Showing posts with label Ayaz Wazir. Show all posts
Showing posts with label Ayaz Wazir. Show all posts

Wednesday, May 13, 2015

May2015 TRANSLATION FATA a comedy of reforms

FATA: a comedy of reforms
قبائلی علاقہ جات: اِصلاحات کا دھوکہ
وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات پاکستان کا ایک اہم حصہ ہیں‘ جو گذشتہ 69 سال سے دوران مختلف وفاقی حکومتوں کے ادوار میں غیرمعمولی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ درحقیقت قبائلی علاقے ایک تجربہ گاہ کے طور پراستعمال ہوئے جہاں ہر حکمراں نے اپنی دانست کے مطابق تجربے کئے ہیں۔

آمر حکمرانوں نے قبائلی علاقوں سے متعلق حکمت عملیاں مرتب کرتے ہوئے اپنے ملکی مفادات کی بجائے امریکہ کے مفادات کا زیادہ خیال رکھا اُور انہوں نے کوشش کی کہ وہ مغربی دنیا کو خوش رکھیں تاکہ اُن کے دور حکمرانی کو طول مل سکے۔ اس عمل کے دوران برسرزمین انتظامیہ نے قبائلی علاقوں پر اپنا تسلط قائم رکھا اور یہاں کے رہنے والوں کو محکوم و مجبور بنا کر اُن کے بنیادی یا جمہوری حقوق غصب کئے رکھے۔ دوسری طرف جن سویلین افراد کو قبائلی علاقوں میں تعینات کیا گیا اُنہوں نے نام نہاد ترقیاتی منصوبے جو حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتے تھے مکمل نہ ہوسکے۔ ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مختص خطیر مالی وسائل قبائلی علاقوں کی بجائے ذاتی اثاثوں میں اضافے کا سبب بنے اور یہ قبائلی سرزمین سونے کی کان جیسی سمجھی گئی جس سے اپنی جیبیں بھریں گئیں۔ موجودہ حکومت بھی ماضی کے حکمرانوں سے اِس لحاظ سے مختلف نہیں کہ انہوں نے قبائلی علاقوں سے وہی سلوک روا رکھا ہوا جو ماضی میں تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ماضی میں قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لئے جو کمیشن بنائے گئے اُن کی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جاتا لیکن خیبرپختونخوا کے گورنر نے اپنی تقرری کے فوراً بعد ایک نیا کمیشن بنا دیا۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈیرھ برس کے بعد کمیشن نے دیگر تجاویز کے ہمراہ یہ تجویز بھی دی ہے کہ ایک نیا کمیشن بنایا جائے جو اس کی مرتب کردہ شفارشات کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے ان کے عملی اطلاق بارے لائحہ عمل تجویز کرسکے۔ ملاحظہ کیجئے کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لئے حکومت کی کارکردگی‘ سوچ اور ترجیحات یہ ہیں!

کم وبیش ایک برس پہلے کی بات ہے کہ مجھے پشاور میں قبائلی علاقوں کے لئے اصلاحات مرتب کرنے والے کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے طلب کیا گیا۔ میں اجلاس میں شریک ہوا اور سب سے پہلے یہ اعتراض اُٹھایا کہ قبائلی علاقوں کے بارے غوروخوض کرنے کے لئے جو کمیشن بنایا گیا ہے اس میں سوائے ایک رکن کے دیگر اراکین کا تعلق قبائلی علاقوں سے نہیں اور کچھ تو ایسے ہیں جو پشتو زبان بولنا یا سمجھنا بھی جانتے اور جب اُنہیں قبائلی علاقوں کے رسم و رواج‘ تہذیب وثقافت اور قبائلی سوچ کا اندازہ ہی نہیں تو وہ کسی ایسے علاقے کے لئے سفارشات کیسے اور کیونکر مرتب کر سکتے ہیں اور میرا نکتۂ نظر آج بھی یہی ہے کہ جو لوگ قبائلی رسم ورواج‘ روایات‘ طرز معاشرت اور بودوباش کو نہیں سمجھ سکتے وہ بھلا کیسے اپنی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدہ برآء ہو سکتے ہیں۔ میرے تمام خدشات درست ثابت ہوئے۔ خطیر رقم اور وقت برباد کرنے کے بعد کمیشن کی جانب سے سفارش کردہ اصلاحات کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اس وقت اور پیسے کے ضیاع کے لئے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ کوئی نہیں سنتا اور حکومت کی خواہش ہی دکھائی نہیں دیتی کہ وہ درست کام کے لئے درست افراد کا انتخاب کرے اور یہی وجہ ہے کہ ہم سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں کر پارہے۔

