Friday, September 10, 2021

Remembering Rahimullah Yusufzai

 ژرف نگاہ.... شبیرحسین اِمام

نایاب ہستیاں: رحیم اللہ یوسفزئی

صائب الرائے تجزیہ کار اُور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی (پیدائش دس ستمبر اُنیس سو چون۔ وفات نو ستمبر دوہزاراکیس) دارِفانی سے کوچ کر گئے۔ آپ ایک عرصے سے سرطان (کینسر) کے مرض میں مبتلا تھے‘ جس کا مقابلہ کرتے ہوئے جانبر نہ ہو سکے۔ انا للہ و انا علیہ راجعون۔ 

اَفغانستان میں روس (سوویت یونین) کی فوجی مداخلت (24 دسمبر 1979ءسے 15 فروری 1989ئ) کے دوران اُور اِس فوج کشی کو ختم کرنے کے لئے شروع ہونے والی مزاحمتی تحریک کا دور کمپیوٹر‘ انٹرنیٹ‘ موبائل فون اُور سوشل میڈیا جیسی ترسیلی سہولیات کا حامل نہیں تھا۔ خبر نگاری تجزیہ کاری سے زیادہ مشقت و محنت طلب کام اُسے ارسال کرنا ہوتا تھا جس کے لئے ایڈروڈز کالج کے سامنے پوسٹ آفس میں غیرملکی اداروں کے لئے کام کرنے والے صحافیوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں جو اپنے اپنے دفاتر ’وائر‘ کے ذریعے خبریں اُور ڈرم اسکینگ کے ذریعے تصاویر بھیجتے تھے۔ اُس دور میں جبکہ گوگل (google) کے ذریعے تلاش ممکن نہیں تھی اُور عالمی معیار کے مطابق صحافت کرنے سے بھی ہر کس و ناکس آشنا نہیں تھا تب رحیم اللہ یوسفزئی نے کراچی‘ اسلام آباد اُور پشاور کے اخبارات میں کام کرنے کے تجربے‘ تعلق اُور موقع سے استفادہ کرتے ہوئے افغان امور کے بارے میں اِس انداز سے خبرنگاری کی کہ اُن کے تجزئیات کی روشنی میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی کے خدوخال درست (فائن ٹیوننگ) کئے جاتے تھے۔ اب جبکہ ہر طرف ’صحافی‘ دکھائی دیتے ہیں اُور پشاور کے ایوان ہائے صحافت کی رونقیں عروج پر ہیں تو خیبرپختونخوا میں صحافتی اقدار کو متعارف اُور صحافتی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے میں بھی رحیم اللہ یوسفزئی کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا جن کا ثانی نہ ہے اُور نہ ہی کبھی ہوگا۔ 

