Showing posts with label CGPA. Show all posts
Showing posts with label CGPA. Show all posts

Thursday, August 27, 2015

Aug2015: Refinement of RTI

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
نیت کا فتور
پاکستان تحریک انصاف سے ’اِنصاف کی توقع‘ رکھنے والوں کے لب و لہجے میں بڑھتی ہوئی تلخی و سختی کے باوجود اس بات کا یقین بھی جھلکتا ہے کہ جس طرح صوبائی اسمبلی کے معاملات بشمول اراکین کی کارکردگی کے حوالے سے امور خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور جس انداز میں اِس معزز ایوان کو معلومات تک رسائی کے قانون 2013ء کے دائرہ کار سے الگ کر دیا گیا ہے تو یہ فیصلہ چیئرمین تحریک انصاف کی یقین دہانی کی روشنی میں ضرور واپس لیا جائے گا‘ جس کے بعد کوئی بھی شخص صوبائی اسمبلی کی کاروائیوں‘ قانون سازی کے جملہ مراحل‘ قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی‘ اخراجات (اراکین و ملازمین کی تنخواہیں و مراعات) اراکین کی حاضری وغیرہ جیسے امور کے بارے میں جاننے لء حق کا استعمال کر سکیگے۔ سردست یہ حق صرف اراکین صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں اور اگر انہیں اس کا تسلی بخش جواب نہ ملے تو دوبارہ ضمنی سوال یا سوالات بھی اٹھا سکتے ہیں اور اگر پھر بھی جواب نہ ملے تو کھڑے کھڑے ایک ہی سانس میں اپنے استحقاق کے مجروح ہونے کی قرارداد بھی پیش کر سکتے ہیں!

سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت دونوں ہاتھوں سے بجنے والی ایک ایسی تالی کا نام ہے جس میں منتخب نمائندے و حکومتی ادارے‘ عام آدمی کی تسلی و تشفی اور اُس کے لئے سہولیات میں اضافہ کرتے ہیں۔ حکومت اور عوام کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد کا رشتہ زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کے لئے طرز حکمرانی میں زیادہ سے زیادہ شفافیت لائی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کا مطلب رازداری سمجھ لیا گیا ہے‘ جو کہ آمرانہ حکومتوں کے ادوار کا خاصہ رہا ہے! یاد رہے کہ معلومات تک رسائی کا قانون صوبائی اسمبلی میں 23جون کو پیش جبکہ 30جون کو منظور کیا گیا لیکن بعدازاں اِس بل کی شق نمبر 28میں ترمیم کردی گئی‘ جس سے صوبائی اسمبلی پر اس قانون کا اطلاق نہ ہونے کی منظوری دے دی گئی۔ سردست ایک تکنیکی دشواری درپیش ہے اور وہ یہ کہ ’معلومات تک رسائی‘ کے قانون میں کی گئی ترمیم کو ایک اُور ترمیم سے ختم کرنے کے لئے جو مسودہ تیار کیا گیا ہے وہ جس معزز رکن اسمبلی نے یہ بل ایوان میں متعارف کرانا ہے وہ بیرون ملک دورے پر تشریف لے گئے ہیں اور اُن کی عدم موجودگی میں یہ ترمیم پیش نہیں کی جاسکتی۔ کیا کسی رکن اسمبلی کا بیرون ملک دورہ اِس قانون سے زیادہ اہم ہے؟ کیا اُنہیں بیرون ملک جانے سے قبل اِس بات کا علم نہیں تھا کہ معلومات تک رسائی کے قانون میں ترمیم اُن کی عدم موجودگی کی صورت ممکن نہیں ہو سکے گی؟ کیا حکمراں جماعت کے سربراہ کی یقین دہانی کو اِس قدر ہلکا سمجھا گیا کہ جب فرصت ملی تو اس پر عمل درآمد کر لیا جائے گا؟ کہیں صوبائی ایوان کے معاملات کو صیغۂ راز میں رکھنے کی ہرممکن کوشش کے سلسلے میں تاخیری حربے تو اختیار نہیں کئے جا رہے؟ کیا ہوگا اگر معلومات تک رسائی کے قانون کا اِختیار صوبائی اسمبلی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے اور پھر کوئی منچلہ یہ جاننے کے لئے ایک سادہ کاغذ پر درخواست دے ڈالے کہ تمام اراکین اسمبلی کی تعلیمی اسناد کی نقول فراہم کی جائیں! ظاہر ہے قانون کی رو سے یہ نقول فراہم کرنا ضروری ہوگا لیکن کیا اَراکین اسمبلی چاہیں گے کہ اُن کے تعلیمی کوائف یا منقولہ و غیرمنقولہ‘ اندرون یا بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات منظرعام پر آئیں یا ذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگیں؟

