Showing posts with label LNG. Show all posts
Showing posts with label LNG. Show all posts

Sunday, September 20, 2015

Sep2015: TRANSLATION: LNG

LNG
مائع گیس
قانونی صورتحال: 28مارچ 2002ء کو پاکستان کی ’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اُوگرا)‘ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد ملک میں تیل و گیس کی فراہمی‘ لین دین اور قیمتوں کے تعین سے متعلق معاملات کو دیکھنا تھا۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں مائع گیس (ایل این جی) کی فراہمی کا کاروبار تین مختلف اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ ان میں ’پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس اُو)۔ سوئی سدرن گیس کمپنی اور پاکستان سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹیڈ شامل ہیں۔ اوگرہ نے اِن تینوں اداروں کو متنبہ کیا کہ وہ تیل و گیس کی قیمتوں‘ فروخت اور ایل این جی کے حوالے سے جو بھی کاروبار کر رہے ہیں چونکہ اُن کے کرنے کے لئے دستاویزی تقاضے پورے نہیں کئے گئے اِس لئے یہ قانون کی نظر میں ایک غیرقانونی کام ہو رہا ہے۔

31 اگست کے روز اُوگرا کی جانب سے ایک پی ایس اُو‘ سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے نگرانوں کو ایک مکتوب ارسال کیا جاتا ہے جس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جس قیمت پر اِن اداروں نے ایل این جی خریدی اُس سے متعلق حکومت کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 30 ارب روپے مالیت کی ایل این جی درآمد کی گئی لیکن اُس کی قیمت کے تعین سے متعلق اوگرا کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزی تفصیلات فراہم کی گئیں کہ یہ 30ارب روپے کی مائع گیس کس نرخ پر فروخت کی جائے گی۔ آئینی طور پر ایسا کرنے کے لئے دستاویزی طور پر اوگرا کو آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

سوئی سدرن کے اثاثہ جات کی کل مالیت 18 ارب روپے ہے جبکہ اس پر قرضوں کا بوجھ 66 ارب روپے ہے اور یہ ادارہ برسوں پہلے ہی دیوالیہ ہو چکا ہے‘ جس کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور اُن کے مشیر رہے ڈاکٹر عاصم حسین کا شکریہ اَدا کرنا چاہئے۔ سوئی نادرن کی مالی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں اور وہ دیوالہ ہونے کے قریب ہے۔ 17ستمبر کے روز ’پی ایس اُو‘ نے جو قرض وصول کرنے تھے اُن کی مالیت 232 ارب روپے تھے جس میں 17ارب روپے کا وہ گردشی قرضہ بھی شامل ہے جو ’ایل این جی‘ کی درآمد و سودوں میں گذشتہ 6 ماہ کے دوران تخلیق ہوا ہے۔ یہ بات ذہن نین رہے کہ سوئی سدرن کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) زبیر صدیقی جنہوں نے ’ایل این جی ٹرمینل‘ کا معاہدہ کیا تھا‘ اِن دنوں مالی بدعنوانیوں کے جرم میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی زیرحراست ہیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ایم ڈی سوئی نادرن عارف حمید نے ’ایل این جی معاہدے‘ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اُنہیں جبراً عہدے سے مستعفی کر دیا گیا۔

پاکستان میں ’ایل این جی‘ کی فراہمی کے تین مراحل ہیں۔ ایک ایل این جی فراہم کرنے والے ہیں۔ دوسرا ایل این جی ذخیرہ کرنے والے اور تیسرا اس کی فروخت کرنے والے ہیں۔ پاکستانی ادارے نے قطر گیس سے ایل این جی خریدنے کا ایسا معاہدہ کیا جس میں اُسے یومیہ 2 لاکھ 72 ہزار 479 آئندہ پندرہ برس تک ادا کرنے پڑیں گے لیکن یہ معاہدہ کرنے سے قبل ’مائع گیس‘ کی خریداری کے ممکنہ خریداروں سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی بجلی پیدا کرنے والے نجی پیداواری اداروں کو اعتماد میں لیا گیا کہ وہ درآمد کی جانے والی ’ایل این جی‘ کو خرید سکیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے صرف اور صرف اہم بات یہ تھی کہ قطر سے مائع گیس بھاری قیمت پر خریدی جائے۔ آگے اِس گیس کا کیا کرنا ہے اور اس کی فروخت کیسے ہوگی‘ اس بارے میں سوچ بچار نہیں کی گئی!

