Showing posts with label Polio. Show all posts
Showing posts with label Polio. Show all posts

Saturday, August 8, 2015

Aug2015: This and that Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
وہ پشاور‘ یہ پشاور!
خیبر پختونخوا میں سات اَگست کو ایک اُور پولیو کیس سامنے آنے سے اُن تمام انتظامات اور دعوؤں کا پول کھل گیا ہے جو ’انسداد پولیو‘ کے حوالے سے نہ صرف متعلقہ محکمے کے اہلکار بلکہ سیاسی قائدین بھی کرتے آئے ہیں۔ ’’تم کسی رستے سے آ جاؤ۔۔۔میرے چاروں طرف ’محبت‘ ہے!‘‘

غور کیجئے کہ پولیو بچوں کو ایک خاص عمر تک متاثر کرنے کی صلاحیت رکھنے والی بیماری ہے‘ جس سے بچاؤ کے لئے کئی ایک عالمی اداروں کے تعاون سے چلائی جانے والی مہمات اور اس بیماری سے بچاؤ کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنے پر مبنی اگر کاغذی کاروائی بمعہ اعدادوشمار پر نظر کی جائے تو پولیو کا ستیاناس ہو جانا چاہئے تھا لیکن ’پشاور کو پولیو فری‘ قرار دینے کا فخریہ اعلان کرنے والوں اور بیک وقت محکمۂ صحت و پولیو پروگرام سے تنخواہیں و مراعات پانے والے اہلکاروں کا ضمیر کہاں ہے۔ خیبرپختونخوا میں کم وبیش چار ہزار ملکی و غیرملکی ’این جی اُوز‘ فعال ہیں‘جنہیں ملنے والی غیرملکی اِمداد (تکنیکی و مالی وسائل) کا بڑا حصہ ’’مبینہ طور پر‘‘ پولیو مہمات پر خرچ ہوتا ہے اور اگر حقیقت میں ایسا ہی ہوتا تو پشاور کے علاقے ارمڑ بالا کے رہائشی چھ ماہ کے محمد یاسر میں پولیو وائرس کی تشخیص نہ ہوتی۔ یاد رہے کہ رواں برس (سات اگست تک) خیبرپختونخوا میں پولیو کے 13کیسز سامنے آ چکے ہیں‘ جن میں سے آٹھ کا ’تعلق پشاور‘ سے ہے۔

مجموعی طور پر پاکستان بھر میں 2015ء کے دوران پولیو کے 29نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ انسداد پولیو کے حوالے سے بیانات اور دعوے اپنی جگہ برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ پولیو وائرس کو پھلنے پھولنے اور پھیلنے کے لئے موافق ماحول مل رہا ہے۔ سال دوہزار چودہ پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کے لئے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوا جب سال 1998ء کے بعد پہلی بار پولیو کیسز کی تعداد 296تک جا پہنچی! یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ’پاکستان دنیا کے اُن تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کی موجودگی ثابت ہے اُور یہ کسی صورت قابو نہیں آرہا۔ خیبرپختونخوا کے لئے ’انسداد پولیو پروگرام‘ کے انتظامی نگران کے بقول حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کی جانب سے انسداد پولیو اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے نہ صرف قبائلی علاقے بلکہ پشاور جیسے مرکزی و بندوبستی شہر کی حدود میں بھی ایسے علاقے ہیں جہاں پولیو اہلکار جانے سے کتراتے ہیں۔ سات اگست کو سامنے آنے والے پولیو کیس کا تعلق بھی پشاور کے ایک ایسے ہی مضافاتی علاقے سے ہے جو قبائلی علاقہ سے قریب ہونے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل دسترس میں نہیں۔

