Friday, August 1, 2014

Aug2014: Political settlement with PTI

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
دور اندیشی کے تقاضے
سیاسی زلزلہ پیمایہ مرکز اسلام آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ہنگامی حالات کا نفاذ کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں گیارہ اگست کے روز جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ’آزادی مارچ‘ کے نام سے ایک انقلاب برپا ہوگا‘ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے زیراہتمام ملک کی سیاسی قیادت کو ایک چھت تلے تبادلہ خیال کا نادر اور شاید آخری موقع فراہم کر دیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اِس سے کتنا فائدہ اُٹھا پاتی ہے کیونکہ سیاسی مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے میں پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے!

حیرت کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں ہر قول اور فعل پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب وزیراعظم شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں نے زخموں پر مرہم رکھنے جا رہے تھے تو اُنہوں نے تحریک انصاف کے سربراہ کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی جبکہ اُسی روز وہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ تحریک انصاف کے مقام اور حیثیت کا ادارک کرنے میں تاخیر کرنے والے جب بیرون ملک دوروں پر تشریف لے جاتے ہیں تب اُنہیں تحریک انصاف کی یاد نہیں آتی لیکن جب ’پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ‘ کے لئے وہ بظاہر سنجیدہ ہو کر جو چال چلنے کی کوشش کرتے ہیں‘ وہ بیدار قوم اور سیاسی قیادت کی سمجھ سے بالاتر نہیں ہوتی۔

گیارہ اگست کو ہونے والے ’ویژن 2025‘ نامی اجلاس کا مقصد پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے نئی حکمت عملیوں اور ایک ایسا جامع لائحہ عمل پر غوروخوض کرنا ہے‘ جس سے تعمیروترقی کا عمل بامعنی ہو سکے۔ حسب اعلان توقع ہے کہ وزیراعظم اِس کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوں گے۔ عجب ہے کہ میزبان حکومت خود ہی بطور مہمان بھی شریک ہوگی حالانکہ اگر حقیقت میں ملک کے مستقبل کی فکر لاحق ہوتی تو مختلف شعبوں سے ماہرین کو طلب کیا جاتا اور حکومت کہیں کونے میں بیٹھ کر اُن کی باتیں سنتی اور لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا۔ توقع ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ اِس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ دعوت کو رد بھی نہ کریں اور اپنی جماعت کی نمائندگی کرنے والا ایک وفد اس اجلاس میں بھیج دیں‘ جس کے دعوت نامے فراخدلی کے ساتھ ہر مکتب فکر بشمول سیاست دانوں‘ فوجی حکام‘ افسرشاہی‘ تاجر‘ صنعتکاروں‘ ادیبوں‘ فنکاروں‘ مصوروں اور حتیٰ کہ صحافیوں کو بھی بطور خاص ارسال کئے گئے ہیں۔ منصوبہ بندی و ترقی کی وزارت سے تعلق رکھنے والے ایک انتظامی اہلکار کے مطابق ’’ویژن 2025‘‘ سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہرممکن کوششیں اور بڑھا چڑھا کر تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن یہ ساری کوششیں بے معنی اور کانفرنس پر اُٹھنے والے جملہ اخراجات بے معنی دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ پاکستان تحریک انصاف پہلے ہی 14 اگست کے روز ’آزادی مارچ‘ کے نام سے ایک ایسا انقلابی احتجاج شروع کرنے جا رہی ہے جس کا راستہ روکنے کے لئے حکومت نے ایک طرف تو وفاقی دارالحکومت کو یکم اگست سے فوج کے حوالے کر دیا ہے اور دوسری جانب التجائی بیانات کے ذریعے اُس طوفان کو روکنے کی کوششیں کر رہی ہے‘ جو مبینہ طور پر منظم و بڑے پیمانے پر دھاندلی سے منتخب ہونے والی حکومت کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جانے کی یقینی طور پر طاقت رکھتا ہے!