افغانستان کے عسکریت پسند رہنماؤں بشمول القاعدہ تنظیم کے سعودی عرب نژاد سربراہ اسامہ بن لادن اُور افغان طالبان تحریک کے بانی رہنما ملا عمر سے بات چیت کے ذریعے رحیم اللہ یوسفزئی نے عالمی شہرت پائی۔ ایک وقت تھا جب مغربی ذرائع ابلاغ اُور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے علاو¿ہ غیرملکی سفارتخانوں کے لئے رحیم اللہ یوسفزئی سے زیادہ افغان امور سے متعلق صائب الرائے شخص کوئی دوسرا نہیں تھا اُور یہی وہ دور تھا جب رحیم اللہ یوسفزئی درجنوں ملکی و غیرملکی نشریاتی و اشاعتی اداروں کے لئے باقاعدگی سے اُور بے تھکان لکھتے تھے لیکن صحافت سے اُن کی وابستگی اُور لگاو¿ صرف ملازمت ہی کی حد تک محدود نہیں رہا اُور وہ دیگر صحافیوں کی طرح روایت پسند (لکیر کے فقیر) بھی نہیں رہے بلکہ اُنہوں نے صحافت میں آنے والی تبدیلیوں اُور ابلاغ کے جدید ترین وسائل (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے برق رفتار اسلوب پر نظر رکھی اُور سنسنی خیزی کی بجائے ہمیشہ تحمل کو اہمیت دی۔ فوری خبر کی دور میں سچائی و غیرجانبداری پر سمجھوتہ نہیں کیا اُور صحافت کی چاشنی‘ تازگی و اقدار کے بہرصورت علمبردار رہے اُور تنقیدی صحافت سے الگ رہے کیونکہ وہ شروع دن سے جانتے تھے کہ تنقیدی نظریات میں کوئی فلسفیانہ سچائی نہیں ہوتی کہ جسے مجرد فلسفیانہ طور پر ثابت کیا جا سکے اُور یہی نظریہہ اُن کی پوری عملی زندگی پر حاوی اُور صحافتی کامیابی کا نچوڑ ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی مرحوم اپنی ذات میں ایک جامعہ تھے۔ اُن کے علاو¿ہ راقم کو کسی ایسے ’ریذیڈنٹ ایڈیٹر‘ کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا جو اپنی ٹیم کے ہر رکن کی کمزوریوں اُور صلاحیتوں (پوٹینشل) کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس کی انفرادی اُور پوری ٹیم کی اجتماعی تربیت کا اہتمام نہ کرتا ہو۔ خبرنگاری میں عالمی صحافتی اسلوب کے قواعد و ضوابط اُور انگریزی لغت کے مطابق الفاظ کا درست انتخاب و موزوں استعمال شاید ہی اُن کے علاؤہ کسی دوسرے کے ہاں اِس قدر اہتمام کے ساتھ ملے۔ صرف 2 مثالوں سے اُن کی باریک بینی اُور انگریزی زبان کے قواعد کا لحاظ رکھنے میں دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا کہ رپورٹروں کی ہفتہ وار میٹنگ میں وہ اکثر انگریزی زبان میں شخصیات‘ مقامات یا القابات کا تعین کرنے والے (determiner) ’The‘ اُور سنگل اُور ڈبل ’کوٹیشن مارکس (Quotation marks)‘ کے درست استعمال کو مثالوں سے بیان کرتے جو بظاہر چھوٹی بات لگتی ہے لیکن جب ہم انگریزی صحافت کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلی درست چیز اِس زبان کی قواعد و ضوابط پر عمل ہونا چاہئے۔ رحیم اللہ یوسفزئی بار بار غلطی کرنے پر بار بار اصلاح کرتے اُور یہ بھی آپ ہی کا خاصہ (بڑا پن) تھا کہ ناراضگی یا غصے کا اظہار کبھی بھی آپ کے چہرے یا خطاب سے عیاں نہ ہوتا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ دو برس چند ماہ ایک ہی ادارے (اخبار دی نیوز) میں کام کرنے کے دوران متعدد مرتبہ اُن کے ہمراہ افغانستان سفر کرنے کا اتفاق ہوا‘ جن سے متعلق یاداشتوں کو چند سطور میں بیان کرنا ممکن نہیں‘ البتہ صرف ایک واقعہ قارئین کو اُن کی شخصیت کے ایک خاص پہلو سے روشناس کرانے اُور رحیم اللہ یوسفزئی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کی محمد عمر نامی شخص سے قندھار میں پہلی ملاقات اُن کے ملا عمر بننے یعنی تحریک طالبان (افغانستان) کی بنیاد رکھنے سے کئی برس پہلے ہوئی تھی۔ فروری 1995ءمیں تحریک طالبان افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں میں قئام کی گئی جن ملا عمر 35 برس کے تھے اُور ملاعمر نے اُنہیں بتایا تھا کہ وہ اُن دنوں مدرسے میں زیرتعلیم تھے لیکن روس (سوویت یونین) کے خلاف جہاد کے لئے اُنہوں نے مدرسے میں جاری تعلیمی عمل کو خیرباد کہا اُور اپنے لئے ’طالب‘ کا لقب پسند کیا‘ جس کا مطلب علم کا متلاشی ہوتا ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کی ایک مرتبہ نہیں بلکہ ملا عمر سے کئی ملاقاتیں رہیں اُور چونکہ ملا عمر تصویر نہیں بنواتے تھے اُور نہ ہی وہ دور ایسا تھا کہ جب ہر شخص کی جیب میں کیمرے والا موبائل ہوا کرتا تھا۔ دنیا ملا عمر کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی اُور اِس میں مدد کرنے کے لئے رحیم اللہ یوسفزئی ہی واحد ایسی غیرملکی شخصیت تھے‘ جن کا اُن سے نہ صرف ملاقاتوں بلکہ بعدازاں بھی رابطوں کا سلسلہ رہا۔ 