پولیو وائرس کی وجہ سے بیرون ملک سفر کرنے والے ہر پاکستانی (مرد‘ عورت اُور بچے) کے لئے لازمی ہے کہ وہ پولیو سے بچاؤ کی اَدویات لینے کی سند (سرٹیفکیٹ) رکھتا ہو۔ اگرچہ یہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اہتمام ہر ائرپورٹ پر کردیا گیا ہے لیکن اِس کے لئے طریقہ کار مناسب نہیں۔ ذاتی تجربہ ملاحظہ کیجئے کہ پشاور ائرپورٹ پر عمرے کی ادائیگی کے لئے دیگر مسافروں کے ہمراہ بورڈنگ کارڈ جاری کرنے سے قبل ’پولیو سرٹیفکیٹ‘ کی شرط سے آگاہ کیا گیا۔ جہاز کے جانے میں چالیس منٹ کا وقت باقی تھا۔ کئی ایک مسافر کے پاس مذکورہ سرٹیفکیٹ نہیں تھا اور اُن کی آنکھیں بھر آئیں تھیں کیونکہ بناء پولیو سرٹیفکیٹ جہاز پر سوار ہونے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ کاونٹر پر کھڑی خاتون نے ازرائے کرم کہا کہ ائرپورٹ کی حدود ہی میں ایک ڈسپنسری ہے‘ جہاں پر موجود ڈاکٹر آپ کو یہ سرٹیفکیٹ جاری کر سکتا ہے۔ جب مذکورہ دفتر پہنچے تو وہاں ایک دروازہ بند تھا اور پہلے ہی پولیو سرٹیفکیٹ لینے والوں کی ایک قطار میں کھڑا ہر شخص اُمیدویاس کی تصویر بنا ہوا‘ ہر نئے آنے والے کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔ یہ صورتحال دیکھ کر ائرپورٹ انچارج کے پاس جانے کی ٹھانی اور جب وہاں پہنچے تو متعلقہ ڈاکٹر صاحب وہیں تشریف فرما تھے اور شکایت کر رہے تھے کہ ’’جناب یہ پولیو سرٹیفکیٹ جاری کرنا میرا کام نہیں! اِس کے لئے تو الگ دفتر اور اہلکاروں کا انتظام ہوناچاہئے!‘‘ اُن کی بات سن کر پاؤں تلے موجود باقی ماندہ زمین بھی نکلتی محسوس ہوئی! جب ائرپورٹ نگران متوجہ ہوئے اور انہیں ایک خاص نسبت کا حوالہ دے کر تعارف کرایا گیا تو یکایک اُن کی خندہ پیشانی لوٹ آئی‘ جو اس سے قبل ایک ’اجنبی‘ کے دفتر میں گھس آنے سے چہرے پر پھیل چکی تھی۔ اُنہوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا ایک سرٹیفکیٹ انہیں تو بنا دیں‘ پھر آپ کے مسئلے بارے بھی سوچتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بناء وقت ضائع کئے جیب میں ہاتھ ڈالا ایک کاغذ نکالا اُس پر خانہ پُری کرکے سرٹیفکیٹ تھما دیا۔ جس پر لکھا تھا کہ کارڈ ہولڈر کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ جہاز میں سوار ہونے کے بعد وہ دیگر مسافر بھی ہانپتے ہانپتے پہنچے جن کے پاس ائرپورٹ آنے سے قبل پولیو سرٹیفکیٹ نہیں تھے۔ مجھے ہمت نہیں ہوئی کہ اُن سے پوچھ سکتا کہ آپ کو پولیو سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے کتنے پیسے دینے پڑے کیونکہ ایک مقدس سفر کی ابتدأ جھوٹ سے ہو چکی تھی۔ جہاز محو پرواز ہوا۔ کھڑکی سے باہر نظر آنے والا ’وہ پشاور‘ کہیں بہت پیچھے رہ گیا تھا‘ جہاں نسلی و لسانی تعلقات یا پیسے کی طاقت سے بہت کچھ ایسا بھی ممکن جو دنیا میں کہیں بھی اس طرح ممکن ہوتا ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں کی گردابوں میں اپنی اپنی عاقبت کے لئے پریشان ہیں لیکن جس جہنم میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس کا شعوری ادراک نہیں رکھتے!

Tuesday, July 7, 2015

Jul2015: Future concerns of Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اندیشہ ہائے دور دراز
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے خبر دی ہے کہ رواں برس (دو ہزار پندرہ) کے دوران اب تک 27 بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ چھ جولائی کو سامنے آنے والا کیس میرا کچوری کے علاقے میں سامنے آیا ہے جو پشاور کا ایک مضافاتی علاقہ ہے جہاں اٹھارہ ماہ کے ابوبکر کو لاحق پراسرار بیماری کا علاج کرتے ہوئے ڈاکٹروں نے جب خون کا نمونہ پولیو تصدیق کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحت کے قومی مرکز کو ارسال کیا گیا تو جانچ کے بعد تصدیق ہوگئی ہے کہ مذکورہ بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہے۔ یاد رہے کہ پشاور میں پولیو وائرس کا یہ ساتواں جبکہ خیبرپختونخوا میں ظاہر ہونے والے پولیو کا گیارہواں شکار ہے! انسداد پولیو کی جنگ ہارنے کی بڑی وجہ ’امن و امان‘ کی غیریقینی صورتحال ہے۔

