Showing posts with label defence budget. Show all posts
Showing posts with label defence budget. Show all posts

Sunday, May 6, 2018

TRANSLATION: The defence budget by Dr. Farrukh Saleem

The defence budget
دفاعی بجٹ
پہلا تاثر: پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت ہے‘ درست نہیں۔ دنیا میں کم سے کم ایسے 64 ممالک ہیں جن کی فوجی افرادی قوت پاکستان کی آبادی اور آمدن کے تناسب سے زیادہ ہے۔ اِن میں ترکی‘ ایران‘ عراق‘ سوئزرلینڈ‘ اٹلی‘ ناروے‘ سنگاپور‘ جنوبی کوریا‘ روس‘ سری لنکا‘ مصر‘ لیبیا‘ کویت‘ تھائی لینڈ‘ سعودی عرب‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات‘ اسرائیل‘ اسٹونیا‘ ویت نام‘ سلووینیا‘ بوسٹوانا‘ منگولیا‘ یمن‘ قزاقستان‘ کیوبا‘ مورتانیا‘ کروشیا‘ چلی‘ صومالیہ‘ البانیہ‘ ساو ٹوم اور پرنسیپ‘ نمیبیا‘ انگولا‘ کمبوڈیا‘ یورگوئے‘ بلوویا‘ رومانیا‘ موروکو‘ لیتھونیا‘ پرتگال‘ برما‘ الجیریا‘ آزدبائیجان‘ بھوٹان‘ برونڈی‘ بلغاریہ‘ کولمبیا‘ سربیا اور مونٹی نیگرو‘ سائپرس‘ یونان‘ آرمینیا‘ جی بوتی‘ مالدیپ‘ عمان‘ بیلاروس‘ اُردن‘ شام‘ لاؤس‘ بحرین‘ برونائی‘ ایریٹیریا اُور شمالی کوریا شامل ہیں۔

نتیجۂ خیال: کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا انحصار اِس بات پر نہیں ہوتا کہ اُس کے پاس فوجی قوت کا حجم کتنا ہے۔ اگر ہم سوئزرلینڈ کی مثال دیکھیں تو اُس کی فوج ’فی کس آمدن‘ کے تناسب سے زیادہ بڑی ہے جبکہ وہاں کی فی کس آمدنی 79 ہزار ڈالر ہے۔ اِسی طرح جنوبی کوریا‘ سنگاپور‘ اٹلی‘ ترکی اُور تھائی لینڈ بھی بڑی فوجی قوتیں ہیں۔ گھانا (Ghana) ایک ایسا ملک ہے جس کی فوج اُس کی فی کس آمدنی کے تناسب سے کم ہے اور گھانا کی فی کس آمدنی (per capita income) 1500 ڈالر ہے۔ علاؤہ ازیں بورکینا فاسو‘ ہیٹی‘ نائیجر‘ پاپا نیو گینو اُور گیمبیا کمزور معیشت کے حامل ممالک ہیں اور اِن کی فوجی قوت فی کس آمدنی کے تناسب سے کم ترین ہیں۔

دوسرا تاثر: پاکستان اپنی آمدنی اُور مالی وسائل کا بڑا حصہ فوج کے اِدارے پر خرچ کرتا ہے‘ درست نہیں۔ دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد کم سے کم 43 ہے جو پاکستان کی نسبت اپنی مجموعی خام قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا زیادہ بڑا حصہ دفاع کے لئے مختص کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی فی کس آمدنی کے حساب سے دفاع پر 24.80 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہی چاہئے کہ دنیا میں ایسے کم سے کم 87 ممالک ہیں جو پاکستان سے زیادہ مالی وسائل اپنے دفاع کے لئے مختص کرتے ہیں۔

فی کس آمدنی کے لحاظ سے اِسرائیل اپنے دفاع پر ’1 ہزار 316 ڈالر‘ خرچ کرتا ہے جہاں فی کس آمدنی 37 ہزار 500 ڈالر ہے۔ ناروے کی فی کس آمدن 70 ہزار 800 ڈالر ہے اور ناروے فی کس آمدنی کے تناسب سے فوج پر 883 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اِس تناسب کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھیں کہ پاکستان میں فی کس آمدنی کے تناسب پر فوج پر 24.80 ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔

نتیجۂ خیال: کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا انحصار اِس بات پر نہیں ہوتا کہ اُس کے پاس فوجی قوت کا حجم کتنا ہے۔ امریکہ میں فی کس آمدنی 57ہزار 500ڈالر ہے جو اپنی مجموعی خام پیداوار (جی ڈی پی) سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کا 3.4 فیصد دفاع کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اِسی طرح سنگاپور‘ چین اور جنوبی کوریا بھی اِسی زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ اسرائیل اپنی مجموعی خام پیداوار کا 7.3 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ پاکستان اِس کا نصف خرچ کرنے کے باوجود بھی اسرائیل امیر لیکن پاکستان غریب ملک ہے۔
پہلا حقیقت: دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد 100 سے زیادہ ہے‘ جو دفاع کے مقابلے اپنے عوام کی صحت پر نسبتا زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ امریکہ اپنے ہر باشندے پر ’’4 ہزار 271 ڈالر‘‘ خرچ کرتا ہے۔ پاکستان 18 ڈالر فی کس صحت پر خرچ کرتا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران پاکستان سے بہتر ہے جو اپنے ہر شہری کی صحت کے لئے 128 ڈالر مختص کرتا ہے۔ سری لنکا‘ برما‘ اُور زمبیا بھی پاکستان کے مقابلے اپنے باشندوں کی صحت پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

دوسری حقیقت: پاکستان اپنی مجموعی خام قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا 1.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے جو دنیا میں کم ترین ہے۔ مثال کے طور پر کیوبا اپنی مجموعی قومی آمدنی کا 18.7 فیصد‘ خرچ کر رہا ہے۔
خلاصۂ کلام: پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم اور صحت کے لئے سب سے کم خرچ کرتا ہے اُور ایسا اِس لئے ہو رہا ہے کیونکہ صحت و تعلیم کبھی بھی ہماری حکومتوں کی ترجیحات کا حصہ نہیں رہیں۔ جس کی وجوہات میں یہ شامل ہے کہ ہماری حکومت کو قریب ایک کھرب روپے کے گردشی قرضے ادا کرنے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے قومی اداروں جن میں پی آئی اے اور ریلویز شامل ہیں کو فعال رکھنے کے لئے سالانہ 500 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ علاؤہ ازیں 400 ارب روپے دیگر سرکاری کاموں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اِن سبھی اخراجات کے علاؤہ پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ کھرب روپے سے زیادہ قومی قرضوں پر سود بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, April 29, 2018

Translation: The defence budget by Dr. Farrukh Saleem

The defence budget
دفاعی بجٹ
پاکستان پر جنگ مسلط ہے اور اِس حالت جنگ میں جہاں روائتی ہتھیاروں اور طریقوں کو آزمایا جا رہا ہے وہیں غیرروائتی ہتھیاروں سے بھی کام لیا جا رہا ہے اور اِس پوری کوشش کا مقصد صرف یہی ہے کہ پاکستان کو کمزور کردیا جائے جس کے لئے اقتصادی طور پر ملک کو ناتواں کرنا ترجیح ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ پاکستان کثیرالجہتی قومی سلامتی کی حکمت عملی مرتب کرے جس میں کسی بھی سمت سے آنے والے حملے کو پسپا کرنے کی صلاحیت اور قوت موجود ہو۔

وفاقی حکومت نے مالی سال برائے 2018-19ء کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں دفاعی بجٹ کے لئے 10فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے تاہم دفاعی بجٹ سے متعلق پائے جانے والے عمومی تصورات اور نظریات وضاحت طلب ہیں۔

پہلا تاثر: پاکستان کا سب سے بڑا خرچ اِس کا دفاع ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی کل آمدن (مالی وسائل) کا سب سے بڑا حصہ دفاع کے لئے نہیں بلکہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے بعد پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا خرچ ادارہ جاتی خسارہ ہے جسے جان بوجھ کر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (پی آئی اے)‘ پاکستان اسٹیل ملز‘ بجلی کا پیداواری شعبہ اُور پاکستان ریلویز اُن سرکاری اِداروں کی فہرست میں شامل ہیں‘ جو مسلسل خسارے کا سبب قومی خزانے پر مستقل بوجھ ہیں۔ وفاقی حکومت کا تیسرا سب سے بڑا خرچ ’قومی ترقیاتی حکمت عملی‘ ہوتی ہے جو وفاق اور صوبے الگ الگ تشکیل دیتے ہیں جبکہ چوتھا بڑا خرچ دفاع (ڈیفینس افیئرز اینڈ سروسیز) ہے۔

دوسرا تاثر: دفاعی بجٹ کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے کیونکہ دفاع کے لئے مالی وسائل مختص کرنے کے بعد قومی ترقی کے لئے خاطرخواہ وسائل باقی نہیں رہتے۔ یہ تصور بھی درست نہیں۔ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ کا اَگر جائزہ لیا جائے تو حکومتی اَخراجات کا ’18 فیصد‘ دفاعی امور اور خدمات ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ 82فیصد حکومتی اخراجات کا تعلق دفاع سے نہیں۔