روس کی شکست کے بعد ایک مرحلہ وہ آیا جب امریکہ اُور اتحادی افواج نے افغانستان پر فوج کشی کر دی اُور یہ وہ وقت تھا جب رحیم اللہ یوسفزئی دل کے عارضے میں مبتلا تھے اُور آپ نے خاص دفتری امور کے علاو¿ہ دیگر معمولات ترک کر دیئے تھے۔ ڈاکٹروں نے زیادہ مشقت حتی کہ ہوائی جہاز کے سفر سے بھی منع کیا تھا کہ اُنہیں ملا عمر کی طرف سے ملاقات کی خواہش کا پیغام ملا تو اُن کے چہرے پر سنجیدگی مزید بڑھ گئی تھی جس سے متعلق پوچھنے پر بتایا کہ اگرچہ میرا ہوائی سفر کرنا میری زندگی کے لئے خطرہ ہے لیکن مجھے کوئٹہ اُور وہاں سے براستہ سڑک قندھار جانا پڑے گا لیکن ”آپ کی صحت اتنا طویل اُور پرخطر سفر کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی؟“ میرے اِس سوال پر اُنہوں نے کہا کہ ”ایک وقت تھا جب دنیا ملاعمر سے بات کرنا چاہتی تھی اُور اُس وقت اُنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا کہ میں اُن کے موقف کو پوری ایمانداری سے پیش کروں گا اُور اب جبکہ دنیا اُن سے کترا رہی ہے اُور میں خرابی صحت کے جواز پر اُن سے ملاقات نہ کروں تو کہیں میری صحافتی ایمانداری اُور غیرجانبداری سے متعلق اُن کی رائے تبدیل نہ ہو جائے اُور پھر وہ اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر ہوائی و زمینی سفر پر گئے جو اپنی جگہ سیکورٹی خطرات سے بھی بھرپور تھا اُور ایک ایسے وقت میں جبکہ خلائی سیاروں اُور ڈرون طیاروں سے ہر راہداری کی نگرانی ہو رہی تھی اُور رحیم اللہ یوسفزئی جیسی شخصیات کے پیچھے سائے کی طرح خفیہ اِداروں کے اہلکار جڑے رہتے تھے تو افغانستان کا دورہ اُن کی مہم جو طبیعت کا عکاس تھا۔ وہ ایک نہایت ہی مشکل پسند اُور مستقل مزاج انسان تھے۔

اہل خانہ اُور اہل خاندان کے لئے آسائشوں کا بندوبست کیا لیکن اپنی بودوباش انتہائی سادہ اُور متوازن رکھی۔ وہ ترک دنیا کی عجیب و غریب مثال تھے کہ بیماری کی شدت کے آخری چند ماہ (دوہزاراکیس کے آغاز سے 9 ستمبر تک) کے علاوہ اُنہوں نے کبھی بھی لکھنا ترک نہیں کیا۔ دی نیوز میں اُن کی آخری تحریر ’21 جون 2021ئ‘ کے روز شائع ہوئی جو ’نیشنل الیکٹرسٹی پالیسی‘ سے متعلق تھی جبکہ ہفتہ وار اشاعت ’دی نیوز آن سنڈے (TNS)‘ کے لئے اُن کی آخری تحریر ’7 فروری 2021ئ‘ کے روز شائع ہوئی جو عسکریت پسند رہنما منگل باغ کی ہلاکت سے متعلق ماضی و حال کی اطلاعات کے جائزے پر مشتمل تجزیہ تھا۔ 

