Monday, September 13, 2021

Unmatched love for Peshawar

 پشاور شناسی

.... گھاس ’اِک‘ قبر پر کچھ اُور ہری لگتی ہے!

پشاور کی محبت میں سرشار ”رحیم اللہ یوسفزئی“ کی وفات (نو ستمبر دوہزاراکیس) پر صرف اُن کے ہم پیشہ (قلم قبیلہ) ہی افسردہ نہیں بلکہ پشاور شناسوں کی وہ تعداد میں غمزدہ ہے‘ جو صحافت کے شعبے میں سند کا درجہ رکھنے والے ’یوسفزئی‘ کے پشاور سے دلی تعلق اُور مخصوص نرم لہجے میں پشاور سے اخلاص و محبت کے اظہار پر مبنی خیالات سے آگاہ تھے۔ یادش بخیر‘ شمال مغربی سرحدی صوبے (حال خیبرپختونخوا) میں متحدہ مجلس عمل کے نام سے جماعت اسلامی‘ تحریک جعفریہ‘ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن‘ جماعت اہلحدیث اُور جمیعت علمائے پاکستان پر مبنی دینی جماعتوں کا اتحاد سال 2002ءمیں قائم ہوا‘ جنہیں صوبائی حکومت بنانے کا موقع ملا تو پشاور سمیت دیگر اضلاع کے لئے مختص ترقیاتی وسائل وزیراعلیٰ کے آبائی حلقے میں تعمیروترقی پر خرچ ہونے لگے۔ اِس ناانصافی کے خلاف ’پشاور بچاو¿ تحریک‘ کا محاذ بنایا گیا اُور اِس کی روح رواں رحیم اللہ یوسفزئی نے صوبائی دارالحکومت کو اُس کا جائز حق دلانے کے لئے دامے‘ درہمے‘ سخنے مدد کی اُور پیش پیش رہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی (پیدائش 10 ستمبر 1954ئ) ضلع مردان کے گاو¿ں شموزئی میں پیدا ہوئے۔ مادری زبان پشتو (وہبی) لیکن اُردو اُور انگریزی پر یکساں (کسبی) عبور رکھتے تھے جبکہ ہندکو زبان کے چند الفاظ کی ادائیگی اُن کے منہ سے بہت اچھی لگتی بالخصوس جب وہ مخصوص دھیمے لہجے میں پشاور کے اصل وارثوں کی زبان (ہندکو) میں ’لالے دی جان‘ کہتے تو یہ درحقیقت مذاق نہیں ہوتا بلکہ وہ پشاوریوں کی نرم مزاجی اُور اِن کے ہاں پائے جانے والے عمومی ادب و احترام کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہوتے کہ جس میں ہر چھوٹے بڑے کو اُس کے اصل نام کی بجائے اچھے و معروف القابات سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ ہندکو زبان کے علاو¿ہ شاید ہی دنیا کی کسی دوسرے زبان میں عمومی بول چال اِس قدر ادب و تعظیم کے دائرے یا مدارج رکھتی ہو لیکن چونکہ اب اہل پشاور کے لئے ہندکو زبان اُتنی ہی اجنبی بن چکی ہے جتنی یہاں آباد ہونے والی دیگر اقوام کی اکثریت کے لئے ہے‘ اِس لئے بات بات پر ’لالے دی جان‘ اُور ’قربان جاواں‘ جیسے صیغے روزمرہ بول چال کے دوران سننے میں نہیں آتے۔ ’رحیم اللہ یوسفزئی‘ کی ’علم جو‘ طبیعت اُور ’علمی اضطراب‘ نے اُنہیں صحافت کی دنیا میں کامیاب و بلند مرتبے پر فائز کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی مادری زبان پشتو کو بھی سطحی نہیں بلکہ انتہائی گہرائی سے جانتے تھے اُور کسی ایک لفظ کی تہہ تک جانے میں تحقیق کو الجھنے یا بے نتیجہ چھوڑنے کے قائل نہیں تھے۔ اخبار کے صوبائی دفتر میں مدیرت (ریزیڈنٹ ایڈیٹر) کے طور پر فائز ہونے کی وجہ سے اکثر خبروں کے معیار اُور اُن میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر نظر رکھتے۔ ایک مرتبہ راقم سے محرم الحرام کی مناسبت سے تحریر خبر میں لفظ ’امام بارگاہ‘ سے متعلق سوالات پوچھے اُور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ’امام بارگاہ‘ اُور ’امام باڑہ‘ کی وجہ تسمیہ کیا ہے‘ یہ الفاظ کب سے رائج ہیں اُور مختلف ثقافتوں میں اِس عبادت گاہ کے مختلف نام کیا رائج ہیں۔ رحیم اللہ یوسفزئی نے کبھی بھی سیکھنے کا عمل ترک نہیں کیا اُور یہی وجہ تھی کہ جب تک اُن کے لوگوں سے ملنے یعنی بات چیت سے علم کے حصول کا سلسلہ جاری رہا‘ جو اُن کی علالت کے باعث آخری پانچ چھ ماہ صرف ٹیلی فونک رابطوں کی حد تک رہا اُور پھر دو ماہ اِس سے بھی محدود ہو گیا تھا تو اِس دوران اُنہوں نے لکھنے لکھانے کا عمل ترک دیا حالانکہ قوی الحافظہ تھے اُور مشق بھی خوب تھی۔ اُن کی آخری تحریر وفات سے قریب ڈھائی مہینے قبل ’دی نیوز‘ میں شائع ہوئی تھی۔ 