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بجلی کے پیداواری ادارے ایسی مائع گیس کبھی بھی خریدنا پسند نہیں کریں گے جو فرنس آئل (متبادل ایندھن) کے قیمت سے کم از کم 20فیصد زیادہ مہنگی ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سوئی سدرن جو کہ دیوالیہ ہو چکی ہے اور سوئی نادرن کہ جس کی مالی حیثیت اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے یہ دونوں ادارے بھلا کمزور مالی حیثیت کے سبب کیسے آئندہ برس ہا برس تک یومیہ 2 لاکھ 72 ہزار 479 ڈالر ادا کرسکیں گے!

بھارت نے بھی مائع گیس درآمد کی جس کی فی ایم ایم بی ٹی یو (یونٹ) قیمت 6.65 ڈالر ادا کی گئی جبکہ پاکستان نے درآمد کرنے والی ایل این جی کی قیمت فی ’ایم ایم بی ٹی یو (یونٹ)‘ 8.3080 ڈالر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے مہنگے داموں ایل این جی خریدی ہے تو اس کی فروخت ایک بڑا مسئلہ ہوگی۔

13مارچ 2015ء کے روز ’پورٹ قاسم بندرگاہ انتظامیہ‘ نے تحریری طور پر متعلقہ وزارت کو لکھا کہ ایل این جی کو کراچی کی بندرگاہ پر جہازوں سے حاصل کرنے کے لئے درکار وسائل موجود نہیں اور انہیں وسعت دینے کے لئے 20 کروڑ ڈالر کے ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہوگی لیکن یہاں صرف پیسہ ہی درکار نہیں بلکہ بہت سا وقت بھی درکار ہے! ایسا صرف فلمی دنیاؤں میں ہی ہوتا دیکھا گیا کہ غلط فیصلوں کے اچھے نتیجے برآمد ہوں۔ عملی زندگی میں ہمیں وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے ہم کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے ادارے اِس بات پر تلے ہیں کہ وہ مہنگے داموں مائع گیس خرید کر اُسے مزید مہنگے داموں فروخت کریں گے تو یہ گیس خریدنے والے کہاں سے آئیں گے۔ کیا غلط فیصلوں کا بوجھ عوام کو منتقل کر دیا جائے گا؟

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ:  شبیر حسین اِمام)

Sunday, April 19, 2015

TRANSLATION: $272000 Per Day!

$272,000 per day
غیرمنطقی خمیازہ
مائع گیس (ایل این جی) ایک منافع بخش کاروبار ہے‘ جس سے وابستہ ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یاد رہے کہ ایک نجی ادارے ’ایلینگی ٹرمینل پاکستان لمیٹیڈ‘ کے سربراہ نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے ادارے نے کراچی کی بن قاسم بندرگاہ پر ایک ’ایل این جی ٹرمینل‘ نامی ترقیاتی منصوبہ مکمل کر لیا ہے جس پر 15 کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان حکومت نے 18 کروڑ 80 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی طرف سے ایلینگی نامی اِس نجی کمپنی سے ایک معاہدہ دستخط کیا ہے جس میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ حکومت پاکستان چاہے بن قاسم بندرگاہ پر تعمیر ہونے والے ’ایل این جی ٹرمینل‘ کی سہولت سے استفادہ کرے یا نہ کرے لیکن وہ مذکورہ کمپنی کو ’یومیہ 2 لاکھ 72 ہزار ڈالر‘ اَدا کرے گا!

