایک دفاعی تجزیہ روی ریکھئے (Ravi Rikhye) سمجھتے ہیں کہ بھارت کو پاکستان ضم کرنے کے لئے میسر کسی بھی موقع سے جلد از جلد فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ’بھارتی نظریہ (The India Doctrine)‘ کے مصنف ایم بی آئی منشی (M B I Munshi) کا ماننا ہے کہ ’’پاکستان کو بھارت میں ضم پرامن ذرائع یا طاقت کے استعمال کے علاؤہ بھی ایک طریقے سے ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر اِس حد تک انتشار کا شکار کر دیا جائے کہ اس کے پاس بھارت میں ضم ہونے کے علاؤہ کوئی دوسری صورت باقی نہ رہے۔‘‘

بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں علیحدگی پسند تحریکیں فعال ہیں۔ ساؤتھ ایشین ٹریرازم پورٹل (satp.org) نامی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں سال 1994ء سے 2017ء تک ’65ہزار 980‘ افراد دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اِن کے علاؤہ گذشتہ پچیس برس میں 87 ہزار سے زائد کشمیری بھی قتل کئے گئے ہیں!

بھارت کی مختلف ریاستوں میں علیحدگی پسند توانا تحریکیں فعال ہیں جن میں پنجاب کی ’خالصتان کمانڈو فورس‘ بابر خالصہ انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن شامل ہیں۔ ریاست ارونچل پردیش کی سب سے فعال علیحدگی پسند تحریک ’نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ‘ ہے جبکہ آسام میں کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا موویسٹ‘ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش اُور ’دی مسلم یونائٹیڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام‘ قابل ذکر ہیں۔
مانی پور (Manipur) میں علیحدگی پسند ’نیشنل سوشلسٹ کونسل آف نانگالینڈ‘ پیپلز یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ اور مانی پور ناگا ریولوشنری فرنٹ شامل ہیں۔ ناگالینڈ میں ’ناگا نیشنل کونسل‘ دی فیڈرل گورنمنٹ آف ناگا لینڈ اور ناگا نیشنل کونسل جبکہ تریپورہ (Tripura) میں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورہ اور آل تریپورہ ٹائیگر فورس شامل ہیں۔

بھارت کی عوامی جمہوریہ میں ’نازالیٹ مویسٹ‘ علیحدگی پسند تحریک گزشتہ قریب پچاس برس (18مئی1967ء) سے فعال ہے۔ یاد رہے کہ بھارت کی کل 29ریاستوں میں سے 16ریاستیں ایسی ہیں جہاں علیحدگی پسند تحریکیں فعال ہیں اور یہ کل بھارت کا پچاس فیصد بنتا ہے یعنی بھارت کی پچاس فیصد آبادی علیحدگی چاہتی ہے۔

امریکہ کے 56ویں سیکرٹری آف اسٹیٹ ہنری کسینجر نے پیشگوئی کی تھی کہ بھارت کی مرکز گریز طاقتیں حاوی ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے دلیل دی تھی کہ جب تک داخلی علیحدگی پسند تحریکیوں سے نہیں نمٹا جاتا تو اس سے بھارت تقسیم سے پہلے والی پوزیشن پر چلا جائے گا جب وفاق کی حاکمیت کمزور ہوگی اور ریاستیں اپنے طور جاگیرداروں اور ذاتی خاندانوں کا تسلط پھر سے بحال ہو جائے گا۔ چھبیس جون کو بی بی سی کے بھارت میں نمائندے سوتک بسواس (Soutik Biswas) نے ایک مراسلے میں لکھا تھا کہ ’’کیا بھارت ایک ایسا ملک بننے جا رہا ہے جہاں ہجوم حکمران ہوں گے؟‘‘ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’وزیراعظم مودی کے دور میں بھارت عوامی جمہوریہ بن کر اجتماعی بہبود کی بجائے گروہی مفادات کا محافظ بنتا جا رہا ہے۔‘‘ انڈین ڈیفینس ریویو نے اپریل جون دوہزار سات کی اشاعت میں یہ نتیجۂ خیال پیش کیا تھا کہ بھارت کی یکجا رکھنے کے لئے غیرمعمولی طور پر بڑی فوجی طاقت کی ضرورت ہوگی۔ بھارت کے کئی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ اگر بھارت میں وفاق گریز قوتیں داخلی انتشار کو انتہاء پر پہنچاتے ہوئے قومی وحدت کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ چاہے اس کی جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے لیکن بھارت کو بہرصورت پھر سے مربوط و متحد کرنے کی ضرورت ہے اور اس عمل کو جس قدر تاخیر سے کیا جائے گا‘ اتنا ہی اس کی قیمت بڑھتی چلی جائے گی کیونکہ پاکستان مالی وسائل اور طاقت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے اِس لئے پہلے پاکستان کے ساتھ پہلے ’باز استحکام‘ ہونا چاہئے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)