مرحوم و مغفور ”رحیم اللہ یوسفزئی“ صرف صحافتی ہی نہیں بلکہ سیاست کے شاہسوار بھی تھے۔ پاکستان اُور افغانستان کی قوم پرست جماعتیں و مذہبی حلقوں میں یکساں مقبول رہے اُور اگرچہ اپنی نگارشات میں صحافتی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے غیرجانبداری اُور سچائی کے جملہ پہلوو¿ں کے بیان پر مبنی توازن برقرار رکھتے لیکن اُن کے سیاسی جھکاو¿ کو باآسانی محسوس کیا جا سکتا تھا۔ دانشور اِس قدر تھے کہ کسی بھی قوم پرست جماعت کو اپنی دیانتدارانہ صحافتی خدمات کی وجہ سے ملنے والی حیثیت کا فائدہ اُٹھانے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ یہی صحافیانہ ایمانداری‘ تجربہ اُور مہارت اُن کی کل کمائی (اثاثہ) تھا جسے اُنہوں نے آخری دم تک ہاتھ سے جانے نہیں دیا اُور اِس حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ جاننے والوں کی اکثریت اُن کی کامیاب زندگی کی معترف ہے اُور اُن سے دوستی و تعلق پر افتخار محسوس کرتی ہے۔ 

رحیم اللہ یوسفزئی کو پشاور سے اپنے تعلق پر ہمیشہ فخر رہا اُور اُن کے ہاں پشاور کا قرض اُور اِس کی محبت کے تقاضے نبھانے کی کوششیں بھی ہر دور میں جاری رہیں جو ایک ایسا وسیع عنوان ہے جس کا احاطہ کسی ایک تحریر میں ممکن نہیں۔ آپ نہ صرف خود پشاور کے شیدائی تھے بلکہ پشاور سے محبت اُور اِس جذبے کی قدر کرنے والوں کی حمایت اُور اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے میں مصلحت سے کام نہیں لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اہل محبت کے درجات بلند سے بلند فرمائے اُور مرحوم کے قرابت داروں‘ دوست‘ احباب‘ عزیزواقارب اُور بالخصوص ایوان ہائے صحافت (پشاور پریس کلب) اُور خیبریونین آف جرنلسٹس کے افسردہ اراکین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ دنیا کی حقیقت ہی یہی ہے کہ یہاں حیات کی محافظ موت ہے اُور موت کوئی ایسی حالت نہیں جو زندگی سے کم خوشگوار تجربہ ہو کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اِسے یوں زندگی کے بعد نہ رکھا جاتا جو درحقیقت ایک انعام ہے‘ اُن ہستیوں کے لئے جو اپنی دنیاوی تجربہ گاہ میں اپنی زندگیاں حق گوئی کی نذر کرتے ہوئے امربالمعروف اُور نہی عن المنکرات (حی علی خیر العمل) کی عملاً تفسیر بنتے ہیں۔ ”زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے .... گھاس اِس قبر پر کچھ اُور ہری لگتی ہے! (سلیم احمد)“