روزنامہ آج کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ رحیم اللہ یوسفزئی کی تحریروں کو ’دی نیوز‘ سے ترجمہ اُور تلخیص کرکے شائع کیا جاتا رہا‘ جن کے لئے اُنہوں نے ’دامن تاتارا سے‘ کا عنوان منتخب کیا تھا۔ یہ تراجم روزنامہ آج کی ویب سائٹ (dailyaaj.com.pk) کی ذیل میں کالم نگاروں (columnisit) کے شعبے میں رحیم اللہ یوسفزئی (rahimullah-yousafzai) کی تلاش سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا قومی اعزاز ”ستارہ امتیاز“ عالمی سطح پر نمایاں خدمات یا ملک کے لئے سفارتکاری کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی بھی ”ستارہ امتیاز“ کے حامل تھے‘ جن کی رحلت سے ایک ستارہ غروب ہوا ہے اُور اِس پر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ قومی سطح پر صحافتی حلقے اداس ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے لیکر سیاسی جماعتوں کے قائدین اُور صحافیوں کی قومی نمائندہ تنظیم (فیڈریل یونین آف جرنلسٹس) کی جانب سے تعزیتی بیانات جاری ہوئے ہیں۔ التماس دعا ہے کہ قارئین اوّل آخر درود شریف (صلوة) کے ساتھ ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اُور تین مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت (فاتحہ) کا ہدیہ ایصال ثواب کریں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور کے درجات بلند سے بلند فرمائے اُور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)۔

....


Tuesday, September 7, 2021

Schools are calling!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پکار سے پکار تک

شعبہ تعلیم‘ صنعت و حرفت اُور صوبائی تجارتی و اقتصادی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شہریار جلیل نے توجہ دلائی ہے کہ روزنامہ آج کے اِنہی صفحات میں شائع ہونے والی سطور بعنوان ”ہنگام سے ہنگامے تک (چھ ستمبر دوہزاراکیس)“ کے زیرنظر پیش کردہ معروضات میں سرکاری تعلیمی اداروں (سکولز) میں ”سیکنڈ شفٹ“ شروع کرنے کا جو ”بنیادی مقصد“ بیان کیا گیا‘ وہ جاری وبائی ہنگامی صورتحال میں احتیاطی تدابیر سے متعلق نہیں بلکہ اِس سے مقصود یہ ہے کہ سرکاری عمارتوں (انفراسٹکچر) اُور اِن میں موجود سہولیات سے ”زیادہ استفادہ“ کرتے ہوئے طلبا و طالبات کو سکولوں کے عمومی معمولات (صبح کے علاوہ) دوسرے دورانیئے (سہ پہر کے اوقات) میں بھی زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔“ تعلیم سے متعلق صوبائی فیصلہ سازوں کے لئے ”25 لاکھ“ ایسے بچے بچیاں درد ِسر ہیں جو کسی بھی تعلیمی ادارے سے استفادہ نہیں کر رہے اُور چونکہ بنیادی تعلیم آئینی ذمہ داری ہے اِس لئے صوبائی حکومت نہ صرف ہر ’تعلیمی سال‘ کے آغاز پر نئے عزم اُور جذبے سے ’داخلہ مہم‘ شروع کرتی ہے بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں بھی ہر سال اضافہ کیا جاتا ہے لیکن یہ اضافہ حسب آبادی (حسب ِضرورت) نہیں ہے۔ صوبائی محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ (kpese.gov.pk) کے مطابق سال 2021ءکی داخلہ مہم جسے ”پکار رہی ہے سکول کی گھنٹی“ کا نام دیا گیا ہے جبکہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے علاوہ ایک الگ ضمنی حکمت ِعملی ’سرکاری سکولوں میں ’ڈبل شفٹ‘ شروع کرنے کی ہے جس کے پہلے مرحلے میں 120 سرکاری (76 بچے اُور 44 بچیوں) کے سکولوں میں ڈبل شفٹ شروع کی گئی ہے جبکہ ضرورت بچیوں کے لئے زیادہ سکولوں کی ہے کیونکہ سکولوں سے استفادہ نہ کرنے والوں میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں (پانچ سے سترہ سال عمر کی بچیوں) کی تعداد زیادہ ہے۔ 