جب ہم 2 لاکھ 72 ہزار ڈالر کو پورے سال سے ایام سے ضرب دیتے ہیں تو یہ رقم 97 کروڑ ڈالر سالانہ سے زیادہ بنتی ہے کیونکہ حکومت پاکستان ایک معاہدے کی رو سے پابند ہے کہ وہ مذکورہ کمپنی کو اُس کی کل سرمایہ کاری کا 65فیصد حصہ ایک سال میں واپس کرے گا۔ القصہ مختصر مذکورہ ادارہ صرف 600دن میں اپنی پوری سرمایہ کاری حکومت پاکستان سے واپس وصول کر لے گا۔

ایلینگی ٹرمینل پاکستان لمیٹیڈ نامی کمپنی کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حصص داروں اور کمپنی کے مفاد میں ایسے کسی ایک یا زیادہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے‘ جس میں اُس کی سرمایہ کاری محفوظ بھی ہو اور اس پر زیادہ سے زیادہ منافع بھی حاصل ہو۔ کمپنی نے اگر بن قاسم بندرگاہ کراچی پر ’ایل این جی ٹرمینل‘ تعمیر کرنے میں ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ چھ سو دن میں یہ سرمایہ کاری واپس وصول بھی کر لے گی تو اِس سودے میں کچھ بھی غیرقانونی نہیں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ پاکستان حکومت نے سودا کرتے ہوئے اٹھارہ کروڑ اسی لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے مفاد کو پیش نظر نہیں رکھا۔ ایک ایسے ملک کی معیشت اور اپنی غربت بھی ہمارے حکمرانوں کو یاد نہیں رہی‘ کہ کس طرح ’الاماشاء اللہ‘ پائی پائی مانگ کر ملک کے انتظامی معاملات شایان شان طور اور شاہانہ انداز میں چلائے جا رہے ہیں!

جب یہ کہا جاتا ہے کہ مائع گیس کی درآمد ایک منافع بخش کاروبار ہے تو اِس کی دلیل یہ ہے کہ مارکیٹ میں فی ایم ایم بی ٹی یو مائع گیس کی قیمت 6.90 ڈالر ہے جسے 8 ڈالر کے عوض خریدا جاتا ہے اور یوں ہر ایک مائع گیس سے بھرے بحری جہاز کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی 30 لاکھ ڈالر اضافی منافع ادا کر دیا جاتا ہے! اگر ایک ماہ میں زیادہ نہیں مگر صرف 2 بحری جہاز مائع گیس سے بھرے ہوئے پاکستان آتے ہیں تو ایک سال میں 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر (مارکیٹ میں مروجہ قیمت سے) زیادہ بمعہ اضافی منافع ادا کئے جائیں گے۔

مزید جانئے کہ ضلع مظفر گرڈ اور مائع گیس کی درآمد کے درمیان بھی ایک تعلق موجود ہے۔ کوٹ ادو پاور کمپنی پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا نجی ادارہ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ یومیہ 1600 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی اجازت سے کوٹ ادو پاور کمپنی کو ’مائع گیس‘ 14.30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے تناسب سے فراہم کی جائے گی۔

جب پاکستان مائع گیس درآمد کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا تو مجھ معاشی امور کے جائزہ کار سمیت بہت سے اقتصادی ماہرین کو اِس بات کا یقین تھا کہ مائع گیس کی درآمد کا اصل مقصد یہی ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کو سستا ایندھن میسر کیا جائے تاکہ پیداواری خرچ کم کرکے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی لائی جاسکے حسب طلب مقدار میں کم ہونے کے علاؤہ عام آدمی کی قوت خرید سے زیادہ تھی لیکن جس بھاری قیمت کے عوض ’مائع گیس‘ خریدی گئی ہے اُس سے صرف اور صرف فیصلہ سازوں اور سرمایہ داروں کو ہی فائدہ ہوگا‘ جنہیں باآسانی دولت کمانے کا ایک اُور نادر موقع ہاتھ آ گیا ہے۔