ہمیں ایسی حکومت کا نام ونشان نہیں ملتاجس نے قبائلی علاقوں کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے ان علاقوں میں رہنے والوں کو خاطرخواہ توجہ دی ہو۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے خوب تشہیر کرنے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ قبائلی علاقوں کی قسمت کا تعین کرنے والے اِن علاقوں کا دورہ کرتے ہیں۔ وہاں چنیدہ مدعوین سے رسمی ملاقات کرتے ہیں۔ اِن اعلیٰ سطحی دوروں میں قبائلی علاقوں میں رہنے والے عام لوگوں سے نہ تو ملاقاتیں ہوتی ہیں اور نہ ہی تبادلۂ خیال۔ حکومتی اراکین جن چنیدہ مدعوین سے ملاقاتیں کرکے اُنہیں اصلاحات اُور قبائلی علاقوں کی تعمیر وترقی کے بارے میں کوششوں سے آگاہ کرتے ہیں وہ عمل کے فقدان کی وجہ سے کوئی معنی یا اہمیت نہیں رکھتی۔ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے عام لوگ اِس قسم کے دوروں کو ایک فاصلے سے دیکھتے ہوئے اِن کا مذاق اُڑاتے ہیں! یہ طرز عمل تبدیلی چاہتا ہے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی کا ہدف کیوں حاصل نہیں ہوسکا۔ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کے بنیادی انسانی حقوق کیوں غصب ہیں۔ انہیں جمہوری عمل کا حصہ بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں کیا ہیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ ایک مخصوص سوچ رکھنے والا طبقہ نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کا دور دورہ ہو۔ وہ چاہتے ہیں قبائلی علاقے یونہی مسائل میں الجھے رہیں اور ترقی سے محروم رہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کے رہنے والے ناخواندہ رہیں تاکہ وہ اپنے حقوق نہ مانگ سکیں تاکہ یہ اپنے مقاصد حاصل کرتے رہیں۔

قبائلی علاقوں کے رہنے والوں اور سیکورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ہمیں اِن فاصلوں کوختم کرنے اور دونوں فریقین کے تحفظات کو سمجھنا ہوگا کیونکہ دونوں فریقین علاقے میں مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کے حوالے سے الگ الگ نکتۂ نظر رکھتے ہیں لیکن اگر قبائلی علاقوں کے عوام اور سیکورٹی اداروں کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوجاتا ہے تو اس اتفاق رائے کی برکت سے قبائلی علاقے پھر سے امن کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلا کام تو یہ کرنا ہوگا کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو بھی ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والوں کے مساوی حقوق دیئے جائیں ناکہ اُنہیں دشمن یا کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سمجھا جائے۔ اس ہدف کے حاصل کرنے کے لئے صرف ایک ہی محرک و عملی طور پر ممکن بنانا ہوگا کہ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں اور سیکورٹی اداروں کے درمیان اختلافات ختم کئے جائیں اور یہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد رکھیں اور بھروسہ کریں۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ایاز وزیر۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Tuesday, April 7, 2015