اِس مرحلۂ فکر پر یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ’معلومات تک رسائی‘ کے جس قانون میں ترمیم کی گئی اُس کی ترمیم کو ختم کرنے کے لئے دوسری ترمیم بذریعہ ’پرائیویٹ ممبر بل‘ لائی جارہی ہے۔ اگر حکومت اِس معاملے میں اپنے قول کی طرح عمل میں بھی سنجیدہ ہوتی اور خلوص نیت سے چاہتی کہ ’معلومات تک رسائی‘ کا دائرہ کار صوبائی اسمبلی تک پھیل جائے تو وہ ’پرائیویٹ ممبر بل‘ کی بجائے یہ ترمیم ’گورنمنٹ بل‘ کی صورت بھی لاتی۔ اگر نیت ہوتی تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’معلومات تک رسائی کے قانون میں ترمیم‘ اسمبلی کی پہلے سے طے شدہ کاروائی کی تفصیلات (ایجنڈے) میں شامل تو کرلی گئی ہے لیکن یہ ایک طویل عرصے تک ایجنڈے ہی کا حصہ رہے گی‘ جس سے متعلق اگر ذرائع ابلاغ بھی خاموشی اختیار کر لیں تو جلد ہی دیگر قوانین کی طرح یہ بات بھی عوام کی یاداشتوں سے محو ہو جائے گی۔ ’قاعدے قوانین‘ سے متعلق عمومی تاثر یہ ہے کہ ساخت کے اعتبار سے ان میں ایسی شقیں رکھی جائیں تاکہ اگر کبھی بااثر افراد اِس کی زد میں آئیں تو انہیں حسب توقع سہولت رہے۔

یہ طرزعمل صرف صوبائی قانون سازی کی حد تک محدود نہیں بلکہ وفاقی سطح پر قانون سازی کا بھی یہ خاصہ ہے کہ اس کی گرفت بااثر افراد پر ہلکی لیکن عام لوگوں (ہم عوام) پر بھاری ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر احتساب کے قوانین ملاحظہ کیجئے جس میں اربوں روپے کی بدعنوانی کرنے والے لاکھوں روپے ادا کرکے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ عام آدمی اگر چند مہینے کا بجلی بل ادا نہ کرے تو اس کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے لیکن جن کے ذمے کروڑوں روپے کے واجبات ہوتے ہیں‘ اُنہیں قواعد میں اتنی ہی زیادہ رعائت دی جاتی ہے! معلوم ہوا کہ ہمارے ہاں حکومتوں کی ترجیح عوام پر حکومت کرنا اور حکمراں طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو جو لوگ قومی وسائل کی لوٹ مار کرتے‘ تو چند فیصد ادا کر کے باعزت بری نہ ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ عوام کی نظروں میں قانون ساز اداروں کی ساکھ کم ترین سطح پر ہے اور اُس سے خوف ہے جب اِن معزز اداروں کے اراکین بھی اپنی باقی ماندہ ساکھ کھو دیں۔ عجب ہے کہ جو زیادہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کرتا ہے‘ جو جتنی بڑی بے قاعدگی میں ملوث ہوتا ہے اُس کی بعداز احتساب حصہ داری بھی زیادہ بنتی ہے! کسی حکومتی ادارے کو یہ اختیار کیسے دیا جاسکتا ہے کہ وہ عوام کے ٹیکسوں کے جمع ہونے والے پیسے میں خردبرد کرنے والوں کو ’لے دے کر‘ معاف کردیں؟ ایسے جملہ امتیازی قوانین و قواعد کی اصلاح ہونی چاہئے۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین اُور پیش نظر رہے کہ ’معلومات تک رسائی‘ کا قانون شفاف طرز حکمرانی کی منزل نہیں بلکہ اِس کی جانب (درست سمت) میں لیا جانے والا ایسا قدم ہے جو پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے کی طرف بڑھنا چاہئے۔
Amendment in RTI necessary as KP Govt using the delaying tactics to bring the changes