یقیناً’مائع گیس‘ کا کاروبار انتہائی منافع بخش دھندا ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے نجی ادارے سالانہ اوسطاً 40فیصد کی شرح سے منافع کما رہے ہیں۔ پاکستان میں بینکاری کا شعبہ سالانہ اوسطاً 30فیصد کے تناسب سے منافع کما رہا ہے۔ اگر ہم گذشتہ چودہ برس کی اوسط نکالیں تو پاکستان میں حصص کے کاروبار سے وابستہ سرمایہ کار سالانہ اوسطاً 24 فیصد منافع کما رہے ہیں لیکن اِن تینوں شعبوں کے منافع کا موازنہ ’مائع گیس‘ سے نہیں کیا جاسکتا جس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو سالانہ اوسطاً 65فیصد کے تناسب سے منافع حاصل ہوگا یقیناًبجلی کے پیداواری ادارے‘ بینکار اور حصص کا کاروبار کرنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ وہ بھی کیوں نہ ’مائع گیس‘ ہی کے ’دھندے‘ کا حصہ بن جائیں!

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)
$272،000 per day

Sunday, April 12, 2015

Apr2015: Translation LNG by Dr Farrukh

LNG
مائع گیس
پاکستان اور قطر کے دو سرکاری اداروں (پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لیمٹیڈ اُور قطرگیس آپریٹنگ کمپنی) کے درمیان ’مائع گیس‘ کی خریدوفروخت کا ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں تین بنیادی خامیاں نظر آتی ہیں۔ مائع گیس کی قیمت‘ مقدار (حجم) اور اِس معاہدے کے طویل المدت ہونے سے سودے میں پاکستان سے زیادہ قطر کے مالی مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اِن تین امور کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے اب کسی بھی ادارے سے مائع گیس کی خریداری کا اِس قدر طویل المدت معاہدہ نہیں کیا۔ اس معاہدے کی رو سے پاکستان مائع گیس وقتی قیمت کی بنیاد پر خریدے گا‘ اِسے ’سپاٹ بیس خریداری‘ کہا جاتا ہے جس میں کسی جنس کی خریداری کے وقت اُس قیمت کے مطابق ہوتی ہے جو ہر خریداری پر رضامندی کے دو دن مارکیٹ کی عام قیمت ہوگی۔

چھبیس مارچ کو قطر سے 1لاکھ 47ہزار کیوبک فٹ مائع گیس کراچی پہنچ جاتی ہے لیکن وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل نہ تو مائع گیس کی قیمت کا اعلان یا تعین کرتی ہے اور نہ ہی یہ بات بتائی جاتی ہے کہ یہ گیس کسے فروخت کی جائے گی۔ جب یہ بات ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوچھی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ گیس دو ادارے خریدیں گے۔ ذرائع ابلاغ ہی اِس بات کا کھوج نکالتے ہیں کہ قطر سے گیس کی خریداری کے پہلے سودے میں ادائیگی پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی (پی ایس اُو) نے کی تھی اور بعدازاں ذرائع ابلاغ کو کہا جاتا ہے کہ ’’8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (ون ملین برٹش تھرمل یونٹس) کے عوض مائع گیس خریدی گئی ہے۔‘‘

جس وقت پاکستان ’آٹھ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو‘ کی قیمت پر ’مائع گیس‘ خرید رہا تاھ اُس وقت عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت 6.90 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔ یاد رہے کہ مائع گیس کی پہلی خریداری کے سودے میں چونکہ پاکستان نے مارکیٹ کی قیمت سے مہنگی مائع گیس خریدی ہے اِس لئے ادا کی گئی قیمت 30 لاکھ ڈالر زیادہ ہے۔
پاکستان نے (فی ایم ایم بی ٹی یو) 8 ڈالر کے عوض جو مائع گیس خریدی ہے‘ جب اُس کی قیمت میںآمدروفت اور دیگر اخراجات شامل کئے جائیں تو (فی ایم ایم بی ٹی یو) کی قیمت 11.50 سے 12.50 ڈالر تک جا پہنچتی ہے یا اِس سے کچھ زیادہ۔ اگر یہ مائع گیس بجلی کی پیداوار میں استعمال کی جاتی ہے تو اس سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت بھی زیادہ ہوگی اور اس زیادہ قیمت کے تناسب کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ تیل جیسے مہنگے ایندھن کے مقابلے مائع گیس سے پیدا ہونے والی بجلی زیادہ داموں فروخت کی جائے گی۔