یہ حقیقت کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن سچ تو یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی طرح پشاور کے مضافات میں آج بھی عسکریت پسندوں کا راج ہے‘ جہاں گھر گھر پولیو مہمات صرف کاغذی طور پر مکمل کی جاتی ہیں اور طبی عملہ ایسے تمام علاقوں میں نہیں جاتا جو رنگ روڈ یا قبائلی علاقوں سے متصل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر کسی علاقے میں پولیو سے متاثر ایک بچہ پایا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہاں اوسطاً مزید دس بچوں میں پولیو وائرس موجود ہوگا! چونکہ ہمارے ہاں نہ تو ایسے علاقوں میں رہنے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ادویات دی جاتی ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے لئے تجزیئے کرائے جاتے ہیں‘ اِس لئے ایک مرحلے پر ’پشاور کو پولیو فری‘ قرار دے کر جس خوشی اُور فخر کا اظہار کیا گیا وہ پائیدار ثابت نہین ہوسکا ہے۔ یہ امر بھی لائق توجہ رہے کہ انسداد پولیو مہمات میں حصہ لینے والے طبی عملے کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اُن کے گھروں پر دھمکی آمیز خطوط ارسال کئے جاتے ہیں کہ اگر انہوں نے خود کو انسداد پولیو کی مہمات سے الگ نہ کیا تو بال بچوں سمیت قتل کر دیئے جائیں گے۔

پشاور کا گنجان آباد شہری علاقے سیٹھی ٹاؤن ٗکے رہائشی کامران الیاس (سابق ڈسپنسر‘ لیڈی ریڈنگ ہسپتال) کی ایک مثال دی جاسکتی ہے‘ جنہیں اپنے علاقے میں انسداد پولیو کی وکالت‘ مقررہ طبی عملے کی مدد اور ایک جوش و جذبے کے ساتھ گھر گھر جا کر پولیو قطرے پلانے میں جوش و خروش سے حصہ لینے پر اِس قدر دھمکیاں دی گئیں کہ اُنہوں نے گذشتہ ماہ بہ امر مجبوری سرکاری ملازمت سے علیحدگی (ریٹائرمنٹ) لے لی اور بیوی بچوں کے ساتھ پشاور چھوڑ کر ہی چلے گئے۔ اپنے خلاف دھمکی آمیز خطوط اور ٹیلی فونز کالز کے بارے میں اُنہوں نے تھانہ پہاڑی میں ’ایف آئی آر‘ بھی درج کروائی‘ لیکن یہ حربہ بجائے کارگر ثابت ہونے کے اُنہیں پہلے سے زیادہ سخت گیر لہجے میں دھمکیاں ملنے لگیں‘ حتیٰ کہ ’ایف آئی آر‘ کے اندراج کے بعد ابھی گھر بھی نہیں پہنچ پائے تھے کہ اُنہیں پولیس سے رجوع کرنے کی غلطی کے الگ سے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں ملنے لگیں! یہ ایک ایسی صورتحال ہے کہ جس پر جس قدر افسوس اُور تشویش کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ جانی و مالی نقصانات کی دھمکی کیا ہوتی ہے اور اِس کے کسی خاندان پر کس قدر منفی نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ دکھ صرف اور صرف وہی بہتر جانتے ہیں جن پر گزر رہی ہوتی ہے۔ اپنا گھر‘ اجداد کا قبرستان‘ دوست اقارب‘ کاروبار‘ سماجی رابطے اور معاشرت کو بے سروسامانی کی حالت میں چھوڑ کر کسی انجان دیس پناہ لینے والوں کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ اُن کا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے! کتنی سسکیاں‘ کتنی آہیں اور کتنے ہی آنسو اپنے آبائی شہر کے لئے اِس طرح بہہ چکے ہیں جن کی اہمیت کا احساس نہیں کیا گیا اور رائیگاں چلے گئے!

