Showing posts with label Neelum-Jhelum Hydropower Plant. Show all posts
Showing posts with label Neelum-Jhelum Hydropower Plant. Show all posts

Sunday, April 8, 2018

Translation: The cost overrun by Dr. Farrukh Saleem

The cost overrun
ترقی: اضافی لاگت!

نندی پور پاور پراجیکٹ: سال 2008ء میں ’پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو)‘ نے عوامی جمہوریہ چین کی ایک کمپنی ’ڈونگ فانگ الیکٹرک کارپوریشن‘ کے ساتھ 23 ارب روپے مالیت کے معاہدے پر دستخط کئے‘ جس کا مقصد یہ تھا کہ چینی کمپنی پاکستان میں 525 میگاواٹ پیداوار کا بجلی گھر قائم کرے گی۔ اِس منصوبے پر اب تک 84 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی اس سے استفادہ نہیں کیا جارہا جس کی وجہ یہ ہے کہ سال 2014ء میں بتایا گیا کہ نندی پور پاور پلانٹ سے حاصل ہونے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت 42 روپے تھی‘ جس کی وجہ سے اِس بجلی گھر کو صرف پانچ دن چلانے کے بعد بند کر دیا گیا۔ اصولی طور پر منصوبہ تعمیر کرنے سے پہلے اِس کے تکنیکی پہلوؤں اور حاصل ہونے والی بجلی کی پیداوار کی قیمت کا جائزہ لینا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ سال 2008ء میں جس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 23 ارب روپے تھا آخر اُس کی تکمیل ہونے تک اخراجات 84 ارب روپے تک کیسے جا پہنچے؟ آخر خرابی کہاں ہوئی؟ کیا مذکورہ پاور پلانٹ کے لئے جو آلات خریدے گئے اُن کی قیمت مارکیٹ میں اچانک بڑھ گئی؟ کیا مزدوری کی لاگت بڑھی؟ کیا لوہے‘ سریے اور سیمینٹ وغیرہ جیسی اہم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا؟ کیا اداروں کی نااہلی کے سبب ایسا ہوا؟ کیا اس میں مالی بدعنوانی کا عمل دخل ہے یا پھر ’نندی پور پاور پراجیکٹ‘ بدانتظامی کی نذر ہوا؟

نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ: اِس منصوبے کی منظوری 1989ء میں دی گئی تھی جس پر اُس وقت لاگت کا تخمینہ 18 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اِس منصوبے میں بعدازاں توسیع کی گئی اور ایک سرنگ کا سائز بڑھایا گیا جس سے لاگت 84 ارب روپے تک جا پہنچی۔ 3 جولائی 2014ء کو نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کی ’ایگزیکٹو کمیٹی‘ نے منصوبے پر لاگت کے کل تخمینے 84 ارب روپے پر نظرثانی کی اور اِسے 274 ارب روپے کرنے کی منظوری دے دی۔ اب تک حکومت ’نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ‘ پر 550 ارب روپے خرچ کر چکی ہے لیکن یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ آخر خرابی کہاں ہوئی؟ کیا مذکورہ پاور پلانٹ کے لئے جو آلات خریدے گئے اُن کی قیمت مارکیٹ میں اچانک بڑھ گئی؟ کیا مزدوری کی لاگت بڑھی؟ کیا لوہے‘ سریے اور سیمینٹ وغیرہ جیسی اہم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا؟ کیا اداروں کی نااہلی کے سبب ایسا ہوا؟ کیا اس میں مالی بدعنوانی کا عمل دخل ہے یا پھر ’نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ‘ بدانتظامی کی نذر ہوا؟

نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ: اِس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 37 ارب روپے لگایا گیا تھا‘ جبکہ حکومت اِس پر 100 ارب روپے خرچ کر چکی ہے اُور اعلان کیا گیا ہے کہ رواں ماہ (20 اپریل) اِس ائرپورٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے گا۔آخر خرابی کہاں ہوتی ہے جس کی وجہ سے منصوبوں پر لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے؟ کیا مذکورہ پاور پلانٹ کے لئے جو آلات خریدے گئے اُن کی قیمت مارکیٹ میں اچانک بڑھ گئی؟ کیا مزدوری کی لاگت بڑھی؟ کیا لوہے‘ سریے اور سیمینٹ وغیرہ جیسی اہم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا؟ کیا اداروں کی نااہلی کے سبب ایسا ہوا؟ کیا اس میں مالی بدعنوانی کا عمل دخل ہے یا پھر ’نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ‘ بدانتظامی کی نذر ہوا؟

مذکورہ تین بڑے ترقیاتی منصوبوں (نندی پور پاور پراجیکٹ‘ نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ اُور نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ) کے تعمیراتی اخراجات مجموعی طور پر ’’600 ارب روپے‘‘ ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر پاکستانی خاندان پر 20 ہزار روپے کا بوجھ بڑھا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کا کل دفاعی بجٹ (سالانہ دفاعی اخراجات) 290 ارب روپے ہیں۔ صرف تین منصوبوں پر اضافی لاگت ملک کے مجموعی دفاعی بجٹ کا 65 فیصد بنتا ہے۔ اگر قومی مالی وسائل کا کفایت شعاری‘ دانشمندی اور ایمانداری سے استعمال کیا جائے تو اِس سے نہ صرف بچت ممکن ہے بلکہ زیادہ اخراجات کی صورت مالی وسائل ضائع کرنے کی بجائے اِن کا دیگر ترقیاتی مقاصد کے لئے بھی استعمال ممکن ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)