خیبرپختونخوا میں تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی و قانون سازی امتیازی حیثیت (شان) کی حامل ہے‘ جس کئی قومی اعزازات حاصل ہیں جیسا کہ خیبرپختونخوا ملک کا وہ پہلا صوبہ ہے جس نے سکول بیگ کے وزن (کتابی بوجھ) سے متعلق قانون سازی کی اُور ابتدائی درجے (پری گریڈ ون) سے لیکر گریڈ 12 (بارہویں جماعت) تک کے سکول بیگز کا وزن (بذریعہ قانون) مقرر کیا لیکن سکول بیگ وزن سے متعلق قانون کو صرف سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے مخصوص و محدود سمجھا گیا اُور یہی وجہ ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی اکثریت سکول بیگ وزن سے متعلق صوبائی قانون پر عمل درآمد نہیں کر رہی لیکن اِس جرم (قانون کی خلاف ورزی) بارے اِن کی سرزنش بھی نہیں کی جاتی کیونکہ صوبائی فیصلہ سازوں (اراکین اسمبلی و اراکین صوبائی کابینہ) میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان یا شراکت دار شامل ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ شرح فیسوں سے لیکر سکول بیگز تک بات قواعد سازی یا قانون سازی سے زیادہ آگے نہیں بڑھتی۔ مفادات سے متصادم فیصلہ سازی کا یہ اختیار اپنی ذات میں خرابیوں کا مجموعہ ہے جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ خوش آئند ہے کہ حسب ِقانون پہلی جماعت سے پہلے درجے (پری گریڈ ون) کے بچے بچی کے بستے (سکول بیگ) کا وزن ڈیڑھ کلوگرام‘ پہلی جماعت کا سکول بیگ 2.4 کلوگرام‘ دوسری جماعت 2.6کلوگرام‘ تیسری جماعت 3 کلوگرام بتدریج بڑھتے ہوئے 12ویں جماعت کے سکول بیگ کا وزن زیادہ سے زیادہ 7 کلوگرام ہونا چاہئے۔ یوں سکول بیگ کا وزن ڈیڑھ سے سات کلوگرام سے زیادہ ہونا قانون جرم ہے جبکہ سکول بیگ وزن سے متعلق عالمی اصول کسی طالب علم کے جسمانی وزن کا 10 فیصد مقرر ہے۔ پاکستان میں تدریس کے جدید عالمی تصورات کو لاگو کرنے والے ایسے نجی سکول بھی موجود ہیں جہاں بچوں کو کتابیں لانے لیجانے کی زحمت و مشقت (تکلیف) برداشت کرنا ہی نہیں پڑتی اُور کلاس رومز میں سکول انتظامیہ کی جانب سے کتابیں فراہم کی جاتی ہیں جبکہ نصابی کتب بچوں کے گھروں پر رہتی ہیں جن سے متعلق ’ہوم ورک (گھر میں کی جانے والی مشقیں اُور معمولات)‘ آن لائن ارسال کئے جاتے ہیں۔

سرکاری سکولوں سے متعلق ’اِصلاحاتی حکمت ِعملی‘ کی منظوری خیبرپختونخوا کابینہ کے 49 ویں اجلاس منعقدہ 27 جنوری 2021ءمیں دی گئی جس میں صوبائی فیصلہ سازوں نے اِتفاق کیا تھا کہ ”یکم ستمبر 2021“ سے ”سیکنڈ شفٹ سکولز“ کا اجرا کیا جائے اُور ایسا ہی ہوا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جاری مالی سال 2020-21ءمیں شعبہ تعلیم کے لئے مختص سالانہ مالی وسائل میں 24 فیصد اضافہ کیا اُور صوبائی حکومت کا ارادہ ہے کہ رواں مالی سال کے دوران طالبات کے لئے 70 نئے سیکنڈری سکولز تعمیر کئے جائیں۔ مفت درسی (نصابی) کتب فراہم کی جائیں گی اُور حال ہی میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں میں داخلے کو پُرکشش بنانے کے لئے پرائمری و سیکنڈری کی سطح پر طلبا و طالبات کو تعلیمی وظائف دیئے جائیں گے۔ یہ سب اچھی باتیں اپنی جگہ لیکن ہر سال داخلے سے محروم رہنے والوں کے بارے میں فیصلہ سازی‘ عمل اُور آبادی بڑھنے جیسی زمینی حقیقت کے درمیان توازن ہونا چاہئے۔

