The defence budget
دفاعی بجٹ
پہلا تاثر: پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت ہے‘ درست نہیں۔ دنیا میں کم سے کم ایسے 64 ممالک ہیں جن کی فوجی افرادی قوت پاکستان کی آبادی اور آمدن کے تناسب سے زیادہ ہے۔ اِن میں ترکی‘ ایران‘ عراق‘ سوئزرلینڈ‘ اٹلی‘ ناروے‘ سنگاپور‘ جنوبی کوریا‘ روس‘ سری لنکا‘ مصر‘ لیبیا‘ کویت‘ تھائی لینڈ‘ سعودی عرب‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات‘ اسرائیل‘ اسٹونیا‘ ویت نام‘ سلووینیا‘ بوسٹوانا‘ منگولیا‘ یمن‘ قزاقستان‘ کیوبا‘ مورتانیا‘ کروشیا‘ چلی‘ صومالیہ‘ البانیہ‘ ساو ٹوم اور پرنسیپ‘ نمیبیا‘ انگولا‘ کمبوڈیا‘ یورگوئے‘ بلوویا‘ رومانیا‘ موروکو‘ لیتھونیا‘ پرتگال‘ برما‘ الجیریا‘ آزدبائیجان‘ بھوٹان‘ برونڈی‘ بلغاریہ‘ کولمبیا‘ سربیا اور مونٹی نیگرو‘ سائپرس‘ یونان‘ آرمینیا‘ جی بوتی‘ مالدیپ‘ عمان‘ بیلاروس‘ اُردن‘ شام‘ لاؤس‘ بحرین‘ برونائی‘ ایریٹیریا اُور شمالی کوریا شامل ہیں۔
نتیجۂ خیال: کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا انحصار اِس بات پر نہیں ہوتا کہ اُس کے پاس فوجی قوت کا حجم کتنا ہے۔ اگر ہم سوئزرلینڈ کی مثال دیکھیں تو اُس کی فوج ’فی کس آمدن‘ کے تناسب سے زیادہ بڑی ہے جبکہ وہاں کی فی کس آمدنی 79 ہزار ڈالر ہے۔ اِسی طرح جنوبی کوریا‘ سنگاپور‘ اٹلی‘ ترکی اُور تھائی لینڈ بھی بڑی فوجی قوتیں ہیں۔ گھانا (Ghana) ایک ایسا ملک ہے جس کی فوج اُس کی فی کس آمدنی کے تناسب سے کم ہے اور گھانا کی فی کس آمدنی (per capita income) 1500 ڈالر ہے۔ علاؤہ ازیں بورکینا فاسو‘ ہیٹی‘ نائیجر‘ پاپا نیو گینو اُور گیمبیا کمزور معیشت کے حامل ممالک ہیں اور اِن کی فوجی قوت فی کس آمدنی کے تناسب سے کم ترین ہیں۔
دوسرا تاثر: پاکستان اپنی آمدنی اُور مالی وسائل کا بڑا حصہ فوج کے اِدارے پر خرچ کرتا ہے‘ درست نہیں۔ دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد کم سے کم 43 ہے جو پاکستان کی نسبت اپنی مجموعی خام قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا زیادہ بڑا حصہ دفاع کے لئے مختص کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی فی کس آمدنی کے حساب سے دفاع پر 24.80 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہی چاہئے کہ دنیا میں ایسے کم سے کم 87 ممالک ہیں جو پاکستان سے زیادہ مالی وسائل اپنے دفاع کے لئے مختص کرتے ہیں۔
فی کس آمدنی کے لحاظ سے اِسرائیل اپنے دفاع پر ’1 ہزار 316 ڈالر‘ خرچ کرتا ہے جہاں فی کس آمدنی 37 ہزار 500 ڈالر ہے۔ ناروے کی فی کس آمدن 70 ہزار 800 ڈالر ہے اور ناروے فی کس آمدنی کے تناسب سے فوج پر 883 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اِس تناسب کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھیں کہ پاکستان میں فی کس آمدنی کے تناسب پر فوج پر 24.80 ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔
نتیجۂ خیال: کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا انحصار اِس بات پر نہیں ہوتا کہ اُس کے پاس فوجی قوت کا حجم کتنا ہے۔ امریکہ میں فی کس آمدنی 57ہزار 500ڈالر ہے جو اپنی مجموعی خام پیداوار (جی ڈی پی) سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کا 3.4 فیصد دفاع کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اِسی طرح سنگاپور‘ چین اور جنوبی کوریا بھی اِسی زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ اسرائیل اپنی مجموعی خام پیداوار کا 7.3 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ پاکستان اِس کا نصف خرچ کرنے کے باوجود بھی اسرائیل امیر لیکن پاکستان غریب ملک ہے۔
پہلا حقیقت: دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد 100 سے زیادہ ہے‘ جو دفاع کے مقابلے اپنے عوام کی صحت پر نسبتا زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ امریکہ اپنے ہر باشندے پر ’’4 ہزار 271 ڈالر‘‘ خرچ کرتا ہے۔ پاکستان 18 ڈالر فی کس صحت پر خرچ کرتا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران پاکستان سے بہتر ہے جو اپنے ہر شہری کی صحت کے لئے 128 ڈالر مختص کرتا ہے۔ سری لنکا‘ برما‘ اُور زمبیا بھی پاکستان کے مقابلے اپنے باشندوں کی صحت پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔
دوسری حقیقت: پاکستان اپنی مجموعی خام قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا 1.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے جو دنیا میں کم ترین ہے۔ مثال کے طور پر کیوبا اپنی مجموعی قومی آمدنی کا 18.7 فیصد‘ خرچ کر رہا ہے۔
خلاصۂ کلام: پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم اور صحت کے لئے سب سے کم خرچ کرتا ہے اُور ایسا اِس لئے ہو رہا ہے کیونکہ صحت و تعلیم کبھی بھی ہماری حکومتوں کی ترجیحات کا حصہ نہیں رہیں۔ جس کی وجوہات میں یہ شامل ہے کہ ہماری حکومت کو قریب ایک کھرب روپے کے گردشی قرضے ادا کرنے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے قومی اداروں جن میں پی آئی اے اور ریلویز شامل ہیں کو فعال رکھنے کے لئے سالانہ 500 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ علاؤہ ازیں 400 ارب روپے دیگر سرکاری کاموں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اِن سبھی اخراجات کے علاؤہ پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ کھرب روپے سے زیادہ قومی قرضوں پر سود بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)