TRANSLATION: An unwarranted agreement

An unwarranted agreement
ناقابل ضمانت معاہدہ
شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں ’اسپین وام‘ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے خاندان 31 مارچ کے روز واپس گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ خاندان بھی آج کل میں واپسی کے لئے تیار ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کی یہ واپسی مرحلہ وار تشکیل دی گئی ہے تاکہ سیکورٹی خدشات اور اِن کی مالی اِمداد کا کام ’بہ طریق احسن‘ سرانجام دیا جا سکے۔

نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی کا مرحلہ شروع ہونے پر یہ خاندان بہت خوش تھے لیکن ابھی اُنہیں راحت محسوس بھی نہیں ہوئی تھی کہ حکومت کی جانب سے ایک نیا تصور پیش کر دیا گیا جو ایک تحریری معاہدہ ہے اور اِس کی رو سے ہر نقل مکانی کرنے والے قبائلی خاندان کو ایک ’سماجی معاہدہ‘ دستخط کرنا ہے کہ وہ مستقبل میں اچھے کردار (قول و فعل) کا مظاہرہ کرے گا۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے اِس بات کہ پابند ہوں گے کہ وہ مستقبل میں اپنے قول و فعل کی کسی ممکنہ خلاف ورزی کے حوالے سے پکڑے جا سکیں۔ معاہدے کے تحت‘ شمالی وزیرستان کے رہنے والے پاکستان کے آئین اور فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آرز) کے پابند رہیں گے اور ایسے لوگوں کو پناہ نہیں دیں گے جو پاکستان کے دشمن ہیں اور وہ نہ ہی اپنی سرزمین پاکستان کے دشمنوں بشمول ملکیوں اور غیرملکیوں کو استعمال کرنے دیں جو دہشت گرد کاروائیوں اُور عسکریت پسندی سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی قبائلی اِس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اُسے اِس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا جاسکے گا۔ سزا و جرمانہ کیا جاسکے گا۔ یہ ایک قسم کا معاہدہ ہے جس میں قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو اپنے گردوپیش کے بارے میں محافظ بن کر زندگی بسر کرنا ہوگی کیونکہ معاہدے کی رو سے چاہے کوئی بھی ملکی یا غیرملکی اُن کے علاقوں میں پناہ لیتا ہے‘ اُن کے علاقوں کو استعمال کرتا ہے یا اگر کوئی کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم اُن کے علاقوں میں اپنا مرکز بنا کر کاروائیاں کرتی ہے تو اِس کے لئے متعلقہ قبائلی لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ ایف سی آر قواعد کے تحت ایسا پہلے بھی ممکن تھا اور قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو اُن کی سماجی ذمہ داریوں کے تحت ایسے جرائم کے لئے بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے‘ جس میں وہ براہ راست شریک نہیں۔ اِس معاہدے میں یہ شرط بھی درج ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب عناصر کی شناخت اور اُن کی گرفتاری میں معاونت کرنا بھی قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی ذمہ داری ہوگی اور اگر وہ اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون نہیں کریں گے تو اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔

قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے مرحلے پر اِس قسم کا معاہدہ تشکیل دینا کہ جس میں قبائلیوں سے مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی اُن کی کمزور سماجی حیثیت اور مضبوط و توانا خطرات کو دھیان میں رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا حربہ ہے‘ جس سے قبائلی عوام تحفظ کے احساس کی بجائے خود کو زیادہ خطرات میں گھرا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی اکثریت نہ تو وہاں کے حالات کے لئے ذمہ دار ہے اور نہ ہی اِس قسم کی طاقت رکھتی ہے کہ اَگر عسکریت پسند کسی علاقے کو اِستعمال کرنا چاہیں‘ تو وہ اِس کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ حکومت کو مطلع کریں یا اُن کے خلاف خود مزاحمت کرکے اپنے علاقے واگزار کرائیں۔ یہ ایک مشکل صورتحال ہے‘ جس میں قبائلیوں کا دو اطراف سے گھیراؤ ہو گیا ہے۔ جس مرحلے پر قبائلی اپنے آبائی علاقوں کو واپس جا رہے تھے اُس وقت حکومت کو چاہئے تھا کہ اُن سے زیادہ ہمدردی کرتی‘ اُنہیں زیادہ سہولیات اور ذہنی سکون دیتی لیکن اس کی بجائے ایک معاہدے کی صورت اُنہیں مزید تفکرات میں مبتلا کر دیا گیا ہے جو کسی بھی صورت منطقی نہیں۔ قبائلی پہلے ہی زخم خوردہ ہیں۔ اُن کے دل پہلے ہی افسردہ و غم زدہ ہیں۔ وہ عسکریت پسند نہیں اور نہ ہی اِس بات کے لئے ذمہ دار ہیں کہ جو کچھ بھی آج شمالی وزیرستان میں ہو رہا ہے۔ انہیں ایسے کسی جرم کے لئے قصور وار نہیں قرار دینا چاہئے جو اُنہوں نے سرزد کیا ہی نہیں۔ ضرورت تو اِس امر کی تھی کہ اُنہیں ذہنی صدمے اور سخت حالات کی وجہ سے پریشانیوں سے راحت دلانے کے لئے اقدامات کئے جاتے۔

قبائلی کے لئے نئے معاہدے کی صورت انتظامیہ نے آنے والے دنوں میں پیسہ بنانے کا ایک نیا راستہ تشکیل دیا ہے۔ وہ ذمہ داری جو حکومت کی تھی‘ اُسے قبائلیوں کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے!

برطانوی راج کے دوران افغانستان سے جڑے قبائلی علاقوں کے ریاست مخالف استعمال نہ ہونے کے امکان کے تحت ’ایف سی آر‘ قواعد میں ’اجتماعی ذمہ داری‘ کے عنوان سے چند اقدامات رکھے گئے تھے جیسا کہ اگر کسی کا علاقہ حکومت مخالف سرگرمیوں میں استعمال ہوا تو وہاں کے رہنے والے جملہ قبائل کو اِس کے لئے ذمہ دار سمجھا جائے گا اور اُن سب کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ جب پاکستان بنا تو ضرورت اِس امر کی تھی کہ ’ایف سی آر‘ کی بجائے پاکستان کا قانون قبائلی علاقوں پر لاگو کیا جاتا اور قبائل کی اجتماعی سماجی ذمہ داری کی بجائے قانون نافذ کرنا حکومت پاکستان اور انتظامیہ کی ذمہ داری ٹھہرائی جاتی لیکن ’ایف سی آر‘ کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا‘ جو مسائل کی جڑہے۔ جب پہلے ہی ایف سی آر جیسے ظالمانہ قواعد موجود ہیں تو کسی نئے معاہدے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے شمالی وزیرستان کے قبائلیوں کو اِس معاہدے کے تحت یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ پہلے زیادہ غلام اور پہلے سے زیادہ محکوم رہ کر زندگی بسر کریں گے اور اُن کی آزادی درحقیقت ایک غلامی ہی کی شکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کو تخلیق کرنے والا کون تھا اور وہ کون تھا جس نے اُنہیں قبائلی علاقوں میں منظم ہونے دیا؟

ضرورت اِس امر کی ہے کہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی ہرممکن امداد کی جائے۔ اُنہیں اپنی معیشت و معاشرت بحال کرنے کی سرگرمیوں میں ترجیحی بنیادوں پر معاونت کی جائے۔ اُن کے تحفظات کو سنا جائے لیکن اگر اس قسم کے معاہدوں پر اُن سے دستخط لئے جائیں گے تو اِس سے اُن کے دل مزید غمزدہ و رنجیدہ ہوں گے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ایاز وزیر۔ تلخیص و ترجمہ:شبیر حسین اِمام)

