Showing posts with label Robert Mugabe. Show all posts
Showing posts with label Robert Mugabe. Show all posts

Sunday, November 19, 2017

TRANSLATION: President Mugabe by Dr. Farrukh Saleem

President Mugabe
موگابے: ایک شخصیت‘ ایک کردار!
زمبابوے کے وزیراعظم (1980ء سے 1987ء) اور اُس کے بعد عرصہ 30برس تک جنوبی افریقائی ملک کے صدر رہنے والے رابرٹ موگابے (Robert Mugabe) ملک کے زوال کا سبب رہے۔ 1997ء میں زمبابوے اقتصادی طور پر براعظم افریقہ کے اُن ممالک کی فہرست میں شامل تھا‘ جن کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی لیکن پھر یہی ملک اقتصادی طور پر کمزور ہوتا چلا گیا جس کی بنیادی وجہ صدر موگابے تھے جن سے منسوب ہے کہ کسی ملک کی تباہی وبربادی کیسے کی جاتی ہے‘ یہ جاننے کے لئے صدر موگابے کے اقدامات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

کسی ملک کا قتل کیسے کیا جاتا ہے؟ پہلا عمل: اُس ملک کی پیداوار کو ختم کردیا جائے اور اُس کا انحصار درآمدات پر منتقل کردیا جائے۔ اس تناظر میں اگر ہم زمبابوے سے 6 ہزار 957کلومیٹر دور پاکستان کا جائزہ لیں تو سال 2005ء میں پاکستان کا پیداواری شعبہ ملک کی مجموعی خام پیداوار کا 18.56فیصد تھا اور یہی تاریخ اعتبار سے پاکستانی پیداوار کی بلند ترین شرح بھی رہی لیکن سال 2006ء سے پیداوار کی کمی کا سلسلہ جاری رہا اور جب ہم 2017ء کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کی مجموعی خام پیداوار میں اندرون ملک پیداواری شعبے کی حصہ داری کم ہو کر 13.5 فیصد رہ گئی ہے۔

خطرے کی علامت: پاکستان کو صنعتی ترقی کی انتہاء تک نہیں لیجایا گیا حالانکہ اِس کی افرادی قوت سے بھرپور استفادہ ممکن ہے۔

کسی ملک کو کیسے قتل کیا جاسکتا ہے؟ دوسرا عمل: اُس سب سے متعلق قانون سازی کردی جائے جس کا حصول ناممکن ہو۔ زمبابوے کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں قوانین کی بھرمار ہے۔ اِس تناظر میں اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو دو اکتوبر کے روز پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے ایک قانون منظور کیا جس کا نام ’عام انتخابات اصلاحاتی بل 2017ء‘ ہے اور سینیٹ سے منظوری کے روز (دو اکتوبر) ہی کی تاریخ تبدیل ہونے سے پہلے فوری طور پر (راتوں رات) اِس بل پر صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی دستخط ثبت فرما کر اِسے رائج کردیا جس کانتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کی سپرئم کورٹ (عدالت عظمیٰ) نے جس شخص کو کوئی بھی سیاسی عہدہ رکھنے کے لئے نااہل قرار دیا تھا وہ پاکستان کی سب سے بڑی اور ایک ایسی سیاسی جماعت کا سربراہ بن گیا‘ جس کی وفاق اور صوبوں میں حکومت و نمائندگی موجود ہے۔

کسی ملک کو کیسے قتل کیا جاسکتا ہے؟ تیسرا عمل: نفرت عام کرنے سے بھی کسی ملک کا وجود ختم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے نظام تعلیم سے لے کر معاشرت تک انتہاء پسندی اور تشدد پر مبنی نصاب سے غیرمحتاط سیاسی و غیرسیاسی خیالات کا پرچار عام ہے۔ رائج نظام تعلیم جس میں پرائمری و سیکنڈری سطح شامل ہیں بالخصوص دانستہ طور پر اِس طرح مرتب کئے گئے ہیں کہ اِن سے متعصبانہ روئیے پروان چڑھیں۔ ہمارا نصاب تعلیم نفرتوں کی آبیاری کرتا ہے اور اُن انتہاء پسندوں کے نظریات کی حمایت کرتا ہے جو دنیا میں کہیں بھی خودکش حملوں اور انتہاء پسندی کے ذریعے اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں!

دہشت گردی سے متعلق اعدادوشمار اور تصورات پر نظر رکھنے والا عالمی ادارہ ’گلوبل ٹریرازم انڈکس‘ ترتیب دیتا ہے جس کے مرتب کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق سال 2011ء میں دنیا کے جو ممالک دہشت گردی کا شکار ہوئے اُن میں عراق‘ پاکستان‘ افغانستان‘ بھارت اور یمن شامل ہیں۔ پاکستان کے بارے میں اِس ادارے کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد واقعات میں ہلاک ہونیو الے افراد کی تعداد میں 12 فیصد کے تناسب سے نمایاں کمی آئی ہے اور سال 2006ء کے بعد سے دہشت گرد واقعات میں سب سے کم سالانہ اموات ہوئی ہیں جو کہ 956 ہیں۔

پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس ریٹ (کاروباری سرگرمیوں پر عائد محصولات کی شرح) 38فیصد ہے جو اگرچہ دنیا میں بلند ترین نہ بھی ہو لیکن یہ انتہائی بلند ضرور ہے۔ پاکستان میں رجسٹر ہونے والی کمپنیوں (پیداواری شعبے) کو مختلف اقسام کے 47 ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں جبکہ ہانگ کانگ میں اِس شعبے پر عائد ٹیکسوں کی تعداد صرف تین ہے۔ پاکستان میں ٹیکس قواعد پر عمل درآمد کرنے میں اداروں کو سالانہ 311 گھنٹے خرچ کرنے پڑتے ہیں جبکہ لیگزمبرگ (Luxemburg) میں یہی کام (کم ٹیکسوں کی وجہ سے) صرف 55 گھنٹے میں ہو جاتا ہے۔

10نومبر کے روز زمبابوے فوج کے جنرل چیونگا (Chiwenga) نے چین کے دارالحکومت بیجنگ کا دورہ کیا۔ 15نومبر کے روز زمبابوے میں فوج نے حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ’’دنیا نے پہلی مرتبہ حکومت کا تختہ الٹنے کا ایک ایسا واقعہ دیکھا ہے جو امریکہ کے سی آئی اے یا برطانیہ کے خفیہ ادارے ’ایم آئی سیکس‘ کی کارستانی نہیں بلکہ اِسے نہایت رازداری سے چین کی درپردہ حمایت سے ممکن بنایا گیا۔ یہ وہی چین ہے جو اکیسویں صدر میں ابھرتی ہوئی دنیا کی نئی عالمی طاقت ہے۔‘‘ اِس پوری کہانی کا اعزاز صدر موگابے کے نام ہے جن کے بیرون ملک اثاثوں کا حجم 1.5 (ڈیڑھ ارب) ڈالر بتایا جاتا ہے اور وہ دنیا کے ایسے پہلے صدر ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر چکے ہیں جنہوں نے کسی ملک کی تباہی کا باقاعدہ نصاب (manual of national destruction) مرتب کردیا ہے! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)