تیسرا تاثر: دفاع کے لئے ہر سال مالی وسائل میں غیرمعمولی اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ عمومی تاثر بھی حقیقت پر مبنی نہیں۔ مالی سال 2001-02ء یعنی 17 سال قبل‘ ملک کی مجموعی آمدن کا 4.6فیصد حصہ دفاع کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ مالی سال 2003-04ء کے دوران دفاعی شعبے کے لئے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے اِسے 3.9فیصد کر دیا گیا اور 2018-19ء میں دفاع کے لئے ملک کی مجموعی آمدنی (34 کھرب روپے) کا 3.2 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔

چوتھا تاثر: پاک فوج دفاع کے لئے مختص ہونے والے سارے مالی وسائل (بجٹ) کو ہڑپ کر جاتی ہے۔ یہ تاثر بھی گمراہ کن ہے۔ 1960ء میں پاک فوج کا بجٹ قومی بجٹ کا 42 فیصد حصے پر مشتمل ہوا کرتا تھا جس میں ہر سال بتدریج کمی ہوتی چلی گئی اور آئندہ مالی سال 2018-19ء میں دفاع کے لئے کل مالی وسائل کا 9.6 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔

پانچواں تاثر: پاکستان اپنے دفاع پر قومی آمدنی کا سب سے زیادہ حصہ خرچ کرتا ہے۔ یہ تاثر بھی درست نہیں۔ دنیا میں ایسے کم سے کم چار درجن ممالک ہیں جو اپنی قومی آمدنی کا نسبتاً بڑا حصہ دفاعی امور پر خرچ کرتے ہیں‘ اِن میں بھارت‘ مصر‘ سری لنکا‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ جنوبی کوریا‘ فرانس‘ ارئٹیریا‘ عمان‘ سعودی عرب‘ اسرائیل‘ اُردن‘ لائبریا‘ برونائی‘ شام‘ کویت‘ یمن‘ انگولا‘ سنگاپور‘ یونان‘ ایران‘ بحرین‘ جبوتی‘ موروکو‘ چلی‘ لبنان‘ روس‘ کولمبیا‘ زمبابوے‘ ترکی‘ جارجیا‘ گنی بساؤ‘ ایتھوپیا‘ نامیبیا‘ گھنی‘ ترکمنستان‘ کرغستان‘ الجیریا‘ سربیا و موٹینیگرو‘ آرمینیا‘ بوسٹوانا‘ یوکرین‘ یوگینڈا‘ ایکواڈور‘ بلغاریہ‘ لیستھو اُور سوڈان شامل ہیں۔

پاکستان کے ’قومی اخراجات‘ سے متعلق چند حقائق بھی غورطلب ہیں۔

پہلی حقیقت: پاکستان کا گردشی قرضہ ملک کے دفاعی بجٹ کے قریب مساوی ہو چکا ہے۔ اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں ہونے والے خسارے پر قابو پایا جائے تو اِس سے حاصل ہونے والی بچت ملک کے دفاع جیسی بنیادی و اہم ضرورت کے مساوی حاصل کی جا سکتی ہے۔

دوسری حقیقت: پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے لیکن پاک فوج کے جوانوں پر اوسطاً دنیا کا سب سے کم خرچ ہوتا ہے۔ اِس سلسلے میں چند ممالک کے اعدادوشمار سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ امریکہ اپنے ہر فوجی پر سالانہ اوسطاً چار لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے۔ سعودی عرب سالانہ اوسطاً تین لاکھ چالیس ہزار ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے۔ بھارت سالانہ اوسطاً 33 ہزار ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے۔ مصر سالانہ اوسطاً 18 ہزار ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان سالانہ اوسطاً 12 ہزار ڈالر فی فوجی خرچ کر رہا ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, April 8, 2018

Translation: The cost overrun by Dr. Farrukh Saleem

The cost overrun
ترقی: اضافی لاگت!