Monday, July 6, 2015

Jul2015: RTI & Self accountability

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اپنا گریباں چاک
جان لیجئے کہ وفاق کی سطح پر ’معلومات تک رسائی‘ کا قانون جو سال 2014ء میں تیار کرنے کے بعد ایوان بالا (سینٹ) کے سامنے غور کے لئے پیش کیا گیا تاحال منظور نہیں کیا جاسکا! اِس سلسلے میں تین جولائی کو وفاقی حکومت کی جانب سے سینیٹ کی اُس ’سٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن و براڈکاسٹنگ‘ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں ’رائٹ ٹو انفارمیشن بل 2014ء‘ منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا چونکہ اس قسم کی یقین دہانی پہلی مرتبہ نہیں کرائی جا رہی اِسی لئے سینیٹ کی مذکورہ ’اسٹینڈنگ کمیٹی‘ کے سربراہ سینیٹر کامل علی آغا اور دیگر اراکین اس بات پر شدید قسم کے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ شفاف طرز حکمرانی کے قیام کے لئے قانون کی منظوری میں غیرضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر ماہر قانون داں ہیں اور اِس مسودۂ قانون کی منظوری کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے علاؤہ رائے عامہ ہموار کرنے میں بھی پیش پیش ہیں‘ جن کا کہنا ہے کہ ’’سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے یہ بل 15جولائی 2014ء کو منظور کر دیا تھا لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ وفاقی وزارت اطلاعات نے اِسے 17 نومبر 2014ء کو ہوئے کابینہ کے اجلاس میں پیش نہیں کیا جہاں سے اِس کی منظوری ہونے کے بعد اسے پارلیمنٹ کے سامنے بطور حکومتی بل پیش ہونا ہے جو ایک آئینی تقاضا (طریقۂ کار) ہے۔یہ مسودۂ قانون عرصہ دو برس سے التوأ کا شکار ہے‘ جس کی کوئی منطق سمجھ نہیں آ رہی۔‘‘ ملاحظہ کیجئے کہ جنہیں دنیا جہان کی ہر منطق سمجھ آتی ہے اُنہیں یہ سیدھی سادی منطق سمجھ نہیں آ رہی کہ کوئی ’اپنا گریباں چاک‘ کرنا کیوں چاہے گا!

جہاں تک شفاف طرز حکمرانی کی اصولی بات ہے تو اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے جس میں شامل ہر وزیر اور مشیر ’تعصبات سے بالاتر حکمرانی‘ کے قیام کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو چاہے وہ موجودہ حکومت ہو یا ماضی کی سیاسی و آمرانہ حکومتیں ہر دور میں اِس بات کی کوششیں ہوتی رہی کہ عام آدمی کو اُن خاص باتوں کا علم نہ ہوسکے جو اقتدار و اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ’دن کی تاریکیوں اور رات کے اجالوں میں‘ طے کی جاتی ہیں۔ اِس مرحلۂ فکر پر یہ بات سمجھ لیجئے کہ بُرائی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس میں مبتلا شخص بھی اِس سے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص غرور و تکبر میں مبتلا ہے‘ تو وہ اپنے قول سے ہمیشہ اِس کی مخالفت میں وعظ و نصیحت کرتا ہوا دکھائی دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی اعلیٰ و ادنی حکومتی اہلکار رشوت لیتا ہے تو وہ اِس حرام کام کا سب سے بڑا مخالف دکھائی دے گا۔ ہم قسمیہ جھوٹ بولتے ہیں اور بیک وقت جھوٹ سے نفرت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ ہم محض اپنے فائدے کے لئے ظالم کی مدد کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں امانت و دیانت کے معیار مشکوک ہیں۔ ہم نے کرنسی نوٹوں پر تحریر تو کر دیا ہے کہ ’رزق حلال عین عبادت ہے‘ لیکن کتنے ہیں جو کرنسی نوٹ کی پشت پر لکھی ہوئی اِس عبارت اور سگریٹ کی ڈبی پر لکھے ہوئے اُس خطرے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ جس کا تعلق آخرت و دنیا کی زندگی میں کامیابی یا ناکامی سے ہے۔ ہم ’ملک خدا‘ میں ’خدا کا نظام‘ نافذ نہیں کرسکے اور سوائے اللہ کے بتائے ہوئے دیگر ہر ایک طرز حکمرانی کے اصولوں کو آزما آزما کر اُس غلطی کو دُہرا رہے ہیں جس کے ’منفی نتائج‘ ہر شعبہ ہائے زندگی میں دیکھے جا سکتے ہیں!