Wednesday, March 25, 2015

Mar2015 TRANSLATION Unjustice with FATA

Fata - the presidential order
قبائلی علاقہ جات: صدراتی حکمنامہ
جب بات قبائلی علاقوں سے متعلق امور کی آتی ہے تو وفاق کے زیرنگرانی اِن قبائلی علاقوں سے روا رکھا جانے والا سلوک بسااُوقات سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے جیسا کہ حال ہی میں سینیٹ کی خالی ہونے والی نشستوں کے لئے انتخابات ہوئے اور اِس میں قبائلی علاقوں کی سینیٹ نشستیں بھی شامل تھیں تاہم ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے اِس انتخابی عمل کو معطل کر دیا گیا اُور بعدازاں جب معاملہ عدالت تک جا پہنچا تو پہلے حکمنامے کو ختم کرکے دوسرا حکمنامہ جاری کر دیا گیا۔ اِس پوری کہانی سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ کس طرح اسلام آباد قبائلی علاقوں کو اپنی سیاست و دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کے مسائل کے حل اور وہاں تعمیر و ترقی کے عمل میں خاطرخواہ دلچسپی نہیں لے رہا۔

سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت (ہارس ٹریڈنگ) کے معاملے کو کچھ اِس طرح قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے جوڑا گیا کہ جیسے دیگر علاقوں اور جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اِس پورے گھناؤنے فعل میں شریک ہی نہ ہوں بلکہ صرف اور صرف قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی ہی اپنی تائید فروخت کر رہے ہوں۔ حقیقت یہ تھی کہ ہر رکن قومی اسمبلی اپنی اپنی استعداد اور تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سینیٹ ووٹ کے عوض کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور یہ ایک فطری عمل بھی تھا کہ ووٹ تو بہرحال کسی نہ کسی کو تو دینا ہی تھا لیکن اگر اس کے عوض کچھ مل جائے تو کوئی مضائقہ بھی نہیں۔ آخر ہم کیوں یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ پاکستان میں اصول کی سیاست دفن ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں۔ پاکستان میں پیسے کی طاقت سے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کا حصہ بننے کی روایت رہی ہے اور یہ روایت صرف سینیٹ تک ہی محدود نہیں بلکہ عام انتخابات کے موقع پر بھی ہمیں دولت کے کرشمے دکھائی دیتے ہیں تو جب یہ ساری قباحتیں موجود ہیں اور اِس بدعنوانی کے جملہ امکانات موجود ہیں تو پھر ساری کی ساری انگلیاں صرف اور صرف قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اراکین کی جانب کیوں اُٹھائی گئیں؟