رحیم اللہ یوسفزئی کی پشاور سے محبت کو سلام ہے جنہوں نے پشاور سے تعلق کو مضبوط کیا اُور یہاں ایک درِدولت (گھر) کی تعمیر کی صورت اپنی آنے والی نسلوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ پشاور سے اپنا تعلق بنائے رکھیں‘ جو یقینا ایسا ہی کریں گے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کو لاتعداد اشکبار آنکھوں کے سامنے 10 ستمبر 2021ءکے روز (آبائی گاؤں کاٹلنگ) میں سپردخاک کیا گیا‘ آسمان صحافت کے اِس درخشاں  ستارے کو آسودہ خاک کرتے ہوئے اُن کے چہرے کا رخ مغرب کی طرف موڑ دیا گیا‘ جو پشاور کی جغرافیائی سمت ہے۔ ”روز کے روز بدلتا ہوں میں خود اپنا جواز .... زندگانی میں تجھے حل نہیں ہونے دیتا (سعید اللہ قریشی)۔“

....





Sunday, September 12, 2021

Peshawar odds and evens!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: حد بَراری

صوبائی دارالحکومت کو تجاوزات سے پاک کرنے کا عزم پھر سے جاگ اُٹھا ہے اُور اِس سلسلے میں کئے گئے ”سخت فیصلے“ کی روشنی میں عملی اقدامات کا آغاز 11ستمبر سے کر دیا گیا ہے جس کی تفصیلات میں ضلعی انتظامیہ (کمشنر پشاور) کی ہدایات پر اندرون شہر کے 17 مرکزی بازاروں کا انتخاب کر کے اُن کی ”حد براری“ اَزسرنو کرنے کا حکم شامل ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ”حد براری“ اراضی کی پیمائش کے اُس خاص عمل (طریقے) کو کہتے ہیں جس میں کسی مقام پر سرکاری و نجی اراضی میں تمیز کی جاتی ہے۔ دونوں کے رقبے الگ الگ وضع کئے جاتے ہیں اُور یوں اراضی کے دونوں فریق (سرکار اُور نجی مالکان) کی حدود کا تعین کر دیا جاتا ہے جس سے گزرگاہیں‘ راہداریاں‘ شاہرائیں‘ فٹ پاتھ اُور نالے نالیوں پر قائم تجاوزات عیاں (ظاہر) ہو جاتی ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چند برس قبل بھی اِسی قسم کی ایک مشق کی گئی تھی جس کے ذریعے تجاوزات کی نشاندہی بھی ہوئی لیکن اِس کے بعد تجاوزات ختم کرنے کا سلسلہ خاطرخواہ عزم و استقامت سے جاری نہ رکھا جا سکا‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’زمینی حقائق (حق براری)‘ کی روشنی میں جو تجاوزات مسمار کی گئی تھیں وہ بھی راتوں رات دوبارہ تعمیر کر دی گئیں بلکہ کئی مقامات پر پہلے سے زیادہ رقبے پر تجاوزات پھیل گئیں اُور یوں پشاور کی خدمت کا جذبہ ذاتی مفادات کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔ وجہ یہ تھی کہ پشاور کا ایک مطلب انتخابی حلقہ بندیاں بھی ہیں جن سے سبھی سیاسی و غیرسیاسی‘ قوم پرست و مذہبی جماعتوں کے سیاسی مفادات پر مبنی اپنا اپنا نکتہ نظر ہے یعنی پشاور کو ہر کوئی اپنے زاویئے سے دیکھ رہا ہے۔ ”اپنی اپنی مصلحت ہے‘ اپنا اپنا ہے مفاد .... ورنہ اِس دنیا میں کب کوئی کسی کے ساتھ ہے (ریئس رامپوری)۔“