اسلام کے بتائے ہوئے طرز حکمرانی میں کوئی بھی شخص حاکم وقت سے کھڑے ہوکر پوچھ سکتا ہے کہ اُس کے تن پر کپڑے کہاں سے آئے اور یہی وہ احتساب ہے جس سے خوفزدہ اسلام دشمن طاقتوں نے ایسے حکمرانوں کو مسلط کر رکھا ہے جو ہمیں اسلام کو عبادات کی حد تک محدود اور قبول کرنے کی مشورہ دیتے ہیں۔ عالم کفر نہیں چاہتا کہ اسلام کا بطور طرز حکمرانی نفاذ ہو۔

اللہ کی حاکمیت پر یقین ہونا اور ملک خدا میں اللہ سبحانہ کی حاکمیت نافذ کرنا دو الگ الگ (متضاد) باتیں ہیں اور دونوں کے الگ الگ عملی تقاضے بھی ہیں۔ مغربی دنیا کو ایک ایسا اسلام تو قبول ہے جس میں ریاست کے فیصلوں اور وسائل پر شاہی خاندان نسل در نسل ’قابض‘ ہو لیکن اُسے نہ تو خلافت اور نہ ہی شوریٰ جیسے انقلابی طرز حکمرانی کے نظریات پسند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے استحکام کے نام پر اُس نظام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے اربوں ڈالر کی امداد دی جاتی ہے‘ جس میں شفافیت اور احتساب آئین کی شقوں میں تو کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے کی اختیار بھی خود حکمرانوں ہی کے پاس ہوتا ہے!

تصور کیجئے ایک ایسے نظام کا جس نے کم و بیش چودہ سو برس قبل نہ صرف حکمراں اور عام آدمی کو قانون کی نظر میں ایک قرار دیا بلکہ ’معلومات تک رسائی‘ کا تصور بھی متعارف کرایا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 8جون632ء کو دنیا سے پردہ فرماتے ہیں اور اپنی اکسٹھ یا باسٹھ برس کی زندگی میں تجارت اور محنت مزدوری پر مبنی معاشرت کی مثالیں اپنی ذات کی صورت کچھ اِس طرح پیش کرتے ہیں کہ مخالف بھی اُن کے صادق و امین ہونے کی گواہی دے اُٹھیں تو کیا صرف یہی ایک معجزہ کافی نہیں؟

آج ہم اِس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی حکومت ’فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس 2002ء‘ کی جگہ ’رائٹ ٹو انفارمیشن بل 2014ء‘ منظور کرے جس کے تحت حکومتی امور و فیصلہ سازی میں رازداری کا غالب عنصر ختم ہو جائے گا اور کسی حکومتی ادارے یا اہلکار کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرنا یا معلومات کو ضائع کرنا ایک جرم تصور ہوگا۔ یہاں تک کہ حکومت کی انتہائی خفیہ دستاویزات کو بھی عرصہ 20برس کے بعد عام آدمی دیکھ سکے گا۔

طرز حکمرانی اور مالی و انتظامی امور میں شفافیت کے لئے فیصلہ سازی اور حکومتی کارکردگی کے بارے میں ہرقسم کی ’معلومات تک رسائی‘ سے کم از کم جمہوریت کا ثمر عام آدمی تک پہنچ سکتا ہے لیکن یہ قانون اگر کابینہ کی منظوری سے لاگو ہو بھی جاتا ہے تو کسی بھی صورت اُس طرز حکمرانی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا‘ جس میں حکمراں اِس تصور ہی سے کانپ اُٹھتے تھے کہ اُن کی ریاست میں انسان تو کیا اگر کوئی جانور بھی پیاسا مر گیا‘ تو اِس کے لئے انہیں رب تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا! جس ملک کی ساٹھ فیصد آبادی کو ایک وقت کا کھانا میسر آنے کی اُمید نہ ہو‘ جہاں کی اکثریت پینے کے صاف پانی سے محروم ہو‘ جہاں حکومت ساٹھ لاکھ سے زائد بچوں کے لئے تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داری ادا نہ کر رہی ہو‘ وہاں محض معلومات پر منحصر کسی قانون سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا ’خودفریبی‘ ہوگی۔’’اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں۔۔۔ ہم یہ کیسا قدم اُٹھانے لگے!‘‘