پاکستان کا 68واں یوم آزادی تاریخی اور خونیں ہونے جا رہا ہے یا پھر یہ طوفان پاکستان عوامی تحریک کی طرح شور شرابے کے بعد ٹل جائے گا جبکہ قبائلی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی اور اس سے متاثرہ افراد سے غمخواری کرنے جیسا بہانہ اور مضبوط جواز بھی موجود ہے! جہاں تک ’ضرب عضب‘ کارروائی کا تعلق ہے تو اِس سلسلے میں زمینی حقائق پوشیدہ رکھے جا رہے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ محدود رکھنے کی بجائے اِسے وسیع کیا جائے۔ دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے قومی سطح پر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جس میں انتہاء پسند مسلح و غیرمسلح طبقات سے ہمدردی رکھنے والوں کو بھی واضح پیغام ملنا چاہئے۔ تیسری ضرورت نقل مکانی کرنے والوں کی باعزت واپسی اور بحالی کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا ہے‘ جن کی بنیادی ضروریات اور سہولیات پوری نہیں ہو رہیں۔ ’ضرب عضب‘ کارروائی کے اہداف کتنے وقت میں حاصل کر لئے جائیں گے‘ اِس بارے میں بھی معلومات کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔ جن علاقوں سے عسکریت پسندوں کے پاؤں اکھڑ گئے ہیں‘ وہاں حکومت کی رٹ بحال کرنے کے لئے اقدامات کون کرے گا۔ اب تک جن عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اُن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ نچلے درجے کے رضاکار تھے جب تک خوف و دہشت پھیلانے والے نامور کرداروں کو کھوج کھوج اور چن چن کر انجام تک نہیں پہنچایا جاتا‘ اِس پوری کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونا ممکن نہیں۔ قبائلی علاقوں میں صحت و تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی‘ سیاسی استحکام اور اُنہیں قومی دھارے میں شامل کرنے میں مزید تاخیر بھی کسی کے مفاد میں نہیں۔

حاصل کلام احساس ’ویژن (بصیرت برائے) 2025‘کے ایجنڈے میں قبائلی علاقوں کو شامل کرنے اور موروثی سیاست کی بجائے ملک کے اُس وسیع تر مفاد کے تقاضوں کا سمجھنے کی ضرورت ہے‘ جسے پس پشت ڈالے چھ دہائیاں گزر چکی ہیں! ’’دل بینا بھی کر خدا سے طلب: آنکھ کا نور دل کا نور نہیں! (علامہ اقبالؒ )۔‘‘

Saturday, July 6, 2013

Jun2013: Gorkhattree, the destination

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین امام
کہا منزل مقابل ہے
دانشمندی یہی ہے کہ قرض کا بوجھ جس قدر جلد اُتار دیا جائے‘ اُتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ یہ قرض چاہے مادی و مالی ہو یا معنوی ہر دو صورتوں میں ادا کرنے ہی میں بھلائی بھی ہے‘ بصورت دیگر سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی تاریخ پشاور کے ایک باب میں ایسے کئی واقعات درج ہیں جن میں مالی طور پر مشکلات کا شکار افراد نے محض قرض ادا کرنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے خودکشیاں کر لیں لیکن اُن کی اُولادیں اس قدر آسودہ حال ہے کہ آج کے پشاور میں اُن کا شمار امیر ترین خاندانوں میں ہوتا ہے۔ درحقیقت چند خاندانوں کی غربت تو ختم ہو گئی لیکن پورا پشاور ’غریب الحال‘ ہو چکا ہے۔ جس شہر میں اربوں روپے خرچ ہوں وہاں کی سڑکوں پر گندگی و غلاظت کے ڈھیر اور ہوا میں اُڑتی خاک اس بات کا منہ بولتاثبوت ہیں کہ ذاتی مفادات کو پشاور پر ترجیح دی گئی۔ بدعنوانی کے مرض کا علاج گیارہ مئی کے عام انتخابات سے کیا گیا لیکن خیبرپختونخوا کی نئی صوبائی حکومت بھی حسب وعدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی!

