Sunday, March 22, 2015

Mar2015: Rights of & for minorities

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حق تلفیاں
’’کیا ہم پاکستانی نہیں؟‘‘ گہری نیند سے جاگنے کے لئے یہی ایک جملہ کافی تھا‘ جس کی شدت لہجے کی کرختگی کے ساتھ مزید بڑھ گئی تھی۔ مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایسے بہت سے افراد ایک چھت تلے جمع تھے‘ جہاں ہر کوئی اپنے اپنے الفاظ میں گلہ‘ شکوہ‘ فریاد‘ التجا اور حسرت کا اظہار کرنے کا متمنی تھا۔ باتوں باتوں میں ماضی کے چند تلخ واقعات (عبادتگاہوں پر حملے‘ ٹارگٹ گلنگز) کو بھی بطور مثال پیش کیا گیا جیسا کہ 1997ء میں شانتی نگر نامی عیسائی بستی پر ہوئے حملہ‘ جس میں 785 گھر اور 4 گرجا گھر نذر آتش کر دیئے گئے۔ کم بیش ڈھائی ہزار لوگوں کو اس علاقے سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ سال 2009ء میں گوجرہ و کوریاں گاؤں کی عیسائی بستیوں کو بھی یاد کرتے ہیں جہاں مذہب کی بنیاد پر تنازعے کو ہوا دی گئی۔ مارچ 2013ء میں اندرون کوہاٹی گیٹ ’آل سینٹ چرچ‘ پر ہوئے یکے بعد دیگر 2 خودکش حملوں میں 100انسانی جانوں کا ضیاع اور 250 سے زائد افراد کے زخمی بیشتر کے معذور ہونے پر اب بھی غمزدہ عیسائیوں کے لئے نومبر 2014ء مییں شہزاد مسیح اُور شمع بی بی کی موت بھی تشویشناک ہے‘ جنہیں ایک ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا لیکن 15 مارچ کے روز لاہور کے گرجا گھر پر حملے میں 14افراد کی ہلاکت اور 80دیگر افراد کے زخمی ہونے نے گرجا گھروں کی حفاظت پر کئی ایک سوال اُٹھا دیئے ہیں کیونکہ جس گرجا گھر کو نشانہ بنایا گیا‘ اُس کی حفاظت پر پولیس اہلکار بھی موجود تھے‘ چاردیواری‘ خاردار تاریں اور نگرانی کے لئے کیمرے بھی نصب تھے لیکن اِن سب انتظامات کے باوجود بھی حملہ آوروں کو کوئی نہ روک سکا جبکہ ملک کے کئی ایک حصوں میں ایسے گرجا گھر یا دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہیں موجود ہیں‘ جن کی حفاظت کسی بھی طور کافی نہیں اور خدانخواستہ اگر مرکزی شہروں کی بجائے اضلاع میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تو یہ زیادہ خطرناک ہوگا اور یہی وہ امر ہے‘ جس کی جانب توجہ مرکوز کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اقلیتی نمائندے قانون نافذ کرنے والوں سے زیادہ سیاستدانوں سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ اقلیتوں کے حقوق‘ عبادت گاہوں کی حفاظت اور اُس امتیازی سوچ و روئیوں کی حوصلہ شکنی کریں گے‘ جو مذہبی امتیاز و تعصب کی بناء پر عام ہے۔

مسئلہ صرف عیسائی اقلیت ہی کا نہیں بلکہ ہندو‘ سکھ اُور قادیانی بھی اپنی اپنی جگہ عدم تحفظ کا احساس رکھتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ مسلم معاشرے کی خدمت کرنے میں سب سے زیادہ فعال ’عیسائی اقلیت‘ کے لوگ ہیں‘ جن کے تعلیمی ادارے معیار و نظم وضبط کی وجہ سے کسی نعمت سے کم نہیں۔ جب پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں کا تصور نہیں تھا اور تعلیم صرف اور صرف حکومت کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی‘ تب سے عیسائی مشنری سکول حکومت کے مرتب کردہ نصاب اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ساتھ کردار سازی پر پوری لگن سے توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں لیکن ارباب اختیار اُن نجی تعلیمی اداروں کی ستائش و سہولیات و انعامات کی بارش کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے جنہوں نے تعلیم کو ایک کاروبار بنادیا ہے لیکن درس و تدریس کو ایک مشن (مقصد) کے تحت اختیار کرنے والوں کے کردار کو خاطرخواہ انداز میں نہیں سراہا جاتا۔ ضرورت صوبائی و مرکزی سطح پر قانون ساز اِیوانوں میں اَقلیتوں کی نمائندگی بڑھانے اور خواتین کی نشستیں پر بھی اَقلیت کے مسائل اُجاگر کرنے والوں کو برداشت کرنے کی ہے۔ کیا ہم کسی ایسے ’اسلامی جمہوریہ‘ کا تصور کر سکتے ہیں‘ جہاں ایک سے بڑھ کر ایک اچھا قانون تو ہو لیکن اقلیتوں کو تحفظ‘ اِحساس تحفظ‘ سماجی انصاف اور امتیازات سے پاک سلوک کا معاملہ وگنجائش موجود نہ ہو؟

مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں اور سیکورٹی کے حالیہ خدشات نے اُنہیں ایک دوسرے کے نہ صرف قریب کر دیا ہے بلکہ ان کے مطالبات میں بھی ایک قسم کا اتفاق پایا جاتا ہے اور وہ محض سیکورٹی کی فراہمی کے مطالبے پر اکتفا نہیں کررہے۔ اکیس مارچ کو پشاور میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نمائندہ وفود بشمول اراکین اسمبلی (منتخب نمائندوں) نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ ’’اقلیتی افراد کے لئے ملازمتوں میں مختص 3 فیصد کوٹہ کافی نہیں جسے بڑھا کر 10فیصد کیا جائے۔‘‘ مشاورتی اِجلاس میں اَقلیتوں کو اپنی اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق شادی کی رجسٹریشن (اندارج) کرانے میں حائل مشکلات اور پاکستان کا شہری ہونے کی بنیادی پر مساوی حقوق کی عدم اَدائیگی پر بھی تشویش کا اِظہار کیا گیا۔

شیلٹن گرین ہوٹل میں قومی سطح پر ہندو مذہب کے حقوق کے لئے کام کرنے والی نمائندہ تنظیم ’آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ‘ اُور ملک گیر سطح پر غیرمسلموں سے متعلق آئینی و سماجی مساوات پر زور دینے والی غیرسرکاری تنظیم ’نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن‘ کے زیراہتمام منعقدہ نشست میں ’مطالبات (چارٹرڈ آف ڈیمانڈز)‘ پیش کرتے ہوئے اِس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اقلیتوں کو آئین پاکستان میں دیئے جانے والے حقوق کے علاؤہ پاکستانی ہونے کے ناطے ان سے امتیازی برتاؤ روا نہ رکھا جائے۔ اِس بات پر بطور خاص زور دیا گیا کہ تعلیمی اِداروں میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے ’اسلامک سٹڈیز‘ نامی مضمون کے تحت مسلمان طلباء و طالبات سے ٹیسٹ لیا جاتا ہے‘ جس سے اُنہیں 20اضافی نمبر مل جاتے ہیں لیکن غیرمسلم طلباء و طالبات کے لئے ایسا کوئی امتحان نہیں لیا جاتا جس سے اُنہیں بھی اپنے اپنے مذاہب کی تعلیمات سے متعلق معلومات ہونے پر اضافی بیس نمبروں میں سے حصہ مل سکے۔ اِس سلسلے میں مطالبہ کیا گیا کہ ’اسلامک سٹڈیز‘ کی طرح دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لئے امتحان تشکیل دیا جائے تاکہ مساوی نمبروں میں سے وہ بھی اپنی اہلیت کے مطابق درجہ حاصل کرسکیں۔ اقلیتوں کی جانب سے اِس امر پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے بہت سے فلاحی کام ’زکوۃ فنڈ‘ سے کئے جاتے ہیں اور ایسے دیگر کئی فلاح و بہبود کے منصوبے ہیں جن کے لئے مالی وسائل فراہم ہوتے ہیں لیکن اقلیتیں اِن منصوبوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتیں۔ لہٰذا آبادی کے تناسب سے معاملہ کرتے ہوئے اقلیتوں کو مساوی بنیادوں پر حقوق دیئے جائیں۔ اِس سلسلے میں انسانی حقوق کا عالمی معاہدہ‘ اقوام متحدہ کی منظور شدہ 1992ء کی قرارداد‘ سول و سیاسی حقوق کا عالمی کنونشن اور پاکستان کے آئین سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے‘ جس میں کسی بھی اقلیت کا حق اکثریت کے مساوی درج ہے لیکن عمل درآمد کے مراحل میں فیصلہ سازوں کو اِس بات کا دھیان ہی نہیں رہتا کہ وہ اقلیتوں کی حق تلفی کے ’مرتکب‘ ہو رہے ہیں۔
Minorities rights and demands need to be consider as an urgent to do