Sunday, July 5, 2015

Jul2015: Right to Information, the hopes!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
توقعات
خیبرپختونخوا کی قانون ساز اسمبلی کے معزز اراکین نہ صرف شایان شان مغلیہ ’حفظ مراتب‘ رکھتے ہیں بلکہ کانچ سے بھی نازک استحقاق رکھنے والوں کا ایوان بھی خاص ہے جس کی کارکردگی سے متعلق اگر کوئی عام آدمی جاننا چاہے تو اُس کی راہ میں ایک نہیں بلکہ دو قانون رکاوٹ بنیں گے۔ پہلا قانون 1975ء میں منظور ہوا تھا جس میں اراکین اسمبلی کی مراعات طے کرتے ہوئے (شاید روانی میں) یہ بات بھی لکھ دی گئی کہ اسمبلی کی کاروائی ’صیغہ راز‘ میں رکھی جائے گی۔ پھر ’پرویلیجیز ایکٹ‘ سے متصادم ’رائٹ ٹو انفارمیشن‘ یعنی معلومات تک رسائی کا وہ عمومی قانون بنا جس کا اطلاق صوبائی حکومت کے ہر محکمے پر کر دیا گیا لیکن اِسے 1975ء کے آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے 23جون کو ایک آئینی ترمیم پیش کی گئی جس کا لب لباب یہ ہے کہ ’معلومات تک رسائی‘ کے قانون سے صوبائی اسمبلی اور اس کے اراکین مستثنیٰ ہوں گے۔ ’’اک لہر مجھے کھینچ کے لے آئی بھنور میں۔۔۔ وہ لہر‘ جسے میں نے کنارے سے اُٹھایا۔‘‘ یادش بخیر 31 اکتوبر 2013ء کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین نے جب ’معلومات تک رسائی‘ کا قانون منظور کیا تو اس کا مقصد واضح تھا اور وہ یہ کہ ’’ماضی کی طرح حکمرانی کے راز‘ راز نہیں رہیں گے۔ شفاف طرز حکمرانی اُور جمہوریت کو توانا بنانے کے لئے کسی بھی شخص یا ادارے سے متعلق معلومات محدود نہیں رکھی جائیں گی۔‘‘ عوام کو یہ مشروط حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی حکومتی فیصلے اور عمل کے بارے میں جب کبھی بھی جاننا چاہیں تو متعلقہ سرکاری محکمہ حسب منشاء‘ حسب تشفی معلومات فراہم کریں۔ یہی وجہ تھی کہ اِس قانون کو دنیا کے چند بہترین قوانین میں شمار کیا گیا اور خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت کے مرکزی قائدین ہر تقریب میں اِس قانون (اعزاز) کا فخریہ ذکر کرنے لگے لیکن آخر ایسا کیا ہوا کہ صوبائی قانون سازوں کی 31 اکتوبر 2013ء والی سوچ 23جون 2015ء تک آتے آتے یکسر تبدیل ہو گئی؟ آخر 600 دن بعد اِس بات کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی کہ صوبائی اسمبلی کی کاروائی اور اس کے اراکین کے بارے میں معلومات خفیہ ہوں تو بہتر ہوگا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ 1 سال 7ماہ اُور 23 دن کے تجربے سے یہ نتیجہ اخذ ہوا ہو کہ اگر ’معلومات تک رسائی‘ کے قانون پر عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے اور ہر خاص و عام اِس کا استعمال شروع کر دیتا ہے تو اس سے اراکین صوبائی اسمبلی کی کارکردگی کا عام انتخابات سے قبل ہی احتساب ہونا شروع ہو جائے گا؟