تصور کیجئے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی موجودہ قدرتی گیس کی قیمت 2.90ڈالر (فی ایم ایم بی ٹی یو) ہے۔ تصور کیجئے کہ ایران سے بذریعہ گیس پائپ لائن حاصل ہونے والی گیس 6 ڈالر (فی ایم ایم بی ٹی یو) حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ امر بھی ذہن میں رہے کہ چین کے صدر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں صرف پاکستان حکومت کو اِس منصوبے سے متعلق فیصلہ کرنا ہے۔

وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے مطابق مائع گیس کی پہلی خریداری نجی شعبے کے لئے کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں میرا نکتۂ نظر یہ ہے کہ اگر نجی شعبے کو مائع گیس درآمد کرنے کی ضرورت تھی تو اُس نے خود یہ درآمد کیوں نہیں کی اور پاکستان حکومت کیوں خود کو مائع گیس کے درآمدی سودوں میں ملوث کرنا چاہتی ہے؟ اگر نجی شعبہ مائع گیس درآمد کرنا چاہتا ہے تو وہ حسب ضرورت یہ کام خود بھی کرسکتا ہے لیکن اگر نجی شعبہ اپنی ضروریات کے مطابق مائع گیس درآمد کرنے لگ پڑے تو پھر ہم جیسے نقادوں اور تجزیہ کاروں کا کام تو ٹھپ ہی ہو جائے گا!

کم و بیش اکیس برس قبل‘ پاکستان حکومت نے 1994ء کی ’پاور پالیسی‘ کے تحت ایک درجن بجلی پیدا کرنے کے نجی اداروں کے ساتھ معاہدے کئے تھے۔ اکیس برس قبل ہی بجلی پیدا کرنے یہ معاہدے پندرہ سے تیس برس کی مدت کے لئے کئے گئے۔ گذشتہ اکیس برس کے دوران پاکستان نے 2 کھرب ڈالر کا نقصان کیا ہے! تصور کیجئے کہ جب پاکستان حکومت نے نجی اداروں سے بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ پندرہ سے تیس برس کے لئے کیا اُور اُس سے 2 کھرب ڈالر کا خسارہ ہوا تو جب مائع گیس کی خریداری کا ایک ایسا معاہدہ کیا جاتا ہے جس کی حتمی مدت ہی طے نہیں کی جاتی تو اِس سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوگا!

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق ’’مائع گیس کی خریداری کا معاہدہ 22 ارب ڈالر مالیت کا ہے‘ جسے طے کرتے ہوئے اِس قسم کی بڑی خریداری سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘‘

تصور کیجئے کہ اینگرو نامی ادارے جس نے بندرگاہ پر ’مائع گیس ٹرمینل‘ بنانے پر 15کروڑ ڈالر (150ملین) کی سرمایہ کاری کی ہے‘ وہ صرف 18ماہ میں اپنی تمام سرمایہ کاری 65فیصد کی شرح سے حاصل ہونے والے منافع سے کما لے گی۔ تصور کیجئے کہ حکومت نے بندرگاہ پر مائع گیس کا ٹرمینل لگانے والے نجی شعبے کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے لیکن 17فیصد ٹیکس صارفین پر لاگو کیا گیا ہے۔