پشاور شہر کے 17 بازاروں میں فی الوقت ’حد براری‘ کا درپیش مرحلہ ’ٹاؤن ون‘ پر مشتمل انتظامی بندوبست سے متعلق ہے اُور اِس عمل کی تکمیل محکمہ مال (ریونیو سٹاف) کی زیرنگرانی ’ٹاؤن ون‘ کی انتظامیہ سرانجام دے رہی ہے جس کے لئے تشکیل کردہ ٹیم میں ٹاو¿ن ون کی آرکیٹیکٹ (نقشہ نویس) فاخرہ گل کو بھی بطور خاص شامل کیا گیا ہے تاکہ ”حدبَراری“ کے عمل میں پرانے نقشہ جات کی مدد سے نئے نقشہ جات تخلیق کئے جا سکیں۔ کسی بازار کی ”حد بَراری“ کرنے کا روائتی طریقہ بیک وقت ’اِنتہائی مشکل‘ اُور ’اِنتہائی آسان‘ ہو سکتا ہے۔ مشکل اِس صورت میں کہ اگر قدم قدم پر پیمائش کی جائے تو ظاہر سی بات ہے کہ تاجر تنظیمیں خاموش تماشائی نہیں رہیں گی بلکہ ہر ممکنہ مزاحمت کریں گی‘ کہیں تعاون نہیں کیا جائے گا یا تاخیری حربے اختیار کئے جائیں گے تاکہ ”حدبراری“ ناکام ہو اُور یہاں اندیشہ نقص امن کا بھی ہے۔ دوسری طرف ’حد براری‘ کا عمل اِس طرح سے آسان ہو سکتا ہے کہ کسی بازار کے آغاز و اختتام اُور اُس کے وسط کا تعین کرنے کے بعد سڑک کی پیمائش بموقع فٹ پاتھ اُور نکاسی آب کے نظام کر لی جائے اُور اِس پیمائش کے مطابق تاحد نظر ’سیدھی لکیر‘ کھینچی جائے تو تجاوزات کی نشاندہی ازخود ہوتی چلی جائے گی۔ 

”حد براری“ کے ذریعے تجاوزات کا تعین (نشاندہی) ہونے کے بعد اِن کے خلاف کاروائی کا مرحلہ قطعی آسان نہیں ہوگا اُور یہی سب سے زیادہ ضروری و مشکل مرحلہ ہے کیونکہ صرف تاجر ہی نہیں بلکہ بجلی اُور ٹیلی فون کے کھمبے راہ میں حائل ہوں گے چونکہ پشاور شہر کی حدود میں رہائشی و تجارتی مراکز کے درمیان تمیز نہیں رہی اُور گلی گلی‘ محلے محلے بازار بن گئے ہیں جن کے خلاف کاروائی کی صورت وہاں کے رہائشیوں کے معمولات ِزندگی متاثر ہوں گے اُور تاجر تنظیمیوں کے نمائندے ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی بازاروں سے ملحقہ رہائشیوں کو اشتعال دلائیں گے کہ وہ تجاوزات کے خلاف کاروائیوں پر احتجاج کریں کیونکہ اِس سے اُن کی بجلی و ٹیلی فون کی خدمات سمیت آمدورفت وقتی طور پر متاثر ہوئی ہوں گی۔ توجہ طلب ہے کہ اگر پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنا ہے اُور پشاور تجاوزات کو تجاوزات سے پاک دیکھنا ہے تو اِس کے لئے ہر خاص و عام‘ ہر منتخب و غیرمنتخب نمائندے اُور ہر متعلقہ و غیرمتعلقہ سرکاری ادارے کو اپنی اپنی بساط کے مطابق برداشت و تعاون کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ دوسری کوئی ایسی صورت نہیں کہ جادو کی چھڑی گھماتے ہی تجاوزات ختم ہو جائیں۔ ترجیح پشاور ہونا چاہئے۔ اہل پشاور کو ضلعی و بلدیاتی اہلکاروں سے ہر ممکنہ حد سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ تجاوزات ختم کرنا نہیں بلکہ اِن کی موجودگی مستقل مسئلہ ہے اُور انسداد ِتجاوزات کے دوران پیش آنے والی تھوڑی سی تکلیف اگر کھلے دل سے برداشت کر لی جائے تو یہ بہت بڑی مشکل و پریشانی کا خاتمہ ثابت ہوگی۔ 