نندی پور پاور پراجیکٹ: سال 2008ء میں ’پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو)‘ نے عوامی جمہوریہ چین کی ایک کمپنی ’ڈونگ فانگ الیکٹرک کارپوریشن‘ کے ساتھ 23 ارب روپے مالیت کے معاہدے پر دستخط کئے‘ جس کا مقصد یہ تھا کہ چینی کمپنی پاکستان میں 525 میگاواٹ پیداوار کا بجلی گھر قائم کرے گی۔ اِس منصوبے پر اب تک 84 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی اس سے استفادہ نہیں کیا جارہا جس کی وجہ یہ ہے کہ سال 2014ء میں بتایا گیا کہ نندی پور پاور پلانٹ سے حاصل ہونے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت 42 روپے تھی‘ جس کی وجہ سے اِس بجلی گھر کو صرف پانچ دن چلانے کے بعد بند کر دیا گیا۔ اصولی طور پر منصوبہ تعمیر کرنے سے پہلے اِس کے تکنیکی پہلوؤں اور حاصل ہونے والی بجلی کی پیداوار کی قیمت کا جائزہ لینا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ سال 2008ء میں جس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 23 ارب روپے تھا آخر اُس کی تکمیل ہونے تک اخراجات 84 ارب روپے تک کیسے جا پہنچے؟ آخر خرابی کہاں ہوئی؟ کیا مذکورہ پاور پلانٹ کے لئے جو آلات خریدے گئے اُن کی قیمت مارکیٹ میں اچانک بڑھ گئی؟ کیا مزدوری کی لاگت بڑھی؟ کیا لوہے‘ سریے اور سیمینٹ وغیرہ جیسی اہم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا؟ کیا اداروں کی نااہلی کے سبب ایسا ہوا؟ کیا اس میں مالی بدعنوانی کا عمل دخل ہے یا پھر ’نندی پور پاور پراجیکٹ‘ بدانتظامی کی نذر ہوا؟

نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ: اِس منصوبے کی منظوری 1989ء میں دی گئی تھی جس پر اُس وقت لاگت کا تخمینہ 18 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اِس منصوبے میں بعدازاں توسیع کی گئی اور ایک سرنگ کا سائز بڑھایا گیا جس سے لاگت 84 ارب روپے تک جا پہنچی۔ 3 جولائی 2014ء کو نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کی ’ایگزیکٹو کمیٹی‘ نے منصوبے پر لاگت کے کل تخمینے 84 ارب روپے پر نظرثانی کی اور اِسے 274 ارب روپے کرنے کی منظوری دے دی۔ اب تک حکومت ’نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ‘ پر 550 ارب روپے خرچ کر چکی ہے لیکن یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ آخر خرابی کہاں ہوئی؟ کیا مذکورہ پاور پلانٹ کے لئے جو آلات خریدے گئے اُن کی قیمت مارکیٹ میں اچانک بڑھ گئی؟ کیا مزدوری کی لاگت بڑھی؟ کیا لوہے‘ سریے اور سیمینٹ وغیرہ جیسی اہم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا؟ کیا اداروں کی نااہلی کے سبب ایسا ہوا؟ کیا اس میں مالی بدعنوانی کا عمل دخل ہے یا پھر ’نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ‘ بدانتظامی کی نذر ہوا؟

نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ: اِس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 37 ارب روپے لگایا گیا تھا‘ جبکہ حکومت اِس پر 100 ارب روپے خرچ کر چکی ہے اُور اعلان کیا گیا ہے کہ رواں ماہ (20 اپریل) اِس ائرپورٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے گا۔آخر خرابی کہاں ہوتی ہے جس کی وجہ سے منصوبوں پر لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے؟ کیا مذکورہ پاور پلانٹ کے لئے جو آلات خریدے گئے اُن کی قیمت مارکیٹ میں اچانک بڑھ گئی؟ کیا مزدوری کی لاگت بڑھی؟ کیا لوہے‘ سریے اور سیمینٹ وغیرہ جیسی اہم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا؟ کیا اداروں کی نااہلی کے سبب ایسا ہوا؟ کیا اس میں مالی بدعنوانی کا عمل دخل ہے یا پھر ’نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ‘ بدانتظامی کی نذر ہوا؟

مذکورہ تین بڑے ترقیاتی منصوبوں (نندی پور پاور پراجیکٹ‘ نیلم جہلم ہائیڈرو پلانٹ اُور نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ) کے تعمیراتی اخراجات مجموعی طور پر ’’600 ارب روپے‘‘ ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر پاکستانی خاندان پر 20 ہزار روپے کا بوجھ بڑھا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کا کل دفاعی بجٹ (سالانہ دفاعی اخراجات) 290 ارب روپے ہیں۔ صرف تین منصوبوں پر اضافی لاگت ملک کے مجموعی دفاعی بجٹ کا 65 فیصد بنتا ہے۔ اگر قومی مالی وسائل کا کفایت شعاری‘ دانشمندی اور ایمانداری سے استعمال کیا جائے تو اِس سے نہ صرف بچت ممکن ہے بلکہ زیادہ اخراجات کی صورت مالی وسائل ضائع کرنے کی بجائے اِن کا دیگر ترقیاتی مقاصد کے لئے بھی استعمال ممکن ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)