دنیا میں جہاں کہیں بھی مائع گیس سے استفادہ کیا جاتا ہے وہاں چار قسم کے اقدامات بہتر انتظامی معاملات کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو مائع گیس کی درآمد میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ دوسرا مائع گیس کی قیمت کا تعین کرنے کے لئے حکومتی عمل دخل نہیں ہوتا۔ تیسرا مائع گیس کی درآمد کی اجازت سے مقابلے کی فضاء پیدا ہوتی ہے اور مختلف ادارے اپنی قیمتوں کو ایک دوسرے سے کم رکھتے ہیں جس سے صارفین کو فائدہ ہوتا ہے اور چوتھا امر یہ ہوتا ہے کہ مائع گیس کی درآمد سے متعلق امور شفاف اور آزادانہ انداز میں قانونی طورپر مرتب کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان کی وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل کی جانب سے مائع گیس خریداری کا جو معاہدہ اور خریدوفروخت کی جارہی ہے اُس میں نہ تو قانونی طور پر شفافیت دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی جنس کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم سے کم قیمتوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ مہنگے داموں گیس کی خریداری سے اِس کے استعمال سے حاصل ہونے والی جنس بھی لامحالہ مہنگی ہوگی‘ جس کی ادائیگی پاکستان کے عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ دوسری بات مائع گیس کی خریداری اور درآمد نجی اداروں کے سپرد نہیں کی گئی جس سے مقابلے کی فضاء پیدا نہیں ہوئی اور ایک ادارے کی اجارہ داری قائم ہوئی ہے۔ تیسرا نکتہ مائع گیس کی قیمت کے تعین میں مارکیٹ کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور چوتھا نکتۂ جو مائع گیس کی ادا کردہ قیمت اور اس کی مہنگے داموں فروخت کے سودوں سے متعلق ہے پر حکومتی اداے کی اجارہ داری ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔تلخیص و  ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Monday, March 23, 2015

Mar2015: TRANSLATION: Stop secret contracts

The $21 billion LNG question
مائع گیس خریداری: بے قاعدگیاں
پاکستان نے مائع گیس (ایل این جی) کی خریداری اور درآمد کرنے کا ایک معاہدہ کیا ہے اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں لیکن اِس معاہدے اور خریداری سے متعلق تفصیلات کو غیرضروری طورپر خفیہ رکھا جا رہاہے جس کی وجہ سے اِس پورے عمل پر شکوک کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اگر حکومت شفاف طرزعمل اختیار کرے اور مائع گیس کی خریداری و درآمد سے متعلق جملہ تفصیلات قوم کے سامنے رکھ دیتی تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔ کیا ’مائع گیس‘ کی خریداری قومی خزانے سے نہیں کی گئی؟ جب پیسہ قومی خزانے سے خرچ کیا گیا ہے تو پھر عوام کو ضرور بتانا چاہئے کہ اُن کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والا یا اُن کے نام پر قرض حاصل کرکے مالی وسائل کہاں اور کیسے خرچ کئے گئے ہیں۔ شفاف طرزحکمرانی اور مضبوط جمہوری نظام کی خصوصیات یہی ہوتی ہیں کہ اِس میں حکومت اپنے ہر ایک اقدام کے لئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔

کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان نے یومیہ 2لاکھ 72 ہزار کے عوض مائع گیس کی خریداری کا ایک معاہدہ دستخط کیا ہے؟ کیا یہ بھی سچ نہیں کہ ہمارے ملکی قوانین کے مطابق کسی بھی ایسے بڑے معاہدے کی تفصیلات خفیہ نہیں رکھی جا سکتیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ کسی بھی ایسے بڑے معاہدے کی شفافیت ممکن بنانے کے لئے یہ بات حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لین دین کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کرے؟ آخر کیا سبب تھا کہ جب مائع گیس کی خریداری کا سودا کیا جا رہا تھا تو اُس پورے عمل کو رازداری سے سرانجام دیا گیا کہ فیصلہ سازوں کے علاؤہ کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہو؟ اگر مائع گیس خریدنا تھی تو ٹینڈر کا عمل اِس انداز سے کیوں نہیں کیا گیا‘ جس سے پاکستان کو مائع گیس فراہم کرنے والوں کے درمیان مقابلے کی وجہ سے فائدہ ہوتا؟ آخر کیا وجہ ہے کہ مائع گیس کی خریداری کے معاہدے میں درج شقیں اور معاہدے کو عام آدمی کی پہنچ سے دور رکھا گیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں شفافیت کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے تو اس سے خریدنے والی چیز کا معیار بہتر حاصل ہوتا‘ قیمت کم ملتی ہے اور معاہدہ خریدار کے حق میں مفید رہتا ہے لیکن اگر معاملات خفیہ رکھے جاتے ہیں تو اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ فیصلہ سازوں کی نااہلی عیاں ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر بدعنوانی کا امکان موجود رہتا ہے۔ جب کوئی حکومت ایسے معاہدے کرتی ہے‘ جن میں مالی وسائل کا استعمال ہو رہا ہوتا ہے تو اس سے معاہدے کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے اور بس۔