قانون نافذ کرنے والوں کی موجودگی سے زیادہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ مضافاتی علاقوں میں حکومت کی رٹ چیلنج کرنے والی منظم قوتوں کا راج جب اُور پشاور کے جس حصے میں چاہے کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِن قوتوں کے پاس نہ تو معلومات کی کمی ہے اور نہ ہی یونین کونسلوں اور محلوں کی سطح پر فعال وغیرفعال اراکین کی کمی ہے۔ خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت کی اگر صورتحال یہ ہے تو دور دراز اضلاع کے برسرزمین حقائق بارے اندازہ لگانا مشکل نہیں! امن وامان کی صورتحال میں واضح بہتری کے باوجود منظم جرائم پیشہ عناصر سمیت عسکریت پسندوں کی ایسی نپی تلی کاروائیاں اُس اعتماد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ بحال کرنے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں‘ جس کی بحالی کے لئے محکمۂ پولیس کے فرض شناس اہلکار محدود و ناکافی وسائل کے باوجود‘ کوششیں کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن چونکہ مسئلے کی جڑ یعنی اُس بنیادی محرک کا خاتمہ ترجیحات کا حصہ نہیں‘ اِس لئے اندیشہ ہے کہ جاری دوڑ دھوپ کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہوں یقیناًعام آدمی کو جان و مال کے تحفظ کا عملی طور پر احساس دلانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے جملہ اداروں کو زیادہ مستعدی و فرض شناسی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ دشمن شاطر ہونے کے ساتھ شہری و دیہی علاقوں میں تہہ در تہہ سرایت کر چکا ہے لیکن کچھ توجہ انتہاء پسندی پھیلانے والوں پر بھی مرکوز کرنا پڑے گی جن کی ارتقائی شکل ’عسکریت پسند‘ کہلاتی ہے اور اِن کے سہولت کار یا کالعدم قرار دی گئی مسلح تنظیمیں پہلے سے زیادہ منظم اور فعال دکھائی دے رہی ہیں! کہیں اِس کی وجہ ’پولیس ذرائع کے مطابق‘ وہ بااثر سیاسی افراد تو نہیں‘ جو کسی نہ کسی صورت ہمیشہ اقتدار میں رہنے کے لئے سیاست میں سرمایہ کاری کرتے ہیں؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی‘ قربانیاں اور اِس بظاہر تبدیل امن و امان کے منظرنامے میں جو ایک طبقہ سب سے زیادہ پریشان حال‘ اپنے گھر‘ ملازمت یا کاروبار کی حد تک محصور و محدود اُور مجبور دکھائی دیتا ہے اُن افراد پر مشتمل ہے جو معاشرے کے لئے کسی نہ کسی صورت ’کارآمد‘ ہیں۔ پھولوں کا شہر اُور امن کے گہوارے پشاور کی سردست حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والے صاحب ثروت افراد سے بھتے کا مطالبہ کرنے والے افغانستان کے موبائل فون نمبروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ فون نمبر ’انٹرنیشنل رومنگ‘ کی سہولت کے باعث نہ صرف خریدے بلکہ ان سے استفادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ پشاور کے تین اطراف میں پھیلے قبائلی علاقوں میں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں افغانستان کے موبائل فون سگنلز موصول کرکے پاکستان میں جرائم و تخریب کاری کے دھندے کو قائم و دائم رکھا گیا ہے۔ بھتے کی ادائیگی نہ کرنے والوں کو ڈرانے کے لئے اُن کی رہائشگاہوں یا دفاتر کے باہر بم دھماکے ماضی کی طرح آج بھی ہو رہے ہیں لیکن انتہائی تعلیم یافتہ‘ جرائم کی باریکیوں کے آگاہ اور جدید ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی سے لیس ’پولیس‘ ہونے کے باوجود ایسے افراد تک اگر رسائی نہیں ہو پا رہی تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ اجتماعی یا انفرادی طور پر معاشرے کے لئے خطرہ بننے والوں سے نمٹنے کے لئے غیرروائتی طریقۂ کار اختیار کیا جائے‘ بصورت دیگر چوہے اور بلی کے کارٹون (ٹام اینڈ جیری) کی طرح ایک سے بڑھ کر ایک کہانی سے لطف اندوز ہونے والوں پر بھی افتاد پڑ سکتی ہے۔’’آئے ہے بیکسئ عشق پہ رونا غالب۔۔۔کس کے گھر جائے گا‘ سیلاب بلا‘ میرے بعد!‘‘