خیبرپختونخوا میں تحریک ِانصاف حکومت کا دوسرا دور ’اگست 2018ئ‘ سے جاری ہے۔ بچوں کے عالمی دن (20 نومبر 2018ئ) کے موقع پر خیبرپختونخوا کے ابتدائی و ثانوی تعلیم کے محکمے نے اعداد و شمار جاری کئے تھے جن سے معلوم ہوا کہ صوبے بھر میں 18 لاکھ (پانچ سے سترہ سال عمر کے) بچے بچیاں تعلیمی اداروں سے باہر ہیں اُور سکول نہ جانے والے اِن بچوں سے متعلق اعدادوشمار کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایک جائزے (سروے) سے اخذ کئے گئے جن کی تفصیلات کے مطابق ”خیبرپختونخوا کی آبادی کا ”23 فیصد“ 5 سے 17 سال عمر کے بچے بچیوں پر مشتمل ہے‘ جنہیں اگر 100فیصد مان لیا جائے تو اِس میں شامل 23 فیصد آبادی (64 فیصد بچیاں اُور 36 فیصد بچے) سکول نہیں جا رہے۔ یہاں یہ نکتہ بطور خاص توجہ لائق ہے کہ ’نومبر دوہزار اٹھارہ تک‘ 11 لاکھ 52 ہزار بچے بچیاں ایسے تھے جو کبھی بھی سکول نہیں گئے جبکہ 64 ہزار بچے بچیاں سکولوں میں داخل ہوئے لیکن وہ کسی نہ کسی مرحلے پر تعلیمی عمل سے علیحدہ ہو گئے اُور تعلیم کے دوران سکول چھوڑنے والوں میں طالبات (لڑکیوں) کی تعداد طلبا (لڑکوں) کے مقابلے زیادہ ہے۔ اگست دوہزار اٹھارہ میں مجموعی طور پر 34 فیصد بچے اُور 66 فیصد بچیاں تعلیمی نظام سے الگ تھے جبکہ پاکستان نے بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی دستاویز (معاہدے) پر دستخط کر رکھے ہیں اُور مذکورہ عالمی معاہدے پر دستخط کرنے والا پاکستان چھٹا ملک تھا جس نے ’12 نوبرم 1990‘ سے بچوں کے تعلیم و دیگر حقوق کی ادائیگی کا وعدہ کیا ہے لیکن کیا ملکی آئین اُور عالمی وعدے پر اِس کی روح کے مطابق عمل ہو رہا ہے؟ نتیجہ خیال یہ ہے کہ تحریک ِانصاف کے دوسرے دور ِحکومت (اگست 2018) کے آغاز کے موقع پر خیبرپختونخوا میں سکولوں سے اِستفادہ نہ کرنے والے بچوں کی تعداد 18 لاکھ تھی جو سال 2021ءمیں بڑھ کر 25 لاکھ ہو چکی ہے یعنی 3 سال میں 7 لاکھ سکول نہ جانے والے بچے بچیوں کا اضافہ ہوا ہے لیکن اِن اعدادوشمار کا ماخذ (source) معلوم نہیں اُور نہ ہی اِن کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق یا تردید کی جا سکتی ہے۔ اگر آج یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پچیس لاکھ بچے جن کی عمریں پانچ سے سترہ سال ہیں اُور یہ کسی بھی سرکاری یا نجی تعلیمی اِدارے سے وابستہ نہیں تو اِس ”بڑھتی ہوئی تعداد“ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال تعلیمی اِداروں میں نئے داخلوں کی گنجائش کس قدر پیدا ہونی چاہئے اُور کیا ”سکینڈ شفٹ“ ہی واحد حل ہے‘ جس پر محکمہ تعلیم کی ساری توجہ اُور توانائیاں مرکوز ہیں!؟

....