مارچ 2015ء میں عالمی سطح پر ’مائع گیس‘ کی قیمت کسی خریدار ملک تک پہنچ کر کچھ یوں تھی۔ بھارت 6.90 ڈالر۔ چین 6.60ڈالر۔ جاپان 7ڈالر۔ کوریا 7 ڈالر۔ کیا پاکستان کے عوام کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی حکومت سے پوچھ سکیں کہ انہوں نے مائع گیس کس نرخ میں خریدی ہے اور پاکستان پہنچ کر مائع گیس کی قیمت کیا ہوگی؟ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ ہم ہمسایہ ممالک سے زیادہ مہنگی ’مائع گیس‘ خرید رہے ہوں؟ کیا حکومت کو یہ بات منظرعام پر نہیں لانی چاہئے کہ اُنہوں نے مائع گیس کی خریداری کا معاہدہ کس سے کیا ہے؟ یاد رہے کہ فلپائن میں بجلی کے ایسے پیداواری یونٹ قائم کئے گئے جو مائع گیس سے چلتے ہیں اور اِن کی تعمیر میں مشکوک و بدعنوانیوں سے بھرپور طریقۂ کار اختیار کیا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی قیمت بڑھ گئی اور عام آدمی کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘‘ آخر اِس بات میں کیا امر مانع ہے کہ حکومت نے جتنے بھی معاہدے بشمول مائع گیس کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے اُس کی تفصیلات منظرعام پر آنی چاہیءں؟

27فروری 2014ء کے روز ایک ادارے ’اوپن نالج فاؤنڈیشن‘ نے عالمی سطح پر مہم کا آغاز کیا جس کا نام ’’خفیہ معاہدے بند کرو(Stop Secret Contracts)‘‘ رکھا گیا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ’’جب کوئی بھی حکومت خفیہ معاہدے کرتی ہے تو اس میں لازمی طورپر بدعنوانی کا عنصر کارفرما ہوتا ہے اور پھر تفصیلات اِس بھی عیاں نہیں کی جاتیں کہ ارباب اختیار احتساب سے بچنے کے لئے عوام کو دیگر امور میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ اُن کی کارکردگی اور کئے گئے معاہدوں سے متعلق بات چیت نہ ہو‘ اُن کا احتساب نہ ہو۔ اِس بات کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ خفیہ رکھی جانے والی تفصیلات والے معاہدوں کے ذریعے ہرسال عوام کے اربوں ڈالر مالی وسائل کی خردبرد ہو جاتی ہے!

کیا مائع گیس کی خریداری میں پاکستان نے درست طریقۂ کار اختیار کیا؟ آخر حکومت کیوں عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے؟ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم مصنوعات خاقان عباسی سے کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ’’مائع گیس کی خریداری کا معاہدہ شفاف انداز میں طے کیا گیا ہے جس کی جملہ تفصیلات جلد ہی منظرعام پر لائی جائیں گی تاکہ ہر خاص و عوام کو اِس بارے میں علم ہو سکے۔‘‘

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)