کیا ’ہارس ٹریڈنگ‘ اصل مسئلہ ہے یا پھر کچھ ایسا بھی ہے جو حقیقت میں بہت ضروری ہے اور اسے خطرات لاحق ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حکومت یہ چاہتی تھی کہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اُن کے نامزد اُمیدواروں کے حق میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں لیکن جب اُنہیں خطرہ محسوس ہوا کہ ایسا نہیں ہوگا تو حکومت نے اُنہیں ووٹ دینے کے عمل ہی سے الگ کر دیا اور پولنگ سے چند گھنٹے قبل ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے قبائلی علاقوں کے نمائندوں سے ایک اُور امتیازی سلوک کیا گیا اور جب سینیٹ کے لئے چیئرمین کا معاملہ طے ہوگیا تو سینیٹ کے لئے قبائلی علاقوں کے مختص سینیٹروں کو ووٹنگ کا حق ’جوں کی توں‘ حالت میں دے دیا گیا۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا‘ کہ سینیٹ انتخابات کے لئے حالات کو موڑا توڑا گیا ہو۔ یادش بخیر 1948ء میں بھی جب یہ فیصلہ گیا کہ انگریز بہادر کی جانب سے 1901ء میں ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز ( ایف سی آر )‘ مسلط کردہ نظام کو جاری و ساری رکھا جائے۔ قبائلی علاقے کے عوام کو ایک مسلط کردہ نظام کے تحت ہی رہنے دیا گیا اُور قبائلی علاقوں کے لوگوں سے معاملہ منتخب نمائندوں کی بجائے سرکاری ملازمین کے ذریعے کیا جائے۔ ایف سی آر کے قواعد مسلط رکھے جانے سے قبائلی عوام کے حقوق غصب ہوئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب پاکستان کی تخلیق ہوگئی تو انگریز کا مسلط کردہ قانون ختم کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اُور جب قبائلی عوام کے نمائندوں نے پشاور میں بانی پاکستان سے ملاقات کی تو اُس ملاقات کو یہ رنگ دیا گیا کہ قبائلی نمائندوں نے ایف سی آر نظام کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا جو کہ سچ نہیں تھا۔ میرے ذاتی علم کے مطابق اُس وقت جن قبائلی عمائدین کو نمائندہ بنا کر قائد اعظم سے ملاقات کرنے کا شرف دیا گیا تھا اُن کا انتخاب افسرشاہی نے کیا تھا اور اُنہی نے اُن کے آنے جانے‘ کھانے پینے اور رہائش کے جملہ اخراجات ادا کئے تھے۔ یہ وہی افسرشاہی تھی جس نے قائداعظم سے قبائلی نمائندوں کی ملاقات کا ایجنڈا اُور پھر خود ہی اُس کا خلاصہ بھی طے کیا۔

پھر 1973ء کا آئین بنا تو بھی قبائلی علاقوں کو الگ رکھا گیا کہ جہاں کے رہنے والے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری حقوق سے محروم تھے اور محروم ہی رہے۔ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل نمبر 247(7) رکھنا سب سے بڑی ناانصافی تھی‘ جس سے قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کا آئینی استحصال ہوا۔ آئین کی اس مذکورہ شق کے تحت قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کے معاملات پارلیمنٹ میں نہیں اُٹھائے جاسکتے جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تو قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو اِس حق سے بھی محروم کر دیا گیا کہ وہ اپنے علاقوں کے گورنر بن سکیں! ترمیم میں کہا گیا کہ ’’ہر صوبے کا گورنر ہوگا‘ جس کا انتخاب صدر وزیراعظم کی سفارش سے کرے گا اور وہ گورنر متعلقہ صوبے کا ووٹر اور وہاں کا رہائشی ہوگا۔‘‘ چونکہ خیبرپختونخوا کا گورنر صدر کا نمائندہ ہوتا ہے اور اُسی کے ذمے قبائلی علاقوں کے امور بھی ہوتے ہیں اس وجہ سے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقوں کے رہنے والوں سے یہ حق بھی چھین لیا گیا کہ وہ اپنوں میں سے کسی کو گورنر بنا سکیں۔

کیا قبائلی علاقوں کے رہنے والوں سے اِس سے بڑا کوئی دوسرا مذاق ہو سکتا ہے کہ اُن پر دوسرے تو حاکم مقرر ہوسکتے ہیں لیکن وہ اپنے علاقوں کے خود حاکم نہیں بن سکتے! ضرورت اِس امر کی ہے کہ قبائلی علاقوں کے معاملات کا نگران گورنر کا تعلق بھی قبائلی علاقوں ہی سے ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں ایک صدارتی حکمنامے کی ضرورت ہے جس سے قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو کم از کم یہ حق تو ملنا چاہئے کہ وہ اپنے فیصلوں میں خودمختارہوں۔

قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کی صورت یہی ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو سنا جائے‘ انہیں فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کیا جائے اور مزید جانی و مالی نقصانات اور ترقیاتی عمل ککے لئے مختص مالی وسائل کی خردبرد کے قبائلی علاقے قبائلی عوام ہی کے کنٹرول (گورنرشپ) میں ہونے چاہیءں۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ایاز وزیر۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)