Saturday, March 21, 2015

Mar2015: Comprehensive strategy needed

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
فرائض‘ ذمہ داریاں اُور توازن
دُوسروں کو نصیحت‘ خود میاں فصیحت۔ ہم میں سے ہر کوئی ’قانون کی حکمرانی‘ چاہتا ہے لیکن وہ نہ تو قانون نافذ کرنے والے اِداروں پر اِعتماد رکھتا ہے اُور نہ ہی پولیس تھانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اِس منطقی تقاضے اور غیرمنطقی منفی رویئے کی بڑی وجہ خود پولیس کا کردار رہا ہے‘ جن کے اعلیٰ و ادنی اہلکار پر مالی بدعنوانیوں کے مقدمات قائم ہیں۔ ظاہر ہے کہ جن افراد نے اپنی ملازمت کے دوران مالی بدعنوانیاں کیں‘ اُنہوں نے اپنے زور قلم (اختیارات) سے کتنی زیادہ اور بڑے پیمانے پر ناانصافیاں کی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی ساکھ‘ واجب الاحترام مقام اور معاشرے میں وہ حیثیت نہیں کہ جو ہونی چاہئے۔

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد سے تحریک انصاف نے ’تھانہ کچہری کلچر‘ تبدیل کرنے کے لئے جو عملی کوششیں کیں ہیں‘ اُنہیں اگرچہ کافی قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن تبدیلی کا آغاز بہرحال ہو چکا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اِسی تبدیلی کے ثمرات ظاہر ہوں گے۔ پولیس اور تھانے سے سفید پوش نفرت نہیں کریں گے۔ ہر خاص و عام سے قانون کی حکمرانی اور معاملہ بلاامتیاز ہوگا۔ اِس ہدف کے سہل اور تیزرفتار حصول کے لئے کسی بھی ضلع سے تعلق رکھنے والے اُن منتخب نمائندوں کا کلیدی کردار بھی نظراَنداز نہیں کرنا چاہئے جو موجودہ منظرنامے میں ’تجاہل عارفانہ‘ خود پر طاری کئے اِس پورے اصلاحاتی عمل سے علیحدہ تشریف فرما ہیں۔ درحقیقت یہ ذمہ داری منتخب نمائندوں کی ہی بنتی ہے کہ وہ معاشرے کی اِصلاح‘ حسن سلوک‘ اِدب و اِحترام‘ سماجی و اَخلاقی اَقدار‘ روایات یا کم سے کم اِنفرادی حقوق و ذمہ داریوں کے حوالے سے عوام الناس کا ہاتھ پکڑ کر رہنمائی کریں۔ خود پر قوانین لاگو کریں اور اپنے آپ کو بطور مثال پیش کریں۔ دوسری ذمہ داری مسجد و منبر اور خصوصی ایام کے دوران منعقد ہونے والے اجتماعات میں وعظ و نصیحت کرنے والوں کی بنتی ہے کہ وہ ہر معززومقدس مجلس کے اختتام سے قبل ’قانون کے اِحترام‘ دوسروں کی جان و مال‘ عزت و آبرو اور اُن قوانین و قواعد پر عمل درآمد کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے اِس بات کی تاکید کریں کہ موجودہ حالات میں قانون و قواعد کا اِحترام ضرورت سے زیادہ مجبوری بن چکی ہے اور اگر ہم ’خوداِحتسابی‘ کے ذریعے ’قانون پسندوں‘ کے منصب پر فائز نہیں ہوں گے‘ اپنے اہل و عیال کو قانون کے احترام سے آگاہ نہیں کریں گے تو اُس اِنتہاء پسندی کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے‘ جس کا بعدازاں نتیجہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی صورت برآمد ہوتا ہے اور جس نے ہمیں اندر ہی اندر سے کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔

پشاور پولیس کے لئے پہلے ہی چیلنجز کیا کم تھے کہ یکایک اَمن و اَمان کی بحالی‘ بین الاضلاعی‘ بین الصوبائی‘ قبائلی علاقوں اور ہمسایہ ممالک میں منظم جرائم پیشہ گروہوں سے نمٹتی کہ سانحہ پشاور (سولہ دسمبر) نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات ہی تبدیل کرکے رکھ دی ہیں۔ اب پہلی ترجیح نفرت اور فرقہ واریت کو پھیلانے والے اسباب کا تدارک کرنا ہے جس کے لئے ہدایات جاری کرنے کے بعد ہر تقریر اور وعظ کی کڑی نگرانی ہو رہی ہے لیکن اُن تمام آڈیو ویڈیو کی شکل میں محفوظ مواد سے کیا معاملہ کیا جائے جو زیرگردش یا باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ گذشتہ بارہ ہفتوں کے دوران پشاور پولیس نے کئی ایک ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے‘ جو نفرت انگیز تقاریر کی تشہیر و فروخت میں ملوث پائے گئے۔ ایسے ہی ایک شخص کو 23 فروری کے روز بھانہ ماڑی پولیس نے گرفتار کیا تھا جو انٹرنیٹ کے ذریعے جہادی ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرکے اُن کی ’سی ڈیز‘ بنانے کا کاروبار کرتا تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ کام ’موبائل فون کے کاروبار‘ کی آڑ میں جاری تھا اور موبائل فون کے ذریعے جہادی ویڈیوز کی تشہیر و منتقلی کی جاتی تھی۔ مذکورہ ملزم ملک نواب کو گرفتار کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں جج صاحب سلیم جان خان نے برآمد ہونے والے مواد (سی ڈیز‘ ہارڈ ڈیسک اور یو ایس بیز) میں موجود پائی گئیں اور یہی ملزم کا جرم ثابت کرنے کے لئے کافی شواہد تھے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم ملک نواب کو 21دن کی قید اور 1000روپے جرمانہ کرنے کی سزا دی!

25 دسمبر 2014ء کو ’قومی سطح پر اپنائی گئی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی (نیشنل ایکشن پلان)‘ کے مطابق فرقہ واریت‘ انتہاء پسندی اور عدم رواداری پر مبنی مواد چاہے وہ کسی بھی صورت (الیکٹرانک یا پرنٹ) شکل میں ہو‘ کی تشہیر یا اس کی خریدوفروخت ایک قابل گرفت جرم قرار دیا گیا ہے لیکن یہ بات بہت لوگوں کو معلوم ہوگی کہ اگر وہ انٹرنیٹ (internet) کا استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ایسی ویڈیو ڈاؤن لوڈ (download) کر کے اپنے کمپیوٹر‘ موبائل فون یا یو ایس بی ڈرائیو میں محفوظ رکھتے ہیں تو یہ بھی ’جرم‘ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ پر کنٹرول کرنے کے لئے وفاقی سطح پر ادارہ (پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی) موجود ہے‘ جنہیں ایسی ویب سائٹس پر پابندی عائد کرنی چاہئے جہاں سے نفرت انگیز اور شرانگیز مواد ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اِس سلسلے میں نوجوان نسل کو آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز‘ لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کو ہرطرح کے وائرس (خودکار پروگراموں) کی طرح ایسے مواد سے بھی پاک وصاف رکھیں‘ جو اِنتہاء پسندی پر مبنی ہو۔

تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ تھری جی اور فور جی (تیزرفتار انٹرنیٹ سروسیز) خدمات کے عوض کروڑوں روپے یومیہ کمانے والی موبائل فون کمپنیوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نفرت انگیز مواد رکھنے والی ویب سائٹس تک رسائی محدود رکھیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ’اِنٹرنیٹ مادرپدر آزاد‘ ہے لیکن اِس کی مادرپدر آزادی پر قدغن لگانا دوسروں کی نہیں بلکہ خالصتاً ہماری ضرورت اور ہماری ذمہ داری بنتی ہے‘ اُور ہمیں ہی اِس ’موجود خطرے‘ سے نمٹنے کے لئے (منتخب نمائندوں‘ مسجد و منبر‘ تعلیمی اداروں اُور ذرائع ابلاغ جیسے روائتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے) ’جامع حکمت عملی‘ تیار کرنا ہوگی‘ اِس مسئلے کو انفرادی حیثیت میں کسی ایک پولیس تھانے یا اِکیس دن کی سزا اُور ایک ہزار روپے جیسے معمولی جرمانے سے کنٹرول کرنا ممکن نہیں‘ نہ ہی یہ حربہ کارگر پائیدار اُور حسب حال کافی قرار دیا جاسکتا ہے۔
For comprehensive national action plan against terrorism, role of elected parliamentarians, mosque, education institution and media is needed