خیبرپختونخوا کی پیروی کرتے ہوئے ’معلومات تک رسائی کا قانون ایک مختلف نام کے ساتھ پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے 12 دسمبر 2013ء کے روز منظور کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ہونے والی یہ قانون سازی وفاقی حکومت کی جانب سے 2002ء‘ بلوچستان حکومت کی جانب سے 2005ء اور سندھ حکومت کی جانب سے 2006ء میں منظور کئے جانے والے ایکٹ سے کہیں گنا زیادہ طاقتور اُور جامع تھی کیونکہ اِس میں نہ صرف ہر حکومتی محکمے کی کارکردگی یا فیصلوں اور حکومتی حکمت عملیوں سے متعلق معلومات طلب کی جاسکتی تھیں بلکہ ادنی و اعلیٰ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اُور مراعات کی بابت بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ کون کیا ہے‘ کیا خرچ کر رہا ہے‘ کیا خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘ کسی ترقیاتی منصوبے کے لئے کتنے مالی وسائل مختص کئے گئے‘ کسی ایک یا بہت سے تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے کن افراد کو دیئے گئے‘ سرکاری محکموں میں ملازمتیں کس اہلیت کی بنیاد پر دی گئیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ یہ بات شاہانہ مزاج رکھنے والوں کو کہاں ہضم ہو سکتی تھی اور یہی سبب تھا کہ صوبائی اسمبلی کو مستثنیٰ قرار دینے کے لئے ایک ترمیم لائی گئی جو آناً فاناً بناء اختلافی نوٹ منظور کر لی گئی۔ کاش عوام کے مفاد کا کوئی قانون بھی منظور کرانے میں بھی اِسی قدر مستعدی کا مظاہرہ موجود ہونے کی کوئی مثال موجود ہوتی! یقیناًاراکین اسمبلی کے بعد سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور فیصلہ سازی کو بھی مستثنیٰ قرار دینے کی ترمیم زیرغور ہو گی کیونکہ بدعنوانی کی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی بلکہ اس میں سیاسی حکمرانوں کے ساتھ افسرشاہی کی شراکت داری سانجھی ہوتی ہے!

عام آدمی کو جان و مال کا تحفظ اُور انصاف جیسے اُوجھل بنیادی تقاضے کے علاؤہ پینے کے صاف پانی جیسی بظاہر معمولی دکھائی دینے والی ضرورت تک رسائی چاہئے۔ حکومت کی سرپرستی میں بلاامتیاز‘ غیرطبقاتی‘ یکساں نصابی نظام تعلیم کب اور کیسے رائج ہوگا۔ مالی وسائل نہ رکھنے والوں کو علاج کی معیاری سہولیات کب میسر آئیں گی۔ رشوت‘ سفارش اور سیاسی تعصب سے پاک طرز حکمرانی کے قیام کا وعدہ کس کا تھا اُور اِسے کون ایفاء کرے گا۔ اِس خواب کو حقیقت کا جامہ کون پہنائے گا کہ ’آئندہ ذاتی و سیاسی مفادات حکومتی فیصلہ سازی پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔‘ منتخب نمائندوں سے وابستہ توقعات پوری ہونے میں مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔ سرکاری وسائل کے استعمال میں احتیاط کیا محض انتخابی وعدہ تھا۔ جان لیجئے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندگی کرنے والوں کے قول و فعل سے امانت و دیانت اور صداقت کی بوندیں اُس وقت تک نہیں ٹپکیں گی‘ جب تک وہ اپنی ہی خواہشات اور خودفریبی کے حصار سے باہر نہیں آ جاتے۔ اس صورت میں بس ایک ہی صورت باقی بچی ہے کہ دوسروں کا قبلہ درست کرنے والے اصلاح و تبدیلی کا آغاز اپنی ذات گرامی و کارکردگی کے احتساب سے کریں۔ اگر دال میں کچھ بھی کالا نہیں تو پھر سرکاری محکموں بشمول صوبائی اسمبلی کے ہر رکن کے ایک سے زیادہ چہرے کیوں ہیں۔ کیا وقت کا تقاضا نہیں کہ افراد اور محکموں کی کارکردگی‘ سرخ فیتے اور کار سرکار سے جڑی رازداری جیسی روایات کا تسلسل ختم ہونا چاہئے۔’’ایسا کرتے ہیں اُلٹ دیتے ہیں زنبیل حیات۔۔۔ اُور اس میں سے کوئی کام کا پل ڈھونڈتے ہیں!‘‘