مشتری ہوشیار باش۔ اہل پشاور کو تاجر تنظیموں یا کسی بھی سیاسی جماعت کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہئے جو ”حدبراری“ اُور تجاوزات کی پس پردہ مخالفت کر رہی ہے اُور اِس مرتبہ بھی تجاوزات کو ختم کرنے کی اِس منظم کوشش (حد براری) کو ناکام بنانے کے لئے متحرک ہو چکی ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ایک مرتبہ پھر کمشنر پشاور کو تبدیل کر دیا جائے جنہیں ماضی میں بھی تبدیل کرنے کی وجہ سے ’حدبراری‘ اُور ’تجاوزات کے خلاف کاروائیاں (آپریشن)‘ بھی جہاں تھا وہیں رک گئی تھیں۔ اندرون شہر رہنے والوں کی اکثریت کو اُمید ہے اِس صوبائی حکومت اِس مرتبہ مصلحت کا شکار نہیں ہوگی اُور تجاوزات کے خاتمے کی صورت اہل پشاور کی توقعات پر پورا اُترے گی۔

صوبائی حکومت اُور ضلعی و بلدیاتی انتظامیہ (کمشنر و ٹاؤن ون پشاور) جیسے بااختیار و مخلص فیصلہ سازوں کے لئے چند تجاویز بصورت معروضات عرض ہیں۔

 حدبراری کے دوران ’گلوبل پوزیشنگ سسٹم (GPS)‘ کا استعمال کیا جائے جو ایک خلائی سیاروں سے لئے گئے نقشہ جات پر منحصر ہوتا ہے اُور اگر کسی موقع پر (توقع ہے کہ) تاجر تنظیمیں ’حدبراری‘ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی تو ایسی صورت میں ’جی پی ایس‘ کے ذریعے خلائی سیاروں کی مدد سے لی گئی تصاویر اُور اُن کی مدد سے بنائے گئے نقشہ جات نہ صرف فی الوقت کسی ممکنہ قانونی کاروائی میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ اِن کا استعمال مستقبل کی شہری منصوبہ بندی (ٹاؤن پلاننگ) اُور پانی‘ بجلی‘ گیس و ٹیلی فون جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ’جی پی ایس‘ کی مدد سے ہر دکان‘ سڑک‘ فٹ پاتھ اُور نالے نالیوں کی درست پیمائش بھی کمپیوٹروں کے ذریعے ممکن ہے جس میں معمولی غلطی کو عملی (فزیکل) پیمایش سے درست کیا جا سکتا ہے۔

 حد براری کے ساتھ ٹاؤن ون اہلکاروں کو اِس بات کی ذمہ داری بھی سونپ دینی چاہئے کہ وہ پشاور کے ہر بازار میں دکانوں کے شمار‘ اِن کے کاروبار کی نوعیت (تھوک و پرچون)‘ اِن کے گودام‘ ذخیرہ شدہ مال کی نوعیت پر مبنی کوائف مرتب کریں اُور اِن کوائف کو بھی پشاور کے ’ڈیجیٹل نقشے (Digital Mapping)‘ پر ثبت کر دیا جائے۔ تکنیکی طور پر اِس عمل کو ’جیوگرافل انفارمیشن سسٹم (GIS)‘ کہا جاتا ہے اُور اگر کمشنر پشاور یا ٹاؤن ون کے پاس ’جی آئی ایس‘ جیسی تکنیکی سہولت یا تربیت یافتہ افرادی قوت موجود نہ ہو تو جامعہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کی دیگر کئی سرکاری و نجی جامعات میں ’جی آئی ایس‘ کے شعبے موجود ہیں جہاں کے اساتذہ اُور زیرتعلیم طلبا و طالبات کے لئے عملی تجربات کرنے (سیکھنے سکھانے) کا یہ نادر موقع ہو سکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ’GPS‘ اُور ’GIS‘ جیسے امکانات سے استفادہ کرنے کی بدولت نہ صرف ”غیرمتنازعہ حدبراری“ ممکن ہو گی بلکہ پشاور کے بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے کی کوشش پائیدار بھی ثابت ہو گی کیونکہ معاملہ گھمبیر ہے‘ کثیرالجہتی ہے کہ صرف بازار ہی نہیں بلکہ گلی کوچوں میں بھی تجاوزات قائم ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ پھولوں کا شہر اَب خیبرپختونخوا میں تجاوزات کا مرکزی شہر کہلاتا ہے! مائل ضبط بھی آمادہ فریاد بھی ہے

دل گرفتار ِمحبت بھی ہے‘ آزاد بھی ہے! (عرش ملسیانی)۔

....