سوات سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر محمود خان سے ’سٹیزن ہیئرٹیج کونسل‘ نامی تنظیم کے اراکین ملاقات کے دوران پشاور کی تاریخ و ثقافت کی احیاء‘ آثار قدیمہ کے تحفظ و بحالی اور بالخصوص گورگٹھڑی کی عمارت کے لئے مختص مالی وسائل میں ہوئی خردبرد سے آگاہ کیا۔ سماجی کارکنوں‘ صحافیوں اور ماہرین سیاحت و آثار قدیمہ پر مبنی پشاور کے شہریوں کے نمائندہ وفد نے وزیر موصوف کی عدالت میں ایک گھنٹہ طویل سماعت کے گورگٹھڑی کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے التجا کی کہ باقی ماندہ اثاثوں کے آثار کو بچایا جائے اور اُن کی بحالی کے لئے خاطرخواہ اقدامات کئے جائیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’’گورگٹھڑی منصوبے میں مالی وسائل پانچ افراد نے ملی بھگت سے خردبرد کئے۔‘‘ ان میں سابق دور حکومت کے ایک وزیر‘ ڈائریکٹر آرکیالوجی‘ گورگٹھڑی اَرٹیزن ویلیج پراجیکٹ (Artisan Village) کے نگران اور سیکرٹری و ڈپٹی سیکرٹری سیاحت شامل ہیں۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 25 دسمبر 2011ء کے روز 4کروڑ 52 لاکھ 80 ہزار (45.28 ملین) روپے مالیت کے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی‘ جس کا بظاہر دلکش مقصد یہ تھا کہ گورگٹھڑی کے مقام پر مقامی ہنرمندوں کو دکانیں فراہم کی جائیں‘ جہاں وہ اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے‘ جس سے مقامی ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی کے علاؤہ سیاحت کا فروغ ممکن ہوگا لیکن اس منصوبے کے درپردہ تین محرکات تھے۔ ساڑھے چار کروڑ روپے سے زائد رقم کو اِدھر اُدھر کرنا تھا۔ دوسرا مخصوص سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کو بناء اہلیت و تجربہ بھاری تنخواہوں پر ملازم رکھنا تھا اور تیسرا درپردہ محرک یہ تھا کہ ایک مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل گورگٹھڑی کے احاطے کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کے کارکنوں کو اجارے پر دے دیا جائے۔ یہ تینوں اہداف یعنی شکار ایک ہی تیر سے کرنے کے لئے تین سالہ منصوبہ بنام ’’ارٹیزن ویلیج پراجیکٹ‘‘شروع کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ جب سبھی فیصلہ سازوں کو اپنا اپنا حصہ مل رہا تھا تو اعتراض کون کرتا اور کیوں کرتا!

مئی 2010ء سے زیرغور منصوبے کی تکمیل گذشتہ برس ہو جانی چاہیے تھی لیکن چونکہ بدنیتی پر مبنی اس منصوبے کا کوئی منطقی جواز ہی نہیں تھا‘ اس لئے تاحال یہ مکمل نہیں ہو سکا اور اُمید تھی کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد ’’گورگٹھڑی ارٹیزن ویلیج منصوبہ‘‘ جہاں ہے اور جیسا ہے کی بنیاد پر روک کر مالی بدعنوانیوں کی چھان بین کی جائے گی۔ دوہری شہریت رکھنے والے سابق ڈائریکٹر آرکیالوجی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا کیونکہ اُن کی تعیناتی سمیت اُن کے دور میں کئی متنازعہ فیصلے ہوئے جن سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ یہ بھی توقع تھی کہ تحریک انصاف سب سے پہلے پشاور سے انصاف کرے گی اور محکمہ آثار قدیمہ و سیاحت میں ہونے والی مبینہ مالی بدعنوانیوں کی بذریعہ ’احتساب بیورو‘ تحقیقات کرائے گی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔

21جون (بروز جمعہ) کی رات ٹھیکیدار اور محکمہ آثار قدیمہ و سیاحت کے اہلکاروں تمام رات گورگٹھڑی کے اُن 49 کمروں کے آگے دروازے لگاتے رہے‘ جن کے لئے مختص مالی وسائل کی پہلے ہی بندربانٹ ہو چکی ہے! کیا یہ عجب نہیں کہ 20 جون کے روز صوبائی وزیر پشاور کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ تاریخی اہمیت کی حامل گورگٹھڑی کی عمارت کا کسی بھی طرح کے تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا لیکن 21 جون کی رات گورگٹھڑی کو نیلام کرنے کے لئے پھر سے تیار کرنا شروع کر دیا جاتا ہے! محکمہ آثار قدیمہ کے قواعد و قانون کے مطابق بھی گورگٹھڑی کا استعمال کسی بھی طرح کے تجارتی مقصد کے لئے نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کو اجارے پر دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ بھی موجود ہے جس میں گورگٹھڑی شادی ہال کو مسمار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ تحریک انصاف اِس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد بھی ممکن بنائے گی لیکن (خاکم بدہن) کہیں ایسا تو نہیں کہ افسر شاہی نے نئے وزیر کو بھی مال غنیمت میں حصہ داری دے کر شریک کر لیا ہو؟اگرچہ متعلقہ صوبائی وزیر کا تعلق سوات سے ہے لیکن اگر وہ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑے ورثے کی تباہی روکنے کے لئے اپنا کردار اَدا نہیں کرتے‘ بدعنوانوں کا احتساب نہیں کیا جاتا تو پھر لامحالہ اُن کا شمار بھی پشاور کے اُنہی ’دشمنوں‘ کی فہرست میں ہوگا جو اپنی حرص‘ لالچ اور طمع کے اسیر تھے اور جن کی وجہ سے پشاور کی خوبصورتی اور اس کے ماضی و حال کی نشانیاں دم توڑ رہی ہیں۔